دوحہ بنک اور دو قطری بھائیوں کے خلاف النصرہ محاذ کو رقوم دینے پر قانونی چارہ جوئی

Share Article

برطانیہ کی ایک عدالتِ عالیہ میں قطری ریاست کے ملکیتی دوحہ بنک اور دو بھائیوں کے خلاف شام میں باغی انتہا پسند گروپ النصرہ محاذ کو غیر قانونی طور پر رقوم منتقل کرنے کے الزام میں ایک قانونی درخواست دائر کی گئی ہے۔یورپ میں مقیم آٹھ شامی شہریوں نے عدالت میں یہ درخواست دائر کی ہے اور عدالت نے انھیں اپنی شناخت مخفی رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔انھوں نے الزام عاید کیا ہے کہ انھیں شام میں القاعدہ سے وابستہ تنظیم النصرہ محاذ کے جنگجوؤں نے تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور ان کے آبائی علاقے سے دربدر کردیا تھا۔ عدالت میں پیش کی گئی دستاویز میں دوحہ بنک پر الزام عاید کیا گیا ہے کہ وہ النصرہ محاذ کے جنگجوؤں کو رقوم کی منتقلی روکنے میں ناکام رہا تھا۔انھیں قطر سے تعلق رکھنے والی دو کاروباری شخصیات دوحہ بنک کے ذریعے رقوم منتقل کرتی رہی تھیں۔یہ دونوں بھائی اصلاً شامی ہیں۔قانونی عذر داری میں الزام عاید کیا گیا ہے کہ’’خیّاط برادران نے النصرہ محاذ کی خود مالی مدد کی تھی یا اس کو رقوم مہیا کرنے میں مدد کی تھی۔ وہ دوحہ بنک میں اپنے یا اپنے ملکیتی اداروں کے کھاتوں کے ذریعے یہ رقوم منتقل کرتے رہے تھے۔معتز اور رمیز الخیّاط قطر میں عربہ کان کے نام سے ایک تعمیراتی کمپنی کے مالک ہیں۔ اس کے علاوہ بھی ان کے اس خلیجی ریاست میں کاروبار ہیں۔برطانوی اخبار دا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق دعوے داروں کو انتہا پسندوں نے شدید جسمانی اور نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔لندن میں دوحہ بنک کے اعلیٰ نمایندے رچرڈ وٹنگ نے کہا ہے کہ ’’اس دعوے کی بہت تھوڑی تفصیل دستیاب ہوئی ہے،اس پر دوحہ بنک المحدود (لیمٹڈ) قانونی مشاورت کررہا ہے۔تاہم وہ اپنے خلاف عاید کردہ الزامات کو بے بنیاد اور کسی میرٹ کے بغیر تصوّر کرتا ہے۔‘‘

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *