دیکھتے ہیں کیا تیر مارتے ہیں مشرف

Share Article

وسیم راشد
اکبر الہ آبادی کا یہ شعر نہ جانے کیوں بار بار ذہن میں آرہا ہے۔
قوم کے غم میں ڈ نر کھاتے ہیں حکام کے ساتھ
رنج لیڈر کو بہت ہے مگر آرام کے ساتھ
ایسے ہی ہمارے ایک پڑوسی ملک کے لیڈر ہیں جناب پرویز مشرف جو لندن میں بیٹھ کر اپنے ملک پاکستان کی سا  لمیت وبقا کی باتیں کررہے ہیں جو موجودہ پاکستانی حکومت کو ہر طرح سے ناکام ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ پرویز صاحب سے کوئی یہ پوچھے کہ وہ جب برسر اقتدار تھے تو انہوں نے کیا تیر مارلیا تھا۔ اگر پاکستانی عوام سے ملیں اور ان سے بات کریں تو وہ آپ کو بتائیں گے کہ مشرف کے وقت میں ہی نوجوانوں نے ہاتھوں میں بندوقیں اٹھالی تھیں۔ مشرف کے وقت میں ہی پاکستان میں لا اینڈ آرڈر بہت خراب تھا۔ ان ہی کے وقت میں نوجوانوں میں عدم تحفظ اور روزگار نہ ملنے کے سبب انتشار اور بے چینی پھیلنی شروع ہوئی تھی۔ اب مشرف صاحب کا یہ بیان کہ ’ہاں ہم نے ہی انتہا پسندوں کی تربیت دی تھی‘ بہت ہی متنازع ہے اور اسی کے جواز میں ان کا یہ کہنا کہ یہ ملک کے اپنے مفادات کو آگے بڑھانے کا حق ہے، بہت ہی غیر ذمہ دارانہ ہے۔ جرمن میگزین’ ڈیر اسپیگل‘ کے ساتھ انٹر ویو میں انہوں نے کہا کہ کشمیر میں ہندوستان کے خلاف لڑنے کے لئے انڈر گراؤنڈانتہا پسندگروپوں کو تیار کیا گیا اور ایسا اس لئے کیا گیا کیونکہ نوازشریف نے کشمیر کے موضوع پر بے حسی طاری کررکھی تھی اور دنیا نے بھی اس موضوع کو پس پشت ڈال دیا تھا۔ ایک اور بات انہو ں نے اس ضمن میں کہی کہ ہندوستانی وزیر اعظم کو کوئی نہیں کہتا کہ ان کے پاس جو نیوکلیئر ہتھیار ہیں، اس کا استعمال وہ کشمیریوں کو ہلاک کرنے کے لئے کیوں کررہے ہیں۔ ان تمام بیانات سے مشرف نہ جانے کیوں ایک نیا تنازع کھڑا کرنے پر تل گئے ہیں۔ ایسے وقت میں جب کہ پورا پاکستان سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد پیداہونے والے مسائل سے نبرد آزما ہے۔ ایسے وقت میں جب کہ پورے پاکستان میں بیماریاں پھیلی ہوئی ہیں۔ لاکھوں کروڑوں افراد بے گھر ہوگئے ہیں اور ہزاروں بچے یتیم ہوگئے ہیں۔ ایسے وقت میں مشرف کو چاہئے کہ وہ یہ سوچیں کہ جب انجلینا جولی پاکستان کی کروڑوں ڈالرس میں مدد کرسکتی ہیں تو وہ کیسے پاکستان کے لئے مددگار ثابت ہوسکیں گے۔ بے شک وہ جلاوطنی کی زندگی گزاررہے ہیں مگر اپنے روزمرہ کے معمول میں جیسے کہ وہ ہاٹیڈ پارک میں چہل قدمی کرتے ہیں اگر وہ پاکستان کے لئے بھی ریلیف کا کام کرکے وہاں بھیجتے تو بھی عوام کی نظر میں ان کا قد اونچا ہو جاتا۔ حالانکہ یہ بہت ہی آئیڈیل سیچویشن ہے کہ جلاوطن، معزول صدر اپنے وطن عزیز کی اس لگن اور دردمندی سے مدد کرنے کے لئے آگے آئے جیسا کہ وہ اپنے وطن کا ابھی بھی سربراہ ہو۔ مگر اس بھیانک ترین دور سے گزررہے پاکستان میں مہنگائی اپنے شباب پر ہے۔ دودھ80روپے کلو، گوشت450-500 روپے کلو، دالیں 120روپے سے 200روپے کلو، آٹا 80سے85روپے کلو، ریفائنڈ 150روپے کلو اور سبزیاں تو جیسے عنقا ہوگئی ہیں، کیونکہ سیلاب نے فصلوں کو برباد کردیا ہے۔ ایسے میں پرویز مشرف کی نئی پارٹی بنانے کا فیصلہ بھی سامنے آیا ہے۔ اب سوال یہ  پیدا ہوتا ہے کہ یہ فیصلہ کتنا درست ہے،کیونکہ یکم اکتوبر کو مشرف کی نئی سیاسی جماعت ’’آل پاکستان مسلم لیگ‘‘ کا قیام عمل میں آیا ہے اور مشرف نے پاکستانی قوم سے اپنی سیاسی غلطیوں کی معافی بھی مانگی ہے۔ پرویز مشرف سے ہندوستانی مسلمان اور خاص طور پر دہلی کے عوام تھوڑی بہت انسیت رکھتے تھے۔ چونکہ وہ پرانی دہلی میں اپنا بچپن گزار کرگئے تھے اور پاکستان میں مہاجر تھے۔ اسی لئے یہاں کے عوام ان کو اپنا سمجھتے تھے، مگر مشرف کی اپنی غلطیوں نے ان کو سبھی سے دور کردیا۔ پرویز مشرف کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ ان کے نوسالہ دور اقتدار میں جو بھی ترقی ہوئی تھی، اس کے اثرات ختم ہوتے جارہے ہیں۔ پرویز مشرف کے نوسالہ دور اقتدار کو اگر ناقدین کی نظر سے دیکھیں اور ساتھ ہی ان کے ملک کے عوام کی نظر سے بھی تو ان کے دور میں تعلیم کو بے حد نظر انداز کیا گیا۔ مشرف نے اپنے ایک انٹر ویو میں یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ 2007تک پاکستان نے بے حد ترقی کرلی تھی اور معاشی ترقی کی رفتار آٹھ فی صد تک پہنچ گئی تھی۔ کرنسی بھی مستحکم تھی اور معیشت کا دائرہ وسیع ہورہا تھا مگر راقم الحروف کو اچھی طرح یاد ہے کہ 2006میں جب پاکستان جانا ہوا تھا تو اس وقت بھی پاکستان کی کرنسی بہت ہی ڈاؤن تھی اور ہندوستانی 100روپے کے وہاں 140سے150روپے مل رہے تھے۔ اب بھی پاکستانی کرنسی کے وہاں کے 100روپے کے یہاں 40سے 50روپے مل رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مشرف کے دور کی ترقی کی وجہ آسان بنک قرضوں کی پالیسی تھی اور شاید اسی لئے موجودہ حکومت کے پہلے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اپنے ایک انٹر ویو میں کہاتھا کہ مشرف کے دور کی معاشی ترقی اعدادوشمار کا ہیر پھیر تھی۔ پرویز مشرف اب یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ وہ پاکستان کی حالت سدھارنے کے لئے اپنی پارٹی بنارہے ہیں تاکہ پاکستانی عوام کے دکھ درد کا اعادہ کرسکیں اور ان کے لئے کام کرسکیں، مگر جب وہ برسر اقتدار تھے اور سیاہ وسپید کے مالک تھے ،جو کام انہوں نے تب نہیں کئے تو اب وہ کیسے کریں گے، جب کہ اب ان کو مضبوط اپوزیشن کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ پرویز مشرف الزام لگاتے ہیں کہ نواز شریف نے مجھے ایک ایسے وقت میں برطرف کیا جب میرا طیارہ فضاؤں میں تھا، جسے انہوں نے ہائی جیک کیا۔ مگر یہ بھی واضح حقیقت ہے کہ مشرف کے دور میں نواز شریف پر بھی طیارہ اغوا کا مقدمہ چلایا گیا۔ کیونکہ اس ضمن میں نواز شریف کا یہ بیان بار بار آتا ہے ، جس میں انہوں نے مشرف پر طیارہ ہائی جیک کا الزام لگایا ہے اور نواز کا کہنا ہے کہ وہ تو فضا سے فوجی بغاوت کی نگرانی کرتے رہے۔ دراصل ہم اس مضمون میں کوئی تجزیہ کرنے نہیں بیٹھے تھے مگر مشرف کے بیانات سامنے آتے گئے اور پرتیں کھلتی گئیں۔ اب جب کہ مشرف واپسی کے لئے پرتول رہے ہیں تو سب کچھ سنیما کے پردے کی طرح نظر آرہا ہے۔ پرویز مشرف نے اپنے انٹرویو میں یہ تسلیم کیا کہ ان کی سب سے بڑی سیاسی غلطی این آر او آرڈیننس کا فیصلہ تھا اور وہ اپنے اس فیصلے کے لئے قوم سے معافی مانگ چکے ہیں۔ مگر وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس معاملے میں وہ بے قصور ہیں اور یہ آرڈیننس چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی نے جاری کروایاتھا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ چودھری برادران کا ہی فیصلہ تھا کہ مقدمے ختم کردئے جائیں، لیکن بے نظیر اور نواز شریف کو الیکشن سے پہلے وطن واپس آنے کی اجازت نہ دی جائے۔ پرویز مشرف یہ کیوں بھول رہے ہیں کہ وہ کسی معمولی عہدے پر نہیں تھے اور ملک کے صدر کو یہ بیان دینا کہ انہوں نے کسی کی باتوں میں آکر غلط فیصلہ کیا ، ان کے کمزور صدر ہونے کی دلیل ہے۔ ایک اور بہت ہی اہم بات جس پر نظر کم ہی جارہی ہے، وہ یہ کہ جب سے پرویز مشرف نے اپنی پارٹی بنائی ہے اور سیاست میں واپس آنے کا اعلان کیا ہے، تب سے ہی وہ سب سے زیادہ تنقید چودھری برادران پر کررہے ہیں۔ چودھری شجاعت حسین نے ایک ٹی وی چینل پر اپنے انٹر ویو میں بھی کہا ہے کہ پرویز مشرف نے اپنی سیاسی مہم ، صدر زرداری کے ساتھ ایک نئی مفاہمت کے تحت شروع کی ہے۔ جس میں وہ نوازشریف اور انہیں تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں تاکہ لوگوں کی توجہ حکومت کی کارکردگی سے ہٹائی جا سکے۔ مشرف کی نئی پارٹی بنانے اور دوبارہ برسراقتدار آنے پر ، جب پاکستان کے ایک ممتاز تجزیہ نگار شفقت محمود صاحب سے پوچھاگیا کہ جب دوسال قبل مشرف اس قدر غیر مقبول تھے تو وہ آخر کیوں سمجھتے ہیں کہ یہ ان کے سیاست میں واپس آنے کا صحیح وقت ہے؟ تو شفقت محمود نے جواب دیا کہ ’’پرویز مشرف اب بھی بہت غیر مقبول ہیں، انہیں بہت کم سیاسی حمایت حاصل ہے اور ان کی کامیابی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا، پر ہوسکتا ہے ان کے پاس بہت بڑی رقم ہو، اور انہیں کسی طرف سے بڑی حمایت حاصل ہو۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ کون لوگ ہیں۔ کوئی سیاسی وجہ نظر نہیں آتی اور نہ ہی ان کی کامیابی کا کوئی امکان ہے۔ ان کے کئی پرانے ساتھی انہیں چھوڑ چکے ہیں۔ میں کسی بھی اہم فرد کو نہیں جانتا جو اب بھی ان کے ساتھ ہو، اس لئے مجھے ان کی پارٹی بنانے اور پاکستان واپس آنے کی خواہش احمقانہ معلوم ہوتی ہے۔ ‘‘یہ تو ایک اہم شخصیت کی رائے تھی پرعام آدمی کیا سوچتا ہے، اس کی کیا رائے ہے۔ یہ جاننا بھی بہت ضروری ہے۔ اپنا یہ مضمون لکھتے وقت ہم پریشان تھے کہ آخر یہ کیسے پتا چلے کہ عام آدمی کیا سوچتا ہے تو ہم کو ہمارے جادوئی ڈبے جسے ہم کمپیوٹر کہتے ہیں، پر کافی لوگوں کی اس ضمن میں تحریر نظر آئی، جس کو ہم من وعن شائع کررہے ہیں تاکہ آپ کو بھی پتہ چلے کہ پرویز مشرف کی واپسی کا فیصلہ کتنا غلط ہے اور کتنا صحیح اور آخر میں وہ نئی پارٹی بناکر اور واپس آکر کیا تیر ماریں گے۔

پرویزمشرف کی واپسی کے فیصلے پر عام آدمی کی رائے

یامین جعفری: سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف صاحب قوم آج بھی آپ کے دور کو یاد کرتی ہے۔آپ کی جانب سے آل پاکستان مسلم لیگ کے اعلان نے وطن سے محبت کرنیوالوں کے دلوں میں خوشی کی لہر دوڑا دی ہے۔ میڈیا کے تمام تر منفی پروپیگنڈے کے باوجود عوام یہ نہیں بھولے کہ آپ نے اپنے 9 سالہ دور میں ڈالر کو مضبوطی سے ایک جگہ جمائے رکھا۔ جی ڈی پی کی شرح 8 فی صد تک پہنچا کر ملک میں خوش حالی کا دور پیدا کیا جسے بدقسمتی سے ایک ہی جھٹکے میں زمین بوس کر دیا گیا آج ملک کے عوام میں غربت کی شرح آپ کے دور کے مقابلے میں دوگنی سے زیادہ ہو گئی ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کار ملک سے اپنی دولت بیرون ملک لے جانے ہی میں اپنی عافیت سمجھتے ہیں اور عوام اس سنہرے دور کو بے چینی سے یاد کرتے ہیں جب چینی 22 روپے، آٹا12 روپے کلو، دالیں20 اور25 روپے کلو تھیں۔
آج تو دال کا بھاؤ بھی دو سو روپے تک پہنچ چکا ہے اور عوام سمجھتے ہیں کہ اگر انہیں دال ہی میسر آ گئی تو عید ہو گی۔ لوگ بھوک اور بے روزگاری سے تنگ آ کر خود کشیاں کر رہے ہیں۔پرویز مشرف صاحب آپ جلد از جلد پاکستان آنے کا پروگرام بنائیں۔ قوم آپ کے لیے دیدہ و دل فرش راہ کئے ہوئے ہے۔
کاشف نصیر :جی جلد از جلد پاکستان آنے کا پروگرام بنائیں، ڈاکٹر عبدلقدیر خان، لال مسجد والے، لاپتہ افراد کے اہل خانہ، اکبر بگٹی کے ورثا، ڈاکٹر شاذیہ اور سونے پر سہاگہ چیف جسٹس آف پاکستان آپ کا استقبال کرنے کے لئے بے چین ہیں۔
یامین جعفری صاحب، پرویز مشرف اور اس کے حوارین نے نو برس اس ملک کا جو حال کیا ہے اس کی طرف نظر کرتا ہوں تو مجھے زرداری اور گیلانی کے دھلائے دھلائے فرشتے معلوم ہوتے ہیں۔ آپ ڈالر کی بات کررہے ہیں اور لوگوں کو ڈالر کی نہیں آٹے کی ضرورت ہے اور پرویز مشرف کے دور میں آٹا 13 روپے سے 35 روپے تک پہنچا، پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 200 فیصد اضافہ ہوا، غیر ملکی قرضے تین گنا بڑھ گئے اور جس معیشت میں جس آٹھ فیصد کے حساب سے اضافہ کی آپ بات کررہے ہیں بتاتے ہوئے یہ مت بھولیں اس اضافہ میں خدمت کے شعبہ کا حصہ 80 فیصد اور پیداواری شعبہ کا حصہ صرف 20 فیصد ہے اور زرمبادلہ کے جن ذخائر کی بات کی جاتی ہے اس میں چالیس فیصد سے زائد قومی اداروں کی کوڑیوں کے دام نجکاری کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سرمایہ کا تھا اور باقی امریکی امداد کا۔ ٹکسٹائل کے ساتھ شوکت عزیز نے دشمنی نکالی ہے وہ شاید آپ جانتے ہی نہیں ہیں۔
اگر آپ کی یادشت کمزور ہے تو آپ دوسرے سے یہ توقع نہ کریں کہ وہ مشرف کا نو سالہ سیاہ دور بھول چکے ہیں۔مشرف پاکستان ضرور آئے گا لیکن اسکے لئے اقتدار کی کرسی نہیں پھانسی کا پھندا ہے۔
میرا پاکستان : پرویز مشرف کو دوبارہ حکومت دو تا کہ وہ شہریوں کو دوبارہ بیچ سکے، لال مسجد میں لڑکیاں شہید کر سکے، چیف جسٹس کو معطل کر سکے۔ ملک کو بیچ سکے۔
عمران : درست فرمایا!ہم سے زیادہ اس ملک کو پرویز مشرف کی ضرور ت ہے۔ میڈیا اور دیگر سیاسی لوگ اپنی دوکان چمکانے کے لئے تمام منفی پہلو سامنے لا کر ڈھول بجاتے رہتے ہیں۔ ان تمام حقائق کے سامنے آنے کے بعد ان سب کو ڈوب مرنا چاہیے۔
ہارون اعظم : موجودہ حکومت بھی کسی حد تک مشرف صاحب کا تحفہ ہے۔
عبداللہ: مشرف کے پاس کوئی جادوکا چراغ تو ہے نہیں،جب تک یہ قوم نہیں سدھرے گی یا کم سے کم سدھرنے کا تہیہ نہیں کرلے گی کوئی کچھ نہیں کرسکتا!!!!!!!!
راشد محمد: میں مسٹر عبداللہ سے مکمل طور پر اتفاق رکھتا ہوں۔
عبداللہ:مشرف بھی اکیلا چنا ہی تھا بہت سارے کرپٹ لوگوں کے بیچ میں،مگراس نے فوج اور پولس کو خاصی حد تک پاک کرنے کی کوشش ضرورکی یہ تو آپ مانتے ہیں نا؟؟؟؟؟؟
خیر یکم اکتوبر اور یکم نومبر بھی کچھ زیادہ دور نہیں،اگر مشرف آنا چاہتے ہیں تو آنے دیں کم سے کم یہ تو پتہ چلے کہ کیا کیا کیا اور کیا کیا نہیں کیا!!!!!!!!
حالانکہ پاکستان کو تباہی سے واپس لاناجبکہ خزانہ خالی ہوچکا تھا نواز شریف ہاتھ جھاڑ چکے تھے،امریکا حملے پر تلا بیٹھا تھا فوج پٹاخوں پر چل رہی تھی،کتنے معصوم نوجوان جی ڈی پائلٹ بننے کے شوق کی بھینٹ چڑھے کہ طیارے تباہ حال تھے اور مینٹینس کے لیے پیسہ نہیں تھا!!!!
آج خود بہترین اسلحہ بنارہی ہے،یہ سب آسمان سے نازل نہیں ہوا!!!!!!!!!!
اسی طرح بیک جنبش قلم تمام سیاست دانون کو ریجیکٹ کردینا بھی ماورائے عقل بات ہے!مسئلہ یہ ہے کہ اچھے دیانتدار اور محنتی لوگ ہر پارٹی میں موجود ہیں قلیل تعداد میں ہی صحیح،انہیں ایک پلیٹ فارم پر ہونا چاہئے،اچھے ٹیکنو کریٹس بڑے بڑے اداروں کے سربراہ ہونے چاہئیں،تب کہیں یہ ملک صحیح راہ پکڑے گا۔
راشد محمد: پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ان کے ادوار میں اوورسیز پاکستانیوں کو خوب لوٹا جاتا ہے۔غنڈا ٹیکس لگا دیاجاتا ہے۔ایئرپورٹ پر آنے والوں سے پیسے نکالے جاتے ہیں۔جبکہ ریلوے اسٹیشنوں کا بھی یہی حال ہے۔ پاکستان کے اندر رہنے والوں کو بہت سی باتوں اور کرپٹ حکمرانوں کے کارناموں کا پتا ہی نہیں ہے۔یہ لوگ پاکستان کو لوٹ لوٹ کے ارب پتی بلکہ کھرپ پتی ہو گئے ہیں۔لوگ پھر بھی نہیں سمجھتے۔کسی اچھے انسان کی پاکستان کے اندر کوئی قدر نہیں ہے۔پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ان میں سے کسی کو آگے نہیں آنے دیتے۔یہ نہیں چاہتے کہ پاکستان ترقی کرے۔صر ف مشرف صاحب ہی ہیں،جو عوام کو سیدھا راستہ دکھا سکتے ہیں۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *