کیا کانگریس کوئی رول ادا کر پائے گی؟

Share Article

ڈاکٹر قمر تبریز

p-3دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہندوستان میں اپوزیشن کا رول بھی اتنا ہی اہم ہے، جتنا کہ برسر اقتدار پارٹی کا۔ لیکن سولہویں لوک سبھا نے پہلی بار اپوزیشن کے وجود پر ہی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ حزبِ اختلاف میں کوئی بھی پارٹی اتنی سیٹیں نہیں جیت سکی ہے، جس کی بنیاد پر وہ لوک سبھا میں خاص اپوزیشن پارٹی ہونے کا دعویٰ کر سکے۔ 2014 کے عام انتخابات میں تاریخ کی اب تک کی سب سے شرمناک ہار سے دوچار کانگریس پارٹی ابھی تک صدمے سے باہر نہیں نکل سکی ہے۔ عوام نے اسے ایک بڑا موقع دیا تھا کہ وہ گاندھی خاندان کے چنگل سے باہر نکلے، لیکن کانگریس نے اس سنہرے موقع کو بھی گنوا دیا۔ ایسے میں سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا کانگریس غیر بی جے پی پارٹیوں کے اتحاد سے اپوزیشن کی تشکیل کرکے جمہوریت کو مضبوطی دلا پائے گی؟ اور اگر وہ ایسا نہیں کر پاتی ہے، تو کیا وہ اے آئی اے ڈی ایم کے، ٹی ایم سی، اور بی جے ڈی کے ذریعے ایک متحد بلاک کی شکل میں اپوزیشن کے سامنے گھٹنے ٹیک دینے پر مجبور ہوگی؟ آئیے جائزہ لیتے ہیں …

کانگریس کوئی چھوٹی پارٹی نہیں ہے۔ یہ صرف ہندوستان کی ہی سب سے قدیم پارٹی نہیں ہے، بلکہ پوری دنیا میں جمہوری طریقے سے کام کرنے والی سب سے پرانی سیاسی پارٹیوں میں سے بھی ایک ہے۔ آزادی کے بعد سے اب تک لوک سبھا کے لیے ہونے والے کل 16 عام انتخابات میں سے 7 میں جہاں اس نے اپنے دَم پر مکمل اکثریت حاصل کی، وہیں اس نے اپنی قیادت میں ملک میں 2 بار مخلوط حکومت بھی چلائی۔ اس طرح مجموعی طور پر ہندوستان میں سرکار چلانے کا اس کے پاس 55 سالوں کا ریکارڈ ہے۔ اندرا گاندھی کے ذریعے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی وجہ سے کانگریس کو پہلی بار 1977 کے عام انتخابات میں شکست سے دو چار ہونا پڑا تھا، جب اسے لوک سبھا کی صرف 153 سیٹیں ہی مل سکی تھیں اور سرکار اس کے ہاتھوں سے چلی گئی تھی۔ اس کے بعد 1989 میں نویں لوک سبھا کے الیکشن میں بھی اس کی ہار ہوئی اور اسے صرف 197 سیٹوں پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔ اس وقت ملک میں پہلی بار بی جے پی کی قیادت میں این ڈی اے سرکار بنی تھی۔ اس کے بعد 1996 سے لے کر 1999 کے تین لوک سبھا انتخابات میں کانگریس پارٹی کا گراف گرتا ہی چلا گیا، لیکن 2004 اور 2009 کے عام انتخابات میں اس نے خود کو کچھ حد تک سنبھالا اور ملک میں مخلوط سرکار بنائی۔ پندرہویں لوک سبھا میں 211 ممبران کے ساتھ یہ سب سے بڑی پارٹی تھی اور اسی لیے اس کی قیادت میں 2009 سے لے کر 2014 تک ملک میں یو پی اے کی حکومت بھی رہی۔ لیکن 2014 کے عام انتخابات میںمودی لہر کی وجہ سے کانگریس کو سب سے بری شکست کا سامنا کرنا پڑا اور وہ اِس بار 211 سیٹوں سے گھٹ کر صرف 44 سیٹوں تک ہی محدود ہو کر رہ گئی۔ اس کے باوجود وہ لوک سبھا میں اب بھی 282 سیٹوں والی بھارتیہ جنتا پارٹی کے بعد ملک کی دوسری سب سے بڑی پارٹی ہے۔ کانگریس کی اس زبردست ہار کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ وہ لوک سبھا میں اپوزیشن پارٹی کا رول ادا کرنے کے لیے درکار کل 543 سیٹوں کا 10 فیصد، یعنی 54 سیٹیں بھی نہیں جیت سکی ہے۔ لوک سبھا میں اپوزیشن پارٹی کا وجود ختم ہونا جمہوریت کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی اس لیے ہے، کیو ںکہ سرکار جب بھی کوئی غلط فیصلے لیتی ہے، تو اپوزیشن پارٹی ہی برسر اقتدار پارٹی کی اس غلطی کو درست کرنے کا کام کرتی ہے۔ لیکن کانگریس پارٹی نے اپنے پچھلے دس سالہ دورِ حکومت میں ملک کے عوام کو اتنا ناراض کیا کہ عوام نے اُس سے اپوزیشن پارٹی کا رول ادا کرنے کا حق بھی چھین لیا۔ یہ بات صحیح ہے کہ حکومت چاہے جس پارٹی کی بھی ہو، ہمارے ملک کے جمہوری نظام کے مطابق، ہر پانچ سال کے بعد اس پارٹی کو عوام کے سامنے جاکر اس کے سوالوں کا جواب دینا ہوتا ہے، اپنی کمیوں، کوتاہیوں پر عوام کی تنقید و مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ جمہوریت کی اچھی علامت ہے۔ عوام جتنے زیادہ بیدار ہوں گے، جمہوری قدریں اتنی ہی مضبوط ہوں گی۔ اب جب کہ عوام نے کانگریس پارٹی کو کسی لائق نہیں چھوڑا ہے، تو ایسے میں سب سے بڑا سوال اس وقت یہی ہے کہ اگلے پانچ سال تک کانگریس خود کو کیسے زندہ رکھے گی؟
اپنی ناکردگی کے سبب موجودہ انتخابات میں ناکامی کو بھانپتے ہوئے کانگریس پارٹی نے سب سے پہلی تیاری تو یہ کی تھی کہ اس نے صدرِ جمہوریہ کے عہدہ پر اپنے سب سے سینئر اور تمام سیاسی پارٹیوں میں عزت و احترام کی نظر سے دیکھے جانے والے لیڈر پرنب مکھرجی کو فائز کر دیا۔ ماضی کی طرف جائیں، تو ملک میں کم از کم تین بار ایسے مواقع ضرور آئے تھے، جب پرنب مکھرجی کو کانگریس پارٹی اپنا وزیر اعظم بنا سکتی تھی۔ دو بار تب، جب اندرا گاندھی کو 1984 اور راجیو گاندھی کو 1991 میں قتل کر دیا گیا تھا اور تیسری بار تب، جب 2004 میں ملک میں پہلی بار کانگریس کی قیادت میں یو پی اے حکومت کی تشکیل ہوئی تھی۔ لیکن، شاید پرنب مکھرجی کی قسمت میں ملک کا وزیر اعظم بننا نہیں لکھا تھا، اس لیے وہ ان تینوں ہی موقعوں پر چوک گئے۔ اس کے بعد جب انہیں منموہن سرکار میں پہلے وزیر دفاع، اس کے بعد وزیر خارجہ اور پھر اخیر میں وزیر خزانہ بنایا گیا، تو چونکہ وہ خود کو منموہن سنگھ سے سینئر سمجھتے تھے، اس لیے وزیر اعظم کے ماتحت کام کرنے میں پریشانی محسوس کرتے تھے۔ ماضی کے واقعات اس کی مثال پیش کرتے ہیں کہ کیسے وہ منموہن سنگھ کے ساتھ تال میل بیٹھانے میں ناکام رہے۔ منموہن سنگھ کے سامنے نہ جھکنے کی شاید ان کی یہی ضد تھی، جس کی وجہ سے وہ ملک کے صدر بنائے گئے، جہاں سے وہ منموہن سنگھ پر اپنا حکم چلا سکتے تھے اور اس طرح اپنی سینئرٹی ثابت کر سکتے تھے۔ لیکن اب، چونکہ منموہن سنگھ بھی وزیر اعظم نہیں ہوں گے، اس لیے اگر مرکز میں بی جے پی کی قیادت میں این ڈی اے کی سرکار بنتی ہے، تو پرنب مکھرجی اپنی تمام تر مہارت اور پرانے تجربات کو بروئے کار لاتے ہوئے، کانگریس کو اپوزیشن کا رول ادا کرنے میں بڑی حد تک مدد کر سکتے ہیں۔ ہم یہ جانتے ہیں کہ ملک میں کوئی بھی نیا قانون تبھی بنتا ہے، جب اسے لوک سبھا میں پاس کرنے کے بعد راجیہ سبھا میں بھیجا جاتا ہے اور پھر راجیہ سبھا میں پاس کرانے کے بعد اخیر میں اسے صدرِ جمہوریہ کے پاس ان کے دستخط کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستانی آئین میں کوئی بھی تبدیلی کرنے کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی دو تہائی اکثریت، یعنی 398 ممبران کی منظوری لازمی ہے اور این ڈی اے کے پاس اس وقت کل 394 ممبران ہیں۔ اس لیے بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت کے پاس کلیدی قانون سازی کے لیے یا آئین میں کسی قسم کی ترمیم کے لیے تقریباً پورے ممبران موجود ہیں۔ اس کے لیے اسے کسی اور پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا، مگر یہ بات بھی ملحوظ رہنی چاہیے کہ ہر دوسرے سال راجیہ سبھا کے لیے انتخابات ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ آئین کی دفعہ 80 میں راجیہ سبھا کے ممبران کے انتخابات اور نامزدگی کے لیے جو ضابطہ طے کیا گیا ہے، اس کے تحت راجیہ سبھا میں ممبران کی کل تعداد 250 تک ہو سکتی ہے اور اس میں سے 12 ممبران کو مختلف شعبوں میں ان کی نمایاں کارکردگی کی بنیاد پر صدرِ جمہوریہ کے ذریعے نامزد کیا جا تا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے، تو راجیہ سبھا کے ممبران کی تعداد ہمیشہ گھٹتی بڑھتی رہتی ہے۔
کانگریس کی دوسری بڑی تیاری راجیہ سبھا میں اپنے ممبران کی تعداد کو بڑھا کر اگلے پانچ سالوں تک قانون سازی کے عمل میں اپنی حیثیت کو منوانے کی ہے۔ جیسا کہ اوپر بتایا گیا، کوئی بھی بل لوک سبھا میں پاس ہونے کے بعد راجیہ سبھا میں بھی پہنچتا ہے اور اگر راجیہ سبھا میں اپوزیشن پارٹی کی اکثریت ہوئی، تو اس برسر اقتدار پارٹی کو اس بل کو راجیہ سبھا سے پاس کرانے میں ناکوں چنے چبانے پڑسکتے ہیں۔ یو پی اے دورِ حکومت میں راجیہ سبھا میں بی جے پی کے ساتھ ساتھ لیفٹ پارٹیوں اور بعض دفعہ یو پی اے سرکار کو باہر سے حمایت دینے والی سماجوادی پارٹی کی مخالفت کی وجہ سے بہت سے بل راجیہ سبھا میں آکر گر گئے تھے اور پاس نہیں ہو سکے تھے۔ انسدادِ فرقہ وارانہ تشدد بل اس کی ایک بڑی مثال ہے۔ اسی طرح شروع میں لوک پال بل کو لے کر بھی کانگریس مخالف پارٹیوں نے کافی ہنگامہ مچایا تھا۔
راجیہ سبھا کے کل اراکین کی تعداد اِس وقت 234 ہے، جن میں سے سب سے زیادہ سونیا گاندھی کی قیادت والی انڈین نیشنل کانگریس (آئی این سی) کے 68، راجناتھ سنگھ کی قیادت والی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے 42، مایاوتی کی قیادت والی بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے 14، ممتا بنرجی کی قیادت والی آل انڈیا ترنمول کانگریس (اے آئی ٹی سی) کے 12، جے للتا کی قیادت والی آل انڈیا انا دراوڑ منیتر کڑگم (اے آئی ڈی ایم کے)کے 10، سماجوادی پارٹی (ایس پی) کے 9، پرکاش کرات والی سی پی ایم کے 9، شرد یادو کی قیادت والی جنتا دل یونائٹیڈ (جے ڈی یو) کے 9، نوین پٹنائک کی قیادت والی بیجو جنتا دل (بی جے ڈی) کے 6، چندر بابو نائڈو کی قیادت والی تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) کے 6 اور شرد پوار کی قیادت والی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے 5 ممبران ہیں۔
ظاہر ہے کہ، راجیہ سبھا میں اس وقت کانگریس ہی سب سے بڑی پارٹی ہے، جب کہ دوسرے نمبر پر بی جے پی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی راجیہ سبھا میں اپنی تعداد ، جو اِس وقت 42 ہے، کو تبھی بڑھا سکتی ہے، جب مختلف ریاستوں کے اندر بھی وہ اپنی حکومت بنانے میں کامیاب ہو۔ لوک سبھا کی رکنیت جہاں ایک طرف 5 سال کے لیے ہوتی ہے اور اس کے ممبران کا انتخاب عام الیکشن کے ذریعے ہوتا ہے، وہیں راجیہ سبھا کے ممبران کا انتخاب 6 سالوں کے لیے ہوتا ہے۔ راجیہ سبھا کے چیئر مین کے عہدہ پر ہندوستان کے نائب صدر فائز ہوتے ہیں، جو کہ اس وقت حامد انصاری ہیں اور ان کا بھی جھکاؤ کانگریس پارٹی کی ہی طرف ہے، اسی لیے بی جے پی اور دیگر کانگریس مخالف سیاسی پارٹیوں کی طرف سے بھی بعض دفعہ نائب صدر پر ایوانِ بالا کی بحث کے دوران کانگریس کی طرفداری کرنے کا الزام اکثر و بیشتر لگایا جا تار ہا ہے۔
اب اگر ہم راجیہ سبھا میں کانگریس کے ممبران پر نظر ڈالیں، تو ان میں سے وزیر اعظم کے عہدے سے ابھی ابھی سبکدوش ہونے والے ڈاکٹر منموہن سنگھ 14 جون، 2019 کو راجیہ سبھا سے ریٹائر ہوں گے۔ وزیر دفاع کے عہدہ سے سبکدوش ہونے والے اے کے انٹونی 2 اپریل، 2016 کو؛ وزیر صحت کے عہدہ سے سبکدوش ہونے والے اور جموں و کشمیر کی اودھم پور لوک سبھا سیٹ سے پارلیمانی الیکشن ہارنے والے غلام نبی آزاد10 فروری، 2015 کو؛ وزیر صنعت و کاروبار کے عہدہ سے سبکدوش ہونے والے آنند شرما 4 جولائی، 2016 کو؛ وزیر برائے اقلیتی امور کے عہدہ سے سبکدوش ہونے والے کے رحمن خان 2 اپریل، 2018 کو؛ سابق وزیر ماحولیات و جنگلات اور حال ہی میں وزیر برائے دیہی ترقی کے عہدہ سے سبکدوش ہونے والے جے رام رمیش 21 جون، 2016 کو؛ سابق وزیر قانون اشونی کمار 9 اپریل، 2016 کو؛ اوور سیز انڈین افیئرس کے وزیر کے عہدہ سے سبکدوش ہونے والے وایلار رَوی 21 اپریل، 2015 کو؛ کارپوریٹ افیئرس کے وزیر کے عہدہ سے سبکدوش ہونے والے مرلی دیوڑا 2 اپریل، 2020 کو؛ سابق وزیر اطلاعات و نشریات امبیکا سونی 4 جولائی، 2016 کو اور نریندر مودی کے خلاف گجرات کی وڈودرا پارلیمانی سیٹ سے اِس بار لوک سبھا الیکشن ہارنے والے مدھو سودن مستری 9 اپریل، 2020 کو راجیہ سبھا سے ریٹائر ہوں گے۔
ان سب کے علاوہ کانگریس کے اور بھی کئی سینئر اور تجربہ کار لیڈر ایسے ہیں، جو راجیہ سبھا میں اب بھی برقرار ہیں اور آئندہ کئی سالوں تک راجیہ سبھا کے رکن رہیں گے۔ ان میں دگ وجے سنگھ، ابھشیک منو سنگھوی، کماری شیلجا، ڈاکٹر کرن سنگھ، پروفیسر سیف الدین سوز، ستیہ ورت چترویدی، محسنہ قدوائی، احمد پٹیل، جناردن دویدی اور منی شنکر ایّر کے نام سر فہرست ہیں۔ ایسے میں اگر کانگریس تمام غیر بی جے پی پارٹیوں کو متحد کرنے میں کوئی کلیدی رول ادا کرتی ہے، تو وہ پارلیمنٹ میں بی جے پی کے ذریعے قانون سازی کے کسی بھی فیصلہ کو متاثر کر سکتی ہے۔
لیکن، اس کے برعکس حال ہی میں منعقد ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں تمل ناڈو سے 37 سیٹیں جیت کر سولہویں لوک سبھا کی تیسری سب سے بڑی پارٹی جے للتا کی اے آئی اے ڈی ایم کے، مغربی بنگال سے 34 سیٹیں جیت کر چوتھی سب سے بڑی پارٹی ممتا بنرجی کی آل انڈیا ترنمول کانگریس اور اڑیسہ سے 20 سیٹیں جیت کر سولہویں لوک سبھا میں پانچویں سب سے بڑی پارٹی نوین پٹنائک کی بیجو جنتا دَل نے کانگریس سے مین اپوزیشن کا رول چھیننے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ اگر یہ تینوں بڑی علاقائی پارٹیاں ایک بلاک بن کر لوک سبھا میں اپوزیشن کا رول ادا کرنے کے لیے کوئی اتحاد بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہیں، تو کانگریس پوری طرح حاشیے پر چلی جائے گی۔ ان سب کے درمیان، ہمیں یہ امید تو کرنی ہی چاہیے کہ مودی سرکار جمہوری روایات کو برقرار رکھتے ہوئے، اپوزیشن کو اپنا رول نبھانے کی پوری آزادی دے گی، کیو ںکہ ہمارے ملک کی جمہوریت کو پوری دنیا میں ایک مثالی جمہوریت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور ایک جمہوریت میں اپوزیشن کو اس کی جان مانا جاتا ہے۔ لہٰذا مسئلہ جمہوریت کی بقا اور وقار کا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *