کیا دہلی میں پھر چل پائے گا کیجریوال کا جادو؟

Share Article

ششی شیکھر

بی جے پی اسٹیٹ لیول کے لیڈر تو سرکار بنانے کی بات سے انکار کر رہے تھے، لیکن اعلیٰ قیادت کھل کر کچھ نہیں کہہ پا رہی ہے۔ ایسا مانا جا رہا ہے کہ آر ایس ایس کا زور پھر سے الیکشن کروانے پر ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ لوک سبھا میں اتنی زبردست جیت کے بعد عوام کے درمیان یہ پیغام جائے کہ بی جے پی سرکار بنانے کے لیے کوئی بھی ہتھیار اپنا سکتی ہے۔ دوسری طرف، عام آدمی پارٹی کو بھی اب یہ احساس ہو چکا ہے کہ کانگریس سے اسے مدد نہیں ملنے والی ہے اور اگر بی جے پی نے دہلی (ریاست) میں سرکار بنا لی، تو اس کے لیے کافی مشکلیں آسکتی ہیں۔ اس وجہ سے اب اروِند کجریوال دہلی میں پھر سے اسمبلی الیکشن کروانے کے لیے لیفٹیننٹ گورنر سے لے کر صدرِ جمہوریہ تک سے مل رہے ہیں۔

p-4ہندوستانی سیاست کی چال، ڈھال اور چہرے کو سمجھنا ہو، تو لوک سبھا الیکشن کے بعد سے دہلی (ریاست) میں سرکار بنانے کو لے کر چل رہی رسہ کشی اور الزام تراشی پر دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاست کے سارے رنگ ایک ساتھ دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ ہارس ٹریڈنگ کے الزام، ممبرانِ اسمبلی کے ٹوٹنے بکھرنے کی خبر، بند دروازوں کے پیچھے چلنے والی میٹنگوں کے دور وغیرہ وغیرہ۔ کوئی بھی ایسی پارٹی نہیں تھی، جسے اس قواعد سے الگ دیکھا گیا۔ بھلے ہی کوئی اس کی سرکاری طور پر تصدیق نہ کرے، لیکن یہ خبر پکّی ہے کہ بی جے پی اور عام آدمی پارٹی، دونوں نے سرکار بنانے کی کوشش کی۔ بی جے پی کی بات کریں، تو خود بی جے پی نے یہ دعویٰ کیا کہ عام آدمی پارٹی کے کئی ایم ایل اے ان کے رابطے میں ہیں، اور اس میں بہت حد تک سچائی بھی ہے۔ دوسری طرف، عام آدمی پارٹی نے بھی خود یہ کہا کہ بی جے پی اس کے ایم ایل اے کو 20 کروڑ کا آفر دے رہی ہے۔ کچھ ایسا ہی دعویٰ کانگریس کے ممبرانِ اسمبلی نے بھی کیا کہ عام آدمی پارٹی ان سے سرکار بنانے کے لیے حمایت مانگ رہی ہے۔
کل ملا کر، پچھلے کچھ دنوں کا پورا واقعہ آپ کو ہندوستانی سیاست کے کئی رنگوں سے روبرو کراتا ہے۔ عام الیکشن میں بھاری جیت حاصل کرنے والی بی جے پی اپنے ہی ذریعے بنائے گئے اعلیٰ اخلاقی پیمانوں کی وجہ سے کھل کر ہارس ٹریڈنگ کا کھیل نہیں کھیل پائی۔ سب کچھ پردے کے پیچھے چلتا رہا۔ اسے یہ امید تھی کہ آپ کے نئے ایم ایل اے آسانی سے اس کے ساتھ آ کر مل جائیں گے اور پھر اس طرح سرکار بھی بن جائے گی اور ان کی اخلاقیات کی دیوار بھی گرنے سے بچ جائے گی۔ لیکن اروِند کجریوال نے ہارس ٹریڈنگ کی بات کو اتنا اچھالا، جس سے کھلے عام ممبرانِ اسمبلی کے توڑ پھوڑ کا کھیل ممکن نہیں ہو پایا۔ نہ بی جے پی ایسا کر پائی اور نہ خود عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے اپنی پارٹی سے الگ ہونے کی ہمت دکھا سکے۔
بی جے پی اسٹیٹ لیول کے لیڈر تو سرکار بنانے کی بات سے انکار کر رہے تھے، لیکن اعلیٰ قیادت کھل کر کچھ نہیں کہہ پا رہی ہے۔ ایسا مانا جا رہا ہے کہ آر ایس ایس کا زور پھر سے الیکشن کروانے پر ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ لوک سبھا میں اتنی زبردست جیت کے بعد عوام کے درمیان یہ پیغام جائے کہ بی جے پی سرکار بنانے کے لیے کوئی بھی ہتھیار اپنا سکتی ہے۔ دوسری طرف، عام آدمی پارٹی کو بھی اب یہ احساس ہو چکا ہے کہ کانگریس سے اسے مدد نہیں ملنے والی ہے اور اگر بی جے پی نے دہلی (ریاست) میں سرکار بنا لی، تو اس کے لیے کافی مشکلیں آ سکتی ہیں۔ اس وجہ سے اب اروِند کجریوال دہلی میں پھر سے اسمبلی الیکشن کروانے کے لیے لیفٹیننٹ گورنر سے لے کر صدرِ جمہوریہ تک سے مل رہے ہیں۔

2013 کے دسمبر میں بی جے پی کے لیے جشن منانے کے لیے تمام موقعے موجود تھے۔ دہلی کے وزیر اعلیٰ کی کرسی بس سامنے ہی تھی، لیکن 32 سیٹیں پا کر بھی بی جے پی کے سامنے سے وہ کرسی اوجھل ہو گئی۔ وجہ عام آدمی پارٹی کا 28 سیٹیں جیتنا۔ اب لوک سبھا میں اکیلے دَم پر 282 سیٹیں اور دہلی کی سبھی ساتوں سیٹوں پر قبضہ جمانے والی بی جے پی دہلی اسمبلی الیکشن میں جیت کے لیے نفسیاتی طور پر پوری طرح سے تیار ہے۔ اسے امید ہے کہ دہلی کا اقتدار اسے آسانی سے مل جائے گا۔ لوک سبھا الیکشن کے بعد عام آدمی پارٹی کی مقبولیت میں آئی کمی سے اسے اپنے سامنے کوئی چنوتی ملتی ہوئی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ لیکن یہ حد سے زیادہ خود اعتمادی کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔

ویسے اتنے سیاسی عدم استحکام کے دور میں، ایک صحت مند جمہوریت کے لیے الیکشن ہی بہتر طریقہ ہوگا۔ بہرحال، اب اس پر غور کرنا دلچسپ ہوگا کہ اگر دہلی میں اسمبلی الیکشن ہوتے ہیں، تو کیا تصویر نکل کر سامنے آئے گی؟ عام خیال کے مطابق، دہلی کی لڑائی میں اب صرف دو ہی کھلاڑی بچے ہوئے ہیں – بی جے پی اور عام آدمی پارٹی۔ کانگریس کو اب لوگ اس کھیل سے باہر مان رہے ہیں۔ ویسے کسی سیاسی پارٹی کی پیشن گوئی کرنا ہمیشہ خطروں سے کھیلنے جیسا ہوتا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ پچھلے لوک سبھا الیکشن کا نتیجہ اور خاص کر دہلی کا نتیجہ یہ بتاتا ہے کہ کانگریس کی حالت آج ایک علاقائی پارٹی سے بھی بدتر ہوگئی ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی یاد رکھنا دلچسپ ہوگا کہ اسی لوک سبھا الیکشن نے کئی ایسی سیاسی پارٹیوں کو پھر سے قائم کر دیا ہے، جن کا کل تک مرثیہ لکھا جا رہا تھا۔ مطلب، ہندوستانی کرکٹ اور ہندوستانی سیاست دونوں کا تعلق پیشن گوئی سائنس سے نہیں ہے۔ پھر بھی، موجودہ تصویر یہی دکھاتی ہے کہ کانگریس اگر دہلی اسمبلی الیکشن میں اپنی موجودہ حالت کو بھی برقرار رکھ لے، تو اس کے لیے بڑی بات ہوگی اور کہیں وہ 8 سے 10 تک بھی پہنچ جاتی ہے، تو پھر اس کے لیے جشن منانے کا موقع ہوگا۔
ویسے 2013 کے دسمبر میں بی جے پی کے لیے جشن منانے کے لیے تمام موقعے موجود تھے۔ دہلی کے وزیر اعلیٰ کی کرسی بس سامنے ہی تھی، لیکن 32 سیٹیں پا کر بھی بی جے پی کے سامنے سے وہ کرسی اوجھل ہو گئی۔ وجہ عام آدمی پارٹی کا 28 سیٹیں جیتنا۔ اب لوک سبھا میں اکیلے دَم پر 282 سیٹیں اور دہلی کی سبھی ساتوں سیٹوں پر قبضہ جمانے والی بی جے پی دہلی اسمبلی الیکشن میں جیت کے لیے نفسیاتی طور پر پوری طرح سے تیار ہے۔ اسے امید ہے کہ دہلی کا اقتدار اسے آسانی سے مل جائے گا۔ لوک سبھا الیکشن کے بعد عام آدمی پارٹی کی مقبولیت میں آئی کمی سے اسے اپنے سامنے کوئی چنوتی ملتی ہوئی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ لیکن یہ حد سے زیادہ خود اعتمادی کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ دہلی کی سات سیٹوں پر بھلے ہی عام آدمی پارٹی ہار گئی ہو، لیکن وہ سبھی سیٹوں پر بڑھے ہوئے ووٹنگ فیصد کے ساتھ دوسرے مقام پر رہی۔ دہلی کی جھگی جھونپڑی میں رہنے والے، چھوٹے دوکاندار، ریہڑی پٹری چلانے والے لوگ، آٹو رکشہ والوں کے درمیان ابھی بھی اس پارٹی کی مقبولیت بنی ہوئی ہے۔ بات چیت میں ایسا لوگ بتاتے ہیں کہ کیسے 49 دنوں کی سرکار میں پولس نے ان سے رشوت لینی بند کر دی تھی۔ کیسے آر ٹی او اور سرکاری دفتروں سے دلال غائب ہو گئے تھے۔ بجلی پانی کی سیاست اور اس میں پوشیدہ داؤ پیچ چاہے جو بھی ہو، لیکن دہلی کا ایک بڑا طبقہ ایسا ہے، جسے تین ہی مہینے کے لیے سہی، اسے بھاری بھرکم بجلی پانی کے بل سے نجات ملی۔ یہ حقائق ایسے ہیں، جن کی جانچ آپ سر راہ چلتے ہوئے دہلی کی سڑکوں پر لوگوں سے بات چیت کرکے کر سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ، ایک سب سے اہم حقیقت یہ بھی ہے کہ دہلی بی جے پی اکائی، ہرش وردھن کے مرکز میں وزیر بننے کے بعد، ایک مضبوط لیڈر شپ کی کمی سے دوچار ہے۔ دہلی بی جے پی اپنا وزیر اعلیٰ کسے پروجیکٹ کرے، اگر اسمبلی الیکشن ہوتے ہیں، اس پر کافی تذبذب ہے اور اس کے پاس فی الحال کوئی ایسا چہرہ نہیں دکھائی دے رہا ہے، جو اروِند کجریوال کو چنوتی دے سکے۔ یہ چنوتی سیاسی طور پر کم ذاتی ایمانداری، اخلاقیات اور بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھانے والے ایک شخص کے طور پر زیادہ ہے، یعنی مختلف مدعوں پر اروِند کجریوال کی تنقید تو ہو سکتی ہے، لیکن ایک مورل اتھارٹی، جو ان کے پاس ہے، اس کے مقابلے ابھی بی جے پی کے پاس کوئی امیدوار نہیں ہے۔ یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اروِند کجریوال کی مورل اتھارٹی کا ہی کمال تھا کہ بی جے پی کو گوئل کی جگہ ایماندار شبیہ والے ہرش وردھن کو سامنے لانا پڑا۔
کل ملا کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ ابھی دہلی میں یقینی طور پر بی جے پی بنام آپ کے درمیان ففٹی ففٹی کا معاملہ ہے اور اس میں بھی آپ کا پلڑا بھارتی ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ وجہ یہ کہ پچھلے دو مہینے میں مرکز کی بی جے پی سرکار کے رہتے جس طرح ریل کرایہ، چینی، ٹماٹر، پیاز، پیٹرول ڈیزل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، اس سے دہلی کے عوام اور خاص کر وہ متوسط طبقہ، جو عام آدمی پارٹی سے کنارہ کش ہو گیا تھا، مایوس ہو سکتا ہے۔ یہ مایوسی اس طبقہ کو ایک بار پھر کجریوال کے پاس پہنچا سکتی ہے۔ اور اگر ایسا ہوا، تو ممکن ہے کہ دہلی میں وزیر اعلیٰ کی کرسی ایک بار پھر بی جے پی کے ہاتھ سے نکل جائے۔ ویسے، یہ بھی ایک سیاسی پیشن گوئی ہے اور جیسا کہ پہلے ہی بتایا جا چکا ہے، ہندوستانی سیاست اور کرکٹ کے لیے پیشن گوئی کرنا ہمیشہ خطروں سے کھیلنے جیسا ہوتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *