کیا راہل کانگریس پر بوجھ بن گئے ہیں؟

Share Article

روبی ارون 
p-4bگاندھی خاندان کے لیے نہرو سے لے کر راجیو گاندھی تک کے دور میں وہ بحران نہیں آیا، جو آج راہل گاندھی کے سامنے ہے۔ اس بحران کے ذمہ دار بھی راہل گاندھی ہی ہیں۔ راہل آج تک ملک کو یہ نہیں بتا سکے کہ اگر ان کے پاس ذمہ داریاں آ جائیں، تو بطور لیڈر وہ کیا کر سکتے ہیں۔ دراصل، یہ بات راہل کے علاوہ اور کوئی جانتا ہی نہیں کہ وہ کیا کر سکتے ہیں اور کیا نہیں۔ راہل گاندھی کی تقریروں سے عوام میں ہمیشہ یہی پیغام گیا ہے کہ وہ ایک ایسے لیڈر ہیں، جو اپنی کمزور سیاسی نظر کے ساتھ ملک کو آگے لے جانے کا خواب دیکھتے ہیں۔ گزشتہ کچھ برسوں میں راہل کو کئی ایسے موقعے ملے، جب وہ آسانی سے عوام کے دلوں میں چھا سکتے تھے۔ ایک ایسا ہی موقع انا ہزارے کی بدعنوانی کے خلاف تحریک تھی۔ متوسط طبقہ، نوجوان اور شہری طبقہ کی یہ تحریک برسوں سے دبے غصے کی شکل لے چکا تھا۔ اگر راہل گاندھی چاہتے تو کسی نہ کسی طرح اس تحریک میں مداخلت کرکے واہ واہی لوٹ سکتے تھے۔ اس سے نہ صرف راہل گاندھی کا قد بڑھتا، بلکہ کانگریس کی ناک میں دَم کر چکی اس تحریک کو بھی جھٹکا لگتا۔ اس کے علاوہ راہل گاندھی کو اس وقت بھی ایک موقع ملا تھا، جب ان کی ماں سونیا گاندھی علاج کے لیے لمبے وقت تک امریکہ میں رہیں۔ اس وقت بھی راہل کوئی بڑی ذمہ داری لے کر بدعنوانی کے خلاف تحریک کر رہے لوگوں کے سامنے آ سکتے تھے، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ کم از کم راہل اتنا تو کر ہی سکتے تھے کہ وہ عوام کو بتاتے کہ حقیقت میں کانگریس نے ہی بدعنوانی کو ختم کرنے کے لیے حق اطلاعات قانون ملک کو دیا، کیسے خود کے وزیروں کو ہی جیل بھیجا، لیکن راہل نے اپنا منھ نہیں کھولا۔ سونیا گاندھی نے 2014 میں طے عام انتخابات کے مد نظر راہل گاندھی کی قیادت میں ایک چھ رکنی کمیٹی بنائی۔ راہل گاندھی کی قیادت والی اس کمیٹی میں احمد پٹیل، جناردن دویدی، دگ وجے سنگھ، مدھو سودن مستری اور جے رام رمیش شامل ہیں، لیکن راہل گاندھی ان لوگوں سے مشورے لینا ضروری نہیں سمجھتے۔
حالانکہ کانگریس کے نائب صدر کے طور پر راہل گاندھی نے اسمبلی انتخابات میں ٹکٹ کی تقسیم سے لے کر چناؤ پرچار اور انتخابی منشور تک اپنی دیکھ ریکھ میں تیار کروایا۔ باوجود اس کے، پارٹی کی کارکردگی امید کے خلاف رہی۔ کانگریس کے قدآور لیڈر اپنی سیٹ تک بچانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ راہل نے الیکشن کے طور طریقوں میں کئی بڑی تبدیلی کرنے کی کوشش کی، لیکن ان کا اسٹائل چل نہیں پایا۔ کانگریس نے راہل گاندھی کو نریندر مودی کے سامنے کھڑا کیا، لیکن مودی میجک کے سامنے راہل کا وار ہلکا پڑ گیا۔
کانگریس میں بنے گروپوں میں ہو رہے جھگڑے کو روکنے کے لیے راہل گاندھی نے کئی بار سخت الفاظ کا استعمال کیا۔ مدھیہ پردیش میں دگ وجے سنگھ اور جیوتی رادتیہ سندھیا کے درمیان گروپ بازی تو راجستھان میں اشوک گہلوت اور جوشی کے درمیان اختلافات۔ اتنا ہی نہیں، چھتیس گڑھ میں اجیت جوگی اور کانگریس کے دیگر لیڈروں کے درمیان گروہ بندی راہل کے لیے بڑی چنوتی اور مشکلوں کا سبب بنی۔ گروہ بندی روکنے کے لیے راہل گاندھی نے کئی بار عوامی طور پر بیان دیا اور لیڈروں کو ڈانٹ بھی لگائی، باوجود اس کے پارٹی کے اندر اس طرح کی لڑائی نہیں رکی۔
پارٹی کی ہار کے بعد راہل گاندھی کی قیادت اور ان کے سسٹم پر سنگین سوال تو اٹھے ہی ہیں۔ چار ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں ہارنے کے بعد راہل گاندھی کی قیادت میں چل رہی تبدیلی کی کارروائی بھی رک چکی ہے، کیو ںکہ اب پارٹی کو راہل کی جگہ کسی ایسے نئے لیڈر کی تلاش ہے، جو پارٹی کی کھسکتی ہوئی زمین کو تھام لے۔ یو پی اے چیئر پرسن سونیا گاندھی نے بھی کہہ دیا ہے کہ جلد ہی وہ پی ایم امیدوار کا اعلان کریں گی۔ اس اعلان کے ساتھ ہی کانگریس ہیڈ کوارٹر کے گلیاروں میں یہ بحث تیز ہو گئی ہے کہ پی ایم امیدوار کے طور پر اگر راہل نہیں تو پھر کون؟ کیا خود سونیا گاندھی ہی آگے بڑھ کر پارٹی کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو پار لگائیں گی یا اپنے چند معتمدوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں گی؟ ویسے تو سب سے پہلا نام انہیں کے بیٹے راہل گاندھی کا آتا ہے، لیکن اسمبلی انتخابات میں زبردست شکست کا سامنا کرنے کے بعد سونیا گاندھی شاید یہ کرنے کی ہمت نہ جٹا سکیں۔ ایک وجہ اور بھی ہے۔ کانگریس اگر راہل گاندھی کو پی ایم امیدوار بناتی ہیں، تو وہ بی جے پی کے لیے راہ اور بھی آسان بنا دیں گی۔ راہل کے علاوہ منموہن سنگھ بھی کانگریسی کارکنوں اور عوام کے درمیان کوئی جوش پیدا کرنے میں بری طرح ناکام رہے۔ اس لیے یہ بھی طے ہے کہ منموہن سنگھ اب ایک بار پھر پی ایم امیدوار نہیں بنیں گے۔ قیاس یہ بھی لگائے جا رہے ہیں کہ اب کانگریس پرینکا گاندھی کو فرنٹ فٹ پر لا سکتی ہیں، لیکن رابرٹ واڈرا کے زمین کے تنازع میں پھنسے ہونے کے سبب کانگریس کے لیے یہ بھی ایک مشکل قدم ہوگا۔ پرینکا ابھی تک کانگریس کے لیے رائے بریلی اور امیٹھی میں چناؤ پرچار کرتی رہی ہیں اور آج کے حالات میں وہی ایسی ہیں، جس سے کانگریس کی اقربا پروری بھی قائم رہے گی اور پارٹی کا روایتی ووٹر بھی، لیکن پرینکا کے سیاست میں آنے سے پہلے ہی گاندھی خاندان نے منع کر دیا ہے۔
حالانکہ کانگریس میں کئی دوسرے وزیر بھی ہیں، جن کو پارٹی آگے لا سکتی ہے، جس میں اے کے انٹونی، سشیل کمار شنڈے، کپل سبل اور پی چدمبرم جیسے لیڈر ہو سکتے ہیں۔ ان لیڈروں کی کوئی زمینی بنیاد تو نہیں ہے، لیکن کانگریس ان لیڈروں کا سہارا لے کر اپنی حالت بدتر ہونے سے بچا سکتی ہے۔ ان سبھی وزیروں میں اے کے انٹونی ہی ایک ایسے لیڈر ہیں، جن کی کمیاں لوگوں کے سامنے ابھی تک نہیں آئی ہیں۔ لہٰذا وہ کانگریس کے وزیر اعظم کے عہدہ کے مضبوط امیدوار ہو سکتے ہیں۔ اس وقت وزیر دفاع کی ذمہ داری سنبھال رہے اے کے انٹونی کانگریس کے لیے دوسرے منموہن ثابت ہو سکتے ہیں، جن کی کمزوریوں اور شخصیت پر ابھی تک کوئی بحث و مباحثہ نہیں ہوا ہے۔ یاد کیجئے کہ اسی طرح 2004 میں منموہن سنگھ اچانک سیاسی منظر نامے پر نظر آئے تھے۔ انہوں نے بھی ملک کے لیے کئی ذمہ دار عہدوں پر اپنا اہم رول نبھایا تھا۔
یو پی اے کے لیے کئی وزارت سنبھال چکے پی چدمبرم کو پی ایم امیدوار بنا کر کانگریس انہیں پروموٹ کر سکتی ہے۔ چدمبرم اس وقت وزارتِ خزانہ سنبھال رہے ہیں اور ان کی بے حد خواہش بھی ہے کہ وہ ملک کے وزیر اعظم بنیں۔ اس کے لیے انہوں نے گزشتہ دنوں جوڑ توڑ، خوف وغیرہ جیسے کئی طریقے بھی اپنائے۔ شاید ایسے میں کانگریس انہیں آگے بڑھا سکتی ہے۔ آخر کار وہ راہل سے تو بہتر ہی ثابت ہوں گے، لیکن سونیا کو ڈر یہ ہے کہ وزیر اعظم بننے کے بعد چدمبرم کہیں بے لگام نہ ہو جائیں اور اقتدار اور پارٹی سے گاندھی خاندان کہیں بے دخل ہی نہ ہو جائے۔
ملک کے وزیر قانون کپل سبل نے بھی کئی بار مشکلوں کے وقت کانگریس کو سہارا دیا ہے۔ پہلے بھی کئی بار سامنے آکر وہ کانگریس کا بچاؤ کر چکے ہیں۔ بابا رام دیو کی تحریک کے وقت جب کانگریس بیک فٹ پر تھی، تو سبل نے ہی رام دیو کی تحریک کو بے اثر کر دیا تھا۔ ان کی قابلیت پر بھی کسی کو شک نہیں ہے۔ کانگریس کے زبردست مخالف نریندر مودی کو بھی انہوں نے بحث کرنے کی چنوتی دے رکھی ہے، لیکن یہاں دقت یہ ہے کہ کپل سبل منموہن سنگھ کے خیمہ کے مانے جاتے ہیں۔
وزیر داخلہ سشیل کمار شنڈے بھی سونیا گاندھی کی نظر میں بے حد قابل امیدوار مانے جا رہے ہیں۔ شنڈے کا دلت ہونا اور سونیا گاندھی کا فرماں بردار ہونا ان کی یو ایس پی ہے۔ سشیل کمار شنڈے چونکہ مہاراشٹر سے آتے ہیں، ایسے میں وہ این سی پی کے صدر شرم پوار کی کاٹ بھی بن سکتے ہیں، جو یو پی اے حکومت میں شامل رہتے ہوئے بھی کانگریس کو پریشان کرنے یا راہل اور سونیا پر چھینٹا کشی کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ سشیل کمار شنڈے ایک ہنس مکھ آدمی ہیں، ساتھ ہی وہ فوری فیصلہ لینے میں بھی ماہر لیڈر مانے جاتے ہیں۔
آخری متبادل کے طور پر کانگریس راہل کی قیادت میں ہی الیکشن لڑ سکتی ہے، بھلے ہی راہل کے نام پر کانگریس کو ووٹ ملے یا نہ ملے، لیکن کانگریس کا روایتی اور بی جے پی کو ووٹ نہ کرنے والا طبقہ راہل کو ووٹ دے سکتا ہے۔
سونیا گاندھی کے قریبی بتاتے ہیں کہ 2004 میں وزیر اعظم کا عہدہ ٹھکرا نے والی سونیا گاندھی مشکل حالات میں خود فرنٹ فٹ پر آکر پارٹی کی قیادت کرنے کے بارے میں غور کر سکتی ہیں، تاکہ پارٹی میں نیا جوش پیدا ہو اور لوک سبھا انتخابات میں کانگریس بی جے پی کا مقابلہ کر سکے، کیوں کہ چار ریاستوں میں خراب کارکردگی کے بعد کارکنوں کا حوصلہ ٹوٹ چکا ہے اور رائے بریلی سے بھی جیت حاصل کرنا اب مشکل لگ رہا ہے۔
لیکن جو نام سب سے زیادہ حیران کرتا ہے، وہ ہے یو آئی ڈی یعنی آدھار اسکیم کے کو آرڈی نیٹر نندن نلیکنی کا۔ سیاسی گلیاروں میں چل رہی خبروں کے مطابق، کانگریس نندن نلیکنی کو بھی اپنا چہرہ بنا سکتی ہے۔ حالانکہ نلیکنی نے اس بات کو کوری بکواس قرار دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، سونیا گاندھی کو یہ لگتا ہے کہ نندن نلیکنی کانگریس کے لیے نریندر مودی ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کی شبیہ بھی صاف ستھری ہے۔ ابھی تک وہ کسی تنازع سے نہیں جڑے۔ ان کے حصے میں ایک بے حد جوشیلی اور کامیاب اسکیم آدھار کا کریڈٹ بھی ہے۔ نندن نلیکنی سیاسی لیڈر کم اور ٹیکنو کریٹ زیادہ ہیں۔ وہ ایک بے حد کامیاب بزنس مین ہیں اور ارب پتی بھی ہیں۔ وہ اپنے سماجی کاموں کے لیے جانے جاتے ہیں۔ وہ گزشتہ چار سالوں سے سرکار کے لیے کام کر رہے ہیں۔ چونکہ وہ آئی آئی ٹی پاس آؤٹ ہیں، لہٰذا ملک کی تکنیکی ترقی میں بھی وہ اہم رول نبھا سکتے ہیں۔ سونیا گاندھی کو لگتا ہے کہ نندن نلیکنی نریندر مودی اور اروِند کجریوال کی طرح نوجوانوں کو اپنی جانب آسانی سے راغب کر سکتے ہیں۔ مانا یہ بھی جا رہا ہے کہ نندن نلیکنی بنگلورو ساؤتھ سے لوک سبھا الیکشن لڑیں گے، جس کے لیے ان کی ٹیم کام بھی شروع کر چکی ہے۔
بہرحال، فی الحال سونیا گاندھی بطور یو پی اے چیئر پرسن کانگریس پارٹی میں بنیادی تبدیلی کرنے کے موڈ میں ہیں، جس پر وہ اپنے خاص صلاح کاروں کے ساتھ سنجیدگی سے صلاح و مشورہ کر رہی ہیں۔ ان کے سامنے اپنی پارٹی کو بچانے کی چنوتی ہے، جس کے لیے اس بار شاید وہ اپنے بیٹے کو بھی درکنار کرنے سے نہیں ہچکچائیں گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *