وسیم راشد
سماجوادی پارٹی کے ممبران پورے اتر پردیش میں ملائم سنگھ کی سالگرہ منانے میں لگے ہوئے ہیں اور دوسری طرف مظفر نگر میں فساد سے اجڑے ہوئے لوگ کیمپوں میں سردی میں ٹھٹھر رہے ہیں اور اگر یہی حال رہا تو ان میں سے ہزاروں پناہ گزیں مسلمان یقینا سردی میں ٹھٹھر کر مر جائیں گے۔ ملائم سنگھ یادو پر مسلمانوں نے بہت بھروسہ کیا تھا۔ اکھلیش آج اقتدار کے نشے میں چور ہیں ۔ انہیں اس بات کا احساس ہی نہیں کہ مسلمانوں نے انہیں نہیں، ان کے والد ملائم سنگھ کے نام پر سماجوادی پارٹی کو ووٹ دیا تھا لیکن مظفر نگر کے فساد کے بعد ملائم سنگھ یادو اور سماجوادی پارٹی پر سے مسلمانوں کا اعتماد پوری طرح سے ختم ہو چکا ہے۔
ایک طرف پورے ملک میں لوک سبھا الیکشن کا ہنگامہ ہے ، انتخابی فضاء نے پورے ملک کو سیاسی اکھاڑہ بنا دیا ہے۔ اسمبلی الیکشن نے سیاست کو اور بھی گرما دیا ہے اور اسٹنگ آپریشن کرا کر لیڈران کی شبیہ خراب کرنے کی کوشش بھی جاری ہے۔ سب کچھ ہو رہا ہے انتخابی دنگل ہو رہا ہے لیکن اس سب میں مظفر نگر فساد کے ان بدنصیبوں کا کسی کو خیال نہیں ہے۔ جو اس وقت کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ملائم سنگھ یادو بریلی میں پردیش بچائو ، دیش بنائو ریلی کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کی طرف داری نہیں کر رہے بلکہ انہیں انصاف دے رہے ہیں اور دوسری طرف مظفر نگر فساد میں حکومت کو امداد بھی دی جا رہی ہے تو صرف ایک طبقے کے لوگوں کو سپریم کورٹ کی سرزنش کے بعد شاید حکومت جاگے لیکن یہ واضح حقیقت ہے کہ اکھلیش حکومت نے مظفر نگر میں مسلمانوں کو بے یار و مدد گار چھوڑ دیا ہے۔

ملائم سنگھ یادو پرانے سیاستداں ہیں، منجھے ہوئے کھلاڑی ہیں۔ وہ اس بات کو اچھی طرح سمجھ رہے ہیں کہ مسلمان اب ان پر اعتماد نہیں کرتے لیکن ملائم یہ بھی جانتے ہیں کہ کیسے مسلمانوں کا دل جیتا جا سکتا ہے۔ اس لئے انھوں نے بریلی میں اکھلیش یادو کی طرف چہرہ کر کے کہا کہ یو پی کے ہر تھانہ میں مسلمان سپاہی تعینات کئے جا ئیں اور اگر کسی تھانہ میں مسلمان کانسٹیبل اور سب انسپکٹر نہ ہوں تو بھیج دیں۔ اسی سے دنگا فساد روکنے میں مدد ملے گی۔ حیرت ہے ملائم سنگھ کو اب مسلم انسپکٹر تعینات کرنے کی یاد آئی ہے، جب پوری طرح مظفر نگر کے فساد میں مسلمانوں کو اجاڑ دیا گیا ۔ ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے اپنوں کو آگ کی نظر کر دیا گیا۔

ایک طرف ملائم کہتے ہیں کہ ملک میں سب سے زیادہ دکھی کسان اور مسلمان ہیں اور کانگریس کی مرکزی حکومت کو اس کی فکر نہیں ہے تو دوسری طرف خود ان کی حکومت مظفر نگر فساد میں بے گھر ہوئے مسلمانوں کو نظر انداز کر رہی ہے۔ ظاہر ہے ملائم سنگھ اسی بات سے واقف ہیں کہ مسلمان اب ان کی حمایت میں نہیں ہے، ہر جگہ مسلمانوں کی حمایت میں کمی ہوئی ہے۔ شاید اسی لئے وہ جگہ جگہ ریلیاں کر کے مسلمانوں کی حمایت اور ان کے ساتھ انصاف کرنے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ اپنی امیج کو سدھارنے کے لئے وہ اپنی ریلیوں میں اعظم خاں کو بھی ساتھ لے کر جا رہے ہیں۔ شاید یہ تاثر دینے کے لئے کہ مسلمان ان کے ساتھ ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا مسلمان اب پھر سے ملائم سنگھ یادو پر بھروسہ کر پائیں گے۔ اس سرکار نے ان کو اپنا گھر بار چھوڑ کر ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا۔ آج اکھلیش سرکار پانچ لاکھ کا معاوضہ دے کر ان سے حلف نامہ لینا چاہتی ہے اور چاہتی ہے کہ وہ اپنے آبائی گھروں کو اپنے پرکھوں کی زمینوں کو چھوڑ کر چلے جائیں۔ وہ مسلمان جو فساد میں لٹ لٹا کر کیمپوں میں پناہ گزیں ہیں اگر وہ پانچ لاکھ لے لیتے ہیں اور واپس اپنے گھر بار نہیں جاتے تو یہ ان کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی۔ صرف پانچ لاکھ میں وہ کہاں اپنا آشیانہ بنا پائیں گے اور اس کے علاوہ اپنی زمین، اپنی مٹی سے ان کو الگ کرنا کیا صحیح ہوگا؟ کیا پانچ لاکھ کا معاوضہ ان کو بازآبادکاری میں معاون ثابت ہو سکے گا؟ یہ لوگ لاکھوں کروڑوں کی اپنی جائدادیں چھوڑ کر نکلے ہیں ، حکومت ان کو ظاہر ہے اپنے قبضہ میں کر لے گی ۔ حکومت کی تو دونوں طرف سے چاندی ہی چاندی ہے۔
آگرہ میں نریندر مودی مظفر نگر فساد کے ملزمین کی عزت افزائی کر رہے ہیں۔ یہ وہی ملزمین ہیں جنھوں نے فساد بھڑکانے میں کوئی کثر نہیں چھوڑ ی۔جن لوگوں کا نام چارج شیٹ میں درج ہے، جو لوگ کھلم کھلا نفرت کی سیاست کرنے کی وجہ سے پکڑے گئے ان کو اس طرح آزادانہ چھوڑ دینا اور مسلم نوجوانوں کو بنا کسی وجہ کے جیلوں میں ڈال دینا یہ ہے مرکزی حکومت کا بھی دوہرا رویہ ہے۔ مرکزی حکومت چاہے تو اکھلیش حکومت سے سوال کر سکتی ہے۔ بازآبادکاری کا جائزہ لے سکتی ہے لیکن ابھی تک بھی مظفر نگر فساد میں بے گھر ہوئے لوگوں کو آشیانہ نہیں ملا۔
اس معاملہ میں جمعیۃ علماء ہند کے مولانا ارشد مدنی کی تعریف کرنا ہوگی جنھوں نے فساد سے اجڑے ہوئے 72لوگوں کو 80گز کے مکانات مہیا کرائے اور ان کی بازآبادکاری کا کام کیا۔
ملائم سنگھ یادو پرانے سیاستداں ہیں، منجھے ہوئے کھلاڑی ہیں۔ وہ اس بات کو اچھی طرح سمجھ رہے ہیں کہ مسلمان اب ان پر اعتماد نہیں کرتے لیکن ملائم یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ معصوم قوم ہے سیدھے سادھے لوگ ہیں۔ جلد ہی بہکاوے میں آجاتے ہیں۔ ان کو اچھی طرح معلوم ہے کہ مسلمانوں کا دل کیسے جیتا جا سکتا ہے۔ اس لئے انھوں نے بریلی میں اکھلیش یادو کی طرف چہرہ کر کے کہا کہ یو پی کے ہر تھانہ میں مسلمان سپاہی تعینات کئے جا ئیں اور اگر کسی تھانہ میں مسلمان کانسٹیبل اور سب انسپکٹر نہ ہوں تو بھیج دیں۔ اسی سے دنگا فساد روکنے میں مدد ملے گی۔ حیرت ہے ملائم سنگھ کو اب مسلم انسپکٹر تعینات کرنے کی یاد آئی ہے، جب پوری طرح مظفر نگر کے فساد میں مسلمانوں کو اجاڑ دیا گیا ۔ ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے اپنوں کو آگ کی نظر کر دیا گیا۔
مظفر نگر کا فساد کسی بھی طرح گجرات کے فساد سے کم نہیں تھا لیکن اگر سماجوادی پارٹی نے سنجیدگی سے پہلے ہی مظفر نگر کے حساس علاقوں میں نظر رکھی ہوتی اور جو حکم ملائم سنگھ نے اکھلیش کو اب دیا ہے یو پی کے ہر تھانہ میں مسلم سپاہی تعینات کرنے کا وہ اگر پہلے ہی ہو جاتا تو آج مظفر نگر میں اتنی تباہی نہیں ہوتی۔ ملائم سنگھ کے اسی وعدے کی بھی قلعی کھل رہی ہے، جس میں انھوں نے بریلی میں ریلی میں مسلمانوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کے بعد مسلمانوں پر زیادتی ہوئی ، جان و مال کا بھاری نقصان ہوا ، لیکن کسی سرکار نے معاوضہ نہیں دیا۔ ہماری سرکار نے 1899کنبوں کو پانچ، پانچ لاکھ روپے دئے ہیں۔ ملائم سنگھ یادو سے سوال پوچھا جانا چاہئے کہ آپ نے جن شرطوں پر ان کنبوں کو جو پانچ پانچ لاکھ روپے دئے ہیں وہ شرائط انسانیت کے کس خانہ میں رکھی جائیں ۔ ہونا یہ چاہئے تھا کہ مظفر نگر کے ان کنبوں کو واپس ان کے گھروں کو بھیجا جائے ، ان کو یہ بھروسہ دلایا جاتا کہ وہ اپنے گھروں میں اب محفوظ ہیں اور ان کے جلے ہوئے ، لٹے ہوئے گھروں کو دوبارہ بسانے کے لئے انہیں ایک مناسب رقم دی جاتی لیکن اس طرح ان کی زمین چھین لینا انہیں ان کی جڑوں سے الگ کرنا ، یہ بازآبادکاری کا طریقہ ہر گز نہیں ہے۔
ابھی اسمبلی الیکشن ہو رہے ہیں۔ اس کے بعد لوک سبھا الیکشن ہو ں گے ۔ ملائم سنگھ یادو کو شاید دہلی تک کا راستہ آسان لگ رہا ہے، لیکن انہیں اس بات کا اندازہ نہیں کہ ان پر سے مسلمانوں کا اعتبار ختم ہو چکا ہے۔ ملاملائم کہنے والے اب انہیں جھوٹا ملائم کہنے لگے ہیں۔ ملائم کو ایسا لگ رہا ہے کہ لوک سبھا الیکشن تک وہ پھر سے مسلمانوں کو بے وقوف بنا کر راہ ہموار کر لیں گے اور مسلمانوں کے ووٹ حاصل کر لیںگے۔ لیکن شاید اس بار ملائم جیسا سمجھدار، تجربہ کار ، قدآور لیڈر غلطی کر بیٹھا ہے اور وہ شاید اب لوک سبھا کے لئے مسلمانوں کے تیور وہی پرانے جیسے سمجھ رہا ہے۔ مسلمانوں نے سماج وادی پارٹی کو اس لئے ووٹ دیا تھا کہ کانگریس اور بی جے پی پر سے اس کا اعتماد اٹھ چکا تھا اور اسے سماجوادی پارٹی پر بھروسہ تھا کہ وہ اس کو تحفظ دے گی لیکن مظفر نگر کے فساد نے اور اس سے پہلے مختلف یو پی کے اضلاع میں ہونے والے فساد نے سماجوادی پارٹی پر سے مسلمانوں کا اعتماد ہی اٹھا دیا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here