کیا بنگال سے کانگریس کا وجود ختم ہوجائے گا؟

Share Article

p-10مغربی بنگال کے سیاسی حلقوں میں کانگریس کے مستقبل کو لے کر بحث جاری ہے کہ کیا کانگریس کا وجود ختم ہوجائے گا؟ پارٹی توڑ پھوڑ کا شکار ہے، پارٹی لیڈران اور کارکنان ایک ایک کرکے چھوڑ کر جارہے ہیں اور پارٹی قیادت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔حالیہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس نے اپنے سب سے پرانے سیاسی حریف کمیوسٹوں سے اتحاد کیا ۔پارٹی کا ایک بڑا حلقہ اس غیر فطری اتحاد کے خلاف تھا۔مگر دونوں کے وجود کا سوال تھا، اس لیے اسے اس غیر فطری اتحاد کو برداشت کرنا پڑا۔اتحاد کے باوجود انتخابی نتائج دونوں پارٹیوں کیلئے مایوس کن رہے۔بایاں محاذ محض 31سیٹوں پر سمٹ گیا جب کہ کانگریس نے 2011کے مقابلے دوسیٹیں زاید حاصل کرکے کئی دہائی کے بعد اسمبلی میں سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کا درجہ حاصل کیا۔

بنگال کی سیاست کا اپنا ایک مزاج ہے۔سال بھر پارٹی کارکنان سرگرم رہتے ہیں ، علاقہ، گائوںاور پنچایت پر دخل و بے دخل کی جنگ جاری رہتی ہے۔گائوں کا عام کارکنان کی اکثریت ہمیشہ حکمراں طبقے کے ساتھ رہی ہے ۔ حکمراں جماعت کی مقامی قیادت کی اجازت کے بغیر مکان کی تعمیر کیا، اپنے گھر میں مہمان تک کوئی ٹھہرا نہیں سکتا ہے۔اس سیاسی مزاج کی وجہ سے گائوں کا عام طبقہ جن کے پاس مشغولیت کے لئے زیادہ کام نہیں ہے یا پھر وہ لوگ جنہوں نے اپنی روزی روٹی ہی سیاست کو بنالیا ہے، ان کیلئے حکمراں جماعت کے ساتھ رہنا مجبوری بن گئی ہے۔بنگال میں صرف اقتدار کی منتقلی ہوتی ہے۔کارکنان نہیں بدلتے ہیں بلکہ کارکنان پارٹی بدل لیتے ہیں۔
بایاں محاذ کے جو کیڈر تھے اب یہ لوگ اپنی وفاداریاں بدل کرترنمول کانگریس کے کرتا دھرتا بن گئے ہیں۔علاوہ ازیں ممتا بنرجی کی قیادت والی حکومت نے ریاست کے سیکڑوں کلبوں کو دو دو لاکھ روپیہ کا گرانٹ دے کرپارٹی کارکنان کی ایک فوج تیار کرلی ہے۔جو ہمیشہ پارٹی کیلئے جان لینے اور دینے کیلئے تیار ہے۔ظاہر ہے کہ اس تانے بانے کا مقابلہ کرنے کیلئے اپوزیشن جماعتوں کو مشکلات و چیلنجوں کا سامنا ہے ۔ ان حالات میںکانگریس اور بایاں محاذدونوں کو یکساں صورت حال کا سامنا ہے ، یہی وجہ ہے کہ پرکاش کرات اور کیرالہ کی سی پی ایم لابی کی سخت مخالفت کے باوجود پارٹی جنرل سیکریٹری سیتارام یچوری اور سی پی ایم کی بنگال لابی کانگریس کے ساتھ اتحاد برقرار رکھنے کے حق میں ہے۔کیوں کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ترنمول کانگریس کا مقابلہ اکیلے نہیں کیا جاسکتا ہے۔
2016کے اسمبلی انتخابات میں 294سیٹوں میں 211سیٹوں پر کامیابی حاصل کرنے کے بعد ترنمول کانگریس کی طاقت میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے۔بنگال کے سیاسی مزاج کی وجہ سے حکمراں جماعت کے خلاف کھڑے ہونے کا حوصلہ پارٹی کارکنان کیا، منتخب عوامی نمائندے تک نہیں کررہے ہیں ۔یہی وجہ سے 2016کے اسمبلی انتخابات کے بعد ترنمول کانگریس میں دوسری پارٹیوں بالخصوص کانگریس کے لیڈروں کے شامل ہونے کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا۔مرشدآباد،مالدہ ، شمالی دیناج پور کو کانگریس گڑھ کہا جاتا تھا،یہاں کی میونسپلٹیوں پر کانگریس کی حکمرانی تھی مگر آج صورت حال بدل چکی ہے۔ مرشدآباد میں ساتوں میونسپلٹی پر ترنمول کانگریس نے کانگریس کے کونسلر کو اپنی پارٹی میں شامل کرکے قبضہ کرلیا ہے۔ایک سال قبل ہی مرشدآباد میونسپلٹی جہاں ترنمول کانگریس کو کراری کا شکست کا سامنا پڑا تھا۔صرف ایک کائونسلر کو کامیابی ملی تھی مگر آج کانگریس کے 11کائونسلروں کو اپنی پارٹی میں شامل کرکے ترنمول کانگریس بورڈ بناچکی ہے۔
یہی صورت حال مرشدآباد ضلع پریشد کا ہے ۔گزشتہ چار مہینوں میں کانگریس کے پانچ ممبران اسمبلی ترنمول کانگریس میں شامل ہوچکے ہیں ۔44سے کانگریس کے ممبران کی تعداد 39ہوگئی ہے۔ ترنمول کانگریس کے لیڈروں کے بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے بنگال سے کانگریس اور بایاں محاذ کو ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ترنمول کانگریس کی پوری تگ ودو کانگریس اور بایاں محاذکے اثر و رسوخ والے علاقوں پر قبضہ کرنا اوران کے کونسلر اور ممبران اسمبلی کو پارٹی میں شامل کرنا ہوکر رہ گیا ہے۔چناں چہ سپریم کورٹ کے سابق جسٹس اور مغربی بنگال حقوق انسانی کمیشن کے سابق چیرمین جسٹس اشوک کمار گنگولی اوردیگر سول سوسائٹی کے ممبران یہ الزام عاید کرتے ہیں کہ بنگال میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں ہے تو اس میں کہیں نہ کہیں صداقت ضرور نظر آتی ہے۔
کانگریس کا دائر ہ کار پہلے ہی مالدہ ، مرشدآباد، شمالی دیناج پو تک محدود رہ گیا تھا خیال رہے کہ یہ تینوں اضلاع مسلم اکثریتی ہیں۔مالدہ میں تو سابق کانگریس لیڈر و مرکزی وزیر عنی خان چودھری مرحوم کے خاندان کا اثر و رسوخ ہے ۔اس کی وجہ سے یہاں کانگریس کسی حد تک محفوظ ہے۔یہ الگ بات ہے کہ غنی خان چودھری آخری دنوں میں کانگریس کی مرکزی قیادت کی بے اعتنائی کی وجہ سے مایوس ہوگئے تھے۔2004کے پارلیمانی انتخاب میں مرکز میں یوپی اے کی حکومت قائم ہونے کے بعد غنی خان چودھری جیسے سینئر لیڈر کو پارٹی نے نظر انداز کردیا۔وہ وزیر بننے کے خواہش مند تھے۔مگر پارٹی نے درازی عمر کا حوالہ دے کر انہیں وزارت میں شامل نہیں کیا جس کا انہیں ملال تھا اور اس کیلئے وہ برملا ناراضگی بھی ظاہر کرتے تھے۔اس کے باوجود اس وقت مالدہ کی دو نوںپارلیمانی حلقوں پر ان کے ہی خاندان کا ایک بھائی اور ایک بھانجی کاقبضہ ہے ۔جب کہ اسمبلی انتخابات میں ایک چھوٹے بھائی نے ترنمول کانگریس کے ٹکٹ پر انتخاب لڑا مگر وہ اپنے ہی بھتیجے سے ہی جو کانگریس کے امیدوار تھے، سے ہار گئے۔گویا مالدہ ضلع میں کانگریس اور غنی خاندان ایک دوسرے کیلئے لازو ملزوم نہیں بلکہ ایک دوسرے کی ضرورت بھی ہیں ۔
کلکتہ شہر میں تو کانگریس کا وجود پہلے ہی ختم ہوگیا تھا۔اس وقت کلکتہ کے اردو حلقے سے کانگریس کے پاس کوئی بھی سینئر لیڈر نہیں ہے ۔اب جب کہ مرشدآباد ، شمالی دیناج پور جیسے گڑھ سے کانگریس کا صفایا ہورہا ہے تو کانگریس کے وجود پر سوالیہ نشان لگنا لازمی ہے۔اب تک پارٹی نے اس پر بریک لگانے کیلئے کوئی مؤثر کوشش نہیں کی ہے۔کانگریس بایاں محاذ کے 34سالہ دور اقتدار میں بھی اس طرح کے سنگین صورت حال نہیں گزری ہے۔ صرف کارکنان سطح پر ہی نہیں بلکہ قیادت کی سطح پر بھی بحران کا سامنا ہے ۔ پرنب مکھرجی، غنی خان چودھری یا پھر پریہ رنجن داس منشی کے قد کا کوئی لیڈر نہیں ہے جو پارٹی کو اندرونی خلفشارسے نکال سکے۔موجودہ ریاستی صدر ادھیر رنجن چودھر ی جو باہری ہونے کی وجہ سے کلکتہ میں اثر و رسوخ قائم نہیں کرسکے ہیں مگرانہیں مرشدآباد کا شیر کہا جاتا تھا مگر آج مرشدآباد ہاتھ سے نکل رہا ہے اور وہ بے بس ہیں ۔مانس بھوئیاں جیسے لیڈر جنہوں نے لگاتار کانگریس کے ٹکٹ پر6مرتبہ منتخب ہوکر اسمبلی پہنچے ہیں وہ بھی ترنمول کانگریس میں شامل ہوچکے ہیں بلکہ ایک زمانے میں وہ ممتا بنرجی کے سخت ترین نقادوں میں رہے ہیں ۔در اصل انہیں یہ گمان تھا کہ پارٹی انہیں اپوزیشن لیڈر کا درجہ دے گی مگر کانگریس نے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا اور عبدالمنان جنہوںنے شاردا چٹ فنڈ گھوٹالے میں ممتا بنرجی کیلئے مشکلات کھڑا کیا تھا، کو اپوزیشن لیڈر بنادیا۔اس کے بعد سے ہی کانگریس کی برہمن لابی جس نے ہمیشہ بنگال میں مسلم قیادت کو ابھرنے نہیں دیا، وہ ان کے خلاف مورچہ بند ہوگئی اور اس کا بھر پور فائدہ ترنمول کانگریس اٹھارہی ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ کانگریس کے زوال یا پھر خاتمہ سے بنگال کی سیاست پر کیا اثر پڑے گا؟۔کانگریس کے وجود کو ختم کرکے ممتا بنرجی کیا حاصل کرنا چاہتی ہے؟
گرچہ ممتا بنرجی جمہور ی طریقے سے منتخب ہوکروزیر اعلیٰ منتخب ہوئی ہیں،مگر اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ان کا مزاج غیر جمہوری ہے۔وہ کسی بھی سطح پر تنقید برداشت نہیں کرتی ہیں۔ چنانچہ ہرو ہ ادارے یا پھر شخصیت جو ممتا بنرجی کی تنقید کرتے ہیںانہیں مشکلات کا سامنا ہے ۔ان کیلئے دو ہی راستے ہیں، حکمراں جماعت کا حصہ بن جائیں یا پھر دشمنی کا سامنا کرنے کیلئے تیا ر رہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ ذرائع ابلاغ اور میڈیا ہائوسیس جو ممتا بنرجی کی تنقید کرتے ہیںوہ سرکاری اشتہارات سے محروم ہوچکے ہیں بلکہ سرکاری لائبریوں تک میں ایسے اخبارات کیلئے دروازے بند کردیے گئے ہیں۔ اس لیے وزارت لائبریری نے باضابطہ سرکولر جاری کیا کہ کون کون اخبار لائبریری کیلئے خرید جائیں گے ۔
قیادت کے اس مزاج کی وجہ سے پوری پارٹی کا بھی یہی مزاج بنتا جارہا ہے ہر تنقید کرنے والا ان کا دشمن ہے۔انہیں دشمنی کا مزہ چکھانے کیلئے پارٹی سرگرم ہوجاتی ہے۔2016کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس نے بایاں محاذ کے ساتھ اتحاد کرکے ممتا بنرجی کیلئے مشکلات تو کھڑی کردی تھی۔یہ تو مسلم ووٹروی کی ممتا بنرجی پر اعتماد کا کمال ہے کہ ترنمول کانگریس بڑی اکثریت کے ساتھ کامیاب ہوئی ۔اگر 25فیصد بھی اقلیتی ووٹ بایاں محاذ اور کانگریس کے حق میں چلاجاتا تو آج نتائج کچھ اور ہوتے ۔
مغربی بنگال کا مسلمان ابھی تک بایاں محاذ کی ناانصافی کو فراموش نہیں کرسکا ہے ۔اس لیے مسلم ووٹ اس اتحاد کے حق میں نہیں گیا۔بایاں محاذ نے اس کیلئے کوئی عملی کوشش بھی نہیں کی اور وہ اس کا نتیجہ بھگت رہے ہیں ۔اسمبلی انتخاب سے قبل بایاں محاذاور کانگریس کے درمیان اتحاد کو روکنے کیلئے ممتا بنرجی نے کوشش بھی کی۔دہلی جاکر بیمار سونیا گاندھی کی عیادت کی اور پارلیمنٹ میں نیشنل ہیرالڈ کے ایشو پر ترنمول کانگریس کے ممبران سونیا گاندھی کے حق میں نعرے بازی بھی کی مگر راہل گاندھی اور بنگال کانگریس کے بیشتر لیڈروں کی وجہ سے کانگریس قیادت نے دوستانہ پیش کش کو ٹھکراکر ممتا بنرجی کا مقابلہ کرنے کیلئے بایاں محاذ سے اتحاد کرلیا۔چناں چہ ممتا بنرجی کی ناراضگی بایاں محاذ سے زیادہ کانگریس سے ہے ۔یہ وہی کانگریس ہے جس کے ساتھ انتخاب لڑکر بایاں محاذ کو ہراکر 2011میں وہ اقتدار میں پہنچی تھیں۔اس لیے ممتا بنرجی کانگریس کو سبق سیکھانا چاہتی ہے۔مگرمعاملہ صرف بدلے نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک اور مقصد بھی کار فرما ہے ؟ ممتا بنرجی ریاست سے دیگرسیکولر قوتوں کا خاتمہ چاہتی ہیںتاکہ سیکولر ووٹرس کے پاس ان کے علاوہ کوئی دوسرا متبادل نہیں رہے ۔ظاہر ہے کہ جب بایاں محاذ اور کانگریس کا وجود ختم ہوجائے گا تو تیسری پارٹی بی جے پی ہی بچے گی ۔جو تیزی سے اپنا دائرہ کار بنگال میں بڑھارہی ہیں۔آر ایس ایس کی طاقت میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ 2011سے قبل بنگال میں آر ایس ایس کی شاکھائوں کی تعداد محض 300تک تھی مگر2015میں یہ تعداد980تک پہنچ چکی تھی۔اسی طرح بایاں محاذ کے دور اقتدار میں آر ایس ایس کے صرف 14یا15اسکولوں کو بنگال بورڈ سے منظوری حاصل تھی آج اس کی تعداد سیکڑہ پاس کرچکی ہے۔
ظاہر ہے کہ یہ صورت حال ریاست کے سیکولر طبقہ بالخصوص اقلیتوں کیلئے مایوس کن ہے۔کانگریس اور بایاں محاذ کا بنگال کی سیاست سے غائب ہونا صرف ایک سیاسی جماعت کے وجود کا خاتمہ نہیں بلکہ نام نہاد ہی سہی سیکولر قوتوں کا خاتمہ ہے جو سیکولر ووٹوں کیلئے متبادل کے طور پر تھا۔مگر ممتا بنرجی اور ترنمول کانگریس چاہتی ہیں کہ یہ تمام سیکولر قوتیں ختم ہوجائیں اور صرف و ہ بچ جائیں تاکہ ریاست کے29فیصد مسلم ووٹ اور سیکولر طبقے کی مجبور ی بن جائیں اور اقتدار طویل سے طویل تر رہے۔مگر یہ خطرناک کھیل ہے۔جمہوریت میں متبادل کا خاتمہ بھی کسی زوال سے کم نہیں ہوتا ہے۔اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ہے کہ ماضی میں مسلمانوں نے کانگریس کا متبادل نہیں ہونے کےسبب سنگین نتیجے کا سامنا کیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *