کیا کھائیں اور کیسے زندہ رہیں؟

Share Article

وسیم راشد

مہنگائی،گوداموں میں اناج کا سڑنا، دولت مشترکہ کھیل، منی شنکر ایئر کی بددعا، امت شاہ کا سہراب الدین فرضی انکاؤنٹر میں دیدہ دلیری دکھانا، مہاراشٹر میں سی ایم کوٹے کے تحت ملے فلیٹوں میں بندر بانٹ، بارش اور بارش کے بعد پوری دلی کا تھم جانا، جگہ جگہ پانی بھرنا، اسپتالوں میں لائن میں لگی خاتون کی زچگی کھڑے کھڑے ہوجانا اور بچے کا زمین پر گر کر مرجانا، نہ جانے کتنے موضوعات ہیں جو یہ آرٹیکل لکھتے ہوئے ذہن اور دل و دماغ پر بوجھ طاری کیے ہوئے ہیں۔ ہر موضوع پر قلم اٹھانے کو جی چاہتا ہے۔ ہر موضوع انصاف مانگتا ہے، مگر ان سب میں سب سے اہم ملاوٹ کا موضوع ہے اور ملاوٹ یقینا وہ جرم ہے، جس کے لیے صرف اور صرف پھانسی کی ہی سزا ہونی چاہیے، مگر کس کو سزا دی جائے؟ کوئی خاص ادارہ، کوئی خاص آدمی سامنے نہیں ہے۔ یہاں تو ایک حمام میں سب ننگے ہیں۔ ملاوٹ جب تک تو قابل برداشت تھی، جب آٹے میں نمک کے برابر تھی، مگر جب 100فیصد ہی ملاوٹی اشیاء کا استعمال ہو رہا ہو تو پھر یہ جرم بن جاتا ہے۔ دودھ، گھی، دالوں، سبزیوں غرض یہ کہ اشیائے خوردنی میں وہ کون سی شے ہے جس میں ملاوٹ نہیں ہو رہی ہے، جو سبزی گھر میں لاؤ اسی میں گڑ بڑ ہے، ہری ہری چمکتی ہوئی نظر آنے والی سبزیاں جو آنکھوں کو بھلی لگتی ہیں اور ان کو خریدنے کو جی چاہتا ہے، مگر جب ان سبزیوں کی حقیقی صورتحال سامنے آتی ہے تو لمحہ بھر کو عقل دنگ رہ جاتی ہے اور جب یہ پتہ لگتاہے کہ ان کو وقت سے پہلے انجکشن لگا کر تیار کیا گیا ہے تو یقین نہیں آتا۔ لوکی کھا کر لوگ بیمار پڑجاتے ہیں، آلو کھا کر قے دست ہوجاتے ہیں، ایسا پہلی بار سننے میں آرہا ہے۔ آلو گھر میں لاؤ تو ایک بھاپ سے پہلے ہی گل کر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر جاتا ہے۔ مٹر رنگ چھوڑ دیتی ہے اور گلائے نہیں گلتی۔ دور سے خوبصورت نظر آنے والی لوکی کو جب کاٹو تو اندر سے کالی نکلتی ہے اور اس سب کے درمیان ہم بے یار و مددگار کھڑے نظر آتے ہیں۔ ’’آکسی ٹاسن‘‘انجکشن جس کا استعمال حاملہ عورتوں کی زچگی کو آسان بنانے کے لیے کیا جاتا تھا اور دودھ پلانے والی ماؤں کو ایسی حالت میں لگایا جاتا تھا جب وہ دودھ نہ پلاسکیں، تو ترقی کے اس دور میںاسی انجکشن کا استعمال سبزیوں کو وقت سے پہلے تیار کرنے میں کیا جارہا ہے۔ قدرتی طور پر سبزیوں اور پھلوں کے لائق استعمال ہونے میں تقریباً 10سے 15دن لگ جاتے ہیں، لیکن اس آکسی ٹاسن نامی انجکشن سے ایک ہی رات میں لوکی، کریلا، تربوز، خربوزہ اور کھیراسمیت سبھی کو کھانے لائق بنادیا جاتا ہے۔ پھلوں میں سیکرین نامی کیمیکل ڈالا جارہا ہے، جس سے پھلوں کا ذائقہ بڑھ جاتا ہے اور وہ مزید میٹھے ہوجاتے ہیں۔20روپے میں ملنے والے اس انجکشن کے خطرات 20گنا سے زیادہ ہیں، حالانکہ آکسی ٹاسن نامی انجکشن میں موجودہارمون انسان کے جسم میں قدرتی طور پر موجود ہوتا ہے اور یہی ہارمون جسم میں کئی کمیوں کو دور بھی کرتا ہے، جیساکہ ہم نے بتایا کہ اگر دودھ پلانے والی ماں کے اندر اتنا دودھ نہیں بن پارہا کہ وہ بچے کی بھوک مٹا سکے تو اس انجکشن کا سہارا لیا جاتا ہے۔ لیکن اب اگر اسی انجکشن کی زیادتی ہوجائے تو بے شمار نقصانات ہوسکتے ہیں، اور جب گائے اور بھینسوں کے اندر دودھ کی مقدار میں اضافہ کے لیے اس انجکشن کا استعمال بے تحاشہ کیا جائے گا تو ان میں طرح طرح کی بیماریاں پیدا ہونا فطری ہے اور وقت سے پہلے ہی ان میں دودھ دینے کی طاقت ختم ہوجائے گی۔
انڈین ایگریکلچرل ڈپارٹمنٹ (آئی اے ڈی ) کے مطابق اگر سبزیوں کو ’’آکسی ٹاسن‘‘  انجکشن لگا کر کھانے کے قابل بنایا جائے گا تو کینسر، اعصابی تناؤ،  بلڈ پریشر اور ہارٹ اٹیک کی شکایات اور دوسری خطرناک بیماریاں ہوسکتی ہیں۔ ہمارا ماننا یہ ہے کہ اگر اس طرح ملاوٹ کا بازار گرم رہا تو وہ دن دور نہیں جب ہندوستان میں ہر دوسرا آدمی کینسر کا مریض ہوگا، بلکہ ایڈس جیسی موزی بیماری جس کے لیے یہ کہا جاتا ہے کہ وہ صرف جنسی بے اعتدالیوں سے ہوتی ہے تو اس کے مریضوں میں بھی تیزی سے اضافہ ہوگا، کیوںکہ ایڈس جسم میں قوت مدافعت کوکم کردیتی ہے اور ملاوٹ اس بیماری میں اس طرح اثر انداز ہوگی کہ جب قوت مدافعت کم ہوجائے گی تو ایڈس کے مریضوں کا زندہ رہنا ناممکن ہوگا اور وہ اس بیماری سے لڑنے کے لیے اپنے اندرضروری طاقت کھو دیں گے۔ مرکزی سکریٹری برائے صحت اور ریاستی وزیر صحت جناب دنیش تر ویدی نے صارفین سے گزارش کی ہے کہ وہ حفاظتی تدابیر اختیار کریں، ورنہ اس سے اعصابی تناؤ اور دماغی بیماریاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ حکومت اب بیدار ہوئی ہے، جب کہ اس انجکشن کو شیڈولڈ ایچ ڈرگ مان کرملک میں اس پر پابندی لگا دی گئی تھی جو کہ رجسٹرڈ میڈیکل ڈاکٹرز کے لیٹر پیڈ پر لکھنے کے بعد ہی مل سکتا ہے مگر20,20 روپے میں مل رہاہے۔ خربوزے، تربوز، بیگن، کھیرا، ہرا گھیا وغیرہ میں اس کا بے تحاشہ استعمال ہو رہا ہے۔ اپریل 2010میں صحت و خاندانی فلاح و بہبود کے مرکزی وزیر غلام نبی آزاد نے غذائی اشیاء میں ملاوٹ کے مسئلے کو کینسر قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس جرم پر عمر قیدکی سزا ہوسکتی ہے اور ملاوٹ کرنے والوں کو 10لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا تھا کہ 2006 میں پارلیمنٹ کے ذریعہ جو قانون نافذ ہوا تھا، جس میں غذائی اشیاء کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا تھا، اسے چار مہینے میں نافذ کردیا جائے گا، مگر اس پر بھی ابھی تک کوئی کام نہیں ہوا۔ اپریل سے اب تک 4ماہ گزر چکے ہیں اور اب یہ حالت ہوگئی ہے کہ 10لاکھ جرمانہ ادا کرنے والوں کی تو کیا نشاندہی ہوتی ملاوٹ کا بازار مزید گرم ہوگیا ۔ دودھ، گھی، آئس کریم، دال، چاول، گیہوں اور اب سبزیاں اور پھل غرض یہ کہ صبح سے شام تک آپ جو چیز بھی کھا رہے ہیں، وہ رفتہ رفتہ آپ کو موت کے قریب لے جارہی ہے۔ اگر اعداد و شمار کا جائزہ لیں تو 2008میں 63000 نمونوں میں سے 4000اور اس سے قبل 65000 نمونوں میں سے تقریباً 5000  نمونوں میں ملاوٹ پائی گئی تھی، مگر ابھی تک صرف زبانی جمع خرچ ہی ہورہا ہے۔ آکسی ٹاسن کے علاوہ کیلشیم کار بائڈ کے ملانے سے بھی سبزیاں ایک دم تازہ اور ہری ہری نظر آتی ہیں مگر شمالی ہندوستان خاص کر دہلی اور اس کے گرد و نواح میں اسی کیلشیم کار بائڈ کا بے دریغ استعمال کیا جارہا ہے اور کیلشیم کار بائڈ کا استعمال آنکھوں اور جلد کے لیے بے حد خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ جلد کو جلا دیتا ہے اور بینائی پر بھی اثر ڈالتا ہے اور اس کے زیادہ استعمال سے آنکھوں کی روشنی بھی جاسکتی ہے۔
یہ تو تھی سبزیوں اور دودھ وغیرہ میں ملاوٹی اشیاء کی بات، اب اگر سبزیوں سے ہٹ کر ان اشخاص کی طرف آجائیں جو دال اورسبزیاں نہ کھا کر گوشت پسند کرتے ہیں تو ان پر بھی بے تحاشہ ترس آتا ہے کہ بے چارے یہ تک نہیں جانتے کہ وہ مردہ جانور کھا رہے ہیں یا دوائیوں کے ذریعہ بڑا کیا گیا مرغا اور بکرے کا گوشت ان کی غذا میں شامل ہورہا ہے، کیوںکہ جب سے بکرے کا گوشت مہنگا ہو اہے تبھی سے زیادہ تر مرغ کا استعمال ہونے لگا ہے اور سستے ہونے کی وجہ سے بیاہ شادیوں اور پارٹیوں میں مرغ کا ہی گوشت استعمال ہورہا ہے، لیکن اب جب کہ سب کی ہی صحت داؤں پر لگ گئی ہے، جب سبھی بیماریوں کے دہانے پر آکھڑے ہوئے ہیں تو کیا سبزی خور اور کیا گوشت خور، سبھی کے لیے فکر کا مقام ہے۔ بات جب تک سبزیوں اور گوشت کی تھی، تب ایک سہارا باقی تھا کہ خدا نخواستہ کوئی بیماری ہو بھی گئی تو دوائیاں کام آجائیں گی، لیکن اب تو دوائیاں بھی نقلی ہی بن رہی ہیں۔ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے اس بات کو تسلیم کرلیا ہے کہ بڑے پیمانے پر نقلی دوائیاں بنانے کا کام عروج پر ہے۔ لکھنؤ میں ریاست کی وزیراعلیٰ مایاوتی نے جس طرح خوردنی اشیاء اور ادویہ میں ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے اور ریاست میں نقلی، غیر معیاری دواؤں اور ملاوٹی سامان کے بنانے، تقسیم کرنے اور فروخت کرنے پر قدغن لگانے کے لیے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی ٹیم کی مہم میں تیزی لانے کی ہدایات جاری کی ہیں تو اسی طرح مرکزی حکومت کو بھی اقدامات کرنے چاہئیں اور ان افراد کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرنی چاہئے، بلکہ کوئی بھی جو اس گھناؤنے کھیل میں ملوث ہو، اسے سر عام پھانسی دے دینی چاہیے۔ نقلی کولڈ ڈرنک بنانے والی کمپنیوں، نقلی دوائیاں بنانے والی کمپنیوں، دودھ میں ملاوٹ کرنے والی کمپنیوں سبھی کو سیل کردینا چاہیے۔ آکسی ٹاسن بنانے والی اکائیوں کو سیل کر کے ان سبھی افراد کو سخت سے سخت سزا دینی چاہیے، تبھی ملک کو ملاوٹی اشیاء سے چھٹکارہ مل پائے گا۔
آج ویسے ہی ہمیں اور ہمارے بچوں کو کوئی بھی چیز اصلی کھانے کی نہیں مل پارہی ہے۔ ایسے میں ہماری آنے والی نسلیں کیسے صحت مند رہ پائیں گی۔ ہمارا معاشرہ کیسے فروغ پائے گا؟ مقابلہ جاتی اس دور میں ہمارے بچے کند ذہن اور کمزور دل لے کر کیسے آگے بڑھیں گے؟ کیا ہوگا آنے والی نسلوں کا؟ کیا وہ اندھی، لولی، لنگڑی پیدا ہوں گی؟ کیا ان میں بچپن سے ہی کینسر کے جراثیم موجودہوں گے؟ کیا آنے والا ہندوستان ایک صحت مند ملک کہلانے کے لائق ہوگا؟ ابھی اس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے ،کیوںکہ ٹکنالوجی کے اس ماحول نے کچھ حد تک ہم سب کو مطمئن کررکھا ہے اور ہم یہ سجھ رہے ہیں کہ موبائل استعمال کر کے اچھی نوکریاں کرکے اچھے کپڑے پہن کر، یوروپی ممالک میں جا کر بس جانے کے بعد ہندوستان سے چھٹکارہ مل جائے گا، مگر جو نسل یہاں پیدا ہوگی جو نسل یہاں پروان چڑھے گی اس کے مستقبل کا تو اللہ ہی مالک ہے۔ ہاں اس سے نجات ممکن ہے اور وہ تبھی ہے جب کہ ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف سب متحد ہو کر کھڑے ہوجائیں اور سخت سے سخت سزا دے کر ان ملاوٹیوں کا حوصلہ توڑ دیا جائے، تبھی کچھ حل نکل پائے گا۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

One thought on “کیا کھائیں اور کیسے زندہ رہیں؟

  • August 18, 2010 at 4:17 pm
    Permalink

    اپر کا ارتیکلے بہت ہی موزوں ہے.
    مہنگائی کے موضو کو ایک عورت ہونے کے اپ جتنی اچھی طرح سمجھ اور سمجھا سکتی ہیں اتنا ایک دوسرا نہیں سمجھ سکتا ہے. آپ نے بہت اچھی بات لکھھی ہے کاش ان سیاست دانو کے سمجھ میں آ جائے. آپ مبارکباد کے مستاہک ہیں. خدا حافظ
    محمّد جمشید حسن

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *