وسیم احمد
اردو کے نام پر شام غزل،مشاعرے اور سمینار کراکر واہ واہی لوٹنے کا ہنر کوئی شیلا سرکار سے سیکھے۔اردو طبقہ میں سر خرو ہونے کے لئے اردو وراثت میلہ جیسے تماشوں پر لاکھوں روپے خرچ کرکے یہ جتانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ سرکار اردو کے تئیں مخلص ہے۔کبھی کبھار غالب سمینار اور اردو کے کسی پروگرام میں وزیر اعلیٰ چند پل کے لئے شامل ہوکر کریڈٹ لینے کی کوشش کرتی ہیں ۔کبھی کبھی اس سے بھی تھوڑا آگے بڑھ کراردو کو ان کے ذریعہ دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیے جانے کی یاد دہانی کراکر خوب شاباشی لوٹتی ہیں۔یہ سچ ہے کہ اس زبان کو شیلا سرکار نے ہی دوسری زبان کا درجہ دیا ہے  مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس زبان کو نظر انداز کرنے کا عمل جتنا اس سرکار میں ہوا ہے اتنا اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔گزشتہ کئی سالوں سے یہاں اردو اسکولوں میں کسی اردو استاد کی بحالی نہیں ہوئی ہے۔جبکہ ریاست میں دیگر کئی زبانیں ہیں جن کو لکھنے پڑھنے اور بولنے والے انتہائی کم تعداد میں ہیں مگر ان زبانوں کے اساتذہ کی بحالی وقت پر کر دی جاتی ہے جبکہ اردو کے تئیں بار بار کوششوں کے باوجود نتیجہ صفر ہے۔اگر کبھی کوئی رضاکار تنظیم یا معزز شہریوں کی طرف سے وزیر اعلیٰ کی توجہ اس طرف دلائی جاتی ہے تو وہی پرانا راگ الاپ کر مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ( غور کیا جارہا ہے)۔ نہ جانے حکومت  اتنی مدت سے مسلسل غور کر رہی ہے مگر کسی نتیجے پر کیوں نہیں پہنچ پاتی ہے۔اس سلسلے میں اردو کے مشہور ادارہ ’’انجمن ترقی اردو‘‘ اور’’ اردو موومنٹ دہلی ‘‘نے بار بار  وزیر اعلیٰ شیلادیکشت اور وزیر تعلیم سے ملاقات  کرکے اسکولوں میں اردو مضمون پڑھنے والے بچوں کے لئے اردو ااساتذہ کی تقرری کے بارے میں بات کی۔لیکن انتہائی حیرت کی بات ہے کہ جب بھی اس سلسلے میں بات کی جاتی ہے تو حکومت اردو اساتذہ کی فراہمی کا معاملہ اردو اکادمی پر ٹال دیتی ہے۔جبکہ اس سلسلے میں اکادمی کے وائس چیرمین پروفیسر اختر الواسع اور سکریٹری انیس اعظمی نے کئی مرتبہ اپنی طرف سے یہ صاف کردیا ہے کہ اردو اساتذہ کا تقرر اردو اکادمی کی ذمہ داری نہیں ہے۔ اس سلسلے میں کوئی بھی فیصلہ دہلی ایجوکیشن ایکٹ کے تحت ’’دہلی سب آرڈینینٹ سروس بورڈ‘‘ انجام دیتا ہے۔اور اس بورڈ کی  ذمہ داری ہے کہ جس اسکول میں بھی 6 بچے تک اردو پڑھنا چاہیں انہیں اردو ٹیچر مہیا کرائے۔لیکن افسوس یہ ہے کہ دہلی سرکار میں وزیر تعلیم سے لے کر وزیر اعلیٰ تک سب ہی اس پیاری زبان کے تئیں سوتیلے پن کا رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔جبکہ اسی صوبے میں 996 اسکولوں میں چاہے کوئی طالب علم سنسکرت پڑھنے والا ہو یا نہیں مگر ہر اسکول میں ایک سنسکرت کے استاد کی بحالی وقت پر ہو جاتی ہے۔جبکہ ریاست کے 996  اسکولوں میں سے بیشتر ایسے اسکول ہیں جہاں اردو کے 6 طلبہ ضرور اردو پڑھنا چاہتے ہیں اور ان میں  323 ایسے اسکول ہیں جہاں 20 سے 100 طلباء اردو  بطور مضمون پڑھنا چاہتے ہیں لیکن وہاں اردو ٹیچرس کی تقرری میںحیلے بہانے کئے جارہے  ہیں۔جب کبھی ان اسکولوں میں اردو اساتذہ کی بحالی کے لئے دبائو بڑھتا ہے اور مطالبے تیز ہونے لگتے ہیںتو سرکار معاملے کو ٹالنے کے لئے یہ کہہ دیتی ہے کہ وہ  اردو اساتذہ کی فراہمی کے سلسلے میں اردو اکادمی سے رابطہ کر رہی ہے ۔ عجیب بات یہ ہے کہ پنجابی یا سنسکرت کے اساتذہ کی تقرری میں ان زبانوں کی اکادمیوں سے رابطہ کیضرورت محسوس نہیں کی جاتی ہے ،بلکہ ان کا تقرر ڈی ایس ایس بی کے ذریعہ کردیا جاتا ہے مگر جب بات ہوتی ہے اردو کی، تو معاملے کو اردو اکادمی پر ٹال دیا جاتا ہے۔شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ دہلی سرکار کی اردو کے تئیں نیت صاف نہیں ہے اسی لئے تو دوسری زبانوں کے اساتذہ کی تقرری  ڈی ایس ایس بی کے ذریعہ کر دی جاتی ہے اور جب اردو کی بات آتی ہے تو اکادمی پر ٹال دیا جاتا ہے۔دراصل دہلی سرکار اردو اساتذہ پر خرچ کم سے کم کرنا چاہتی ہے اسی لئے وہ چاہتی ہے کہ ان اساتذہ کی بحالی اکادمی کی طرف سے ہو،کیونکہ جن اساتذہ کی بحالی ڈی ایس ایس بی کے توسط سے ہوتی ہے، انہیں فل فلیٹس اسکیل ملتا ہے جبکہ اکادمی کے ذریعہ تقررکئے گئے اساتذہ جز وقتی ہوتے ہیں جن سے بہت کم اجرت پر کام لیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے اس سے تو یہی سمجھا جائے گا کہ دہلی سرکار اردو کو خستہ حالت میں دیکھنا چاہتی ہے اور اس کے اساتذہ کو مالی اعتبار سے کمزوررکھنا چاہتی ہے ورنہ ایک ہی صوبے میں ایک زبان کے اساتذہ کو فل فیلٹس اسکیل پر رکھنے کے لئے تمام راہیں کھلیرکھی جائیں اور دوسرے کے لئے صرف وعدے۔اردو اساتذہ کے تعلق سے سرکار کی نیت کتنی صاف ہے اس کا اندازہ انجمن ترقی اردو (ہند) کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر خلیق انجم کے اس بیان سے لگایا جاسکتا ہے کہ’’ وزیر تعلیم کی نیت صاف نہیں ہے‘‘ان کا کہنا ہے کہ انجمن ترقی اردو اور اردو موومنٹ دہلی کی جانب سے کئی وفود نے وزیر اعلیٰ شیلا دیکشت اور وزیر تعلیم ارویندر سنگھ سے ملاقات کی ہے اور اردو اساتذہ کی تقرری پر توجہ دلائی لیکن ہر بار انہیں وعدہ کرکے لوٹا دیا گیا۔در اصل دہلی سرکار میں وزیر تعلیم ارویندر سنگھ اردو کے تعلق سے سوتیلا رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔لہٰذا جب بھی ان سے اس موضوع پر بات کی جاتی ہے تو کبھی یہ کہہ کرکہ اردو سبجیکٹ کے لئے استاد فراہم نہیں ہیں اور کبھی یہ کہہ کر کہ انہیں ایسے  استاد چاہئیں جو اردو کے ساتھ دیگر مضامین بھی پڑھا سکیں ،جبکہ دونوں طرح کے اساتذہ کی فہرست ان کو پیش کر دی گئی ہے اس کے باوجود وہ  ٹال مٹول کرتے آرہے ہیںان کے بارے میں یہاں تک کہا جاتا ہے کہ اس زبان سے وہ تعصب رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ جب  ان سے اردو کی بات کی جاتی ہے تو کہتے ہیں ’’ اردو پڑھا کر اپنے بچوں کے مستقبل کو کیوں برباد کرنا چاہتے ہو ۔ جس صوبے کا وزیر تعلیم اردو کے سلسلے میں ایسی ذہنیت رکھتا ہو بھلا اس صوبے میں اردو کے فروغ کے بارے میں کیسے سوچا جاسکتا ہے۔اس سے تو یہ بات بالکل صاف ہوجاتی ہے کہ شیلا سرکار شاباشی اور واہ واہی تو لوٹنا چاہتی ہے مگر اردو کے لئے کچھ کرنا نہیں چاہتی ہے اور نہ ہی اسے اردو اساتذہ کی تقرری میں کوئی دلچسپی ہے۔
حکومت کی کوتاہیوں اور جانبدارانہ رویوںکی وجہ سے اردو انتہائی خستہ حالت میں پہنچ چکی ہے۔اگرچہ دہلی سمیت دیگر صوبوں میں بھی اردو کے نام پر تنظیمیں ، ادارے کھلے ہوئے ہیں ۔ان کو سرکاری امداد بھی دی جاتی ہے مگر اس زبان سے سوتیلے پن کی وجہ سے ان پر مونیٹرنگ نہیں کی جاتی ہے کہ جو امداد اداروں کو دی جارہی ہے انہیں خرچ کہاں کیا جارہا ہے جبکہ دیگر اداروں میں اس پہلو پر خاص نظر رکھی جاتی ہے اور یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ زبانیں فروغ پارہی ہیں کہ نہیں۔یہی نہیں دہلی کی وزیر اعلیٰ کی تو سنسکرت زبان جس کے بولنے اور پڑھنے والے نہ کے برابر ہیں، پر خاص نگاہ کرم ہے ۔اس کی فکر انہیں ایسی  ہے کہ جب کسی فنکشن میں جاتی ہیں تو طلباء کو اس زبان میں دلچسپی لینے کی نصیحت کرتی ہیں۔ابھی کچھ دنوں پہلے انہوں نے ایک تقریب میں خطاب کے دوران طلباء کو سنسکرت پڑھنے کی ترغیب دی اور وعدہ کیا کہ اس زبان کو فروغ دینے میں سرکار ہر ممکن کوشش کرے گی۔ سوال یہ ہے کہ ان کے دل میں سنسکرت اور پنجابی زبان کے لئے جو نرم گوشہ ہے وہی نرم گوشہ اردو کے تئیں کیوں نہیں ہے۔آخر عوام کے بیچ میں وہ جو وعدے کرتی ہیں ان کو دفتر میں جانے کے بعد نظر انداز کیوں کردیتی ہیں ،جبکہ وہ بھی اس بات کو جانتی ہیں کہ اردو نہ صرف ایک زبان ہے بلکہ یہ قدیم تہذیب و ثقافت کی وراثت بھی ہے۔اگر یہ زبان زندہ رہے گی تو دہلی کی تہذیب زندہ رہے گی ۔ اگر یہ زبان مر گئی تو دہلی کی تاریخ و تہذیب کی جھلک ماند پڑ جائے گی۔
یقیناً تمام زبانیں کسی نہ کسی تہذیب کا آئینہ ہوتی ہیں اور نئی نسل کے لئے وراثت بھی۔جب تک نئی نسل کو یہ وراثت منتقل نہیں کی جائے گی اس وقت تک ہماری نسلیں اس تہذیب سے ناآشنا رہیں گی۔اس لئے دہلی سرکار پر اخلاقی و سماجی اور ساتھ ہی صوبے کی دوسری سرکاری زبان ہونے کی حیثیت سے جہاں جہاں اساتذہ کی ضرورت ہے ،وہاں اساتذہ باضابطہ بحال کئے جائیں اور جہاں جہاں اردو کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے وہاں اس کی ضرورت کو پورا کیا جائے۔کیونکہ اردو ایک زبان ہی نہیں بلکہ ایک تہذیبی وراثت ہے اور اس وراثت کو محفوظ رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔   g

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here