لاتیہارماب لنچنگ: مولانا محمودمدنی نے عدالت کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا 

Share Article
mahmood-madani
جمعےۃ علماء ہندکے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے جھارکھنڈ کے ضلع لاتیہار میں گؤکشی کے نام پر دوسال قبل وحشیانہ ماب لنچنگ کے شکار ہوئے مظلوم انصاری اور بارہ سالہ معصوم امتیاز خاں مقدمہ میں ضلع کورٹ کے ذریعہ سبھی آٹھ مجرموں کو عمر قید کی سزادینے کا خیر مقدم کیا ہے اور اسے خوش آیند قراردیا ہے ۔کسی وحشیانہ کیس میں مجرموں کو سزا ملنے سے نہ صرف مظلوموں کو راحت ملتی ہے بلکہ انسانیت کو فتح حاصل ہوتی ہے ۔ انھوں نے مید ظاہر کی ہے کہ اس فیصلے سے فرقہ پرست عناصر سبق حاصل کریں گے ۔
واضح ہو کہ18؍مارچ2016 کو بالو ماتھ ہیرنج گاؤں نوادہ کے تاجر مظلوم انصاری اور ان کے تجارتی شراکت دار کے نوعمر لڑکے امتیاز خاں کو ایک بھیڑ نے گھیر کر ا س وقت قتل کردیا تھا جب وہ اپنے جانوروں کے ساتھ چترا ضلع میں منعقد جانور میلہ جارہے تھے ۔وحشی انسانوں کی بھیڑ نے ان کو گھیر کر بری طرح مارا پیٹا اور پھر ان کی ادھ مری لاش کو درخت سے لٹکا دیا۔ جمعہ کو سماعت کے دوران فرسٹ کلاس جوڈیشل مجسٹریٹ راکیش کمار نے اپنے فیصلے میں زیر مقدمہ سبھی آٹھ خاطیوں (متھیلیش پرساد ساہو،پرمود کمار ساہو،منوج کمار ساہو،اودھیش ساہو،منوج ساہو،ارون ساؤ، ویشال تیواری ، شاہ دیو سونی) کو مجرم قراردیتے ہوئے عمر قید کی سزاسنائی ہے، ساتھ ہی سبھی آروپیوں پر پچیس پچیس ہزار کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔
مولانا محمود مدنی نے کہا کہ عدالت کا یہ فیصلہ اس معنی کر کافی اہم ہے کہ ملک میں گؤ رکشا کے نام پر فرقہ پرست عناصر کے حوصلے کافی بلند ہوگئے تھے اور وہ خود کو قانون سے اوپر سمجھنے لگے تھے ۔ یقین ہے کہ ایسی قرار واقعی سزا سے اس طرح کی سوچ رکھنے والوں کے حوصلے پست ہوں گے اور مظلوم اقلیت میں اعتماد بحال ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ اس کیس کے چند اہم مجرمین اب تک فرار ہیں ، ان کو بھی جلد گرفتار کیا جائے اور قرار واقعی سزا دی جائے ۔مولانا مدنی نے اس بات کی بھی امید ظاہر کی کہ راجستھان اور اترپردیش میں بھی ماب لنچنگ کرنے والوں کو جلد سزا دی جائے گی
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *