نتیش کے نہلے پر لالو کا دہلا

Share Article

سروج سنگھ
انتخابی اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ اسمبلی انتخابات اگر لالو و پاسوان مل کر لڑتے تو نتیش کمار کبھی بھی اقتدار میں نہیں آتے۔ آرجے ڈی اور ایل جے پی کے درمیان انتخابی مفاہمت کی بنیاد یہی انتخابی اعدادوشمار ہیں۔ آر پار کی اس لڑائی میں دونوں لیڈرنہیں چاہتے کہ ان سے کوئی لغزش ہوجائے، کیونکہ اس دفعہ چھوٹی سی غلطی کا مطلب لالو بھی سمجھتے ہیں اور پاسوان بھی۔
میدان چاہے سیاست کا ہو یا جنگ کا، ایک اصول تو دونوں ہی لڑائی میں نافذ ہوتا ہے کہ اگر سوال زندگی اور موت کا ہو تو بادشاہ کو خود آگے بڑھ کر فوج کی کمان سنبھالنی چاہئے۔ یہ ایسی چال ہے، جو تھکی ہاری فوج میں جیت کا جوش بھر نے کے علاوہ بادشاہ کو یہ احساس دلاتی ہے کہ اگر اس بار غلطی کی تو قصہ ختم۔ اسی اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے میدان سیاست کے کھلاڑی لالو پرساد اور رام ولاس پاسوان نے بہار میں ساتھ الیکشن لڑنے کی قسم کھاکر ایسا پانسا پھینک دیا، جس کا جواب نتیش کمار کو فی الحال سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔
اس کے علاوہ لالو کو وزیر اعلیٰ تو رام ولاس کے چھوٹے بھائی پشوپتی کمار پارس کو نائب وزیر اعلیٰ کے طور پر پیش کرکے آرجے ڈی اور ایل جے پی نے اپنے روایتی ووٹ بینک کو منتشر ہونے سے بچانے کا پختہ انتظام بھی کرلیا۔
آرجے ڈی اور ایل جے پی کے درمیان انتخابی مفاہمت ہوگی یا نہیں، اس تعلق سے پٹنہ سے دہلی تک تقریباً ڈیڑھ مہینے تک شبہ برقراررہا۔ اس دوران دونوں ہی جماعتوں کے لیڈر ایک دوسرے کو اپنی اہمیت کا احساس دلانے میں مصروف رہے۔ دونوں جماعت ایک دوسرے کو یہ احساس دلا دینا چاہتی تھیں کہ میرے بغیر تمہارا کام اس بار چلنے والا نہیں ہے۔ پٹنہ میں بات ہوتے ہوتے دہلی پہنچ گئی، لیکن پیچ پر پیچ پھنستا گیا اور وقت نکلتا چلا گیا۔ دونوں پارٹیوں کے ریاستی صدور ڈیل کے لیے ایسی زمین تیار کر لینا چاہتے تھے، جس پر ان کے قومی صدور کو بات آگے بڑھانے میں زیادہ پریشانی نہ ہو، لیکن یہ کام اتنا آسان بھی نہیں تھا۔ امیدواروں کی بھیڑ کے سامنے بنا بنایا فارمولہ عجیب سا لگنے لگتا تھا۔ ایسا لمحہ بھی آیا جب لگا کہ اب قصہ ختم ہوگیا، لیکن نتیش کے نہلے سے سہمے راشٹریہ جنتا دل اور لوک جن شکتی پارٹی کے لیڈر آگے بات کرنے کا لالچ ختم نہیں کر پائے۔ چنانچہ طے ہوا کہ اب لالو پرساد و رام ولاس پاسوان جو طے کریںگے، اسے دونوں پارٹیاں قبول کر لیںگی۔ کئی بار دونوں لیڈروں پر حد بندی و امیدواروں کا دباؤ ایسا تھا کہ کون سی سیٹ چھوڑی جائے اور کون سی رکھی جائے، اس پر دماغ ہی نہیں کام کر رہا تھا۔ ایک بار تو معاملہ اتنا گرم ہوگیا کہ رام ولاس کانگریس کی طرف بھی جھانکنے لگے، لیکن لالو پرساد یادویہ بات اچھی طرح سمجھ رہے تھے کہ اگر پاسوان کے ساتھ اتحاد نہ ہوا تو سارا کھیل بگڑ جائے گا اور نتیش کو پٹخنی دینے کا ان کا عہد پورا نہیں ہوگا۔دراصل بہار کے گزشتہ دو الیکشن کے نتائج کے اعداد و شمار کو لالو اس بار کسی بھی قیمت پر نظر انداز کرنے کی حیثیت میں نہیںہیں۔ اگر بات فروری 2005کے الیکشن کی کریں تو اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اگر لالو و پاسوان دونوں مل کر الیکشن لڑتے تو 135سیٹوں پر کامیاب ہو کر وہ حکومت بناسکتے تھے۔ اسی طرح اگر نومبر 2005میں دونوں لیڈر ملے ہوتے تو ان کے 114امیدوار کامیاب ہوتے اور تھوڑی سی سیاسی مشقت کے بعد وہ حکومت بناسکتے تھے، مگر الگ الگ وجوہات سے دونوں ہی الیکشن میں یہ دونوں لیڈر الگ الگ رہے اور اس کا پورا فائدہ نتیش کمار کو ملا اور وہ اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے میں کامیاب رہے۔ گردش کے دنوں میں لالو و پاسوان نے ان انتخابی نتائج کو کافی باریکی سے پرکھا اور اس فیصلے پر پہنچے کہ اپنے گلے شکوے بھول کر ہاتھ ملایا جائے اور ایک ساتھ انتخابی جنگ میں اترا جائے۔ اس کی شروعات گزشتہ لوک سبھا الیکشن میں ہوئی، لیکن اس کا پورا فائدہ آر جے ڈی و لوک جن شکتی پارٹی کو نہیں ملا۔ اس کی وجہ بھی صاف تھی کہ دونوں جماعتوںکے لیڈر انتخابی ڈیل کے پیغام کو سمجھ نہیں پائے۔وقت کی قلت کے سبب لیڈران بھی زمین پر بیٹھے اپنے کارکنان کو اپنی حکمت عملی سمجھانے سے قاصر رہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ پارلیمنٹ کے الیکشن میں ایک بار پھر نتیش کمار بازی مار لے گئے۔ بعد ازاں شروع ہوا غور وخوض کا دور اور طے کیا گیا کہ پوری ریاست میں جا کر کارکنان کو اپنی حکمت عملی سمجھائی جائے۔جلد ہی اس کے نتائج بھی سامنے آئے۔18سیٹوں کے لئے ہوئے اس الیکشن میں نتیش کمار کو شکست کھانی پڑی۔اسمبلی انتخابات کیلئے اس بار آر جے ڈی اور ایل جے پی میں جو ڈیل ہوئی ہے اس کی بنیاد یہیں پڑ گئی تھی۔دونوں لیڈر اور دونوں جماعتوں کے کارکنان یہ سمجھ گئے تھے کہ اگر ساتھ ساتھ نہیں چلیں گے تو ختم ہو جائیں گے۔ جے ڈی یو -بی جے پی اتحاد کو اگر اقتدار سے باہر رکھنا ہے تو ایک دوسرے کی جماعتوں کے امیدواروں کی دل سے مدد کرنی ہی ہوگی۔دونوں جماعتوں کے کارکنان یہ بھی سمجھ گئے کہ اگر راگھوپور کی تاریخ دہرائی گئی تو نتیش کمار جے ڈی یو اور ایل جے پی کو اس بار تاریخ کے اوراق میں سمیٹ دیں گے۔غور طلب ہے کہ پارلیمانی الیکشن میں رابڑی دیوی کے حلقہ انتخاب راگھوپور میں رام ولاس پاسوان تقریباً 9ہزار ووٹوں سے پیچھے رہ گئے تھے۔مطلب یہ کہ یادوئوں کا پورا ووٹ لالو پرساد ،رام ولاس پاسوان کو نہیں دلا پائے۔نتیجہ یہ سامنے آیا کہ رام ولاس پاسوان انتخاب ہار گئے۔اس کمزوری کا احساس لالو پرساد یادو کو بھی ہوا اور ضمنی انتخاب میں اس غلطی کو درست کر لیا گیا۔ دونوں لیڈر یہ سمجھ گئے کہ اتحاد کا مطلب جیت اور علیحدگی کا مطلب شکست ہے۔نتیش کمار اقتدار میں ہیں اور بی جے پی کے ساتھ ان کا اتحاد ہے اس لئے اگر لڑائی جیتنی ہے تو الگ رہنا خودکشی کرنے کے مترادف ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ لالو پرساد نے تمام تردبائو کے باوجود ایل جے پی کو 75سیٹیں دے دیں۔ لالو یہ بخوبی جانتے ہیں کہ ان 75سیٹوں پر سنجیدہ امیدوار دینے میں ایل جے پی کو پریشانی ہوگی مگر تال میل قائم رہے اس وجہ سے انھوں نے اس طرح کا فیصلہ بھی لیا۔ کچھ موجودہ ارکان اسمبلی کی سیٹیں بھی قربان کر دیں۔ایسا اس لئے کہ رام ولاس پاسوان کا ساتھ ملتا رہے۔ دوسری جانب لالو پرساد کو وزیر اعلیٰ پشو پتی کمار پارس کو نائب وزیر اعلیٰ کے طور پر پیش کر کے آر جے ڈی اور ایل جے پی نے بڑا دائوکھیل دیا ہے۔گزشتہ اسمبلی اور پارلیمانی الیکشن میں یادوئوں کی ناراضگی لالو پرساد کو جھیلنی پڑی تھی۔رابڑی دیوی کی قائدانہ صلاحیت پر بھی سوال اٹھے تھے۔بطور وزیر اعلیٰ لالو یادو کے پیش ہوتے ہی یادوئوں کی سیاسی سرگرمیاں اچانک تیز ہو گئی ہیں۔ وہی کہانی پارس کے نائب وزیر اعلیٰ کے طور پر پیش ہونے کے بعد ہو رہی ہے۔ پاسوان کے ووٹوں کی حقیقت بھی سامنے آرہی ہے دونوں ہی جماعتیں اپنی بنیاد پر ووٹوں میں ذرا سی بھی بدنظمی نہیں چاہتی تھیں ۔اسی سبب لالو پرساد اور پارس کو پروجیکٹ کیا گیا۔ اس کے بعد کا منصوبہ مسلمانوں اور راجپوتوں کو زیادہ سے زیادہ ٹکٹ دے کر ان کو پوری طرح اپنے حق میں کرنے کا ہے۔ کانگریس کی جانب مسلمانوں کا جھکائو دیکھ کر لالو پرساد ایک فل پروف منصوبہ پر عمل کر رہے ہیں۔ آر ایس ایس پر پابندی اور رنگناتھ مشرا کمیشن کی سفارشات کو نافذ کرنے میں کانگریس کی آناکانی کو آر جے ڈی اپنی انتخابی تشہیر کا اہم ایشو بنائے گی۔لالویادو مسلمانوں کو بتائیں گے کہ کانگریس صرف انہیں ٹھگ رہی ہے اور صحیح معنوں میں آر جے ڈی ہی ان کی سچی خیر خواہ ہے۔ انتخابی تشہیر کے آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ ایک مسلم نائب وزیر اعلیٰ کا پانسا بھی پھینکا جا سکتا ہے۔ فی الحال اس پانسے کو بچاکر رکھا گیا ہے۔ انتخاب کے درمیان کبھی بھی اس پانسے کو پھینکا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اعلیٰ ذات کے غریبوں کو ریزرویشن دینے کا وعدہ بھی آر جے ڈی اور ایل جے پی کرنے جا رہی ہے تاکہ نتیش سے پوری طرح ناراض اعلیٰ ذات کے لوگوں کی بھرپور حمایت حاصل کی جا سکے۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ تیاریاں ایسے ہو رہی ہیں کہ کہیں کوئی کسر باقی نہ رہ جائے، کیونکہ ان انتخابات میں غلطی کا مطلب لالو بھی اچھی طرح سمجھتے ہیں اور پاسوان بھی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *