لوگوں کے صبر کا امتحان مت لیجئے

Share Article

سنتوش بھارتیہ
سرکار نے ایک جھٹکے میں پٹرول کی قیمت بڑھا دی۔ ڈیزل اور رسوئی گیس کی قیمت ویسے ہی زیادہ ہے، لیکن ابھی اس میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ سرکار کو معلوم تھا کہ ملک میں اس کی مخالفت ہوگی، کچھ اپوزیشن پارٹیاں لکیر پیٹنے کے لیے تحریک چھیڑنے کا اعلان کریں گی اور علامتی تحریک بھی ہوگی، اس کے باوجود اس نے پٹرول کی قیمت 12 فیصد سے زیادہ بڑھا دی۔ سرکار کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ ملک کے لوگ انتخاب سے پہلے، یعنی ووٹ ڈالنے سے پہلے کوئی بھی فیصلہ کن لڑائی نہیں لڑیں گے اور جس طرح کی حالت بھارتیہ جنتا پارٹی کی ہے، اس سے سرکار مطمئن ہے کہ کوئی بڑی مخالفت اسے نہیں جھیلنی پڑے گی اور وہ 15 دنوں کے اندر پھر پرانی پٹری پر چلنے لگے گی اور اسی قسم کے دیگر فیصلے بھی وہ آسانی سے کر سکے گی۔

پٹرول کی قیمت میں اضافہ کا اثر صرف اسکوٹر اور کار چلانے والوں پر نہیں پڑے گا۔ اس کا اثر ہندوستان کے ہر شہری پر پڑے گا، کیوں کہ پٹرول اور ڈیزل آبپاشی اور ڈھلائی کے سب سے بڑے وسیلہ ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ملک کے لوگ شاید ابھی بھی گھڑے کے اور بھرنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ نوجوان خاموش ہیں۔ شاید سرکار میں بیٹھے لوگ یا سیاسی پارٹیوں کے لوگ اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ جب سڑکوں پر نکلیں تو عوام انہیں گھیریں اور ان کے ساتھ بدسلوکی کریں۔ سرکار میں بیٹھے لوگ ملک کے عوام کے صبر کا، برداشت کا امتحان لینا چاہتے ہیں۔ سب کو پتہ ہے کہ ساری دنیا میں خام تیل کی قیمت گھٹی ہے۔ تیل کمپنیاں کہتی ہیں کہ انہیں نقصان ہو رہا ہے۔ تیل کمپنیاں اپنا حساب لوگوں کے سامنے کیوں نہیں رکھتیں کہ انہیں کیسے نقصان ہو رہا ہے۔ تیل کمپنیاں سیاسی آقاؤں کو پیسے پہنچانے کے ذریعہ کی شکل میں تبدیل ہو گئی ہیں۔ ہم سستا تیل بیچنے والے کاروباریوں میں سے بھی جو مہنگا تیل بیچتا ہے، اس سے تیل خریدتے ہیں اور اس کے بعد یہاں پر اس میں کتنا حصہ کس کی جیب میں جانا ہے، اسے جوڑ کر ملک میں وہ تیل، یعنی پٹرول اور ڈیزل لوگوں کے پاس پہنچتا ہے۔

سرکار بالکل صحیح ہے، کیوں کہ اسے اس بات کا احساس ہے کہ اگلے انتخاب میں بھلے ہی کوئی اور پارٹی اقتدار میں آئے، لیکن کانگریس کی سیٹیں بڑھیں گی، اس کے اوپر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ اس لیے وہ سارے کام کر ڈالنا چاہتی ہے، جن سے غیر ملکی سرمایہ کاروں، خاص کر امریکہ اور یوروپ کو فائدہ ہو سکتا ہے۔ ابھی بہت سارے حملے جھیلنے کے لیے ہمیں تیار رہنا چاہیے، کیوں کہ ہمارے ملک کے وزیر اعظم ماہر اقتصادیات ہیں، لیکن ان کی اقتصادیات امریکی سرمایہ کاروں اور ہندوستانی سرمایہ کاروں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ ہمارے وزیر اعظم کی اقتصادیات ہندوستان کے غریبوں کے لیے بالکل بیکار ہے، کیوں کہ ان کی فہرست میں ہندوستان کا غریب کہیں ہے ہی نہیں۔ ہمارے وزیر اعظم ایسی کابینہ کی قیادت کر رہے ہیں، جس میں وزیر بھی وزیر اعظم جیسے ہی ہیں۔ بے شرمی کے ساتھ وزیر یہ کہتے ہیں کہ انہیں بھی سبسڈی مل رہی ہے، جنہیں اس کی ضرورت نہیں ہے اور ملک کے لوگوں کو مفت خوری کی عادت پڑ گئی ہے۔
دراصل، مفت خور وہ وزیر ہے، جو یہ بیان دے رہا ہے۔ اس بیوقوف کو یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ ہندوستانی سرکار کا وزیر ہے اور اگر پٹرول اور ڈیزل کی قیمت بڑھتی ہے تو ڈھلائی کا دام بڑھے گا۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمت بڑھتی ہے تو ہر چیز کی قیمت بڑھے گی۔ کھیتی کی لاگت اور بڑھ جائے گی۔ ویسے ہی کسان کو اس کی لاگت کے حساب سے فصل کی قیمت نہیں ملتی۔ اب ڈیزل اور پٹرول کی بڑھی ہوئی قیمت کی وجہ سے اس کی کھیتی اور مہنگی ہو جائے گی۔ یا تو وہ کھیتی کم کرے گا یا کھیت بیچے گا یا خود کشی کرے گا۔ وہ بے شرم وزیر، جس نے یہ بیان دیا کہ ملک کے لوگوں کو مفت خوری کی عادت پڑ گئی ہے اور پٹرول اور ڈیزل کی بڑھی ہوئی قیمتوں کا اثر غریبوں کے اوپر نہیں پڑے گا، اس کی سر عام بے عزتی ہونی چاہیے۔
اس ملک کا کسان خودکشی کرتا ہے تو اسے اخباروں اور میڈیا میں جگہ نہیں ملتی۔ زیادہ تر کسان اس لیے خودکشی کرتے ہیں، کیوں کہ وہ کھیتی کے لیے قرض لیتے ہیں اور قرض لے کر کی گئی کھیتی انہیں اور بڑے قرض میں ڈال دیتی ہے، کیوں کہ انہیں فصل کی صحیح قیمت نہیں ملتی۔ ان کا گھر گروی ہو جاتا ہے، ان کے بچے پڑھ نہیں پاتے، ان کی بیٹیوں کی شادی نہیں ہو پاتی، ان کی سماجی بے عزتی ہوتی ہے اور تب ان کے پاس خودکشی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہتا۔ اس کسان کی زندگی کو خودکشی کی آگ میں جھونکنے کا کام یو پی اے سرکار نے کیا ہے۔ کانگریس کے حلیف ممتا بنرجی اور اجیت سنگھ کہتے ہیں کہ سرکار کے اندر رہ کر قیمتوں میں اضافہ کی مخالفت کریں گے۔ یہ کہتے ہوئے دونوں کی زبان نہیں کانپی؟ آپ اسی سرکار میں ہیں اور اگر آپ کی بات وزیر اعظم نہیں سنتے تو آپ سرکار میں ہیں کیوں؟ کیا وزیر اعظم نے آپ سے نہیں پوچھا، کیا وزیر اعظم نے کابینہ کی رائے کے بغیر یہ فیصلہ لے لیا کہ پٹرول کی قیمت میں اتنا بڑا اضافہ ہو، جس کا اثر ہندوستان میں رہنے والے ہر آدمی کو جھیلنا پڑے گا۔
پٹرول کی قیمت میں اضافہ کا اثر صرف اسکوٹر اور کار چلانے والوں پر نہیں پڑے گا۔ اس کا اثر ہندوستان کے ہر شہری پر پڑے گا، کیوں کہ پٹرول اور ڈیزل آبپاشی اور ڈھلائی کے سب سے بڑے وسیلہ ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ملک کے لوگ شاید ابھی بھی گھڑے کے اور بھرنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ نوجوان خاموش ہیں۔ شاید سرکار میں بیٹھے لوگ یا سیاسی پارٹیوں کے لوگ اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ جب سڑکوں پر نکلیں تو عوام انہیں گھیریں اور ان کے ساتھ بدسلوکی کریں۔ سرکار میں بیٹھے لوگ ملک کے عوام کے صبر کا، برداشت کا امتحان لینا چاہتے ہیں۔ سب کو پتہ ہے کہ ساری دنیا میں خام تیل کی قیمت گھٹی ہے۔ تیل کمپنیاں کہتی ہیں کہ انہیں نقصان ہو رہا ہے۔ تیل کمپنیاں اپنا حساب لوگوں کے سامنے کیوں نہیں رکھتیں کہ انہیں کیسے نقصان ہو رہا ہے۔ تیل کمپنیاں سیاسی آقاؤں کو پیسے پہنچانے کے ذریعہ کی شکل میں تبدیل ہو گئی ہیں۔ ہم سستا تیل بیچنے والے کاروباریوں میں سے بھی جو مہنگا تیل بیچتا ہے، اس سے تیل خریدتے ہیں اور اس کے بعد یہاں پر اس میں کتنا حصہ کس کی جیب میں جانا ہے، اسے جوڑ کر ملک میں وہ تیل، یعنی پٹرول اور ڈیزل لوگوں کے پاس پہنچتا ہے۔
ہمیں لگتا تھا کہ جے پال ریڈی ایماندار پٹرولیم وزیر ہیں۔ اگر جے پال ریڈی ایماندار پٹرولیم وزیر ہیں تو انہوں نے اس فیصلہ کی مخالفت کیوں نہیں کی، بلکہ اسے نافذ کرنے میں اپنی پوری مہارت کیوں لگا دی؟ شاید جے پال ریڈی کانگریس میں شامل ہو کر اس کہاوت کو حقیقت کا جامہ پہنا رہے ہیں کہ نیا مُلّا پیاز بہت کھاتا ہے۔ پوری سرکار شرم ناک ڈھنگ سے پٹرول کی قیمت میں اضافہ کا دفاع کر رہی ہے اور کانگریس پارٹی ڈیمیج کنٹرول کے نام پر کچھ روپے گھٹانے کی قواعد میں لگی ہے۔ اپوزیشن پارٹیاں علامتی احتجاج میں اپنا وقت ضائع کر رہی ہیں۔ دیکھنا یہی ہے کہ اس ملک کے لوگوں میں صبر کتنا ہے، تکلیف برداشت کرنے کی صلاحیت کتنی ہے۔ وہ کون سا نشان ہوگا، جب یہ صبر کا پیمانہ چھلک جائے گا اور لوگ ان سارے لوگوں سے سوال پوچھنا شروع کریں گے، جو ان کی تکلیفوں کے لیے ذمہ دار ہیں، چاہے وہ یو پی اے میں ہوں یا این ڈی اے میں۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *