ہندوستان میں 68 برسوں سے آفاقی بنیادوں پر سرگرم عمل ہونے کا دعویٰ لے کر اٹھی جماعت اسلامی ہند ابھی حال میں اس وقت ملک کے ایک بڑے حلقہ کی توجہ اپنی جانب مبذو ل کراتی دکھی جب اس نے تمام مذاہب کے حاملین سے 15 روزہ ’امن و انسانیت مہم‘ کے دوران روابط بنائے اور تبادلہ خیال کئے۔اس کا مقصد تھا کہ معاشرہ میں کمیونیکیشن گیپ، مذہبی بنیادوں پر پولرائزیشن،عدم رواداری اور عدم برداشت کا جو ماحول بنتا جارہا ہے اور فروغ پارہا ہے ، اس پر روک لگانے کی کوشش کی جاسکے۔ جنرل سکریٹری جماعت محمد سلیم انجینئر کے مطابق، ملک کی 17 ریاستوں میں 10 ہزار مختلف پروگراموں بشمول کانفرنس ، پریس بریفنگ اور کارنر میٹنگ کرکے براہ راست 25لاکھ افراد اور سوشل میڈیا کے توسط سے 15کروڑ افراد تک پہنچ بنائی جاسکی۔ اسی دوران اس نے ملک بھر میں کل 1200یونٹوں میں ’سدبھائونا منچ‘ اورقومی سطح پر’ دھارمک مورچہ‘ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق’سدبھائونا منچ‘ علاقہ کے سماجی اور حقوق انسانی کارکنان پر مشتمل ہوگا جبکہ ’دھارمک مورچہ ‘ میں مختلف مذاہب کی اہم شخصیات شامل ہوں گی۔
سماج کو جوڑنے کی یہ کوشش یقینا قابل ستائش ہے۔لیکن حیرت ہے کہ تین برس قبل 7ستمبر 2013 کو مغربی اترپردیش کے چنداضلاع میں ایک واقعہ کے بعد فرقہ وارانہ ماحول کے بننے سے اپنے گائوں سے اجڑے تقریباً ایک لاکھ افراد میں سے ابھی تک بے سرو سامانی کی حالت میں ادھر ادھر رہ رہے نصف سے زیادہ افراد تک اس مہم کی رسائی نہ ہوسکی۔ اس طرح بد امنی اور حیوانیت کے شکار لوگ’ امن و انسانیت مہم‘ کے منتظر رہے کہ کوئی آئے اور دیکھے کہ وہ تین برسوں سے کس طرح امن و انسانیت کے لئے ترس رہے ہیں؟
ان بدنصیب لوگوں کا واقعی عجیب حال ہے۔ اپنے اپنے آبائی گائوں سے اجڑنے پر مجبور ہوئے۔ یہ لوگ گزشتہ تین برس سے جس حالت کسمپرسی میں زندگی گزار رہے ہیں، وہ ناقابل بیان ہے۔یہ لوگ مظفر نگر اور شاملی اضلاع کے بعض مقامات پر چھوٹی چھوٹی خود سے بنائی میک شفٹ کالونیوں میں رہ رہے ہیں۔ان کا کوئی مستقل ذریعہ معاش بھی نہیں ہے۔ان میں سے بیشتر اپنے اپنے آبائی گائوں میں کھیتی باری کرتے تھے۔چونکہ یہ اپنے آبائی مقامات سے خوف و ہراس کی فضا میں اچانک نکلنے پر مجبور ہوئے تھے،لہٰذا یہ اپنی آبائی زمینوں اور مکانات کے دستاویز اور شناختی کارڈ بھی ساتھ لے کر نہیں آ سکے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے پاس اپنی اور اپنی زمینوں کی شناخت کا کوئی کاغذی ثبوت بھی نہیں ہے۔ اس طرح ان کی حالت ’اندرونی رفیوجیوں‘ جیسی ہوگئی ہے۔اپنے آبائی مقامات سے ہجرت کے بعد یہ اسی بے سروسامانی میں کیمپوں اور جھگیوں میں سردی کے موسم دوبار گزار چکے ہیں اور اب تیسری سردی کے موسم کی آمد آمد پر پریشان حال ہیں،کیونکہ ان کے سامنے مستقبل تاریک ہی نظر آتا ہے اور دور دور تک ان کو اپنے آبائی گائوں واپس لوٹنے کی کوئی دھندلی سی امید بھی نہیں دکھائی دیتی ہے۔ انہیں دیکھ کر مبصرین کو خوف ہے کہ کہیں ان کی یہ پریشانی کی عارضی حالت مستقل صورت اختیار نہ کرلے۔ سچ تو یہ ہے کہ ریاستی حکومت نے اس دوران ایسی کوئی عملی کوشش نہیں کی جس سے ایسے حالات بنائے جاسکیں جن میں قیامت صغریٰ سے بچے ہوئے لوگ اپنے آبائی مقامات پر بلا خوف واپس جانے کو سوچ سکیں۔علاوہ ازیں جن عناصر نے ان کے گھروں پر حملہ کرکے انہیں وہاں سے نکلنے پر مجبور کیاتھا، نہ ان کی جانب سے ،نہ سرکارکی جانب سے اور نہ ہی کمیونیٹی کی جانب سے مفاہمت کی کوئی پیش رفت کی جاسکی اور نہ ہی انصاف کی کوئی کوشش کی جاسکی جس کے سبب ان کی واپسی کا کوئی راستہ ہموار ہوتا۔ ریاستی حکومت کا تو یہ حال ہے کہ اس کے پاس خود سے بسی (Self Settled)کالونیوں میں سے بیشتر کے بارے میں کوئی سرکاری ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس حالت میں ان بدنیصب لوگوں کو بنیادی ضروری اشیاء اور شہری حقوق مع تعلیم اور صحت و معالجے کی بات کون کرے گا؟ایسے وقت میں’ امن برادری ‘اور ’افکار فائونڈیشن‘ جیسے این جی اوز نے ان خود ساختہ سیٹلمنٹ کالونیوں کا خود سے سروے کیا۔ معروف سماجی کارکن ہرش مندر کے سروے کے مطابق ایسی خود ساختہ 65کالونیاں سامنے آئیں جن میں سے 28 مظفر نگر اور 37شاملی میں ہیں اور ان میں 29ہزار 328 افراد رہ رہے ہیں۔ ہرش مندر نے ان کا تذکرہ اپنی ’لیونگ ایپارٹ (Living Apart) رپورٹ میں کیا ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ یہ اجڑے ہوئے لوگوں کے مکمل اعدادو شمار نہیں ہیں۔ ہرش مندر کا اندازہ ہے کہ اجڑے ہوئے کل افراد کی تعداد 50ہزار سے زائد ہے اور ان میں سے یہ محض 30ہزار کے بارے میں پتہ لگاپائے ہیں۔
ہرش مندر اپنی مذکورہ رپورٹ میں مسلم تنظیموں کے ذریعہ کئے گئے ریلیف و دیگر فلاحی کاموں کا بھیذکر کرتے ہیں جنہوں نے اجڑے ہوئے ان افراد کی داد رسی کی اور وقتی ضروریات کی اشیاء کو ان تک پہنچایا اور بعد ازاں چند فلیٹوں کو بھی بنا کر ان کی چابیاں ان میں سے کچھ خاندانوں کو سونپی۔ ان تنظیموں میں جماعت اسلامی ہند اور جمعیت علماء ہند کے دونوں دھڑے خاص طور پر شامل ہیں۔ویسے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند اور آل انڈیا ملی کونسل نے بھی وقتا فوقتا اجڑے ہوئے لوگوں کے کیمپوں میں جاکر ریلیف کے گرانقدر کام کئے ہیں۔ علاوہ ازیں چند چھوٹے چھوٹے گروپس بھی اس کار خیر میں شامل ہیں۔
ویسے یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ ان مسلم تنظیموں کا یہ کار خیر آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ ہرش مندر کی رپورٹ کہتی ہے کہ 65میک شفٹ کالونیوں میں سے 41 میں رہنے والے لوگ تین برسوں کے بعد بھی اب تک مکانات بنانے کے اہل نہیں ہوسکے ہیں،لہٰذا وہ سب کے سب پلاسٹک چھتوں اور عارضی دیواروں کے میک شفٹ ڈھانچوں میں قیام پذیر ہیں۔ ان میک شفٹ کالونیوں میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پینے کے پانی، سیوریج،نالیوں یا بجلی کا کوئی باضابطہ نظم نہیں ہے۔ضلع انتظامیہ نے جگہ جگہ پر اتنا ضرور کیا ہے کہ ہینڈ پمپ لگوادیا ہے۔ اس طرح یہ میک شفٹ کالونیاں بنیادی انفراسٹرکچر اور پبلک سروسز جیسی ضروریات اور سہولیات سے محروم ہیں اور ملک کے مہذب سماج کو منہ چڑھا رہی ہیں۔
یہ بات کتنی چونکانے والی ہے کہ مظفر نگر میں 82فیصد کالونیوں میں پینے کا صاف پانی مہیا نہیں ہے۔93فیصد گلیوں میں اسٹریٹ لائٹ نہیں ہے،61فیصد جگہوں پر نالیاںنہیں ہیں اور کسی بھی ایک کالونی میں کوئی پبلک بیت الخلا ء نہیں ہے۔اسی طرح شاملی کی کالونیوں میں 97 فیصد پینے کا پانی دستیاب نہیں ہے، 76 فیصد اسٹریٹ لائٹ ،70فیصد نالیاں اور 97 فیصد پبلک بیت الخلاء نہیں ہیں۔علاوہ ازیں تعلیم اور چائلڈ کیئر سروسز کی بھی زبردست کمی ہے۔ اس کے سبب چھوٹے چھوٹے بچوں کو مزدوری کرنا پڑ رہا ہے اور چھوٹی چھوٹی بچیوں کو شادی پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔
یہ حقیقت کتنی تکلیف دہ ہے کہ مظفر نگر میں نصف سے زیادہ اور شاملی میں دو تہائی کالونیوںمیں ایک کلو میٹر کے اندر کوئی سرکاری پرائمری اسکول موجود نہیں ہے۔ کسی بھی کالونی میں کسی بھی ایک شخص کو ایم جی این آر ای جی اے (MGNREGA)ملازمت کارڈ نہیں ملا ہے۔ اسی طرح 29کالونیوں میں سے 27 میں کسی بھی شخص کے پاس راشن کارڈ بھی نہیں ہے۔ان دونوں اضلاع میں کسی کو بھی سینئر سٹیزن ، بیوہ اور جسمانی طور پر معذوری والا پنشن نہیں مل رہا ہے۔
یہ ہے دہلی سے 150-200 کلو میٹر دور مظفر نگر اور شاملی میں اپنے گھروں سے تین برسوں قبل اجڑ کر رہ رہے بدنصیب ’مہاجرین‘کی دردناک کہانی۔ سرکار نے نہ کے برابر کام کیا اور دیگر این جی اوز بشمول مسلم تنظیمیں تقریباً دو برسوں تک کچھ ریلیف کام کرکے ان کے معاملے میں بظاہر کوئی مزید عملی کوشش کرتی دکھائی نہیں پڑ رہی ہیں۔ جماعت اسلامی ہند اور جمعیت علماء جنہوں نے گجرات اورآسام میں اس طرح سے اجڑے لوگوں میں سے بیشتر کو ان کے آبائی مقامات پر پہنچانے کی کوششیں کی اور کچھ خاندانوں کو فلیٹ بنا کر سونپے ، مظفر نگر اور شاملی کے معاملے میں مزید آگے بڑھتی کیوں نہیں دکھائی پڑتی ہے؟اگر جماعت اسلامی ہند کی ’امن و انسانیت مہم ‘ کا قدم اجڑے ہوئے ان بد نصیب لوگوں تک پہنچ جاتا تو یہ لوگ ذہنی و حقیقی طور پر بے حد راحت و سکون محسوس کرتے۔ توقع ہے کہ جماعت اس سلسلے میں جلد ہی کوئی عملی و مؤثر قدم اٹھائے گی۔
ہائی لائٹ:
یہ ہے دہلی سے 150-200 کلو میٹر دور مظفر نگر اور شاملی میں اپنے گھروں سے تین برسوں قبل اجڑ کر رہ رہے بدنصیب ’مہاجرین‘کی دردناک کہانی۔ سرکار نے نہ کے برابر کام کیا اور دیگر این جی اوز بشمول مسلم تنظیمیں تقریباً دو برسوں تک کچھ ریلیف کام کرکے ان کے معاملے میں بظاہر کوئی مزید عملی کوشش کرتی دکھائی نہیں پڑ رہی ہیں۔ جماعت اسلامی ہند اور جمعیت علماء جنہوں نے گجرات اورآسام میں اس طرح سے اجڑے لوگوں میں سے بیشتر کو ان کے آبائی مقامات پر پہنچانے کی کوششیں کی اور کچھ خاندانوں کو فلیٹ بنا کر سونپے ، مظفر نگر اور شاملی کے معاملے میں مزید آگے بڑھتی کیوں نہیں دکھائی پڑتی ہے؟اگر جماعت اسلامی ہند کی ’امن و انسانیت مہم ‘ کا قدم اجڑے ہوئے ان بد نصیب لوگوں تک پہنچ جاتا تو یہ لوگ ذہنی و حقیقی طور پر بے حد راحت و سکون محسوس کرتے۔ توقع ہے کہ جماعت اس سلسلے میں جلد ہی کوئی عملی و مؤثر قدم اٹھائے گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here