لڑکی نے لڑکا بن کر رچائی شادی،دونوں الگ ہونے سے کررہی ہیں انکار

Share Article
lesbian-girls-marriage-demo
اترپردیش کے آگرہ میں ایک شادی کی عجیب وغریب واقعہ کا خلاصہ ہواہے اوریہ شادی آج کل سرخیوں میں ہے۔دراصل یوپی کے آگرہ میں ایک لڑکی نے لڑکا بن لڑکی سے ہی شادی کرلی ۔شادی کا رازجب گھروالوں کے سامنے کھلا تو ان کے پیروں تلے زمین کھسک گئی۔ اتنا ہی نہیں یہ دونوں لڑکیاں اب الگ ہونے سے انکار کررہی ہیں۔یہ انوکھا معاملہ آگرہ کے تھانہ اتمادھولہ علاقے کا ہے۔بتایاجارہاہے کہ اس معاملے کا رازتب کھلا جب دلہابنی لڑکی اپنے گھرنہیں پہنچی ، ان کے گھروالوں کوفکرہوئی تواس کی تلاش شروع کردی ۔پھران کے اہل خانہ کوکسی نے بتایاکہ وہ کسی لڑکی کے ساتھ لڑکا بن کرائے کے مکان میں رہ رہی ہے۔
بتایاجارہاہے کہ دونوں لڑکیوں کی دوستی کالج میں ہوئی تھی۔ کالج کے دنوں میں انکے بیچ عشق ومعاشقہ پروان چڑھا تھا۔دونوں نے ساتھ جینے -مرنے کی قسمیں بھی کھائی تھیں۔لیکن ان دونوں کی بے انتہاپیارومحبت کے بیچ سماج اورگھروالے ایک دیوار بن رہے تھے۔ایسے میں انہو ں نے دوجسم ایک جان ہونے کیلئے دھوکے سے شادی کی سازش رچی۔ ان دونوں نے علاقے میں ہونے والے اجتماعی شادی تقریب میں اپنا رجسٹریشن کرایاتھا۔ ایک دولہابنی، جبکہ دوسری دلہن۔دونوں نے سات پھیرے لئے، پوتر منتروں اوررسموں کے بعد شادی ہوگئی۔شادی تقریب والوں کولڑکیوں اوران کی شادی پرشک نہ ہو، لہٰذا انہو ں نے کرائے پر لوگ بلائے۔پیسے کے بدلے لڑکیو ں نے ان سے اپنا خاندان بننے کی ایکٹنگ کرائی۔دلہا بنی لڑکی برہمن سماج سے ہیں، جبکہ دلہن بنی لڑکی دلت کمیونٹی سے ہے۔ دونوں نے 16اپریل کو بھیم نگری کے اجتماعی شادی تقریب میں سب سے چھپا کرشادی کرلی۔ تقریب میں 61جوڑوں کا بودھ رسم ورواج سے شادی کرائی گئی تھی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، اہل خانہ کی مانیں تو اجتماعی شادی کی تصویریں علاقے کے لوگوں نے جب میں آپس میں شیئرکی تھی۔ گھرکے پڑوس میں رہنے والے ایک نوجوان کے فون میں شادی کی فوٹوگراف دیکھنے کے بعد دونوں کی شادی کے بارے میں (سونیاسے کارتک بنیں)کارتک اورپریتی کے اہل خانہ کو6دن بعد اس کی جانکاری ہوئی۔بہرکیف یہ سن کران دونو ں کے گھروالوں کے پیروں تلے زمین کھسک گئی اورگھروالے کئی لوگوں کے ساتھ موقع پرپہنچے۔دونوں فریق میں ایک دوسرے پرالزمات لگانے لگے۔ نوبت مارپیٹ تک آگئی ، کچھ لوگوں نے بیچ بچاؤ کرکے دونوں فریقین کو تھانے میں جانے کی صلاح دی۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *