لالو یا نتیش کس سے ہاتھ ملائین

Share Article

سروج سنگھ 
p-10سونیا گاندھی گاندھی اور راہل گاندھی کی تعریف میں پارلیمنٹ سے لے کر سڑک تک الفاظ کی حد بار بار پار کرنے والے لالو پرساد یادو اِن دنوں ان سے خاصے ناراض بتائے جا رہے ہیں۔ داغی لیڈروں والے آرڈی ننس پر راہل گاندھی کے اینگری ینگ مین والے ایپروچ نے لالو پرساد کو اندر سے دوبارہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ لالو بھلے ہی کھل کر اپنی ناراضگی کا اظہار نہیں کر رہے ہیں، لیکن رانچی سے ان سے مل کر لوٹ رہے لیڈروں میں سے کچھ نے بتایا کہ لالو کو راہل گاندھی اور کانگریس سے اس طرح کے رویے کی امید نہیں تھی۔ لالو کے من میں تھا کہ پریشانی کی گھڑی میں کانگریس ایک بھروسے والے دوست کا رول نبھائے گی اور کسی نہ کسی طرح ان کی مدد کرکے راستے کو آسان بنا دے گی۔ لیکن راہل گاندھی نے تو لالو کی راہ میں اتنے روڑے بچھا دیے کہ اس پر چل کر دوستی کی کہانی نہیں سنائی جا سکتی۔ بتایا جاتا ہے کہ پہلے یہ طے تھا کہ اگر پارلیمنٹ سے بات نہیں بنی، تو آرڈی ننس کے ذریعے داغی لیڈروں کی رکنیت بچائے رکھنے کی کوشش ہوگی۔ کانگریس نے اندرونی اختلافات اور باہری تنقید جھیلنے کا رسک لے کر اسے عملی جامہ پہنانے کی کوشش بھی کی، لیکن اس پورے معاملے میں راہل گاندھی کے رول نے لالو پرساد کا بنا بنایا کھیل بگاڑ دیا۔ چارہ گھوٹالے میں فیصلہ آنے سے پہلے لالو پرساد نے دہلی میں جاکر جو ہوم ورک کیا تھا، اس میں راہل کے بیان نے فلیتہ لگا دیا۔ اس کے بعد جو ہونا تھا، وہی ہوا۔ لالو پرساد کو سزا ہوئی اور ان کی پارلیمنٹ کی رکنیت کے ختم ہونے پر صرف سرکار کی طرف سے ایک اطلاع آنی باقی ہے۔

آر جے ڈی کو لالو کی سیاسی طاقت پر بھروسہ ہے، تو جے ڈی یو نتیش کمار کی شبیہ کو آگے کر رہی ہے۔ لیکن لگتا ہے کہ کانگریس فیصلے کے لیے کچھ اور وقت لینا چاہتی ہے۔ جے رام رمیش جب پٹنہ آئے تھے، تو انہوں نے ایسا کچھ نہیں کہا، جس سے لگے کہ کانگریس نتیش سے گٹھ بندھن کے لیے بے تاب ہے۔ انہوں نے یہ کہہ کر اور بھی مشکل بڑھا دی کہ بہار کو خصوصی ریاست کی نہیں، بلکہ خصوصی درجہ کی ضرورت ہے۔ سبھی جانتے ہیں کہ خصوصی ریاست کا مسئلہ نتیش کمار کا انتخابی ایشو ہے اور کانگریسی وزیر کے ذریعے اسے ہلکا کرنے والا بیان دینا یہ ثابت کرتا ہے کہ کانگریس ابھی کسی فیصلے تک نہیں پہنچ پائی ہے۔

رانچی کے برسا منڈا جیل میں لالو سے ملنے سبھی پارٹیوں کے لیڈر، جو ان کے سیاسی حلیف رہے ہیں، پہنچ رہے ہیں، لیکن ایک دو کو چھوڑ دیں، تو کانگریس کا کوئی بڑا لیڈر ان سے ملنے نہیں گیا ہے۔ کانگریس کی یہی بے رخی لالی پرساد کو پریشان کر رہی ہے۔ راہل کے رخ کے باوجود لالو نے آخری کوشش یہ بیان دے کر کی کہ جھارکھنڈ کی سرکار کو آر جے ڈی کی حمایت جاری رہے گی، لیکن کانگریس کے ایپروچ میں کوئی فرق نہیں آیا۔ آر جے ڈی کے حکمت سازوں کی یہ سوچ پختہ ہو رہی ہے کہ کانگریس اب جے ڈی یو کے قریب ہوتی جا رہی ہے۔ لالو نے اپنا دل ضرورت سے زیادہ بڑا کیا، لیکن کانگریس کو یہ پسند نہیں آیا۔ اب چونکہ لالو جیل میں بند ہیں، اس لیے کانگریس کے لیے اور بھی پس و پیش کی حالت پیدا ہو گئی ہے۔ کانگریس میں یہ سوچ مضبوط ہو رہی ہے کہ نریندر مودی کے خلاف نتیش کمار نے اپنا 17 سالہ اتحاد توڑا اور اپنی سرکار کو خطرے میں ڈال دیا۔ اس لیے لڑائی اگر نریندر مودی کے خلاف لڑنی ہے، تو جے ڈی یو ہی صحیح ساتھی رہے گا۔ اس سے مسلمانوں میں بھی یہی پیغام جائے گا کہ کانگریس صحیح معنوں میں نریندر مودی کے خلاف بہار میں لڑائی لڑنے کے لیے کمر بستہ ہے۔ ایک صاف ستھری سرکار کی بات اگر راہل گاندھی کر رہے ہیں، تو نتیش ہی فطری ساتھی بنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لالو کے نمبر کم ہو رہے ہیں۔ لیکن دقت جے ڈی یو کے ساتھ بھی ہے۔ شرد یادو اور ان کے حامی یہ نہیں چاہتے ہیں کہ کانگریس کے ساتھ ساری آئیڈیالوجی کو طاق پر رکھ کر کوئی گٹھ بندھن کیا جائے۔ زندگی بھر کانگریس کے خلاف سیاست کرنے کے بعد اس مقام پر آکر شرد یادو کے لیے یہ مشکل ہو رہا ہے کہ وہ کانگریس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائیں۔ اس لیے نتیش کی خواہش کے باوجود جے ڈی یو اور کانگریس کی دوستی پروان نہیں چڑھ رہی ہے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ اگر نتیش کمار کانگریس کی طرف بڑھنے کے لیے بضد رہے، تو پارٹی میں بکھراؤ بھی ہو سکتا ہے۔
22 نومبر کو چارہ گھوٹالے میں سی بی آئی کو نتیش کمار کو لے کر اپنی بات رانچی ہائی کورٹ میں رکھنی ہے۔ رابڑی دیوی بار بار کہہ رہی ہیں کہ سی بی آئی کی غیر جانبداری 22 نومبر کو ہی معلوم ہو جائے گی۔ موٹے طور پر پارٹی کی کمان سنبھالنے کے بعد رابڑی دیوی اس مسئلہ کو پورے بہار میں اٹھانے جا رہی ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ عوام یہ جانیں کہ لالو اندر کیوں ہیں اور نتیش باہر کیوں؟ پوری پارٹی اس مسئلے پر رابڑی دیوی کا ساتھ دے رہی ہے۔ رابڑی دشہرہ کے بعد اپنی اس مہم پر نکل پڑیں گی۔ اس کا پہلا فائدہ تو یہ ہوگا کہ آر جے ڈی میں ابھی جو قیاس آرائیوں کا دور ہے، وہ ختم ہو جائے گا اور دوسرا یہ کہ کارکن لالو کے نام پر پوری طرح سرگرم ہو جائیں گے۔ رابڑی چاہتی ہیں کہ اپنی مہم سے وہ کانگریس اور جے ڈی یو کے درمیان پک رہی کھچڑی کا پردہ فاش کر دیں۔ لیکن کانگریس کی اپنی ہی سوچ ہے۔
دراصل، کانگریس انتخابات کے بعد کے حالات کا تجزیہ کرکے اپنے قدم بڑھا رہی ہے۔ لالو کی بہار میں زمینی طاقت سے کانگریس کو بھی انکار نہیں ہے۔ نتیش کمار اقتدار میں ہیں اور فی الحال ان کی شبیہ بہتر ہے، اس کا احساس بھی کانگریس کو ہے۔ اس لیے کانگریس لالو اور نتیش دونوں کا ساتھ چاہتی ہے، لیکن جس طرح کے حالات بن گئے ہیں، اس سے کانگریس پس و پیش میں ہے۔ بہار میں یو پی ماڈل لاگو کرنے کی بات کہی تو جا رہی ہے اور زمینی سطح پر یہ اپیل بھی کرتی ہے، لیکن جانکار بتاتے ہیں کہ کانگریس کو یہ خوف بھی ستا رہا ہے کہ الیکشن کے بعد کہیں صدرِ جمہوریہ نے سب سے بڑے اتحاد کو سرکار بنانے کی دعوت دے دی، تو سارے کیے کرائے پر پانی پھر جائے گا۔ اس لیے بی جے پی بھی الیکشن سے پہلے ہی اپنے سارے نئے حلیفوں کو این ڈی اے میں جوڑنے میں لگی ہے۔ بی جے پی کی یہی پہل کانگریس کی مشکل بڑھا رہی ہے۔ اس لیے سوچ یہ بن رہی ہے کہ الیکشن سے پہلے ہی لالو یا پھر نتیش میں سے کسی ایک کا انتخاب کر لیا جائے۔ لیکن حالات ایسے ہیں کہ اتحاد کی کھچڑی پک نہیں پا رہی ہے۔
کانگریس پارلیمانی کمیٹی کے لیڈر سدانند سنگھ کہتے ہیں کہ آئندہ لوک سبھا انتخابات میں ہم کس کے ساتھ جائیں گے، یہ کہنا ابھی مشکل ہے۔ آل انڈیا کانگریس کی انٹونی کمیٹی کے فیصلے کے بعد ہی اتحاد کے بارے میں کچھ طے کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نومبر کے پہلے ہفتہ تک کوئی فیصلہ لیا جاسکتا ہے۔ ویسے کانگریس کو یہ معلوم ہے کہ لالو اس کے اچھے حلیف رہے ہیں۔ دوسری طرف آر جے ڈی کے ریاستی صدر رام چندر پوروے کہتے ہیں کہ ملک میں نریندر مودی کے خوف کو پھیلایا جا رہا ہے۔ آر ایس ایس کے اس ناٹک سے ملک پر خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ایسے میں آر جے ڈی کی ہمیشہ کوشش رہے گی کہ سیکولر طاقتوں کو لالو کی قیادت میں ایک ساتھ لایا جائے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کانگریس کے جے ڈی یو کے ساتھ جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، پوروے کہتے ہیں کہ کانگریس کے ہم پرانے ساتھی رہے ہیں۔ اسے یہ سمجھنا ہوگا کہ آج بھی بہار کی سیاست میں لالو کو مرکزی درجہ حاصل ہے۔
آر جے ڈی کو لالو کی سیاسی طاقت پر بھروسہ ہے، تو جے ڈی یو نتیش کمار کی شبیہ کو آگے کر رہی ہے۔ لیکن لگتا ہے کہ کانگریس فیصلے کے لیے کچھ اور وقت لینا چاہتی ہے۔ جے رام رمیش جب پٹنہ آئے تھے، تو انہوں نے ایسا کچھ نہیں کہا، جس سے لگے کہ کانگریس نتیش سے گٹھ بندھن کے لیے بے تاب ہے۔ انہوں نے یہ کہہ کر اور بھی مشکل بڑھا دی کہ بہار کو خصوصی ریاست کی نہیں، بلکہ خصوصی درجہ کی ضرورت ہے۔ سبھی جانتے ہیں کہ خصوصی ریاست کا مسئلہ نتیش کمار کا انتخابی ایشو ہے اور کانگریسی وزیر کے ذریعے اسے ہلکا کرنے والا بیان دینا یہ ثابت کرتا ہے کہ کانگریس ابھی کسی فیصلے تک نہیں پہنچ پائی ہے۔ لگتا ہے کہ ریاست کے بدلتے حالات اور کانگریس کی بدلتی سوچ ہی گٹھ بندھن کے اس پیچ کو سلجھا سکتی ہے۔ فی الحال تو کانگریس لالو پرساد اور نتیش کمار کے درمیان جھول رہی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *