بہار میں برقرار ہے لالو کا جادو

Share Article

اشرف استھانوی
بہارمیں 15 ویں اسمبلی کی تشکیل کے لئے الیکشن کمیشن آف انڈیا کی طرف سے شروع کیا گیا تقریباً دو ماہ کا طویل انتخابی عمل اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ اس انتخاب کے دوران کئی پرانے ریکارڈ ٹوٹے ہیں تو کئی نئے ریکارڈ بھی بنے ہیں۔ کسی خیمہ میں جشن اورچراغاں ہیں تو کسی میں مایوسی اور فکر و تردد کے بڑھتے ہوئے سائے ہیں اور کئی پر سیاسی پنڈتوں کو اپنی پیشن گوئی غلط ہونے پر خفت او ر ہزیمت کا سامنا ہے۔
انتخابی بگل بجنے سے پہلے اور اس کے بعد بھی این ڈی اے اور میڈیا کے این ڈی اے نواز سیکشن کی طرف سے لگاتار یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ اس بار تو بہار میں بس ایک ہی ایجنڈا ہوگا۔ ترقی کا۔ رائے دہندگان کے سامنے کوئی دوسرا ایشونہیں ہوگا۔ بس ترقی کے نام پر اور ترقی کے حق میں ووٹ دیں گے اور چوں کہ نتیش حکومت ترقی کی علامت بن چکی ہے او راپوزیشن راشٹریہ جنتا دل کے سربراہ لالو پرساد یادو ترقی کے مخالف ہیں یا میڈیا کے ایک سیکشن کے ذریعہ ان کی امیج ترقی مخالف لیڈر کی بنا دی گئی ہے۔ اس لئے ان کا بوریا بستر گول ہو جائے گا۔ دراصل یہ ایک مفروضہ تھا جس پر این ڈی اے اور این ڈی اے نواز میڈیا کا پورا چناوی ابھیان ٹکا ہوا تھا، لیکن چوں کہ یہ محض ایک مفروضہ تھا اور مفروضات پر حقائق کی عمارت نہیں ٹکتی ہے۔ اس لئے  اس مفروضہ کی بنیاد پرلالو یادو کے سیاسی خاتمہ کی جو پیش گوئی کی گئی تھی وہ صحیح ثابت نہیں ہوئی اور جس وقت یہ تحریر آپ کی نگاہوں سے گذر رہی ہوگی ہمارے اس دعوے کی دلیل بھی سامنے آچکی ہوگی۔
بہار کے غیر جانبدار میڈیا اور عوام نے پورے انتخابی عمل کے دوران اور پولنگ کے تمام مراحل میں واضح طور پر دیکھا اور محسوس کیا کہ بہار میں لالو یادو کا جادو 20 سال بعد بھی برقرار ہے اور وہ ووٹر وں کے ایک بڑے اور قابل لحاظ حصہ پر اب  بھی سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ دراصل بہار کے عوام نے لالو یادو، ان کی پارٹی راشٹریہ جنتا دل او راس کی آئیڈیا لوجی کو کبھی مسترد ہی نہیں کیا تھا۔ انہیں مزید بہتر، موثر ، فعال، حساس اور جوابدہ لیڈر بنانے کے لئے ایک جھٹکا دیا تھا،جس کا خاطر خواہ فائدہ بھی نظر آیا۔ لالو آج پہلے سے زیادہ حساس، ذمہ دار اور جوابدہ لیڈر بن گئے ہیں۔ انہوں نے اپنے آس پاس جمع مفسد عناصر کو بھی اپنے سے دور کر دیا ہے۔ سیاسی بیانات بھی وہ بہت ناپ تول کر دینے لگے ہیں۔ ترقیاتی محاذ پر بھی ان کی فکر میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ تبدیلی اسی وقت سے نظر آنے لگی تھی جب وہ مرکز کی یو پی اے حکومت میں وزیر ریل کی ذمہ داری نبھا رہے تھے۔ انہوں نے اپنے دور وزارت میں ریلوے کو نہ صرف گھاٹے کے دلدل سے نکالا بلکہ اسے ریکارڈ منافع کمانے والا ادارہ بھی بنا دیا۔ اس بار کے انتخاب میں انہوں نے جبہ و دستار والے مسلم ووٹ بینک کے سوداگروں سے بھی خود کو الگ رکھا اور پورے اعتماد کے ساتھ انتخابی مہم میں حصہ لیا اور مختلف فرقہ اور طبقہ کے ووٹروں کے درمیان وہ اپنے ٹھوس ترقیاتی اورفلاحی پروگراموں کے ساتھ گئے۔ اپوزیشن کی منفی تشہیری مہم اور اپنے ترقی مخالف ہونے کے الزامات سے پریشان ہوئے بغیر انہوں نے عوام کو بتایا کہ جس طرح انہوں نے ریلوے کو چمکایا ہے اور بدحالی کے دلدل سے نکالا ہے اسی طرح وہ بہار کو بھی بد حالی کے دلدل سے نکال کر چمکتا ہوا بہار بنائیں گے جس میں ہر بہاری چمکتا ہوا نظر آنے لگے گا۔
ویسے بھی بہار کے اقلیت ، دلت اور محروم طبقات کے وہ لوگ جنہیں لالو یادو نے پہلی بار زبان دی ، اپنے آئینی حقوق کے حصول کے لئے جدو جہد کرنے اور آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ اقتدار میں پہلی بار حصہ داری دے کر ان میں سیاسی شعور پیدا کیا وہ لالو یادو اور ان کے احسانات کو کیسے فراموش کر سکتے ہیں۔ آج پولنگ میں جو عوام کی بڑھتی ہوئی دلچسپی نظر آتی ہے خصوصاً اقلیت، دلت اور محروم طبقات میں جو جوش اور ولولہ پایا جاتا ہے اس میں لالو یادو کا بڑا ہاتھ ہے۔ پہلی بار ان کی حکومت میں ہی پولنگ بوتھوں پر محروم طبقات کی بڑھتی ہوئی تعداد دیکھی گئی ۔ بیشک اس میں آج خواتین بھی شامل ہو گئی ہیں، جو ریزرویشن ملنے کے بعد آئی سیاسی بیداری کے نتیجے میں سیاست کی طرف پہلے سے زیادہ تعداد میں متوجہ ہونے لگی ہیں۔ اب اس میں الیکشن کمیشن کی کوششوں کا ثمرہ بھی شامل ہو گیا ہے۔ کیوں کہ اب انتخاب پر امن ہونے لگے ہیںاور جو لوگ پہلے تشدد کے خوف سے پولنگ بوتھوں کا رخ کرنا پسند نہیں کرتے تھے وہ بھی اب قطار در قطار ووٹنگ میں حصہ لینے لگے ہیں،لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ اس انتخاب میں ترقی کا ایشو کوئی ایشو نہیں رہا۔ ہر فرقہ اور طبقہ کے لوگوں نے ترقی کے معاملے پر دھیان دیا لیکن سب نے اپنے اپنے نظریہ کے مطابق ترقی کے معاملہ پر دھیان دیا۔ اس طرح نہیں جس طرح این ڈی اے نے دکھانا چاہا۔ سب نے یہ دیکھا کہ اس ترقی کا فائدہ ان کی ذات کو، فرقہ کو، یا طبقہ کو کیا ملا اور انہیں ملا تو ترقی میں اپنا حصہ یقینی بنانے کے لئے انہیں کیا کرنا چاہئے۔ کس پارٹی کی حمایت کرکے انہیں اقتدار میں یاترقی میں مناسب حصہ مل سکتا ہے۔ ہر ذات کے لوگوں نے اپنے ذات اور فرقہ اور طبقہ کے امید واروں پر دھیان دیا۔ سب کی یہی فکر رہی کہ نئی اسمبلی میں ان کے نمائندوں کی تعداد زیادہ ہو تاکہ حکومت میں ان کا حصہ برقرار رہے اور اس کے نتیجہ میں ترقی کا خاطر خواہ فائدہ ان تک پہنچ سکے۔
نتیش حکومت میں جس ذات، فرقہ یا طبقہ کے لوگوں نے خود کو محروم یا نظر انداز محسوس کیا انہوں نے حکمراں اتحاد کے خلاف کھل کر ووٹ دیا۔ سڑک اور پل کے نام پر آنکھیں موند کر حکمراں اتحاد کو ووٹ نہیں دیا ۔ مسلمانوں میں بھی یہ احساس نمایاں رہا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ سابقہ حکومت کے مقابلے میں ان کے مسائل اس حکومت میں زیادہ پیچیدہ ہو گئے، ظاہر ہے کہ انہوں نے اس بار اس کے مطابق ہی فیصلہ کیا۔نتیش حکومت میں صرف ایک مسلم وزیر کا ہونا مسلمانوں کو پسند نہیں آیا۔ اس لئے انہوں نے زیادہ مسلم امید واروں کو کامیاب بنانے کی کوشش کی اور جہاں بھی انہیں مسلم امید وار ملے انہیں بھر پور ووٹ دیا۔ حالاں کہ کئی حلقوں میںجہاں ایک سے زائد مسلم امید وار تھے وہاں ضرور نقصان ہوا ہے۔ کئی حلقوں میں مسلم ووٹروں کی جذباتیت نے بھی کام خراب کیا۔
اس انتخاب میں سیاسی پنڈتوں کی ایک اور پیش گوئی غلط ثابت ہوئی اور وہ یہ تھی کانگریس کے سلسلہ میں۔ کیوں کہ اس کا یہ ماننا تھا کہ کانگریس جو 1990 سے لگاتار ہر اسمبلی انتخاب میں نیچے اترتی جا رہی تھی وہ اس بار بالکل ختم ہو جائے گی۔ کانگریس 1990 میں دوسرے ،1995 میں تیسرے ،2000 میں چوتھے اور 2005 میں پانچویں نمبر پر آگئی تھی۔ اس بار بہتر مظاہرہ کرنے میں کامیاب رہی ہے اور اس کی واپسی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ کانگریس کے انتخابی نتائج سے ان لوگوں کو بیشک مایوسی ہوگی جو راتوں رات اس کی اقتدار میں واپسی کا خواب دیکھ رہے تھے،لیکن جو حقیقت پسند ہیں انتخابی نتائج سے انہیں کوئی حیرت نہیں ہوگی، لیکن کانگریس کے اس مظاہرے میں اس کی مرکزی قیادت کا ہی ہاتھ ہے۔ ریاستی قیادت اپنے امید واروں کی اس طرح مدد نہیں کر سکی جیسی توقع تھی۔ کانگریس کے جتنے بھی امید وار منتخب ہوئے ہیں وہ اپنی محنت اور صلاحیت یا اپنے مرکزی قائدین سونیا اور راہل کی حمایت اور مدد سے جیتے ہیں۔ کل ملا کر اس انتخاب میں ووٹروں نے اپنے سیاسی شعور کا بھر پور مظاہرہ کیا ہے۔ اور ملک یا ریاست کی ترقی میں اپنا حصہ طے کرنے کی تڑپ ظاہر کردی ہے۔ اس لئے نئی حکومت کا کام کافی چیلنجنگ او رذمہ داریوں سے بھرا ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *