عام انتخابات2019-: مہاراشٹر میں NDA اتحاد کا ہوا اعلان، بی جے پی 25 تو شیوسینا 23 سیٹوں پر لڑے گی الیکشن

Share Article

bjp-and-shivsena

بی جے پی۔ شیوسینا کے درمیان آئندہ 2019 عام انتخابات کو لے کر سمجھوتہ ہو گیا ہے۔ ممبئی میں بی جے پی۔شیوسینا نے جوائنٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس کا اعلان کیا۔ اب تک مہاراشٹر میں زیادہ سیٹوں کا مطالبہ کرنے والی شیوسینا 23 سیٹوں پر انتخاب لڑے گی، تو وہیں بی جے پی ریاست کی 25 لوک سبھا سیٹوں پر اپنا دعویٰ کرے گی ۔
اس موقع پر مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے کہا کہ یہاں تک کہ اگر ہمارے درمیان خیالات کا اختلاف رہے ہیں، لیکن ہم نظریات سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ کسانوں کی قرض معافی اور رام مندر جیسے مسائل پر دونوں ہی پارٹیاں ایک رائے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی۔شیوسینا کے درمیان اتحاد طے ہو گیا ہے، جس میں شیوسینا 23 سیٹوں پر اور بی جے پی 25 سیٹوں پر انتخاب لڑے گی۔وہیں عام انتخابات کے بعد مہاراشٹر اسمبلی انتخابات پر ان کا کہنا تھا کہ حالانکہ دونوں پارٹیوں نے پچھلا اسمبلی انتخابات الگ الگ لڑا ہو،لیکن ہم نے مل کر حکومت چلائی ہے۔ ہمارا 25 سالوں کا رشتہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے کہا کہ ریاست کے آئندہ اسمبلی انتخابات میں اتحاد میں شامل چھوٹی پارٹیوں کو سیٹیں دینے کے بعد جتنی بھی نشستیں باقی رہیں گی۔ انہیں بی جے پی اور شیوسینا میں برابر برابر تقسیم کیا جائے گا۔

 

 

 

وہیں دوسری طرف شیو سینا سربراہ ادھو ٹھاکرے آج وزیر اعظم فصل بیمہ منصوبہ بندی کی تعریف کرتے نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ذہن صاف ہے۔ ہندوتو اور رام مندر کے ایشو کو لے کر شیوسینا اور بی جے پی کا اتحاد ہوا تھا،ہم متحد ہوکر الیکشن لڑیں گے۔ اگر ہم آپس میں لڑتے رہیں تو ہم ان کے ہاتھ میں اقتدار سونپ دیں گے، جن کے خلاف ہم نے گزشتہ 50 سال سے لڑے۔
جبکہ بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ نے اس موقع پر کہا کہ اگرچہ گزشتہ دنوں کچھ مسائل کو لے کر دونوں پارٹیوں کے درمیان اختلاف رہا ہو، لیکن اب یہ دور ہو گیا ہے۔ اس دوران امت شاہ اس بات کا ذکر کرنا نہیں بھولے کہ شوسینا اوراکالی دل بی جے پی کے سب سے قدیم ساتھی رہے ہیں۔ آئندہ لوک سبھا انتخابات کو لے کر امت شاہ نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی۔شیوسینا اتحاد ریاست میں میں 45 سیٹوں پر جیت حاصل کرے گا۔

 

گزشتہ کچھ وقت سے بی جے پی اور شیوسینا کے تعلقات میں کڑواہٹ دیکھی جا رہی تھی۔ شیوسینا پی ایم نریندر مودی کے ساتھ ہی ریاست میں بھی موجودہ فڑنویس حکومت کو بھی گھیرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ رافیل ڈیل اور مہاراشٹر میں خشک سالی کا مسئلہ لے کر شیوسینا ہمیشہ بی جے پی پر دباؤ بنانے کی کوشش کرتی نظرآئی۔ یہی نہیں مرکزی حکومت کے خلاف دہلی میں ہوئے چندرا بابو نائیڈو کے مظاہرے میں بھی شیوسینا شامل ہوئی تھی۔
غور طلب ہے کہ مہاراشٹر میں اسمبلی کی 288 سیٹیں ہیں۔ وہیں 48 لوک سبھا سیٹوں والی ریاست میں 2014 میں بی جے پی۔شیوسینا نے مل کر 40 سیٹوں پر قبضہ جمایا تھا،جس سے بی جے پی کے اکاؤنٹ 22 سیٹیں آئیں تھی تو شیوسینا نے 18 سیٹیں جیتی تھی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *