ہارون ریشی
p-2سال 1999میں جب مفتی محمد سعیدنے کانگریس پارٹی چھوڑ کرجموں کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی ( پی ڈی پی ) کے نام سے ایک علاقائی پارٹی قائم کی تو اُن کی صاحبزادی محبوبہ مفتی اس نئی تنظیم کی جڑیں مضبوط بنانے میں جُٹ گئیں۔ یہ وہ وقت تھا جب وادی کشمیر میں جبر و ذیادتیاں عروج پر تھیں، جن کی وجہ سے عوام بھارت نواز سیاسی جماعتوں اور لیڈروں سے متنفرہوگئے تھے۔ لیکن پی ڈی پی نے اپنے قیام کے ساتھ ہی عوام کے ساتھ ہورہی زیادتیوں کے خلاف زور و شور سے آواز اٹھانی شروع کی جسکی وجہ سے رفتہ رفتہ عوام میں یہ پارٹی مقبول بنتی گئی۔اُس زمانے میں کشمیر میں محبوبہ مفتی واحد مین سٹریم لیڈر تھیں ،جو وادی میں مارے جانے والے ملی ٹنٹوں کے پسماندگان کے ساتھ اظہار تعزیت کرنے کے لئے جانے لگیں ۔محبوبہ کے اس رویے کی وجہ سے وہ بہت کم وقت میں عوام کے ساتھ گل مل گئیں اور اسکے نتیجے میں پارٹی ریاست کے سیاسی منظر نامے پر چھاگئی۔ پی ڈی پی کے قیام کے صرف تین سال بعد ہی یہ پارٹی نیشنل کانفرنس کا 75سالہ دبدبہ ختم کرنے اور اقتدار کی مسند تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئی۔ حکومت میں آنے کے بعد بھی محبوبہ مفتی ریاست میں پارٹی کی جڑیں مضبوط کرکو نے کے لئے مسلسل محنت کرتی رہیں۔ ریاست کے حالات پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ ریاست میں پی ڈی پی کو مقبول عام بنانے میں محبوبہ مفتی کا کلیدی کردار رہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اُنکے والد مفتی محمد سعید کو ہی پارٹی کا بانی رہنما تصور کیا جاتا رہا اور محبوبہ مفتی کی ذات ہمیشہ اپنے والد کی سیاسی شخصیت سے منسوب ہوتی رہی ۔گزشتہ 16سال میں محبوبہ مفتی نے کبھی بھی خود کو پارٹی پر حاوی کرنے یا خود کو پارٹی کی سب سے بڑی لیڈر منوانے کی کوشش نہیں کی۔ لیکن 7جنوری کو مفتی محمد سعید کی وفات کے بعد محبوبہ مفتی نے پوری طرح پارٹی کی لگام اپنے ہاتھوں میں لے لی ہے۔باوثوق ذرائع نے ’’چوتھی دُنیا‘‘ کو بتایا کہ مفتی کی وفات کے بعد محبوبہ نے پارٹی کے بانی رہنماؤں میں شامل مظفر حسین بیگ کو چھوڑ کرتمام پارٹی لیڈروں کے ساتھ دوری اختیار کی۔ مفتی کی وفات کے اب تک چند بار ہی محبوبہ مفتی عوامی مقامات پر نظر آئیں ، لیکن ہر بار اُن کے دائیں بائیں اُنکے اپنے بھائی تصدق حسین اور مظفر بیگ دیکھنے کو ملے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مفتی محمد سعید نے خود مظفر بیگ کو دوری پررکھا تھا۔ ریاست میں پی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط سرکار بننے کے بعد مظفر بیگ مفتی سے الگ تھلگ رہے تھے۔ تقریباً ایک سال کے عرصے میں مظفر بیگ کو ایک دو بار ہی مفتی محمد سعید کے ساتھ دیکھا گیا۔ اسکے برعکس نعیم اختر اور حسیب درابو جیسے لیڈران مفتی کے چہیتے رہے۔ لیکن اب لگتا ہے کہ مفتی کی وفات کے بعد پارٹی کی لگام محبوبہ کے ہاتھوں میں آنے کے ساتھ ہی پارٹی لیڈران کے بارے میں اُن کی ترجیحات بدل گئی ہیں۔
بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ پارٹی کے سینئر لیڈروں کو اپنے سے دور رکھ کر در اصل محبوبہ مفتی یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ پارٹی کے معاملات میں وہ کافی حد تک اپنی مرضی کی مالک ہیں۔
سینئر صحافی سبط محمد حسن نے اس موضوع پر ’’چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا،’’مفتی صاحب کی وفات کے بعد محبوبہ مفتی نے اپنے رویے سے یہ اشارے دینے کی کوشش کی ہے کہ پارٹی پر ان کا مکمل کنٹرول ہے ۔ یہاں تک بی جے پی کے ساتھ حکومت سازی کے معاملے پرفیصلہ کرنے میں بھی تمام سیاسی لیڈروں سے کوئی رائے نہیں پوچھی جارہی ہے۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ 14فروری کو مفتی کے چہلم کے تین دن بعد یعنی17فروری کو بی جے پی کے سینئر لیڈر رام مادھو جموں کشمیر میں حکومت سازی پر بات کرنے کے لئے محبوبہ مفتی کے ساتھ ایک خصوصی میٹنگ کے لئے دلی سے سرینگر پہنچے ۔ اس میٹنگ میں دونوں لیڈران کے درمیان کیا گفتگو ہوئی اور کیا فیصلہ کیا گیا، کسی کو نہیں معلوم۔اس طرح سے صاف ظاہر ہے کہ ریاست میں حکومت سازی کے بارے میں کوئی فیصلہ لینے میں محبوبہ اپنی پارٹی کے کسی لیڈر کو اعتماد میں لینا ضروری نہیں سمجھتی ہے۔
پی ڈی پی کے ایک سینئر لیڈر نے اُن کا نام ظاہر نہ کرنے کی گزارش کرتے ہوئے ’’چوتھی دُنیا‘‘ کو بتا یا کہ مفتی محمد سعید کی وفات کے بعدتمام پی ڈی پی لیڈران میں یہ تاثر قوی ہوتا جارہا ہے کہ محبوبہ مفتی پارٹی پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کررہی ہے اور اس عمل میں جان بوجھ کر سینئر لیڈران کو یہ خاموش پیغام دیا جارہا ہے کہ پارٹی کے بارے میں مفتی محمد سعید کی پالیسیاں اُنکے کے ساتھ ہی دفن ہوگئی ہیں اور اب جو کچھ بھی ہوگا محبوبہ مفتی کے خواہش کے مطابق ہی ہوگا۔ انہوں نے کہا،’’ریاست میں پی ڈی پی اور بی جے پی کے اتحاد سے مخلوط سرکار قائم ہوجانے کے بعد مفتی اپنی آخری سانس تک بی جے پی کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں بولے تھے۔ لیکن مفتی کی وفات کے ساتھ ہی محبوبہ نے کھل کر بی جے پی کی مخالفت شروع کردی یہاں تک کہ انہوں نے مخلوط حکومت بحال کرنے سے بھی انکار کردیا۔اسکے بعد محبوبہ نے سختی کے ساتھ تمام لیڈروں کو منع کیا کہ وہ مجوزہ حکومت سازی کے بارے میں کوئی بیان نہ دیں۔ بلکہ بی جے پی کے ساتھ حکومت بنانے یا نہ بنانے کے بارے اب تک جو کوئی بھی بیان سامنے آیا وہ خود محبوبہ مفتی سے منسوب تھا۔ اس طرح سے لگ رہا ہے کہ پارٹی کے تمام اختیارات محبوبہ مفتی کے ہاتھوں میں جارہے ہیں۔‘‘
صاف ظاہر ہے کہ اپنے والد کی وفات کے بعد محبوبہ مفتی پارٹی پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی مکمل کوششیں کررہی ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ ایک ایسی تنظیم جس کا نام’’ پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی ‘‘ یعنی ’’عوامی جمہوری جماعت ‘‘ ہے ، میں ڈکٹیٹر شب یا خاندانی راج کس حد تک قابل قبول ہوسکتی ہے۔ کیا محبوبہ مفتی خود کو ایک ایسی لیڈر کی حیثیت سے منوا سکتی ہے ، جس کا قد پارٹی سے بہت زیادہ بلند ہو یا پھر اُنکی غیر معمولی اعتماد اور انا کے نتیجے میں پی ڈی پی اندرونی خلفشار کا شکار ہو کر تتر بتر ہوجائے گی؟ سچ تو یہ ہے کہ اپنے مشفق باب اور سیاسی میدان کے گرو کو کھو دینے کے بعد محبوبہ مفتی کا سیاسی کریئر ایک نازک موڈ پر آگیا ہے۔ یہ مرحلہ فیصلہ کرئے گا کہ محبوبہ مفتی جموں کشمیر کی ایک قدآور لیڈر کے طور پر ابھرے گی یا پھر وہ زوال پذیر ہونگیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here