لالو نے توڑ خاموشی، نتیش کولکھا کھلا خط،کہا- میزائل کے زمانے میں تیر تیر کئے جا رہے ہو؟

Share Article

 

لوک سبھا کے چھٹے مرحلے کا انتخابات ختم ہو چکا ہے اور اس کے ساتھ ہی ساتویں اور آخری مرحلے کی تاریخ بھی سامنے ہے۔ بہار میں لوک سبھا انتخابات کے لئے شروع ہوئی ووٹنگ کے بعد پہلی بار آر جے ڈی سربراہ لالو یادو نے اپنا منہ کھول دیا اور منہ کھولتے ہی وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو ایک کھلا خط لکھ دیا۔ فیس بک پر نتیش کمار کے لئے لکھے گئے خط میں لالو یادو نے جے ڈی یو کے انتخابی نشان’تیر‘ کو بہار کے عوام کے لئے مہلک کہتے ہوئے عوام کے لئے پیٹھ میں چھرا گھوپنے والا بتایا ہے۔ فیس بک پر انہوں نے تیر سے لالٹین کا مقابلہ کرکے اس زمانے میں بھی لالٹین کی اہمیت کا حوالہ دیتے ہوئے نتیش کو لپیٹا ہے۔ کھلے خط میں لالو نے نتیش کمار کو چھوٹا بھائی کہہ کر خطاب کیا ہے۔

 

لالو نے لکھا ہے کہ سنو چھوٹے بھائی نتیش، ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ تمہیں آج کل اجالو سے کچھ زیادہ ہی نفرت سی ہو گئی ہے۔ دن بھر لالو اور اس کی لو -لالٹین کا جاپ کرتے رہتے ہو۔ تمہیں پتہ ہے کہ نہیں، لالٹین سورج کے روشنی کی طرح ہے۔ محبت اور بھائی چارے کی علامت ہے۔ غریبوں کی زندگی سے سیاہی ہٹانے کا آلہ ہے۔ ہم نے لالٹین کی روشنی سے غیربرابری، نفرت، تشدد اور ناانصافی کے اندھیرے کو دور بھگایا ہے اور بھگاتے رہیں گے۔ تمہارانشان تیر تو تشدد پھیلانے والا ہتھیار ہے۔ مار کاٹ اور تشدد کے مترادف اور علامت ہے اور ہاں عوام کو لالٹین کی ضرورت ہر صورت میں ہوتی ہے۔

 

لالو یادو نے آگے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ روشنی تو دیے کا بھی ہوتا ہے۔ لالٹین کا بھی ہوتا ہے اور بلب بھی ہوتا ہے۔ بلب لائٹس سے تم بے روزگاری، ظلم و ستم، نفرت، تشدد کا نشانہ بنایا، ناانصافی اور عدم مساوات کے اندھیراکو نہیں ہٹا سکتے، اس کے لئے محبت کے ساتھ کھلے دل اور دماغ سے دیا جلانا ہوتا ہے۔ مساوات، امن، محبت اور انصاف دلانے کے لئے خود کو دیا اور بتی بننا پڑتا ہے۔سمجھوتوں کو درکنار کرکے نسل پرستی، منوادی اور نفرتی آندھیوں سے الجھتے اور جوجھتے ہوئے خود کو مسلسل جلائے رہنا پڑتا ہے۔

 

 

اصول کی بات بتاتے ہوئے لالو یادو نے لکھا کہ تم کیا جانو ان سب نظریاتی اصولوں کو۔ ڈر کر شارٹ کٹ ڈھونڈنا اور موقع تلاش کر کے سمجھوتہ کرنا تمہاری بہت پرانی عادت رہی ہے، اور ہاں تم کہاں میزائل کے زمانے میں تیر تیر کئے جا رہے ہو؟ تیر کا زمانہ اب لد گیا۔ تیر اب میوزیم میں ہی نظر آئے گا۔ لالٹین تو ہر جگہ جلتی نظر آئے گی اور پہلے سے زیادہ جلتی ملے گی کیونکہ 11 کروڑ غریب عوام کی پیٹھ میں تم غدار ی کی تیر ہی ایسے گھونپے ہو، باقی اگر آپ اب کیچڑ والے پھول میں تیر گھونپو یا چھپاو۔ تمہاری مرضی۔آر جے ڈی کی جانب سے کچھ کہنے سے ہی جے ڈی یو کے رہنماؤں کے بیان کی لائن لگ جاتی ہے اور جب لالو نے نتیش کو کھلا خط لکھ دیا تو جے ڈی یو کس طرح خاموش بیٹھتی۔ جے ڈی یو کے لیڈر سنجے سنگھ نے جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ چارہ گھوٹالے میں سزا یافتہ لالو پرساد یادو جیل سے موبائل کا استعمال کرکے خط لکھ رہے ہیں۔ یہ تحقیقات کا موضوع ہے، جیل میں رہ کر بھی وہ سیاست کر رہے ہیں ہے۔

 

بتا دیں کہ لوک سبھا انتخابات کے دوران ہر علاقے میں انتخابی جلسے ہو رہے ہیں۔ ان جلسوں میں جے ڈی یو کی جانب سے بار بار یہ کہا جا رہا ہے کہ اب بہار میں لالٹین دور چلا گیا۔ اب ہر گھر میں بجلی آ گئی ہے، تو لالٹین کی ضرورت نہیں ہے۔ جنگل راج کو ختم کرنے کے لئے این ڈی اے کو ووٹ کریں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *