لائن آف کنٹرول کا سانحہ اور میڈیا کی نفرت انگیز مہم

Share Article

عابد انور 
ہندوستانی حکومت جب بھی کسی مصیبت میں گھرتی ہے، اس سے لڑنے اور اس کا سامنا کرنے کے بجائے اس سے نکلنے کا بہت آسان سا بہانہ فوراً ڈھونڈ لیتی ہے۔ عوام کی توجہ حقیقی مسائل سے ہٹاکر ایسی چیزوں کی طرف مبذول کراتی ہے، جو ہندوستانی عوام کے لیے ہمیشہ حساس رہے ہیں۔ اس میں ہندوستانی میڈیا اہم کردار ادا کرتا ہے، کیوں کہ بازار کے اشارے پر ہی اس کے سارے ڈھول بجتے ہیں اور ٹی وی چینلوں پر مباحثہ و مذاکرہ کاطویل دور چلتا ہے۔ ریٹائرڈ جنرل اپنی بھڑاس نکالتے ہیں۔ کوئی اپنی محرومی کا بدلہ لیتاہے تو کوئی حکومت سے اپنی بیجا خواہش پوری ہونے کی پاداش میں زہر اگلتا ہے۔ ہندوستان کے سارے نیوز چینل چوبیس گھنٹے اپنے پروگرام پیش کرتے ہیں، انہیں مسالہ کے لیے کچھ نہ کچھ چاہیے، خواہ اس سے کسی کی دل آزاری ہو، کسی کی عزت اچھلے یا کسی کی زندگی تباہ ہوجائے ، کسی کے ساتھ ناانصافی ہو یا کوئی اس سے تنگ آکر خودکشی کرلے، لیکن ان چینلوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ صرف اپنے آقا کو خوش کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ جب سے میڈیامیں شمولیت مشن کے بجائے پروفیشن ہوگیا ہے، تب سے میڈیاکا ہر آدمی راتوں رات ٹھاٹ باٹ کی زندگی گزارنا چاہتا ہے اور اس کے لیے وہ کچھ بھی کرگزرنے کو تیار رہتا ہے۔ حکومت کے خلاف کب بولنا ہے، کب حکومت کی حمایت کرنا ہے اور کب کسی موضوع پر حکومت کا ناطقہ بند کرنا ہے، یہ میڈیا اپنی مرضی سے نہیں کرتا، بلکہ پہلے سے تیار اسکرپٹ کے مطابق کام کرتا ہے۔ ہندوستانی سنیما کے اداکاروںاور ہندوستانی نیوز چینلوں کے نیوز ریڈرس اور اینکرس میں بہت زیادہ فرق نہیں ہے۔ دونوں ہی پہلے سے طے شدہ اسکرپٹ کے مطابق ایکٹنگ کرتے ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ ہندوستانی سینما کے بارے میں لوگ جانتے ہیںکہ یہ اداکاری ہے، لیکن ہندوستانی میڈیا کے بارے میںیہ کوئی نہیں جانتا کہ یہ بنیوں اور کاپوریٹ کے اسکرپٹ پڑھتے ہیں اور اسی کے اشارے پر ہندوستان کا ماحول گرم یا ٹھنڈا کرتے ہیں۔ کس کو بلانا ہے اور کس سے کیا کہلوانا ہے یہ سب بنیوں کے اشارے پر ہی طے ہوتا ہے۔ ہندوستان میں ایجنٹوں کی کمی نہیں ہے۔ بحث و مباحثہ میں حصہ لینے والا ہر کوئی کسی نہ کسی کا ایجنٹ کا ہوتا ہے۔ کوئی اسلحہ کمپنی کا ایجنٹ ہے، تو کوئی بیرونی ملک کا، تو کوئی کسی سیکٹرکا، تو کوئی بدامنی پھیلانے والوں کا، اور ان سب کے پس پشت بازار ہوتا ہے۔ بدامنی پھیلے گی، اسلحہ بازار میں اچھال آئے گا، تو بنیوں کو اپنی قیمت دو گنی تین گنی کرنے کا سنہری موقع حاصل ہوگا۔

ہندوستانی میڈیا کے لیے نفرت پھیلانا اور بھولے بھالے عوام کو جنگی جنون میں مبتلا کرنا بہت آسان ہے، لیکن اس کے خوفناک نتائج ہمیشہ عوام کو ہی بھگتنے پڑتے ہیں۔ جیسے ہی لائن آف کنٹرول پر حالات کشیدہ ہوئے، کشمیری عوام تشویش میں مبتلا ہوگئے، کیوں کہ جنگ کا ایندھن تو کشمیری عوام ہی بنیں گے۔ کشمیر کے حالات بہت مشکل سے معمول پر آئے ہیں اورسیاحوں کا رجحان کشمیر کی طرف بڑھا ہے، جس سے کشمیری عوام کی زندگی بہتر ہوئی ہے۔

گزشتہ ہفتہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جو کچھ ہوا وہ اسی بازار کا نتیجہ تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کا سرا مختلف جہتوں سے گزرتا ہوا، مختلف پہلوئوں سے بھی ملتا ہے، جس میں سب کے اپنے اپنے مفادات ہیں۔ یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ دونوں ملکوں میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ پاکستان میں مئی میںتو ہندوستان میں اگلے سال فروری میں عام انتخابات ہونے ہیں۔ یہ ایسا موقع ہوتا ہے کہ دونوں طرف کے لیڈران اپنی فتح کو یقینی بنانے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔ ماضی کے واقعات اس کے شاہد ہیں۔
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان نومبر 2003 میں کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا۔ گزشتہ 6 جنوری کو ہندوستانی فوج کی فائرنگ میں ایک پاکستانی فوجی ہلا ک ہوگیا تھا، جب کہ 8 جنوری کے واقعہ میں ہندوستان کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ پاکستانی فوج نے لائن آف کنٹرول پار کرکے ہندوستانی سرحد میں چھ سو میٹر اندر گھس کر دو فوجیوں کو شہید کردیا اور ان میں سے ایک کا سر کاٹ کر لے گئے (حیرانی کی بات یہ ہے کہ اتنے اندر گھس کر سر کاٹ کرکیسے لے گئے اور کسی فوجی نے روکا تک نہیں)۔ لائن آف کنٹرول پر فائرنگ ہوتی رہی ہے، لیکن سر کاٹنے کا واقعہ پہلی مرتبہ پیش آیا۔ یہ سانحہ جموں کے مینڈھر میں ہوا ہے۔ اس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی اور اس میں میڈیا نے اپنی لن ترانی سے اس میں مزید اضافہ کیا اور آگ میں گھی ڈالنے کا کام کیا۔ معاملہ یہاں تک بگڑ گیا کہ گزشتہ دسمبر میں ہونے والا معاہدہ، جس کی رو سے سرحدپر ویزا فراہم کرنا تھا، پر عمل درآمد روک دیا گیا۔ ہندوستانی ہاکی لیگ میں شامل ہونے والے کھلاڑیوں کو واپس پاکستان بھیج دیا گیا، خواتین ورلڈ کپ کے مقامات کو بدلا گیا، تجارتی سامان سے لدے ٹرکوں کو روک دیا گیا۔ کارروانِ امن بس پاکستان سے خالی لوٹ آئی، پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تجارتی سرگرمی کو گہن لگ گیا۔ آخر کیا وجہ ہے کہ جب تعلقات معمول پر آتے ہیں، کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ پیش آجاتا ہے، جس سے ساری کوششیں رائیگاں چلی جاتی ہیں۔ کرگل ہو یا 2008 کا ممبئی دہشت گردانہ حملہ، چھتی سنگھ پورہ قتل ہو یا جموں و کشمیر میں دیگر دہشت گردانہ واقعات، ہمیشہ اسی وقت کیوں ہوتے ہیں، جب تعلقات معمول پرآنے کو ہوتے ہیں اور کسی مثبت قدم اٹھانے کی ا مید ہوتی ہے اور سارے گلے شکوے دور کرنے کی نوبت آتی ہے۔ کچھ طاقتیں ایسی ہیں، جو ہندوستان اور پاکستان کے مابین تعلقات کو استوار نہیں ہونے دینا چاہتیں۔ ہندوستان میں جس طرح اس دوران نفرت کا ماحول پیدا ہوگیا اور جس طرح کی زبان کااستعمال کیا گیا، وہ ایک مہذب ملک کے شہری قطعی استعمال نہیں کرسکتے۔ ہر ملک میں حزب اختلافات کے لیڈر کا ایک مقام ہوتا ہے اور وہ لیڈر خصوصاً خارجہ پالیسی اور امور پر بہت سوچ سمجھ کر بیان دیتا ہے، لیکن جس طرح بھارتیہ جنتا پارٹی کی لیڈر اور حزب اختلاف کی رہنما سشما سوراج کا بیان آیا، وہ نہ صرف تکلیف دہ تھا، بلکہ سفارتی زبان کے بھی منافی تھا۔ ان کے اس بیان سے شدت پسند ہندو تو خوش ہوسکتے ہیں، لیکن ملک کا بھلا نہیں ہوسکتا۔ سشما سوراج نے کہا تھا کہ اگر ہندوستانی فوجی کا سر واپس نہیں آتا، تو اس کے بدلے میں حکومت کو چاہیے کہ وہ دس پاکستانی شہریوں کے سر کاٹ کر لائے۔ راجیہ سبھا میں بی جے پی کے لیڈر آف اپوزیشن ارون جیٹلی نے کہا کہ پاکستان سے دوستی بڑھانے کے بجائے اسے عالمی سطح پر شرمندہ کیا جانا چاہیے۔ وزیراعظم منموہن سنگھ نے کنٹرول لائن پر ہندوستانی فوجیوں کی ہلاکتوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات پہلے جیسے نہیں رہ سکتے۔ ہم ملکی ایٹمی پروگرام کو وسعت دینے کی راہ پر گامزن ہیں۔ اسی کے ساتھ انہوں نے حکومت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ بزرگ شہریوں کے لیے ویزا اسکیم معطل کرنے کا بھی اعلان کیا۔ ہندوستانی فو ج کے سربراہ بھی پاکستان سے دو دو ہاتھ پر زور دیتے نظر آئے۔ ایسی کسی بھی کارروائی کا منھ توڑ جواب دینے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے فوج کے سربراہ جنرل بکرم سنگھ نے کہا کہ جوابی کارروائی کب، کہاں اور کیسے ہوگی، یہ ہم طے کریں گے۔ ہندوستان کا ہر شخص پاکستان کو سبق سکھانے کا مطالبہ کرنے لگا۔ کوئی ہندوستان کے وقار کی دہائی دے رہا تھا تو کوئی اپنے برتائو سے اس طرح ظاہر کر رہا تھا کہ گویا سب کچھ لٹ گیاہو۔
حقیقت میں کیا ہوا، غلطی کس کی ہے، اس کی طرف ہندوستان کے ایک انگریزی اخبار نے اشارہ کیا ہے۔ جنگی جنون پیدا کرنے میں ماہر ہندوستانی الیکٹرانک میڈیا کو حقائق کی تہہ میں اترنے کی فرصت کہاں ہے یا وہ عمداً ایسا نہیں کرنا چاہتا۔ وہ اشتعال انگیزی کو فروغ دے کر اور منافرت پھیلاکر اپنا ٹی آر پی بڑھانا چاہتا ہے۔ اس ضمن میں پاکستان کے اخبار’ جنگ‘ میں ہندوستانی میڈیا کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع ہوئی، جسے ہم نقل کر رہے ہیں۔ ’’ہندوستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کی جانب سے کنٹرول لائن پرہندوستانی فوج پر فائرنگ کا واقعہ اتوار کو ہندوستانی فورسز کے حملے کا جواب تھا، رپورٹ میں ہندوستانی وزارت داخلہ اور وزارت دفاع کے ذرائع سے بتایا گیاہے کہ اڑی سیکٹر میں ہندوستانی فوجی اس صورتحال کے ذمہ دار ہیں اور سرحد پار 9 ویں مراٹھا لائٹ انفینٹری کے کمانڈوز کی اتوار کی صبح پاکستانی چیک پوسٹ پر کارروائی اس اشتعال انگیزی کی وجہ بنی۔ ہندوستانی وزارت داخلہ اور وزارت دفاع کے ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کا حملہ ہندوستانی حملے کا جواب ہے۔ چرچنڈا سب سیکٹر کے بریگیڈیئر گلاب سنگھ راوت نے اس جارحیت کا فیصلہ کیا اور مراٹھا لائٹ انفینٹری بریگیڈ کو پاکستانی چیک پوسٹ پر حملے کے لیے کہا، ہندوستان کی اس کارروائی کے نتیجے میں پاکستان کاایک کمیشنڈ آفیسر شہید ہوا ا ور کنٹرول لائن پر تنائو کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بریگیڈیئر راوت جارحانہ رویہ رکھتے ہیں اور اسی کے باعث کنٹرول لائن پر 9 سال پرانی جنگ بندی کو نقصان پہنچا ہے۔ ہندوستانی فوج نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور بریگیڈیئر راوت کے بارے میں فیصلہ آئندہ چند روز میں متوقع ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ ہندوستانی فوجیوں کے قتل میں پاکستان ملوث نہیں۔ ان فوجیوں کی ہلاکت کا واقعہ ہندوستان میں ہوا ہے، ہندوستان اس کی تحقیقات کرے۔ پاکستان انتقامی کارروائی پر یقین نہیں رکھتا۔ دشمنی کا ماحول بنانے سے گریز کیا جانا چاہیے۔ پاکستان نے اپنی تحقیقات مکمل کر لی ہے اور ہم تیسرے فریق سے تحقیقات کے لیے تیار ہیں‘‘۔
ہندوستان کے ایک انگریزی اخبار ’دی ہندو‘ نے اس طرح کے اندوہناک واقعہ کی تفصیل درج کی ہے اور اس طرح کے واقعات کے پس منظر پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ ستمبر میں ایک کشمیری خاتون، جس کے دونوں بچے پاک مقبوضہ کشمیر میں رہتے ہیں، کسی طرح سرحد عبور کرکے ان کے پاس چلی گئیں، جس کی اطلاع ہندوستانی فوج کو ملی۔ ہندوستانی فوج (مراٹھا لائٹ انفینٹری) نے اس کے لیے بنکروں کی تعمیر شروع کردی، جو کہ 2003 میں ہونے والے جنگ بندی معاہدہ کے خلاف تھا۔ پاکستانی فوج نے اس پر اعتراض کیا اور لائوڈ اسپیکر پر بھی اس کے خلاف احتجاج کیا، لیکن فوجیوں نے بنکروں کی تعمیر بند نہیں کی اور اس طرح معاملہ کشیدہ ہوتا چلا گیا۔ ماہ اکتوبر میں حالات اور بھی کشیدہ ہوگئے۔ وارننگ کے طور پر پاکستانی فوج نے فائرنگ کی اور مارٹر داغے، جس کا نشانہ خطا ہواگیا اور اس کے نتیجہ میں وہاں کے تین باشندے : 25 سالہ محمدشفیع، 22 سالہ شاہینہ اور نویں جماعت کا ایک طالب علم لیاقت علی ہلا ک ہوگئے۔ ایک دوہفتے خاموشی سے گزرنے کے بعد 6 جنوری کو ہندوستانی فوج نے ساون پٹرا نامی چوکی پر فائرنگ کی۔ حالانکہ ہندوستان نے اس کی تردید کی۔ اس حملے میں پاکستان کا ایک فوجی ہلاک اور ایک دیگر زخمی ہوگیا۔ اس کے بعد 8 جنوری کو جو واقعہ پیش آیا، وہ سب کے سامنے ہے۔ اس طرح کے واقعات ان برسوں میں متعدد بارپیش آچکے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی خلاف ورزی پہلی بار کی گئی ہے۔ 2008 میں لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے واقعات میں ہندوستان کے دو اور پاکستان کے چار فوجی مارے گئے تھے۔ کشمیر کے متنازع علاقے کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر حالیہ فائرنگ کے واقعات پر پاکستان نے فلیگ میٹنگ کے دوران ہندوستان سے پاکستانی فوجیوں پر لگائے گئے الزامات پر شدید احتجاج کیا ہے۔ دوسری طرف ہندوستان نے بھی اپنی فوجیوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک پر زبردست ناراضگی ظاہر کی۔ اس طرح فلیگ میٹنگ الزام اور جوابی الزامات کی نذرہوگئی۔
کشمیر میں 1989 سے اب تک 80 ہزار کشمیری مارے جاچکے ہیں۔ کشمیر قبروں کا شہر بن چکا ہے۔ ہندوستانی فوجی کوحاصل خصوصی اختیارات کی وجہ سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے واقعات عام بات ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق کشمیر میں پندرہ ہزار سے زائد نوجوانوں کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے قانون کے تحت قید کیا گیا۔ کشمیر میں آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ یا افسپا نامی خوفناک قانون بھی نافذ ہے، جس کی رو سے کوئی بھی فوجی کسی بھی شخص کو عدالتی اجازت کے بغیر گولی مار سکتا ہے یا کسی بھی مکان کی تلاشی لے سکتا ہے۔ جب ہندوستانی فوجی مکان کی تلاشی لیتے ہیں تو مسلمانوں، خصوصاً ْخواتین کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں، یہ سب کو معلوم ہے۔ انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ اگر لوگوں کو انصاف اور قصورواروں کو سزا نہیں ملی تو کشمیر میں شورش کی ایک نئی لہر برپا ہوسکتی ہے۔ عالمی اداروں کے مطابق بائیس سال کے دوران مسلح شورش کو دبانے کی کارروائیوں اور مسلح حملوں کے نتیجہ میں ستّر ہزار افراد مارے گئے ہیں۔ لاپتہ افراد کی تعداد آٹھ ہزار بتائی جاتی ہے۔ ڈیڑھ ہزار خواتین ایسی ہیں جو اپنے گمشدہ خاوندوں کے انتظار میں اب ’آدھی بیوائیں‘ کہلاتی ہیں۔ انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں سیکورٹی پابندیوں، اندھادھند گرفتاریوں اور قدغنوں کی وجہ سے جو خاموشی پائی جاتی ہے، اسے قیام امن کا نام دینا خودفریبی ہے۔ صحافی گوتم نولکھا ہندوستانی وکلا کی اْس ٹیم میں شامل تھے، جنہوں نے کشمیر میں مبینہ زیادتیوں کے دو سو چودہ کیسوں میں پانچ سو فوجیوں اور پولس افسروں اور اہلکاروں کو ملوث بتایا تھا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما اور معروف قانون داں رام جیٹھ ملانی نے کشمیر کا دورہ کرنے کے بعد کہا تھا کہ کشمیر میں لوگوں کے ساتھ نازی طرز کا ظلم ہورہا ہے اور ناانصافیوں کا سلسلہ جاری رہا تو لوگ انصاف کے حصول کے لیے ’متبادل راستے‘ تلاش کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا تھاکہ انسانی حقوق کی پامالیوں، بلاامتیاز گرفتاریوں، لاقانونیت اور غیر جوابدہ انتظامیہ کی وجہ سے کشمیر میں ظلم اور دہشت کا ماحول قائم ہوا ہے۔ جموں و کشمیر میں غیر ضروری طور پر احتیاطی گرفتاری کے قوانین نافذ ہیں اور ان قوانین کا ناجائز استعمال کیا جا رہا ہے۔ رام جیٹھ ملانی نے سابق مسلح رہنما عبدالعزیز ڈار عرف جنرل موسیٰ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ شخص کو بنا کسی عدالتی سماعت کے اٹھارہ سال تک جموں و کشمیر کی جیلوں میں قید رکھا گیا۔ ان کے مطابق اس طرح کی صورتحال نازی جرمنی میں بھی دیکھنے کو نہیں ملی تھی۔
ہندوستانی میڈیا کے لیے نفرت پھیلانا اور بھولے بھالے عوام کو جنگی جنون میں مبتلا کرنا بہت آسان ہے، لیکن اس کے خوفناک نتائج ہمیشہ عوام کو ہی بھگتنے پڑتے ہیں۔ جیسے ہی لائن آف کنٹرول پر حالات کشیدہ ہوئے، کشمیری عوام تشویش میں مبتلا ہوگئے، کیوں کہ جنگ کا ایندھن تو کشمیری عوام ہی بنیں گے۔ کشمیر کے حالات بہت مشکل سے معمول پر آئے ہیں اورسیاحوں کا رجحان کشمیر کی طرف بڑھا ہے، جس سے کشمیری عوام کی زندگی بہتر ہوئی ہے۔ کشمیری نوجوان ہندوستان کے ساتھ یگانگت اور محبت کا اظہار کر رہے ہیں، جوخوش آئند بات ہے۔ وہ تمام شعبوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں ۔ اس رجحان کا ہمیں فائدہ اٹھانا چاہیے نہ کہ اشتعال اور نفرت پھیلاکر عوام کو دہشت میں مبتلا کرنا چاہیے۔ آخر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کتنی بار جنگ ہوگی۔ جنگ کوئی مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ جنگ کے بعد بھی آخر کار میز پر ہی بیٹھنا ہوتا ہے، تو کیوں نہ دونوں ملکوں کی فوج اور رہنما ذاتی اغراض و مقاصداور انتخابی نتائج کی پرواہ کیے بغیر آمنے سامنے بیٹھیں اور دائمی حل نکالیں اور ان عناصر پر لگام کسیں، جو دونوں ملکوں کے تعلقات معمول پر آنے نہیں دینا چاہتے۔

Share Article

One thought on “لائن آف کنٹرول کا سانحہ اور میڈیا کی نفرت انگیز مہم

  • February 9, 2013 at 2:52 pm
    Permalink

    اس مضمون کی
    روشنی می یہی بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے ک امن اور دوستی وقت کی اہم ضررورت بی ہے اور دونوں ممالک ک اوم کا دیرینہ مطالبہ بھی پاکستان ار بھارت دونوں ایک دوسرے ک وجود کو حقیقی طور پر تسلیم کریں اور دوستوں کا سا سلوک ہو

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *