یوپی میں لوک آیکت کی تقرری کا پیچ پھنسا سپریم کورٹ نے اپنا ہی فیصلہ واپس لیا

Share Article

پربھات رنجن دین
p-4سابق جج ویریندر سنگھ کو اترپردیش کا لوک آیکت بنانے کی اکھلیش کی ’بال ہٹ‘ نے اترپردیش سرکار کو آئینی بحران کے ساتھ ساتھ اخلاقی بحران میں بھی مبتلا کر دیا ہے۔لوک آیکت جیسے اہم اور حساس عہدے کے لےے رشتہ داری کو ترجیح دینے اور قانونی لازمیت کو نظر انداز کرنے کے سبب سماجوادی پارٹی کے سامنے سماجی اور سیاسی سوال بھی کھڑے ہوگئے ہیں۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہوگیا ہے کہ سپریم کورٹ کو بھی اپنے پیر پیچھے کھینچنے پڑے اور اپنا ہی حکم ملتوی کرنا پڑا۔الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڈ نے قانونی سوال اٹھاتے ہوئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے ملنے کا وقت مانگ کر اس مسئلے میں سپریم کورٹ کو کٹہرے میںلاکھڑا کیاہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھ کر کہا ہے کہ ان کی رضامندی کے بغیر ویریندر سنگھ کو اترپردیش کا لوک آیکت کیسے مقرر کیا گیا۔ گورنر رام نائک نے بھی اس معاملہ میں اپنے آئینی حق کا استعمال کرتے ہوئے ایس پی سرکار کے ساتھ ساتھ مرکزی سرکار میں بیٹھے کچھ ایس پی کے رہنماو¿ں کو بھی حیران کردیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اترپردیش اسٹیٹ کنزیومر فورم کے صدر اور سابق جج ویریندر سنگھ یادو کو لوک آیکت بنانے کی مانگ پر سپریم کورٹ نے 16 دسمبر کو اپنی رضامندی دیتے ہوئے 20 دسمبر تک لوک آیکت کی تقرری پر عمل درآمد کرنے کی ریاستی سرکار کوہدایت دی تھی۔ لیکن ریاستی سرکار کی طرف سے بھیجی گئی فائل گورنر رام نائک نے لوٹا دی اور سپریم کورٹ کے حکم کی کاپی پیش کرنے کی ہدایت دی۔ دوسری طرف الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈی وی آئی چندرچوڈ نے ریاستی سرکار کو 50 صفحات کا خط لکھ کر یہ پوچھ لیا کہ ان کے اعتراض کے باوجود سرکار نے پانچ ناموں کے پینل میں ویریندر سنگھ یادو کا نام کیسے شامل کرلیا؟ اس سلسلے میںداخل ایک عرضی پر سماعت کے لےے لوک آیکت کی تقرری کے حکم کو سپریم کورٹ نے ملتوی کردیا ہے۔سپریم کورٹ کے احکام کے مطابق لوک آیکت کے عہدے پر ویریندر سنگھ کی 20دسمبر کو حلف برداری ہونا تھی،لیکن سپریم کورٹ نے ہی فی الحال اس پر روک لگادی۔ روک لگانے سے حلف برداری کے پروگرام کے لےے راج بھون میں چل رہی تیاریاںرک گئیں او رسرکار بیک فٹ پر جانے کو مجبور ہوگئی۔ لوک آیکت کی تقرری کے معاملے میں سچدانند گپتا عرف سچے نے عرضی دائر کی ہے۔ عرضی میںکہا گیا ہے کہ اترپردیش سرکار نے لوک آیکت کی تقرری کے لےے پانچ نام دے کر سپریم کورٹ کو گمراہ کیا ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو ان پانچوں ناموںپراعتراض ہے اور انھوں نے اس بارے میں گورنر کو خط لکھ کر اعتراض درج کرایا ہے ، لہٰذا لوک آیکت کے سلیکشن پر پھر سے غور ہونا چاہےے۔سپریم کورٹ نے عرضی پر سماعت کرتے ہوئے نئے لوک آیکت کی تقرری کے اپنے پرانے حکم پر روک لگادی ۔ سپریم کورٹ کے جج اے کے گوئل اور جج اودے یو للت کی بینچ نے ریاستی سرکار سے پوچھا کہ ویریندر سنگھ یادو کا نام اعلیٰ عدالت کی بینچ کے سامنے کیسے آیا، جبکہ الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے واضح طور پرکچھ اعتراض درج کررکھے ہیں؟
اکھلیش سرکار کی طرف سے مقرر کےے گئے لوک آیکت ویریندر سنگھ یادو سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر شیو پال سنگھ یادوکے رشتہ دار ہیںاور ان کا بیٹا بھی ایس پی کا لیڈر ہے۔ ان کے خلاف کئی تنظیموں کی طرف سے بددیانتی اور بدعنوانی کی شکایتیں بھی درج ہیں۔ ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے جب ذات برادری کی بنیاد پر تقرریاں کرنے کے سبب اترپردیش پبلک سروس کمیشن کے چیئر مین انل یادو زبردست تنازعوںمیں پھنسے اور ہائی کورٹ نے کمیشن کےچیئرمین کی تقرری کو ہی غیر قانونی ڈکلیئر کردیا۔ اسی طرح نوئیڈا کے بدعنوان انجینئر یادو سنگھ کو بچانے میںایس پی سرکار بری طرح بدنام ہوچکی ہے۔
بہرحال لوک آیکت کی تقرری کو لے کر سرکار، گورنر اور عدالت کے بیچ ہورہی سہ رخی آئینی لڑائی میں کئی قانونی پیچ پھنسے ہوئے ہیں۔ آئینی ماہرین میں اس بات کو لے کر بھی صلاح چل رہی ہے کہ آئین کے آرٹیکل 142 کے تحت لوک آیکت کی تقرری کرنے کا سپریم کورٹ کا حکم آئین کے مطابق ہے کہ نہیں۔ اس معاملے میں گورنر سکریٹریٹ سپریم کورٹ کے سامنے نظر ثانی کی عرضی داخل کرنے کے لےے آزاد یا مجاز ہے کہ نہیں۔ ا س معاملہ کا سب سے اہم قانونی پہلویہ ہے کہ ججوں کی تقرری کے لےے سپریم کورٹ کے کولیجیئم کی سفارش کے ساتھ ساتھ انٹیلی جنس بیورو کی جانچ بھی اتنی ہی لازمی ہوتی ہے۔ آئی بی کے ذریعہ منسلک شخص کی ایمانداری اوروابستگی کی جانچ ضروری ہوتی ہے۔لوک آیکت کے معاملے میں بھی ویریندر سنگھ کی ایمانداری اوروابستگی کے خلاف الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور گورنر کا منفی تبصرہ درج ہے، لہٰذا یہ مانا جارہا ہے کہ سپریم کورٹ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کے لےے پابند ہے۔ یہ بھی پیچ سامنے ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ واپس نہیںلیا، تو کیا گورنر کے خلاف سپریم کورٹ کے حکم کی توہین کا معاملہ چل سکتا ہے اور کیا ریاست کے چیف جسٹس کی مرضی کے بغیر ویریندر سنگھ کے نام کو پینل میںدکھا کر سپریم کورٹ کے سامنے پیش کرنے کے لےے ریاستی سرکار کے خلاف جھوٹے حقائق پیش کرنے کا معاملہ چل سکتا ہے؟ یہ اہم سوال سامنے کھڑے ہیں۔ لب ولباب یہ ہے کہ اترپردیش میںلوک آیکت کی تقرری کا مسئلہ دلچسپ آئینی پیچ وخم میںپھنسا ہے او راس کا نمٹارہ سپریم کورٹ کی آئینی بینچ کے ذریعہ ہی ممکن نظر آتا ہے۔ لیکن اس سوال پر سماجوادی پارٹی کو عام شہریوں کے سوالوںکا سامناکرنا ہی پڑے گا کہ اتر پردیش سرکار کی ترجیح بدعنوانی کے خلاف کھڑے ہونے کی ہے یا بدعنوان لوگوں کی کھلے طور پر حفاظت کرنے کی ہے۔ اگر تنازعوں میں گھرے شخص کو لوک آیکت بنا دیا گیا، تو بدعنوانی کے خلاف سیاسی تقاریر کا جواز کیا ہے؟
لوک آیکت تنازع
سابق جج ویریندر سنگھ کا اتر پردیش لوک آیکت بننا فی الحال تو ٹل گیا ہے، لیکن یہ تنازع اتناگہرا ہوگیا ہے کہ اس کی پرت در پرت کھولناآئینی ماہرین کے لےے بھی مشکل ہورہی ہے۔آئینی پروویژن اور اخلاقی لازمیت کو طاق پر رکھ کر ویریندر سنگھ کو لوک آیکت بنانے پر آمادہ اتر پردیش سرکار کے خلاف گورنر رام نائک سے لے کر الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڈ تک سامنے آگئے ہیں۔ اس کے علاوہ قانون کی یہ لڑائی عام شہریوں کے بیچ بھی آگئی ہے، جس کے نتیجے میں سپریم کورٹ میںمفاد عامہ کی عرضی داخل ہوگئی اور سپریم کورٹ کو اپنا ہی فیصلہ واپس لینا پڑا۔ سچدانند گپتا عرف سچے کی عرضی پر سپریم کورٹ نے اپنے ہی فیصلہ پر فی الحال روک لگادی ہے۔
لوک آیکت کی تقرری کے تنازع کی پرتیںکھولیں، تو سب سے اوپری پرت پر سپریم کورٹ کاوہ فیصلہ دکھائی دے گا، جس میںمقررہ مدت میعاد کے اندر لوک آیکت کے نام پر کوئی فیصلہ نہیںہونے پر اس نے 16 دسمبر کو ویریندر سنگھ کو یوپی کا نیالوک آیکت اپوائنٹ کیا تھا۔ لیکن سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ توتنازعوں کے پٹارے کا بائی پروڈکٹ ہے۔سپریم کورٹ نے کہا کہ سلیکشن کمیٹی کے ارکان کے درمیان کسی نام پر آخری اتفاق رائے نہ ہونے کے سبب ویریندر سنگھ کے نام پر مہر لگائی جارہی ہے۔ اس مہر کے پیچھے وجوہات خواہ کچھ بھی ہوں، لیکن اس پر الہ آبادہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے اپنا اعتراض درج کرایا۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڈ کا کہنا تھا کہ انھیں بتائے بغیر سرکارنے لوک آیکت کے لےے پانچ ناموں کی فہرست اتر پردیش سرکار کے وکیل کپل سبل کو سونپ دی۔چیف جسٹس ویریندر سنگھ کے نام پر پہلے ہی اعتراض درج کراچکے تھے۔ سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی داخل کرنے والے سچدانند عرف سچے گپتا نے شکایت بھی کی ہے کہ اتر پردیش سرکار نے سپریم کورٹ کو گمراہ کیا ہے اور غلط جانکاری دے کر ویریندرسنگھ کو لوک آیکت بنوایا ہے۔
بہر حال الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اس بات سے ناراض ہیں کہ سلیکشن کمیٹی کی میٹنگ میں جب وہ ویریندر سنگھ کے نام پر اعتراض درج کراچکے تھے، تو پھر ان کی تقرری کیسے کرلی گئی۔ وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے اس میٹنگ میں ویریندر سنگھ کا نام تجویز کیا تھا، لیکن چیف جسٹس نے اسے نامنظور کردیا تھا۔ تب وزیر اعلیٰ نے انھیں بھروسہ بھی دیا تھا کہ وہ لوک آیکت کے لےے ویریندر سنگھ کا نام تجویز نہیں کریں گے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڈ نے لوک آیکت کے لےے جسٹس (ریٹائرڈ) ایس یو خان، جسٹس (ریٹائرڈ) دیویندر پرتاپ سنگھ، جسٹس (ریٹائرڈ) امر سرن، جسٹس (ریٹائرڈ) شری کانت ترپاٹھی اور جسٹس (ریٹائرڈ) سنیل ہالی کا نام تجویز کیا تھا۔ حالانکہ چیف جسٹس ایس یو خان کے نام پر بھی متفق نہیں تھے۔
سرکار کی ضد اور الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے اختلاف کے بیچ سپریم کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 142 کے تحت فراہم کردہ طاقت کا استعمال کرتے ہوئے لوک آیکت کے عہدے پر ویریندر سنگھ کی تقرری کردی۔ آئین کا یہ آرٹیکل کہتا ہے کہ اگر کسی ریاست میںکسی خاص مدعے پر یا تقرری کے مسئلے پر سلیکشن کمیٹی کے ممبروں میں اتفاق رائے نہیں بنتی ہے، تو استحقاق کا استعمال کرتے ہوئے سپریم کورٹ فیصلہ کرسکتا ہے۔ سپریم کورٹ کی طرف سے لیا گیا ایسا کوئی بھی فیصلہ پارلیمنٹ میں پاس کسی قانون کی طرح ہی مانا جائے گا۔ لیکن الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی طرف سے اعتراض جتائے جانے، پھر گورنر کی طرف سے فائل لوٹانے اور پھر مفاد عامہ کی عرضی داخل ہوجانے سے سپریم کورٹ کو بھی یہ احساس ہوا کہ تنازع کی جڑیں کافی گہری ہیں۔ یوپی میںلوک آیکت کے انتخاب کا عمل کافی عرصہ سے تنازع میں ہے۔اسی تنازع کے سبب سپریم کورٹ کی طرف سے متعین کی گئی مدت میعاد کے باوجود نئے لوک آیکت کا سلیکشن نہیں ہوپایا تھا۔ اترپردیش سرکار نے لوک آیکت کے لےے ریٹائرڈ جسٹس ویریندر سنگھ کے نام کو لے کر زبردست پیروی کی،لیکن ہر بار گورنر نے اپنے اعتراضات کے ساتھ اسے واپس لوٹا دیا۔ الہ آباد کے چیف جسٹس نے بھی ویریندر سنگھ کے نام پر اعتراض جتایا تھا۔ گورنر نے چار چار بار سرکار کو فائل واپس لوٹائی۔ اس پر ریاستی سرکار نے نیا پینتر استعمال کیا۔ 27 اگست کو اسمبلی میں سرکار نے لوک آیکت کا انتخاب کرنے سے متعلق رول میں تبدیلی کا بل پاس کرالیا۔ ترمیم کے ذریعہ سلیکشن کمیٹی سے چیف جسٹس کو ہی باہر کردیا گیا، لیکن اس سے بھی اکھلیش سرکار کو کوئی فائدہ نہیں ملا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *