کیا خود کو بنائے رکھنا ایک حکمت عملی ہے؟

Share Article

میگھناد یسائی 

عظیم فرانسیسی مفکر ٹیلراں سے جب پوچھا گیا کہ انہوں نے فرانسیسی انقلاب کے وقت کیا کیا، تو ان کا جواب تھا کہ انہوں نے اپنا وجود بچائے رکھا۔ اپنے تیسرے سال میں یو پی اے – 2 حکومت کے لیے یہ سب سے بہتر جواب ہو سکتا ہے۔ 2014 تک وہ دس سال پورے کر لے گی، جو کہ نرسمہا راؤ اور راجیو گاندھی کے دورِ حکومت سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ اندرا گاندھی کی واپسی، یعنی 1980-84 کے دوران کانگریس کے دورِ حکومت سے بھی زیادہ ہے۔ صرف نہرو 17 سال اقتدار میں رہے اور اندرا گاندھی کا پہلا دورِ حکومت جو 11 سال کا تھا، یو پی اے – 2 کی حکومت سے زیادہ وقت تک رہا۔ 2014 تک ڈاکٹر منموہن سنگھ تیسرے سب سے زیادہ وقت تک رہنے والے وزیر اعظم ہو جائیں گے۔ یو پی اے کی پہلی حکومت اور دوسری حکومت میں وزیر اعظم ایک ہی رہے۔ زیادہ تر وزیر بھی وہی ہیں، جو یو پی اے – 1 کے وقت تھے، لیکن پھر بھی یو پی اے – 1 کا کام یو پی اے – 2 کے مقابلے اچھا رہا۔ حالانکہ ایسا مانا جا رہا تھا کہ یو پی اے – 2 کی حکومت اصلاح کرے گی، کیوں کہ وہ اس بار بائیں محاذ کی حمایت پر نہیں ٹکی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کو تو اس بات کا پورا یقین تھا کہ اس دفعہ کانگریس کی مخلوط حکومت پہلے کی بہ نسبت زیادہ اصلاح کرے گی، لیکن مجھے یاد ہے کہ میں لوگوں کے اس اندازے کے خلاف رہا ہوں۔
میری دلیل تھی کہ جو لوگ یہ اندازہ لگائے بیٹھے ہیں کہ یو پی اے – 2 کی حکومت پہلے سے زیادہ ریفارمسٹ ہوگی، انہیں یہ احساس نہیں ہے کہ آخر کانگریس کے اندر جو گروہ ابھی سرگرم ہیں، وہ بھی بائیں محاذ کی طرح ہیں۔ وہ کبھی اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ جب تک نہرو – گاندھی خاندان کا کوئی فرد حکومت میں سب سے اونچے عہدہ پر نہ ہو، کوئی اصلاح کی جائے۔ وہ پچھلی حکومت میں ہوئی اصلاحات سے اس وجہ سے خوش نہیں تھے، کیوں کہ جو بھی اصلاحات کی گئیں، ان کی نوعیت تکنیکی تھی اور ان کی سیاسی بنیاد کمزور تھی۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ہندوستان میں کوئی بھی سیاسی پارٹی من سے اصلاح کرنا چاہتی ہی نہیں ہے، چاہے وہ کانگریس ہو یا پھر بھارتیہ جنتا پارٹی۔ چندر بابو نائڈو نے اصلاح کی تھی اور ایک زمانے میں وہ عالمی بینک کے چہیتے بن گئے تھے، لیکن عوام کا تعاون انہیں نہیں ملا اور انتخاب میں ان کی حالت خراب ہو گئی۔ ایک طرح سے عوام نے انہیں اصلاح نہ کرنے کی وارننگ دے دی۔ زیادہ اصلاحات کرنا اچھی سیاست ثابت نہیں ہوئی۔ اصلاح ایک ایسا پیار ہے، جو اپنا نام نہیں بتاتا اور اپنی موجودگی درج کراتا ہے۔ یہ اس وقت دکھائی پڑتا ہے، جب کہ اسے کوئی نہیں دیکھ رہا ہوتا ہے۔
یو پی اے – 2 کی حکومت کانگریس کے سیاسی مستقبل کے لیے صحیح نہیں ہے۔ جب کانگریس کو 2009 کے لوک سبھا انتخاب میں 206 سیٹیں ملیں تو ایسا لگا کہ وہ ٹی ایم سی اور این سی پی جیسی اپنی چھوٹی اتحادی پارٹیوں کو پھر سے ملا لے گی۔ آخر کار یہ پارٹیاں بھی تو اسی سے الگ ہو کر بنی تھیں۔ اس کے علاوہ اس کے پاس راہل گاندھی ہیں، جو اگلی کچھ دہائیوں تک کانگریس کی قیادت کر سکتے ہیں، لیکن نتیجہ اس کے برعکس دیکھنے کو ملا۔ این سی پی اور ٹی ایم سی نے کانگریس سے دوری بنائے رکھی اور انہوں نے اتحاد میں رہ کر بھی کانگریس پر دباؤ بنایا۔ کہا جاسکتا ہے کہ یہی چھوٹی پارٹیاں کانگریس کی پریشانی کا سبب بنیں۔ ریاستوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو دونوں ہی بڑی قومی پارٹیوں کی حالت کمزور ہوئی ہے۔ بہار، اتر پردیش، مغربی بنگال اور پنجاب میں کانگریس کی حکومت نہیں ہے۔ یہ چاروں شمالی ہند کی اہم ریاستیں ہیں۔ 1967 کے بعد کانگریس تمل ناڈو میں حکومت نہیں بنا پائی ہے۔ اڑیسہ اور کرناٹک بھی اس سے چھن گیا ہے۔ آندھرا پردیش اور مہاراشٹر میں ان کی حکومت ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت گجرات، کرناٹک اور مدھیہ پردیش میں ہے اور بہار اور پنجاب میں وہ مخلوط حکومت کا ایک حصہ ہے۔
اس طرح سے دیکھا جائے تو ملک کا ایک بڑا حصہ ان دونوں بڑی قومی پارٹیوں کے دائرے سے باہر ہے۔ ملک کے ایک بڑے حصے میں ان دونوں بڑی قومی پارٹیوں کو عوام کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ اگر کانگریس 2014 تک اقتدار میں رہتی ہے تو یہ اس کے مستقبل کے لیے خطرناک ہے۔ کئی ریاستوں میں اس کی تنظیم ختم ہو چکی ہے۔ اتر پردیش اور بہار میں اسے دیکھا جا سکتا ہے۔ ان ریاستوں میں راہل گاندھی کا کرشمہ پارٹی کے زمینی کارکنوں کی کمی کو پر کرنے کے لیے کافی نہیں تھا۔ یہاں تک کہ پورے ملک میں کانگریس کمیٹی کے کئی عہدے خالی پڑے ہیں۔ کانگریس کے پاس ریاستی سطح کے کارکنوں کی کمی ہے۔ اس وقت جتنے بھی کارکن ہیں، ان پر وہ بھروسہ نہیں کر سکتی ہے۔ اسے ریاستی سطح کے لیڈروں کے انتخاب میں ابھی سالوں لگ سکتے ہیں۔ زمینی سطح پر کام کرنے والوں کی کافی کمی دیکھی جا رہی ہے۔ لوگ دہلی سے ہی سیاست کرنا چاہتے ہیں۔ یہ کانگریس کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ اس قسم کی پارٹی تبھی آگے کام کر سکتی ہے، جب وہ انتخاب جیتتی رہے۔ کسی بھی پارٹی میں اوپر کے لیڈروں کی بات تبھی تک مانی جاتی ہے، جب تک مقامی لیڈروں کو اس بات کا بھروسہ ہو کہ انہیں تحفظ مل رہا ہے۔ اگر یہ لگنے لگے کہ اعلیٰ قیادت کا کوئی فائدہ انہیں نہیں ہو رہا ہے تو وہ پارٹی سے الگ ہونا شروع کر دیتے ہیں اور اپنی تنظیم بنا لیتے ہیں۔ این سی پی اور ٹی ایم سی جیسی پارٹیاں اس کی مثال ہیں۔
اگر ممتا بنرجی بن کر کسی ریاست میں اقتدار حاصل کیا جاسکتا ہے تو پھر کسی بڑی پارٹی کے ساتھ جڑے رہنے کی کیا ضرورت ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو کانگریس کو 2014 کے بعد اس کا خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ دوسری طرف بی جے پی کی حالت بھی اس سے الگ نہیں ہے۔ وہ بھی مقامی لیڈروں کے انتخاب کے معاملے میں پرجوش نہیں دکھائی دے رہی ہے۔ اگر نریندر مودی کو مرکزی سطح پر ان کے من مطابق عہدہ نہیں ملا تو وہ بھی ممتا بن سکتے ہیں۔ یہ صورتِ حال اس لیے پیدا ہوئی ہے، کیوں کہ بڑی سیاسی پارٹیاں مقامی لوگوں کے مسائل کو نہیں سنتی ہیں۔ اوپر کی سطح سے اقتدار چلانے کی پالیسی ہمیشہ ناکام رہی ہے۔ ہندوستانی تاریخ میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *