تبدیلی کی لہر سے پریشان بایاں محاذ

Share Article

بمل رائے
ریاستی اسمبلی انتخابات کے آخری مرحلہ میں نئے نئے موضوعات کے ذریعہ سیاسی پینترے بازی کے نت نئے روپ دیکھنے کو مل رہے ہیں۔بلیک منی اور بدعنوانی کا ایشو تو پورے ملک میں گرم ہے۔لیکن بنگال میں ہاؤسنگ منسٹر گوتم دیو نے ترنمول پر بلیک منی جمع کرنے کا الزام لگاکر الیکشن مہم کو ایک نئی رنگت دے دی ہے۔یہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ پارٹی سربراہ ممتا بنرجی پر آج تک بدعنوانی کا کوئی الزام نہیں لگا ہے۔ملک میں بلیک منی کا پتہ لگانے میں بھلے ہی مرکزی حکومت کو پسینے آرہے ہیں لیکن مارکس نواز کمیونسٹ پارٹی نے اس مبینہ بلیک منی کا پتہ اپنے کارکنان کے ذریعہ لگایا ہے۔ہاؤسنگ منسٹر کی باتوں پر یقین کریں تو گزشتہ25مارچ کو کولکاتہ کے ترنمول بھون میں مرکزی وزیر مکل رائے نے پارٹی کے سبھی 226امیدواروں کو 15-15لاکھ روپے دئے۔اس رقم کے ساتھ ساتھ امیدواروں کو چندہ حاصل کرنے کے لیے کوپن بھی دئے جارہے تھے۔جنہیں باکسوں سے نکالنے کا کام مارکس نواز کمیونسٹ پارٹی کے کارکنان کر رہے تھے۔وزیر نے بتایا کہ ایک امیدوار نے یہ رقم لینے سے انکار کر دیا۔اگر یقین نہ ہو تو اوپین وشواس سے پوچھ لیجئے۔انہوں نے صحافیوں کو اس کا موبائل نمبر بھی دے دیا۔ظاہر ہے فون بجنے کے بعد اوپین پریشان ہو گئے اور انہوں نے اسے ماکپا کی ایک چال بتایا۔ سابق سی بی آئی افسر نے 15لاکھ روپے کی رقم لینے سے انکار کرنے والی بات کو بھی غلط بتایا۔گوتم نے اپنے الزام کی حمایت میں فکی کے جنرل سکریٹری اور ترنمول امیدوار امت مترا کے بینک اکاؤنٹ کے بارے میں بتایا جو 26مارچ کو کھولا گیا اور اس میں سات لاکھ روپے جمع کئے گئے۔وزیر نے پوچھا کہ ایک ہی دن میں کوپن کے ذریعہ وہ کیسے سات لاکھ روپے جمع کرنے میں کامیاب ہو گئے۔اس بات سے وبال مچنا ہی تھا۔ ممتا نے کہا کہ پوچھنے پر پارٹی الیکشن کمیشن کو اس کا جواب دے گی۔
دوسری جانب الیکشن کمیشن کے افسروں نے کہا ہے کہ ان کا کام مقررہ حد کے اندر خرچ کی نگرانی کرناہے، نہ کہ آمدنی کے ذرائع کی۔حالانکہ ماکپا نے اس متعلق کمیشن کے سامنے رسمی طور پر شکایت درج کرائی ہے اور سیتارام یچوری کی قیادت میں پارٹی کا ایک وفد چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی سے ملنے والا ہے۔بایاں محاذ کے لیڈران یہ بھی کہہ رہے ہیںکہ بلیک منی کی وصولیابی کی صلاحیت کی وجہ سے ہی امت مترا کو امیدوار بنایا گیا ہے۔وہ کھڑے بھی ہوئے ہیںوزیر خزانہ اسیم داس گپتا کے خلاف اور زیادہ توقع ہے کہ ممتا کے اقتدار میں آنے پر انہیں وزیر خزانہ ہی بنایا جائے گا۔ممتا کے ہیلی کاپٹر دوروں کو لیکر بھی ماکپا لیڈران تنقید کر رہے ہیں اور انہیں اڑتی ہوئی چڑیا کہہ رہے ہیں۔رائے دہندگان کو یہ بتایا جارہا ہے کہ ہوائی چپل اور سفید سوتی ساڑی پہننے والی ممتا کے پاس ہر روز کرائے کے لاکھوں روپے کہاں سے آرہے ہیں۔ ان کے مطابق اپنی پینٹنگس بیچ کر ممتا نے جو کچھ لاکھ روپے کمائے ہیں، وہ ایک دن کے ہیلی کاپٹر کرائے کے لیے بھی کم ہیں۔ ممتا سوال کررہی ہیںکہ وہ پہلے بھی اڑن کھٹولوں کا استعمال کرتی رہی ہیںتو اس بار کیوں اتنا شور مچایا جا رہا ہے۔اس کی وجہ جاننا بھی بہت مشکل نہیں ہے۔تبدیلی کی تیز ہوا کو روکنے کے لیے بایاں محاذ چھوٹے سے چھوٹے ایشو کو بھی طول دینے میں لگا ہوا ہے۔ماکپا کے لیڈران انتخابی میٹنگوں میں یو پی اے حکومت کے گھوٹالوں کو اٹھا رہے ہیں اور ایسے الزامات کے پھندے میں ممتا کو پھانسنا انہیں انتخابی فائدے کا کام لگ رہا ہے۔ حالانکہ ممتا بھی اس حقیقت کو سمجھ رہی ہیں اور اتحاد کے با وجود وہ عوامی میٹنگوں میں کانگریس کا نام لینے اور کانگریسی لیڈران کے ساتھ اسٹیج پر نظر آنے سے بچ رہی ہیں۔مثال کے طور پر شمالی 24پرگنہ کے ہاڑوا میں ریاستی کانگریس صدر مانس بھوئیاں کے تقریر کرکے چلے جانے کے بعدہی وہ اسٹیج پر آئیں۔
بتانے کی ضرورت نہیں کہ تبدیلی کی ہوا نظر آنے کے بعد بایاں محاذ کی اکیلی امید کانگریس اور ترنمول کے درمیان فاصلہ تھا۔حالانکہ ان دونوں کے درمیان اتحاد ہوا ہے، لیکن یہ مجبوری کا اتحاد ہی لگتا ہے۔کولکاتہ کی پورٹ سیٹ پر رام پیارے رام اور بغل کی سیٹ پر ایک دوسرے کانگریسی لیڈر بغاوت کرکے آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔انہیں پارٹی سے برخاست کر دیا گیا ہے۔لیکن اس سے اتحاد کے بدلے بایاں محاذ کو فائدہ ہونے کی امید ہے۔ رام پیارے جیت کے تئیں پر اعتماد ہیں ، لیکن دوسری سیٹ بایاں محاذ کے کھاتے میں جا سکتی ہے۔مرشد آباد کے رابن ہڈ ادھیر رنجن چودھری پر ہاتھ ڈالنے کی ہمت کانگریس میں نہیں ہے۔گزشتہ 19اپریل کو جب مرکزی وزیر خزانہ پرنب مکھرجی مرشد آباد میں کانگریس کی ریلیاں کررہے تھے تو اسٹیج پر ادھیر نہیں تھے اور وہ ہری ہر پاڑا ، ساگر دگھی ، جالنگی اور بھگوان گولا سیٹوں پر ترنمول امیدواروں کے خلاف کھڑے کئے گئے آزاد امیدواروں کی تشہیر میں لگے ہوئے تھے۔علاقے میں ہوئی پبلک میٹنگوں میں ممتا نے میر جعفر کا تذکرہ کرکے اشاروں میں ادھیر پر نشانہ لگایا۔اس سے رابن ہڈ مزید غصہ میں ہے۔ممتا کو پھوٹی آنکھ نہ سہانے والی دیپا داس منشی نے شمالی دجناپور ضلع میں بغاوت کا مورچہ سنبھالا ہے۔ اسلام پور ، ہمت آباد اور چوپڑا میں وہ آزاد امیدواروں کے ساتھ ہیں۔پارٹی کی مخالفت کے باوجود غنی خان کے بھائی اے ایچ خان چودھری نے ویشنو نگر سیٹ سے اپنے بیٹے عیسیٰ خان کو ٹکٹ دلوایا ہے۔جبکہ موتھاباڑی سیٹ پر انہوں نے پارٹی کی اصل امیدوار سبینا یاسمین کے مقابلے آزاد امیدوار شہناز قادری کی حمایت کی ہے۔ اس طرح دیپا داس منشی ، ادھیر اور غنی خان فیملی کے قلعہ میں ووٹوں کی تقسیم کا بھی بایاں محاذ کو فائدہ ہو سکتا ہے۔
ترنمول کو شرمسار کرنے کی ایک کرتوت مکل رائے کے بیٹے شبھرانگشو رائے نے کی ، جس نے الیکشن کمیشن کے افسران کو پیٹ دیا۔کیس درج ہونے کے بعد یہ سپوت فرار ہو گیا اور پکڑا بھی گیاتو ممتا کے انتخابی اسٹیج سے اتر تے ہوئے۔ماکپا کے لیڈران اس ایشو کو بھی اچھال رہے ہیں کہ ممتا ایک ملزم کو بچا رہی ہیں اور پارٹی قانون کی عزت کرنا نہیں جانتی۔ویسے بھی ماکپا کہتی رہی ہے کہ ممتا کے اقتدار میں آنے پر ریاست میں افراتفری مچ جائے گی۔مغربی مدناپور میں پولس کے ظلم کے خلاف بنی کمیٹی کے مکھیا چھتر دھر مہتو جیل میں رہ کر ہی الیکشن لڑ رہے ہیں۔اس وجہ سے نکسل متاثرہ کچھ سیٹوں پر بایاں مخالف ووٹوں کی تقسیم ہو سکتی ہے اور بدلاؤ کی ہوا کو جھٹکا لگ سکتا ہے۔شکر ہے کہ کمیٹی صرف ایک سیٹ سے الیکشن لڑ رہی ہے، نہیں تو جنگل محل کے پورے انتخابی اعداد و شمار بدل جاتے۔ایسا نہیں ہے کہ بایاں محاذ دیوار پر لکھی عبارت نہیں پڑھ پا رہا ہے، لیکن اس کی کوشش بدلاؤ کی ہوا کو سونامی بننے سے روکنے کی ہے۔ریاست میں ابتدائی مرحلوں کے الیکشن کا زیا ہ ووٹنگ فیصد اس سونامی کی جانب ہی اشارہ کررہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *