کیا اپنی ہار سے سبق سیکھیں گے مایا اور ملائم؟

Share Article

اجے کمار
p-10جب خواب ٹوٹتے ہیں، تو اس کا حشر کافی برا ہوتا ہے۔ اس بات کا اندازہ ملائم سنگھ یادو اور مایاوتی سے زیادہ کسی کو نہیں ہوگا۔ سال 2014 کے لوک سبھا الیکشن کے وقت بہوجن سماج پارٹی اور سماجوادی پارٹی کے سربراہوں نے کئی خواب سجا رکھے تھے۔ تھرڈ فرنٹ کے سہارے ملائم سنگھ یادو وزیر اعظم بننے کا خواب پالے ہوئے تھے، تو وہیں مایاوتی مرکز میں بیلنس آف پاور بنانا چاہتی تھیں، لیکن نریندر مودی کی آندھی ایسی چلی کہ نیتا جی اور بہن جی کے سبھی خواب چکنا چور ہو گئے۔ ایک طرف جہاں ملائم سنگھ یادو کا مسلم – یادو ایکویشن، تو وہیں دوسری طرف مایاوتی کا سوشل انجینئرنگ کا فارمولہ بھی زمین دوز ہو گیا۔ ملائم سنگھ یادو یو پی میں پانچ سیٹیں جیت کر کم از کم اپنے خاندان کی عزت بچانے میں کامیاب رہے، لیکن بی ایس پی کا تو کھاتہ بھی نہیں کھلا۔ اس درمیان مودی کی آندھی میں بی جے پی کے ایسے ایسے لیڈر بھی پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے، جو اپنے دَم پر لوک سبھا تو دور اسمبلی کا الیکشن جیتنے کے بھی اہل نہیں تھے۔ جس مودی کو مایا اور ملائم عوام کی نظر میں وِیلن بنانا چاہتے تھے، وہ سپر اسٹار کی طرح ابھرے۔ یو پی کی تاریخ میں کوئی بھی غیر کانگریسی پارٹی 80 میں سے 73 لوک سبھا سیٹیں جیتنے کا کرشمہ نہیں کر پائی تھی۔ کانگریس یہ کرشمہ صرف ایک بار کر پائی تھی۔ وہ بھی تب، جب 1984 میں اندرا گاندھی کی موت کے بعد ہوئے عام انتخابات میں سبھی 85 سیٹیں اس کی جھولی میں آ گئی تھیں۔
بی ایس پی اور ایس پی کی سرکردہ قیادت شکست کا تجزیہ ایمانداری سے کرنے کی بجائے سینہ پیٹ پیٹ کر خود احتسابی کا ڈرامہ کر رہی ہیں۔ اس سے ان پارٹیوں کا کوئی خاص بھلا ہونے والا نہیں ہے۔ یہ بات دونوں پارٹیوں کے آقاؤں کو سمجھنی ہوگی۔ اقتدار میں رہتے ہوئے سماجوادی پارٹی کا گراف گرنا اور صرف پانچ سیٹوں پر سمٹ جانا چونکانے والا رہا۔ سال 2012 میں اکھلیش یادو نے ریاست کی کمان سنبھالتے وقت نعرہ دیا تھا ’یو پی ہوئی ہماری، اب دلّی کی بار ہے‘۔ ایس پی حامی ایک سر میں کہہ رہے تھے کہ نیتا جی کو وزیر اعظم بنانا ہے، لیکن اس کے منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ سماجوادی پارٹی کے وزرائے کابینہ پارس ناتھ یادو، شاہد منظور اور رام مورتی ورما نہ صرف الیکشن ہارے، بلکہ تیسرے نمبر پر رہے۔ پارٹی کے زیادہ تر وزیر اور ایم ایل اے انتخابی جنگ میں لڑکھڑاتے دکھائی دیے۔ سماجوادی پارٹی نے حکمت عملی کے تحت یو پی اسمبلی کے اسپیکر ماتا پرساد پانڈے کے علاوہ تین وزرائے کابینہ، چار وزرائے مملکت اور آٹھ ممبرانِ اسمبلی کو انتخابی میدان میں اتارا تھا۔ ماتا پرساد ڈومریا گنج سے تیسرے نمبر پر رہے۔ فی الحال وہ ڈومریا گنج پارلیمانی حلقہ کے تحت اٹاوہ کے ایم ایل اے ہیں۔ امبیڈ کر نگر سے انتخابی جنگ میں کودے رام مورتی ورما کو بھی شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ایس پی ایم ایل اے نندتا شکلا، راج متی نشاد، غلام محمد، ظفر عالم، رامیشور سنگھ، متر سین یادو، بینچئی سروج اور رادھے شیام وغیرہ تمام ممبرانِ اسمبلی کو بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ سماجوادی پارٹی کے ترجمان راجندر چودھری کے مطابق، سماجوادی پارٹی نے بھلے ہی اتر پردیش میں پانچ سیٹیں جیتی ہوں، لیکن اس کی حالت کانگریس اور بی ایس پی کے مقابلے بہتر رہی ہے۔ کانگریس کو 2009 میں 17.25 فیصد ووٹ ملے تھے، جب کہ 2014 میں 7.50 فیصد۔ وہیں بی ایس پی کو 2009 میں 27.42 اور 2014 میں 19.60 فیصد ووٹ ملے ہیں۔ سماجوادی پارٹی کو لوک سبھا الیکشن 2014 میں 22.26 فیصد ووٹ ملے ہیں، جب کہ 2009 میں 23.26 فیصد ووٹ ملے تھے۔
حالانکہ بی ایس پی سپریمو مایاوتی اس حقیقت کا سامنا کرنے کی بجائے اس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان کی یہ دلیل کہ لوک سبھا الیکشن میں شرمناک ہار کے بعد بھی بی ایس پی کا ووٹ بینک بڑھا ہے، سمجھ سے پرے ہے۔ غور طلب ہے کہ ریاست کی 33 لوک سبھا سیٹوں پر پارٹی کا ووٹ فیصد گھٹا ہے۔ یہ حالت تب ہے، جب ووٹنگ فیصد میں بڑا اضافہ ہوا ہے۔ قریب قریب سبھی لوک سبھا حلقوں میں دو سے تین لاکھ ووٹر بڑھنے کی وجہ سے ووٹنگ فیصد آٹھ سے دس فیصد کے قریب بڑھ گیا۔ بی ایس پی کے سب سے زیادہ 125332 ووٹ وارانسی میں کم ہوئے۔ اسی طرح کیرانہ پارلیمانی سیٹ پر 122845، سہارنپور میں 119774، فیروز آباد میں 100801، قنوج میں 94102، جونپور میں 81779، مین پوری میں 76406، بریلی میں 75947، کشی نگر میں 699979، لکھنؤ میں 69161، غازی پور میں 68279، بلیا میں 62410 ووٹ کم ملے۔ دلت ووٹروں کے بی جے پی کے ساتھ جانے سے ریزروڈ سیٹوں پر بھی بی ایس پی کمزور پڑ گئی۔ پچھلی لوک سبھا میں ریاست کی 20 سیٹوں پر جیت حاصل کرنے والی بی ایس پی کا اس بار کھاتہ تک نہیں کھلا۔ یقینی طور پر یہ بی ایس پی اور مایاوتی کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے۔ سال 2009 میں بی ایس پی کے قبضے والی 20 سیٹوں میں سے 7 سیٹیں، مثلاً کیرانہ، سہارنپور، جونپور، گوتم بدھ نگر، مظفر نگر، سلیم پور اور پھول پور میں پارٹی کو پچھلی بار سے بھی کم ووٹ ملے تھے۔ ریزروڈ سیٹوں کی بات کریں، تو 17 لوک سبھا سیٹوں میں سے اٹاوہ، بہرائچ اور جالون جیسے پارلیمانی حلقوں پر پچھلی بار کے مقابلے بی ایس پی کا ووٹ بینک گھٹ گیا۔ پچھلے الیکشن میں بی ایس پی 17 ریزروڈ سیٹوں پر تیرہویں نمبر پر تھی، جب کہ اس بار گیارہویں نمبر پر آ گئی۔
حالانکہ سال 2009 کے عام انتخابات کے مقابلے اس بار 47 لوک سبھا سیٹوں پر بی ایس پی کے ووٹ ضرور بڑھے ہیں، لیکن 7 سیٹیں ایسی ہیں، جہاں بی ایس پی امیدوار کو پچھلے لوک سبھا الیکشن کے مقابلے ایک لاکھ سے زیادہ ووٹ ملے۔ مثال کے طور پر شاہجہاں پور میں 103149، کھیری میں 112099، میرٹھ میں 11564، مسریکھ میں 117585، سیتاپور میں 125413، موہن لال گنج میں 130086 اور فتح پور میں 132063 ووٹ زیادہ ملے۔ اس کے باوجود بہوجن سماج پارٹی کو اتر پردیش میں ایک بھی سیٹ نہیں ملی۔ دراصل، بی جے پی کا ووٹ فیصد بی ایس پی سمیت دیگر پارٹیوں کے مقابلے تیزی سے بڑھا۔ ایسے میں بی ایس پی کے لیے اطمینان کی بات یہ ہے کہ 34 لوک سبھا سیٹوں پر وہ دوسرے مقام پر رہی۔ g

یو پی میں36کابینہ درجاتی وزراء برخاست
لوک سبھا الیکشن کے نتائج امیدوں کے مطابق نہیں آنے پر ایس پی قیادت نے وزیر مملکت کا درجہ حاصل کرنے والے 36 وزیروں کو برخاست کر دیا ہے۔ خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں کچھ وزیروں پر بھی عتاب نازل ہو سکتا ہے۔ ان ممبرانِ اسمبلی سے بھی پوچھ گچھ کی جائے گی، جن کے اسمبلی حلقہ میں پارٹی کو کم ووٹ ملے۔ ویسے سماجوادی پارٹی میں ایسے لیڈروں کی بھی کمی نہیں ہے، جن کا ماننا ہے کہ چھوٹے ہی نہیں، بڑے لیڈروں کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے۔ نام نہ چھاپنے کی شرط پر ایس پی کے کچھ لیڈر کہتے ہیں کہ نریندر مودی کے خلاف ضرورت سے زیادہ زہر اگلنا، اعظم خان کے متنازع بیان، الیکشن میں ٹھوس حکمت عملی کی کمی، مظفر نگر فسادات کے وقت بنی ایس پی سرکار کی منفی شبیہ، ایک مخصوص طبقہ کے متاثرین کے تئیں زیادہ جھکاؤ اور عصمت دری جیسے واقعات پر پارٹی کے بڑے لیڈروں کا متنازع بیان سماجوادی پارٹی کے لیے بھاری پڑ گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ لوک سبھا الیکشن میں پارٹی کو ملی ہار کے بعد وزیر اعلیٰ اکھلیش سنگھ یادو کو ایس پی ریاستی صدر کے عہدہ سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔

مہنگی پڑی بی جے پی کے ساتھ جانے کی اٹکلیں
لوک سبھا الیکشن میں 20 سے زیرو پر پہنچ جانے کے بعد بھی بی ایس پی سپریمو مایاوتی بیدار نہیں ہوئی ہیں۔ وہ ذات پات کی سیاست سے باہر آتی نہیں دکھائی دے رہی ہیں۔ شکست سے بوکھلائی مایاوتی نے ضلع سے لے کر بوتھ سطح تک کی سبھی کمیٹیاں برخاست کرنے کے ساتھ ساتھ سبھی کو آرڈی نیٹر ہٹا دیے ہیں۔ بی ایس پی تنظیم کے ساتھ حکمت عملی میں بھی تبدیلی کرنے جا رہی ہے۔ سب کچھ لٹا کے ہوش میں آنے کی طرز پر اب مایاوتی کہہ رہی ہیں کہ مرکزی حکومت کو حمایت دینے کا فیصلہ بی ایس پی کو مہنگا پڑا۔ مایاوتی نے مودی کے خلاف جارحانہ پرچار کیا، لیکن بار بار ان کا یہ کہنا کہ مسلم ووٹ نہ بٹے، یہ غیر مسلم ووٹروں کو کافی ناگوار گزرا۔ یہی وجہ ہے کہ بی ایس پی کو لوک سبھا الیکشن میں شرمناک ہار کا سامنا کرنا پڑا۔ مایاوتی کا یہ داؤ بھی الٹا پڑ گیا، کیوں کہ اسے نہ تو مسلمانوں نے ووٹ دیا، نہ ہی اپنے سماج کے باقی طبقوں کی حمایت اسے ملی۔ اس کے علاوہ، مسلمانوں نے بی ایس پی کے حق میں اس لیے ووٹ نہیں کیا، کیوں کہ انہیں لگا کہ وہ موقع پڑنے پر بی جے پی کے ساتھ جا سکتی ہیں۔

اواخر 2014میں چند سیٹوں پر ضمنی انتخاب
بی ایس پی اور ایس پی لیڈر اپنی غلطیوں سے سبق لینے کی بات کہہ رہے ہیں۔ البتہ اس کا تجزیہ بھی 6 ماہ کے اندر ہو جائے گا۔ اس بار لوک سبھا الیکشن میں یو پی سے 12 ایم ایل اے رکن پارلیمنٹ چن لیے گئے ہیں۔ وہیں اگر مودی وارانسی کی سیٹ نہیں چھوڑتے ہیں، تب بھی ملائم کو مین پوری یا اعظم گڑھ میں سے ایک سیٹ چھوڑنے پر اس سیٹ کے لیے ووٹنگ ہوگی۔ چھ ماہ میں کیا کچھ حالات بدلتے ہیں، اس کا انتظار سب کو رہے گا۔ ویسے اس بات کی اندیکھی نہیں کی جا سکتی کہ لوک سبھا الیکشن جیتنے والے سبھی 12 ایم ایل اے بی جے پی کے ہیں۔ ایسے میں انہیں امید ہے کہ مودی لہر میں ان کی سیٹوں کا بال بیکا بھی نہیں ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *