لوک پال بل: بدعنوانی کے خلاف کمزور سرکاری ہتھیار

Share Article

ششی شیکھر
ایک وزیر کی وجہ سے ملک کے عوام کو ایک لاکھ 76کروڑ کا چونا لگ جاتا ہے اور وہی عوام اگر اس بدعنوان وزیر کے خلاف آواز اٹھائے تو بہت ممکن ہے کہ اسے غدار وطن بتا کر سلاخوں کے پیچھے قید کر دیا جائے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مذکورہ بدعنوان وزیر کو اپنے کئے کی کوئی سزا بھی نہ ملے۔ آزادی کے بعد سے اب تک ایسا کم ہی سننے کو ملا کہ کسی وزیر کو بدعنوانی کے الزام میں سزا ملی ہو۔ اب سوال اٹھتا ہے کہ آخر ہمارے نظام میں ایسی کیا خامیاں ہیں، جو ایک کے بعد ایک بدعنوانی کے معاملے سامنے آنے کے بعد بھی ملزمین کی گردن تک قانون کے لمبے ہاتھ نہیں پہنچ پاتے۔ دراصل، سی بی آئی اور سینٹرل ویجلینس کمیشن جیسے ادارے بنائے تو اس لئے گئے تھے کہ وہ غیر جانبدرانہ طور پر بدعنوانی کے معاملوں کی تفتیش کر سکیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان دونوں اداروں کو بلاواسطہ اور بالواسطہ طور پر سرکاری کنٹرول میں رہ کر کام کرنا پڑتا ہے پھر سی وی سی کے پاس سوائے تجویز دینے کے اور کوئی اختیار ہے بھی نہیں ہے۔ سی بی آئی کی حالت بھی کسی سے چھپی نہیں ہے۔ مرکزی حکومتیں گزشتہ چالیس برسوں سے لوک پال بل پاس کرانے میں ناکام رہی ہیں۔ ریاستوں میں پبلک کمشنر تو ہیں، لیکن ان کی حالت بھی سفید ہاتھی بن کر رہ گئی ہے۔ دوسری جانب لوک پال بل اب تک لوک سبھا میں آٹھ بار پیش کرنے کے بعد بھی پاس نہیں کرایا جا سکا ہے۔
بہر حال یو پی اے 2نے ابھی لوک پل بل کا نمونہ تیار کیا ہے، اس بل کی ایک کاپی ’چوتھی دنیا ‘کے پاس بھی دستیاب ہے جسے جلد ہی پاس کرانے کی بات کہی جا رہی ہے لیکن سماج کا ایک بڑا اور روشن خیال طبقہ اس بل سے خوش نہیں ہے اور بدعنوانی کے خلاف اس حکومتی قواعد کو محض خانہ پری مان رہا ہے۔ ایسا ماننے کے پیچھے لوگوں کے پاس کچھ ٹھوس وجوہات بھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کے ذریعہ تیار کئے گئے بل کی زد میں صرف حکمراں ہی آ رہے ہیں۔ افسران اورعدلیہ کے خلاف تفتیش کرنے کا اختیار لوک پال کو نہیں دیا گیا ہے۔ظاہر ہے، بدعنوانی کے سب سے بڑے پروریعنی افسروں کے لیے یہ کسی راحت سے کم نہیں ہے۔علاوہ ازیں اس بل کے مطابق لوک پال کسی کے خلاف مقدمہ چلانے کی صلاح تو حکومت کو دے سکتا ہے، لیکن خود کسی بدعنوان لیڈر کے خلاف مقدمہ نہیں چلا سکتا۔ لوک پال کو محض ایک صلاح دینے والا ادارہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سماجی کارکن اروند کیجریوال اس بل کی خامیوں کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس طرح کا لوک پال اگر ٹو جی اسپیکٹرم معاملہ میں وزیر اعظم سے کہتا کہ اے راجا کے خلاف مقدمہ چلانا چاہئے تو کیا وزیر اعظم ایسا کرتے؟ابھی 2جی اسپیکٹر م معاملہ میں جو کچھ بھی ہوا، اسے دیکھتے ہوئے تو ایسا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ کیجریوال لوک پال بل کو محض ایک شو پیس مان رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ سول سوسائٹی کی جانب سے بھی ایک نیا لوک پال بل تیار کیا گیا ہے۔سوامی رام دیو ، سری سری روی شنکر، کرن بیدی، انا ہزارے، اروند کیجریوال، سنیتا گودھرا، دیویندر شرما، کمل جیسوال، پردیپ گپتا، سینئر ایڈوکیٹ پرشانت بھوشن، سنتوش ہیگڑے اور سابق سی وی سی پرتیوش سنہا جیسے لوگوں کی مجموعی کوششوں سے یہ نیا بل تیار کیا گیا ہے۔ اس نئے مسودہ کو صدر جمہوریہ، وزیر اعظم، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور تمام ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کو بھیجا گیا ہے۔ سول سوسائٹی کے ذریعہ تیار یہ بل کئی معنوں میں سرکاری بل سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔اس میں لوک پال کو مکمل طور پر سرکاری کنٹرول سے باہر رکھنے کی بات ہے۔کسی معاملہ میں اگر لوک پال چاہے تو خود مقدمہ چلا سکتا ہے۔ ساتھ ہی سرکاری خزانہ کی لوٹ یا نقصان کو وصولنے کا اختیار بھی لوک پال کو دیا گیا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس میں بدعنوانی کے خلاف آواز بلند کرنے والے سچ کے سپاہیوں کی حفاظت کی ذمہ داری بھی لوک پال کو دینے کی بات کہی گئی ہے۔ دراصل، بدعنوانی کا کینسر اتنا پھیل چکا ہے کہ اسے موجودہ سرکاری لوک پال بل کے سہارے ختم نہیں کیا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں سی بی آئی کے پاس اختیارات تو ہیں، لیکن وہ آزاد نہیں ہے اور سی وی سی کہنے کو تو آزاد ہے، لیکن اس کے پاس اختیارات نہیں ہیں۔ کچھ یہی حال حکومت کے ذریعہ مجوزہ لوک پال بل کا بھی ہو سکتا ہے۔یہی سبب ہے کہ سول سوسائٹی کے نمائندے چاہتے ہیں کہ آزاد لوک پال کی تشکیل ہو، ساتھ ہی سی بی آئی، اینٹی کرپشن بیورو اور سی وی سی جیسے اداروں کا انضمام بھی اس کے ساتھ ہی کر دیا جائے۔ اس کے پیچھے یہ دلیل دی جا رہی ہے کہ لوک پال ادارے میں انضمام کے بعد سی بی آئی، اینٹی کرپشن بیورو اور سی وی سی جیسے ادارے زیادہ کارگر، غیر جانبدارانہ اور آزاد طور پر کام کر پائیں گے۔
بہر حال، حکومت عوام کے ان مشوروں کو مانے یا نہ مانے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس مرتبہ بدعنوانی کے ایشو پر عام آدمی خاموش نہیں بیٹھنے والا ہے۔ باقاعدہ انڈیا اگینسٹ کرپشن نام سے ایک ادارہ کی تشکیل سے اس کی شروعات ہو چکی ہے اور تیس جنوری کو باپو کے شہید دیوس پر دہلی کے رام لیلا میدان میں ہزاروں لوگ جمع ہو رہے ہیں۔ بدعنوانی کے خلاف اپنی آزاد بلند کرنے، جان بوجھ کر آنکھ کان بند کئے بیٹھی حکومت کو نیند سے جگانے کے لئے ۔ وقت رہتے مرکزی حکومت کو عوام کا اشارہ سمجھ لینا چاہئے۔

موجودہ نظام بنام عوام کے مشورے

٭    موجودہ نظام: تمام ثبوتوں کے بعد بھی کوئی لیڈر یا بڑا افسر جیل نہیں جاتا، کیونکہ اینٹی کرپشن برانچ اور سی بی آئی براہ راست حکومت کے تحت آتی ہے۔کسی بھی معاملہ میں تفتیش یا مقدمہ شروع کرنے کے لئے انہیں حکومت میں بیٹھے انہی لوگوں سے اجازت لینی پڑتی ہے، جن کے خلاف تفتیش ہونی ہے۔
٭    عوام کے مشورے: مجوزہ قانون کے بعد مرکز میں لوک پال اور ریاست میں پبلک کمشنر حکومت کے تحت نہیں ہوں گے۔ اے سی بی اور سی بی آئی کا ان میں انضمام کر دیا جائے گا۔ لیڈران یا افسران کے خلاف بدعنوانی کے معاملات کی تفتیش اور مقدمے کے لئے انہیں حکومت کی اجازت کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ تفتیش زیادہ سے زیادہ ایک سال میں اور اسی طرح مقدمے کی سماعت بھی زیادہ سے زیادہ ایک سال میں پوری کر لی جائے گی۔ یعنی کسی بھی بدعنوان شخص کوجیل جانے میں زیادہ سے زیادہ دو سال لگیں گے۔
٭     موجودہ نظام: تمام ثبوتوں کے باوجود بدعنوان افسران سرکاری ملازمت پر برقرار رہتے ہیں۔ انہیں ملازمت سے ہٹانے کا کام سینٹرل ویجلینس کمیشن کا ہے، جو مرکزی حکومت کو صرف صلاح دے سکتا ہے۔ کسی بدعنوان افسر کو ملازمت سے نکالنے کی اس کی صلاح کبھی نہیں مانی جاتی ہے۔
٭     عوام کے مشورے: مجوزہ لوک پال اور عوامی کمشنروں کو اختیار ہوگا کہ وہ بدعنوان لوگوں کو ان کے عہدے سے ہٹاسکیں۔ سینٹرل ویجلینس کمیشن اور صوبوں کے ویجلینس ڈپارٹمنٹ کو ان میں ضم کردیا جائے گا۔
٭    موجودہ نظام : آج بدعنوان ججوں کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا ہے، کیوں کہ کسی بدعنوان جج کے خلاف معاملہ درج کرنے کے لیے سی بی آئی کو چیف جسٹس کی اجازت لینی پڑتی ہے۔
٭     عوام کے مشورے: لوک پال اور عوامی کمشنروں کو کسی جج کے خلاف جانچ کرنے اور مقدمہ چلانے کے لیے کسی کی اجازت لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
٭     موجودہ نظام: عام آدمی کہاں جائے؟ اگرعام آدمی بدعنوانی ظاہر کرتا ہے تو اس کی شکایت کوئی نہیں سنتا ہے۔ اسے ستایا جاتا ہے، یہاں تک کہ جان سے بھی مار دیا جاتا ہے۔
٭    عوام کے مشورے: لوک پال اور عوامی کمشنر کسی کی شکایت کو کھلی سنوائی کے بغیر خارج نہیں کرسکیںگے۔ کمیشن کو بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھانے والے لوگوں کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔
٭     موجودہ نظام: سی بی آئی اور ویجلینس کے محکموںکا کام کاج خفیہ رکھے جانے کے سبب ان کے اندر بدعنوانی پائی جاتی ہے۔
٭    عوام کے مشورے: لوک پال اور  عوامی کمشنروں کا کام کاج پوری طرح شفاف ہوگا، کسی بھی معاملے میں جانچ کے بعد سارے ریکارڈ عوام کے لیے دستیاب ہوںگے۔ اپنے کسی بھی ملازم کے خلاف شکایت آنے پر اس کی جانچ کرنے اور اس پر جرمانہ لگانے کا کام زیادہ سے زیادہ دو مہینے میں پورا کرنا ہوگا۔
موجودہ نظام:
کمزور، بدعنوان اور سیاست سے متاثر لوگ اینٹی کرپشن محکموں کے چیف بنتے ہیں۔
٭     عوام کے مشورے: لوک پال اور عوامی کمشنروں کے تقررمیں لیڈران کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ ان کا تقرر شفاف طریقے اور عوامی اشتراک سے ہوگا۔
٭     موجودہ نظام: سرکاری دفتروں میں لوگوں کو بے عزتی برداشت کرنا پڑتی ہے۔ ان سے رشوت مانگی جاتی ہے۔ لوگ زیادہ سے زیادہ سینئر افسروں سے شکایت کرسکتے ہیں، لیکن وہ بھی کچھ نہیں کرتے، کیوں کہ انہیں بھی اس کا حصہ ملتا ہے۔
٭     عوام کے مشورے: لوک پال اور عوامی کمشنر کسی بھی محکمے میں کسی آدمی کا کام مقررہ وقت میں نہ ہونے پر قصوروار افسران پر 250 روپے یومیہ کے حساب سے جرمانہ لگاسکتے ہیں، جو شکایت کرنے والے کو معاوضے کی شکل میں ملے گا۔
موجودہ نظام:
قانوناً بدعنوان شخص کے پکڑے جانے پر بھی اس سے رشوت خوری کے ذریعہ کمایا گیا پیسہ واپس لینے کا کوئی پرووژن نہیں ہے۔
عوام کے مشورے:
بدعنوانی سے حکومت کو ہوئے نقصان کا تخمینہ لگا کر قصورواروں سے وصول کیا جائے گا۔
موجودہ نظام:
بدعنوانی کے معاملے میں 6مہینے سے لے کر زیادہ سے زیادہ 7سال کی جیل کا پرووژن ہے۔
عوام کے مشورے:
کم سے کم عمرقید تک کی سزا ہونی چاہیے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *