کیوں ہارے نتیش او ر لالو ؟

Share Article

ششی شیکھر
p-12اس بات کی تشہیر کی جارہی تھی کہ بہار میں بی جے پی کا ’وجے رتھ‘ (فتح کا رتھ) تھم جائے گا۔ انتخابات کے آخری مرحلہ کے آتے آتے میڈیامیں بھی یہ ہوا بن چکی تھی کہ لالو یادو بہت تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس میں بھی کوئی شبہ نہیں تھا کہ نتیش کمار کی پارٹی کا حشر ایسا ہوگا، لیکن آر جے ڈی کے تعلق سے لگائے گئے تمام اندازے غلط ثابت ہوئے۔ بہار میں بھی بی جے پی کی ’وجے مہم ‘ جاری رہی۔ لالو بمشکل تمام چار سیٹوں پر جیت حاصل کر سکے، جبکہ نتیش کمار کو دوسیٹوں پر اکتفا کرنا پڑا۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟ عمومی طور پر اس کا جواب یہ کہہ کر دیا جارہا ہے کہ مودی لہر کے سبب ایسا ہوا، لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ مقامی سطح پر ایسے کون سے اسباب تھے، جنھوں نے بہار کے دودھرندروں کو پٹخ دیا۔
نتیش کمار کے لیے گزشتہ ایک برس سے یہ کہا جا رہا تھا اور یہ تقریباً طے شدہ حقیقت بن چکی تھی کہ بی جے پی کے ساتھ اتحاد توڑنے کا خمیازہ نتیش کمار کو بھگتنا پڑے گا۔ نتیش کمار اپنے پہلے ہی دور حکومت سے سوشل ا نجینئرنگ کا کام کر رہے تھے۔ نتیش کمار کا مضبوط ووٹر انتہائی پسماندہ مہا دلت اور پسماندہ مسلم طبقہ تھا۔ اس کے ساتھ ہی بی جے پی کے ساتھ اتحاد کے سبب جے ڈی یو کو اعلیٰ ذات کا ووٹ بھی مل رہا تھا، مگر اس اتحاد کے ٹوٹنے کے سبب سب سے پہلے اعلیٰ ذات کے ووٹرس اس سے الگ ہوئے۔ اس کے بعد لالو یادو کے جیل جانے اور پھر جیل سے باہر آنے کے بعد مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ لالو یادو کے ساتھ آگیا تھا۔ نتیش کمار کا واحد نکاتی ایجنڈا مودی مخالف ہونے کے سبب ووٹوں کا پولرائزیشن ہوا اور اس کا خمیازہ نتیش کمار کواٹھانا پڑا۔ اس کے علاوہ بھی اور کئی مقامی اسباب تھے، جن کی وجہ سے بہار کے عوام نتیش کما رسے ناراض چل رہے تھے۔ اس میں سب سے بڑی تعداد ٹھیکے پر تقرر کیے گئے ملازمین کی تھی، جن میں اساتذہ کی تعداد لاکھوں میں تھی۔ گزشتہ 2-3برسوں میں نتیش کمار جن جن اضلاع میں گئے، وہاں کے ہزاروں اساتذہ نے تنخواہ کے ایشو پر انھیں سیاہ پرچم دکھائے۔ جہاں تک ترقی کی بات ہے، یقینی طور پر نتیش کمار نے بہار میں ترقی کے کام کرائے، مگر وہ اس معاملے میں ایک حد تک جا کر رک گئے یا کہیں کہ انھیں رکنا پڑے گا۔ خود جے ڈی یو کے کئی ارکان پارلیمنٹ اس نمائندے سے کی گئی بات چیت میں یہ قبول کر چکے ہیں کہ بہار میں اب آگے کوئی کام نہیں ہو پارہا ہے یا اس کی کوئی گنجائش بنتی دکھائی نہیں پڑ رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس پارٹی کے ساتھ ایک اور بڑا مسئلہ مضبوط تنظیم کی کمی کا تھا۔ بی جے پی کے ساتھ اتحاد کی وجہ سے جے ڈی یو ان مقامات پر اپنی تنظیم کھڑی کرنے میں ناکام رہی، جہاں کی سیٹیں پہلے بی جے پی کے کھاتے میں تھیں۔ اس وجہ سے بھی اسے نقصان اٹھانا پڑا۔ نریندر مودی کے ذریعہ خود کو پسماندہ طبقہ کے بتائے جانے سے بھی بہار کا پسماندہ اور انتہائی پسماندہ طبقہ بی جے پی کی جانب جھکا۔ مسلمانوں کے ووٹ بھی جے ڈی یو اور آر جے ڈی کے درمیان بٹتے چلے گئے اور آخر تک یہ جے ڈی یو سے شفٹ ہو کر آر جے ڈی کی جانب چلے گئے۔
دوسری جانب اس انتخاب میں جہاں یہ قیاس لگایا جا رہا تھا کہ لالو یادو اس انتخاب میں فاتح بن کر ابھریں گے، وہیں یہ تمام قیاس دھرے کے دھرے رہ گئے۔ جے ڈی یو کے ووٹ بینک میں بکھراؤ کا سب سے زیادہ فائدہ آر جے ڈی کو ملتا دکھائی دے رہا تھا،لیکن انتخابی نتائج نے ان اندیشوں کو غلط ثابت کر دیا۔ حالانکہ یہ سچ ہے کہ برسوں بعد ایک بار پھر لالو یادو کا ایم وائی فارمولہ یعنی مسلمان اور یادو ایک ساتھ لالو کے حق میں آتے دکھائی دیے، مگر انتخابات کے نتائج نے یہ ثابت کر دیا کہ یادووں کا ووٹ لالو یادو کو نہیں ملا یا ملا بھی تو اس میں بہت زیادہ انتشار ہوا۔ لالو یادو نے اپنے ٹکٹ کی تقسیم میں بھی ایم وائی فارمولہ کو ہی توجہ میں رکھا تھا او رزیادہ تر سیـٹوں پراس طبقہ کومیدان اتارا تھا، لیکن یادو ووٹ میں انتشار اور نتیش کمار کی طرح ہی مودی مخالفت کا واحد نکتہ والا ایجنڈا لالو یادو کے لیے بھاری پڑگیا۔ یو پی کی طرح ہی بہار میں بھی بڑی تعداد میں ووٹوں کاپولرائزیشن ہوا۔ یقینی طور پر ایک جانب مسلمانوں نے بی جے پی کو ہرانے کے لیے ٹیکٹیکل ووٹنگ کا راستہ اپنایا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ باقی تمام ووٹ ایک جانب یعنی بی جے پی کی طرف چلے گئے۔ 2014کے انتخابات کے دور میں لالو یادو کے ساتھ ایک سب سے بڑا مسئلہ یہ بھی تھا کہ وہ ابھی 1991کے دور کی سیاست سے باہر نہیں نکل سکے تھے اور وہ اپنے قبل والے انداز میں کام کر رہے تھے، مگر انتخابی نتائج آنے کے دوسرے روز یعنی 17مئی 2014کو سیاسی صورتحال اچانک بدل گئی او رپھر سب کچھ بی جے پی کی فتح کے تناظر میں سوچا جانے لگا۔
سب سے پہلے نتیش کمار نے جے ڈی یو کی لوک سبھا انتخابات میں خراب کارکردگی کے سبب یہ کہتے ہوئے اپنا او راپنی حکومت کا استعفیٰ دے دیا کہ وہ اس شکست کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دے رہے ہیں۔ ان کے استعفیٰ دیتے ہی سیاسی موسم گرما گیا۔ صدر جے ڈی یو شرد یادو نے لالو یادو سے ہاتھ ملانے کی بات کی تاکہ بی جے پی اور مودی کے بر سر اقتدار ہونے پرملک کو در پیش خطرات سے متحد ہو کر نمٹا جاسکے۔ لالو یادو نے ان کی اس پیش رفت کو مثبت انداز میں لیا او راس کا خیر مقدم کیا۔
اس طرح ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بہار میں جے ڈی یو او رآرجے ڈی اپنی اپنی ہار کے بعد اب مشترکہ طور پر سیاست کرنا چاہتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آگے کیا ہوتا ہے؟ کیا نتیش کمار اپنا استعفیٰ واپس لیتے ہیں یا ان کے بدلے کوئی دوسرا لیڈر منتخب ہوتا ہے او ر وزیر اعلیٰ بنتا ہے؟ کیا بہار اسمبلی تحلیل کر کے از سرنو اسمبلی انتخابات کرائے جاتے ہیں؟ یا کیا گورنر/صدر راج ریاست میں نافذ کیا جاتا ہے؟
بہر حال جوبھی ہو، اتنا تو طے ہے کہ دیر ہی سے صحیح پارلیمانی انتخابات کے نتیجے بی جے پی کے حق میں آنے سے ان دونوں پارٹیوں کے سخت رویہ میں تبدیلی آتی دکھائی پڑ رہی ہے۔ یہ بھی سوال ہے کہ کیا یہ تبدیلی دیر پا ہوگی اور خلوص نیت سے ہوگی؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *