لیڈروں کی زبان پھسلتی ہے تو سوشل میڈیا سے لے کر پرنٹ اور نیوز چینلز پر ایک ہنگامہ برپا ہوجاتا ہے اور بحث یہ شروع ہوجاتی ہے کہ آخر یہ پھسلن قصداً تھی یا سہواً۔اب چاہے جو بھی ہو لیکن زبان پھسلنے کا واقعہ ہر ملک کے لیڈروں سے سرزد ہوتا ہے۔ابھی حال ہی میں پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں انٹرنیشنل رحمۃ اللعالمین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ کہہ دیا کہ’ انسانی تاریخ میں حضرت موسیٰ کا ذکرہے مگر حضرت عیسیٰ کا ذکر نہیں ہے‘۔ان کی طویل تقریر کا یہی چند سیکنڈ کا حصہ موضوع بحث بن گیا۔اس تقریر کے بعد سوشل میڈیا پر عمران خان پر شدید تنقید شروع ہوگئی جس میں بعض حلقے تو انتہائی سخت الزامات بھی عائد کر رہے ہیں۔
ان کی تقریر میں الفاظ کے استعمال پرخوب تنقید کی گئی اور لوگوں نے لکھا کہ عمران خان اتنے حساس معاملے پر فی البدیہہ تقریر کیوں کرتے ہیں ، لکھی ہوئی تقریر کیوں نہیں پڑھتے؟۔عمران خان کو چاہیے کہ ضد چھوڑیں اور لکھی ہوئی تقریر کیا کریں ۔ایک ایسے نبی جن کے پیروکار اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ ہیں، جن کے بارے میں قرآن میں سورتیں اتریں، جن کے دوبارہ ظہور کا مسلمان انتظار کر رہے ہیں۔ اس نبی یعنی حضرت عیسیٰ کے بارے میں فرما رہے ہیں کہ تاریخ میں ان کا ذکر ہی نہیں۔

اب معلوم نہیں کہ یہ ان کی زبان کی پھسلن ہے یا بریفنگ کرنے والوں نے انہیں ایسا ہی بتایا تھا۔وجہ جو بھی ہو لیکن ان دنوں لیڈروں کی زبانیں پھسلتی بہت ہیں۔ ہندوستان میں تو زبان پھسلن کا تسلسل چل پڑا ہے۔ وزیر اعظم مودی کہتے ہیں کہ ملک کے سوا سو کروڑ لوگوں کو گھر کی چابھی دے دی گئی تو کانگریس کے صدر راہل گاندھی کہہ دیتے ہیں کہ راشٹریہ پتی نے لال قلعہ کی فصیل سے بھاشن دیا جبکہ وہ بھاشن راشٹریہ پتی نے نہیں بلکہ وزیر اعظم نے دیا تھا ۔اب یہ بات تو لیڈروں کو ہی سوچنا چاہئے کہ ان کی زبان اس طرح پھسلتی کیوں ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here