کیا کوئی آدمی ونو بابھاوے جیسا نہیں ہے؟

Share Article

سنتوش بھارتیہ
کشمیر میں ایک ماہ سے زائد عرصہ سے تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔ تشدد بھی دہشت گردوں کا نہیں، عام آدمی کا۔ عام آدمی بھی تشدد برپا نہیں کر رہا ہے، بلکہ کشمیر انتظامیہ کی مخالفت کر رہا ہے۔ سیکورٹی دستے ،انتظامیہ، حکومت سبھی سے وہ ناراض ہیں۔ مخالفت جب تک بندوق کی گولی سے ہو تو اس کا مقابلہ حکومت گولی سے کرسکتی ہے، لیکن جب مخالفت میں عام لوگ کھڑے ہوجائیں، خواتین سامنے آجائیں، چھوٹے بچے پتھر پھینکنے لگیں، تو ایسے حالات کا سامنا گولی سے نہیں کیا جاسکتا، اگر ایسے حالات میں گولی چلے گی تو وہ قتل عام کرے گی۔ ضرورت ہے ایسے میں سیاسی مذاکرات کی، لیکن وہ سیاسی مذاکرات حکومت شروع نہیں کرسکتی۔ وہ کہہ تو سکتی ہے، لیکن اس پر کوئی بھروسہ نہیں کرے گا، کیوں کہ وہ خود ایک فریق ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ 110کروڑ کی طاقت والے ملک میں ایک بھی ایسا آدمی نہیں ہے جو سامنے آئے، جس پر دونوں فریقوں کا بھروسہ ہو اور وہ سیاسی بات چیت شروع کرے نیز مسائل کو حل کرنے میں مدد کرے۔
تلنگانہ میں زمین کے سوال کے حوالے سے مسلح جد و جہد شروع ہوئی۔ آچاریہ ونو با بھاوے فکر مند ہوگئے، انہیں محسوس ہوا کہ مسئلہ بالکل صحیح ہے۔ لوگوں کو زمین نہیں ملے گی تو وہ کھائیںگے کیا؟ اور ہتھیاروں کے زور پر زمین انہیں دلوائی نہیں جاسکتی، کیوں کہ زمین کے مالک اسے مانیں گے نہیں اور ہتھیاروں سے اس کا جواب دیںگے نیز بعد میں حکومت بھی ان کے ساتھ کھڑی ہوجائے گی۔ قتل عام ہوگا، لیکن مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ونوباجی کے ذہن میں خیال آیا کہ اگر وہ زمین کے مالکوں سے محرومین کے لیے زمین مانگیں تو انہوں نے محرومین کے لیے زمین کی خیرات مانگی اور انہیں زمین کے مالکوں نے زمین کی خیرات دی۔ یہیں سے ونوبا جی نے پورے ملک میں پیدل یاترا کی اور لاکھوں ایکڑ زمین محرومین میں بانٹی۔ آج تک پورے قوانین اور یقین دہانیوں کے بعد حکومت محرومین کو اتنی زمین نہیں مہیا کراپائی،جتنی اکیلے ونوبا جی کی تحریک نے کروا دی۔
ونوبا جی کی ہی دوسری مثال۔ مدھیہ پردیش اور اترپردیش کی حکومتیں ڈاکوؤں کے مسئلے سے پریشان تھیں۔ ڈاکو اپنی حکومت چلا رہے تھے۔ ونوبا جی نے چمبل کے ڈاکوؤں کو سمجھایا کہ انہیں ہتھیار ڈال دینے چاہئیں اور سماج کے قومی دھارے میں واپس آنا چاہیے تاکہ ان کا کنبہ عزت سے سر اٹھا کے جی سکے اور ان کے بچے اسکولوں میں پڑھ سکیں۔ ونوبا جی کی اس کوشش کے نتیجے میں ہندوستان کی تاریخ کی سب سے بڑی ڈاکو خودسپردگی ہوئی، جس میں اس وقت کے سبھی بڑے ڈاکوؤں نے اپنے ہتھیار ونوبا جی کے سامنے ڈال دیے۔ حکومت نے بھی ونوبا جی کے ذریعہ ڈاکوؤں کو دیے گئے وعدے کی عزت کی۔ ونوبا جی نے ڈاکوؤں سے کہا تھا کہ انہیں پھانسی نہیں دی جائے گی ، بچوں کی پڑھائی ہوگی اور انہیں کھلی جیل میں رکھا جائے گا۔
جے پرکاش نارائن ایسے ہی دوسرے شخص تھے۔ ان کے پاس شمال مشرق کے دہشت گرد آئے۔ جے پرکاش جی نے حکومت سے کہا کہ شمال مشرق میں مسلح دستوں کے ذـریعہ کیا جارہا ظلم روکا جائے۔ کشمیر کی پہل بھی جے پرکاش جی نے کی۔ شیر کشمیر فاروق عبداللہ جے پرکاش جی پر زیادہ بھروسہ کرتے تھے حکومت ہند پر کم۔ انہیں دنوں آر ایس ایس نے جے پرکاش جی پر غدار وطن ہونے کا الزام لگایاتھا کیوں کہ جے پرکاش جی کشمیری عوام کے سوال کافی مضبوطی سے اٹھا رہے تھے۔جے پرکاش جی پر ملک کے لوگوں کو بہت بھروسہ تھا۔ بنگلہ دیش کی جدو جہد کے وقت حکومت ہند پس و پیش میں تھی کہ کیا کرے؟ لیکن جے پرکاش جی نے اپنی طرف سے مجیب الرحمن کی نہ صرف حمایت کی، بلکہ مکتی واہنی کو مدد بھی دلوائی۔ جے پرکاش جی کے کہنے سے ہندوستان کے ایک بڑے گھرانے نے مکتی واہنی کو واکی ٹاکی اور وائر لیس سیٹ بھجوائے تھے۔ آج اسی گھرانے کے ایک رکن راجیہ سبھا کے ممبر ہیں۔ حکومت ہند بہت بعد میں سامنے آئی، تب تک جے پرکاش جی پوری دنیا میں گھوم کر قومی صدور سے مل کر بنگ بندھو اور مکتی واہنی کی حمایت میں عوامی رائے بنا چکے تھے۔
ایک شام جے پرکاش جی کے پٹنہ والے گھر میں ایک آدمی آیااور اس نے ان سے درخواست کی کہ وہ چمبل کے ڈاکوؤں کا مسئلہ ہاتھ میں لیں۔ جے پرکاش جی نے کہا کہ وہ بہت چھوٹے ہیں، ونوبا جی بہت بڑے تھے اور مادھو سنگھ و موہر سنگھ جیسے ڈاکو ان کی بات نہیں مانگیںگے۔ چمبل کے یہ دو نام سب سے بڑے ڈاکوؤں کے ہیں جن پر ان دنوں 2-2لاکھ روپے کا انعام تھا۔ یہ بات 1971 کی ہے۔
جے پرکاش جی کی بات سن کر اس آدمی نے اٹھ کر ان کے پیر چھوئے اور کہا کہ میں ہی مادھو سنگھ ہوں۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ سبھی ڈاکوؤں کو تیار کروںگا اور یہ آپ کے آگے خود سپردگی کریں گے۔ آپ بس وہی شرائط حکومت سے نافذ کرا دیں جو ونوبا جی کے وقت ہوئی تھیں۔ جے پرکاش جی نے بات مان لی۔ انہوں نے اندرا جی سے کہا اور اندرا جی نے جے پرکاش جی سے درخواست کی کہ وہ اس کام کو ضرور کریں۔ تاریخ کی یہ سب سے بڑی ڈاکوؤں کی خودسپردگی کی تقریب گوالیارمیں ہوئی، جس میں مادھو سنگھ اور موہر سنگھ سمیت سبھی بڑے ڈاکوؤں نے اپنے ہتھیار ڈال دیے۔
گزشتہ 15برسوں میں صرف چندر شیکھر اور وشوناتھ پرتاپ سنگھ ہی تھے، جن سے لوگ آکر اپنے دکھ بتا دیتے تھے۔ وی پی سنگھ نے اپنی بیماری کے باوجود اناج کا اور کسانوں کی زمین کا سوال اٹھایا۔ ملک میں جہاں بھی زمین کا الاٹ منٹ ہونے والا ہوتا تھا، وہاں کے لوگ وی پی سنگھ کے پاس بھاگ کر آتے تھے اور اپنی تکلیف بیان کر تے تھے۔ وی پی سنگھ نے کبھی بھی چاہے نرسمہاراؤ وزیر اعظم رہے ہوں یا اٹل بہاری واجپئی یا پھر منموہن سنگھ مسائل کو ان کے پاس لے جانے میں جھجھک محسوس نہیں کی۔ وہ خط بھی لکھتے تھے اور ان سے ملنے جاتے تھے۔
آج اتنی بڑی پارلیمنٹ ہے۔ کوئی بھی ایسا رکن پارلیمنٹ نہیں ہے کہ جس پر بھروسہ ہو کہ اگر اس کے پاس دردمند آدمی آجائے تو اس کی بات سنی جائے گی، اس کے سوال پارلیمنٹ میں اٹھائے جائیں گے۔ اس لیے پارلیمنٹ چلتی جارہی ہے لیکن ان کی آواز وہاں نہیں اٹھ پاتی جو پریشان ہیں اور جد و جہد کر رہے ہیں۔ ملک میں جگہ جگہ حقوق کو لے کر مہم اور تحریک چل رہی ہیں، لیکن پارلیمنٹ اب شاید پورے ملک کی نمائندگی نہیں کرتی اور یہیں کشمیر کا سوال آتا ہے۔ کوئی ایسا آدمی نہیں ہے جو کشمیر جائے اور وہاں کے لوگوں سے بات کر کے ان کے مسائل حکومت کے سامنے رکھے۔ کشمیریوں کو محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ وقت میں نہ ہی تو کوئی ان کے مسائل سننے والا ہے اور نہ ہی کوئی انہیں حل کرنا چاہتا ہے۔ ٹھیک یہی حالت ان ریاستوں کی ہے، جہاں نکسلی مسئلہ ہے اور جہاں کا عام آدمی ترقی اور بدعنوانی کے معاملے سے نبردآزما ہے اور مایوسی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ اگر سیاست داں ناکارہ ہیں تو کیا کہیں ایسی تنظیمیں نہیں ہیں ، جو مسائل کو حل کراسکیں۔ رائٹر، صحافی اور سماجی تنظیمیں یہ رول ادا کرسکتی ہیں۔ جمہوریت کے لیے یہ ضروری ہے، ورنہ بھروسہ اٹھنے کی شروعات تو انتظامیہ سے ہی ہوتی ہے ، پھر وہ ملک تک پہنچتی ہے اور آخر میں جمہوریت پر آکر ختم ہوتی ہے۔ جمہوریت پر لوگوں کا بھروسہ قائم رہے، آج سب سے بڑی فکر کی بات یہی ہے۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *