عابد انور
ملک میں سب سے آسان ہدف مسلمان، دلت اور کمزور طبقات ہیں۔ ہندوستان میں یہ قدیم روایت رہی ہے کہ ہر بڑے کا گناہ چھوٹے کے سر تھوپ دیا جاتا ہے۔ ملک میںیہ سلسلہ زمانۂ طالب علمی سے شروع ہوتا ہے، جب کسی بڑے گھر کا کوئی طالب علم جرم کرتاہے، تو اپنے آپ کو پاک صاف رکھنے کے لیے اس درسگاہ میںزیر تعلیم دلت یا کمزور (مالی اعتبارسے) طالب علم کو اس جرم کا ذمہ دار قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہی روش ہندوستان میں آگے بھی زور و شور سے فروغ پاتی ہے۔ اس کا نظارہ آپ ہر جگہ دیکھیں گے، خواہ وہ کوئی دفتر یا کام کرنے کی کوئی اور جگہ ہو، زندگی کے ہر شعبے میں ہر جگہ اس کا جلوہ نظر آئے گا، کیوں کہ ہندوستان میں پیسے کو ایک دیوی کی حیثیت حاصل ہے، اس لیے کوئی بھی اس سے روگردانی کی جرأت نہیں کرسکتا۔ پیسے میں وہ طاقت ہے کہ ہر چیز کو اپنا غلام بنالیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انصاف خریدا جاتا ہے۔ تختہ دار پر ہمیشہ کمزور، دلت اور مسلمان ہی کیوں چڑھتے ہیں؟ کیا سزا میں مسلمان، دلت اورکمزور طبقوں کا سو فیصدی ریزرویشن ہے؟ پھانسی کی سزا پانے والے، عمر قید کی سزا کاٹنے والے اور دیگر جرائم میں سزا پانے والوں کے اعداد و شمار سے اندازہ لگایا جاسکتاہے اور یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ دال میں کچھ نہ کچھ کالا ضرور ہے۔ آزادی کے بعد ہندوستان میں کمزور طبقوں کی فلاح و بہبود کے لیے بہت ساری اسکیمیںنافذ کی گئیں، لیکن ان کا فائدہ ان تک کیوں نہیں پہنچا؟ منڈل کمیشن کے بعد دلتوں کی پچھڑے پن میں کسی حدتک کمی آئی ہے اور ریزرویشن کا فائدہ انہیں مل رہاہے اور اس طبقہ سے وابستہ لوگ جہاں سول سروس میں اپنا قدم جما رہے ہیں، وہیں سیاست و قیادت کے میدان میں بھی اپنا پرچم لہرا رہے ہیں۔ اس کے اتحاد نے آج انہیں اس مقام تک پہنچا دیا ہے کہ اقتدار کی کنجی اس طبقے کے اردگرد گھومتی نظر آتی ہے۔ آج ہندوستان کی کوئی بھی سیاسی پارٹی ان کے خلاف لب کشائی کی ہمت تو دور کی بات ہے، زبان کھولنے کاتصور بھی نہیں کرسکتی۔ اس کے اتحاد اور اس کی طاقت کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ سال لکھنؤ میں مایاوتی اور امبیڈ کر کی مورتی کو نقصان پہنچایا گیا، تو راتوں رات اکھلیش حکومت نے دوسری مورتی نصب کروائی تھی۔

جے پورکے ادبی میلے میں مشہور مصنف آشیش نندی نے ایک متنازعہ بیان دے کر اپنی ذہنیت کو اجاگر کردیا۔ ان کے بیان سے ایک موٹی بات نکل کر آئی ہے کہ پسماندہ، دلت اور قبائلی بدعنوان ہیں اور اونچی ذات کے لوگ ایماندار۔ انہوں نے کہا تھا کہ’’ زیادہ او بی سی، ایس سی اور ایس ٹی طبقہ سے آتے ہیں اور جب ایسا ہوتا رہے گا، ہندوستان کے لوگ بھگتتے رہیں گے‘‘حالانکہ اس بیان پر شدید ردعمل کے بعد اپنی صفائی میں انہوں نے کہا کہ ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ معاشرے کا اعلیٰ طبقہ اپنے کرپشن کو چھپانا جانتا ہے، اس لیے پکڑا نہیں جاتا۔ حالانکہ آشیش نندی نے یہ بات پہلی بار نہیں کہی ہے، بلکہ انہوں نے پندرہ روزہ میگزین دی پبلک ایجینڈا کے اگست 2011 کے شمارے میں بات چیت کے دوران بھی اپنے اس موقف کو منطقی انداز میں رکھا تھا ’’میں نے دلتوں میں امبیڈکر کو بھی دیکھا اور اب مایاوتی بھی ہیں۔

یہ اس لیے ممکن ہوسکا، کیوں کہ ان میں اٹوٹ اتحاد ہے، مذہبی اور روایتی دراڑ کے باوجود وہ اپنے مسائل پر ایک ساتھ کھڑے ہوجاتے ہیں اور اس طبقہ کا ہر لیڈر ایک ہی زبان بولتاہے، خواہ ان کا تعلق کسی بھی پارٹی سے کیوں نہ ہو۔ مسلمان کی طرح نہیں کہ مذہب اورروایت میں اٹوٹ اتحاد کے باوجودنہ صرف منتشر نظر آتے ہیں، بلکہ ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار بھی ہوتے ہیں۔
یہ ایک ڈیڑھ سال کا وقت ہندوستانی سیاست کے لیے بہت اہم ہے۔ اسی عرصہ میں 9 ریاستی اسمبلیوں اور لوک سبھا کے عام انتخابات ہونے والے ہیں، جس کی تیاری سبھی پارٹیوں نے شروع کردی ہے اور ہر طبقہ کو آزمانے کا کام شروع ہوگیا ہے۔ آزمودہ حربے آزمانے کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ ایک دوسرے کے خلاف نفرت آمیز سیاست، اشتعال انگیز تقاریر اور ایک دوسرے کے مذہبی جذبات، معاشرتی اقدار اور اقتصادی حالات پر حملے کا دور شروع ہوچکا ہے۔ جے پور کے ادبی میلے میں مشہور ادیب آشیش نندی کا دلتوں کے سب سے بدعنوان ہونے کا الزام بھی اسی سلسلہ جنبانی کا حصہ ہے۔
جے پورکے ادبی میلے میں مشہور مصنف آشیش نندی نے ایک متنازعہ بیان دے کر اپنی ذہنیت کو اجاگر کردیا۔ ان کے بیان سے ایک موٹی بات نکل کر آئی ہے کہ پسماندہ، دلت اور قبائلی بدعنوان ہیں اور اونچی ذات کے لوگ ایماندار۔ انہوں نے کہا تھا کہ’’ زیادہ او بی سی، ایس سی اور ایس ٹی طبقہ سے آتے ہیں اور جب ایسا ہوتا رہے گا، ہندوستان کے لوگ بھگتتے رہیں گے‘‘حالانکہ اس بیان پر شدید ردعمل کے بعد اپنی صفائی میں انہوں نے کہا کہ ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ معاشرے کا اعلیٰ طبقہ اپنے کرپشن کو چھپانا جانتا ہے، اس لیے پکڑا نہیں جاتا۔ حالانکہ آشیش نندی نے یہ بات پہلی بار نہیں کہی ہے، بلکہ انہوں نے پندرہ روزہ میگزین دی پبلک ایجینڈا کے اگست 2011 کے شمارے میں بات چیت کے دوران بھی اپنے اس موقف کو منطقی انداز میں رکھا تھا ’’میں نے دلتوں میں امبیڈکر کو بھی دیکھا اور اب مایاوتی بھی ہیں۔ اسی طرح اوبی سی لیڈروں میں بھی ایماندار اور کرپٹ لوگ ہیں، لیکن میں اتنا ضرور کہوں گا کہ جیسی جمہوریت ہمارے ملک میں ہے، ویسی کہیں اور نہیں ہے اور جمہوریت میں سب کی شرکت میں اضافہ ہوا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ جمہوریت کی اسی شرکت کا بائی پروڈکٹ ہے بدعنوانی۔‘‘ اس پر غور کیا جائے، تو یہ صرف آشیش نندی کی واحدسوچ نہیں ہے۔ جب بھی دلت پسماندہ طبقات کے مفاد، یعنی انہیں معاشرہ اور ملک کے مین اسٹریم سے منسلک کرنے کے لیے سرکاری سطح پر کوشش ہوتی ہے، تو اس کی اونچی ذات کا حامل سماج مخالفت کرنے لگتا ہے۔ اسے اپنے حقوق خطرے میں نظر آنے لگتے ہیں۔ اسے لگتا ہے کہ اس کا حق مارا جارہا ہے۔ انہیں یہ احساس نہیں ہوتا ہے کہ صدیوں سے اپنے حقوق سے محروم طبقوںکو ملک میں آئینی طور پر مساوی حق حاصل ہے۔ اس طبقہ کو بھی وہی اختیارات حاصل ہیں، جن سے وہ صدیوں سے فائدہ اٹھارہے ہیں۔ کچھ دلتوں کا اپنی اصل حالت سے تھوڑا اوپر اٹھ جانا، انتظامی کرسیوں پر بیٹھ جانا یا پارلیمنٹ میں پہنچ جانا شاید وہ ہضم نہیں کرپا رہے ہیں۔ آشیش نندی براہ راست اسی ذہنیت کی نمائندگی کر رہے ہیں، جس کا مقصد ان طبقوں کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ کر رکھنا ہے۔ آج سے تقریباًَ تین ہزار سال پہلے کی ذہنیت کے ساتھ آج بھی نندی جی کھڑے ہیں۔ ان کا بیان ایک غیر واجب اور دلت پسماندہ مخالف ذہنیت کی ہی نمائندگی کر رہا ہے۔ پارلیمنٹ میں تقریباً چار سو ایم پی کروڑ پتی ہیں، جن میں سے کچھ ارب پتی بھی ہیں۔ اس کے برعکس ملک کی 40 کروڑ سے زائد آبادی کو (سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ورنہ حقیقت میں یہ تعداد 66 کروڑ ہے، جیسا کہ اقوام متحدہ نے بھی کہا ہے) پیٹ بھراناج نہیں ملتا۔ ان میں کتنے اعلیٰ طبقے کے افراد ہیں۔ گزشتہ 40-45 برسوں سے متوسط طبقوں میں نوے فیصد سے زیادہ اونچی ذاتیں شامل تھیں۔
انٹرنیشنل ٹرانسپیرنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں 75 فیصدعوام کسی نہ کسی صورت میں رشوت دیتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال ہندوستانی عوام کو اپنے کام کروانے کے عوض پانچ بلین ڈالر سے زائد رقم ادا کرنی پڑتی ہے۔ بدعنوان ملکوں کی فہرست میں ہندوستان کا مقام 78 واں تھا، جب کہ 2010 میں اس میںاضافہ ہوکر 87 ویں مقام پرپہنچ گیا۔ ہندوستان کو بدعنوانی میں نمایاں مقام دلانے میں دولت مشترکہ کھیل کا بھی بڑا اہم کردار رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کھیل کی تیاریوں کے دوران ایک لاکھ کروڑ روپے خرچ کیے گئے، جس میں 75 ہزار کروڑروپے سیاست داں، افسر شاہی اور دیگر نے مل جل کرہضم کرلیے، صرف 25 ہزار کروڑ روپے کا کام ہوا تھا۔ آزاد ہندوستان کی عمرجو ں جوں بڑھتی جارہی ہے، بدعنوانی اوررشوت خوری میں بھی ترقی ہورہی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق جہاں 2005 میں 50 فیصد لوگوں نے اپنے کام کروانے کے بدلے رشوت دی تھی، وہیں 2010 میں رشوت دینے والے ہندوستانیوں کی تعدادبڑھ کر 75 فیصد تک پہنچ گئی۔ اسی طرح 2005 میں پبلک سیکٹر کے آفس میں ملازمت حاصل کرنے والے 50 فیصد امیدوار کو رشوت دینی پڑی تھی۔ ہندوستان میںمال برداری اور سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ تک پہنچانے میں ٹرک نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔ ٹرک مالکان کو ایک ٹرک پرمختلف جگہوں پر سالانہ اوسطاً 80 ہزارروپے ادا کرنے پڑتے ہیں۔ ایک اندازہ کے مطابق ہندوستان میں ٹرک مالکان کو سالانہ بطوررشوت پانچ بلین ڈالر ادا کرنے پڑتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ مذہبی ادارے بھی اس وباسے پاک نہیں ہیں۔ مذہبی اداروں میںسالانہ  21068 کروڑ روپے رشوت لی جاتی ہے اور یہ رشوت خوری میں تیرہویں مقام پر ہیں، پولس سے صرف ایک مقام پیچھے۔ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مطابق سرکاری اختیارات کا ناجائز استعمال بھی بدعنوانی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ ایسا مرض ہے، جو ناقص نظم و نسق کے ماحول میں زیادہ پھلتا پھولتا ہے۔ کرپشن کے خلاف کام کرنے والی عالمی تنظیم، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی بحران پر قابو پانے میں درپیش مشکلات میں سے ایک بدعنوانی بھی ہے۔
ہندوستانی سماج کا بدعنوانی سے چولی دامن کا رشتہ ہے۔ اس سے مفر کسی بھی صورت میں ممکن نہیں۔ ہندوستانی معاشرہ میں کرپشن کسی نہ کسی صورت میں جاری رہے گا۔ 1948 سے 2008 تک صرف سیاست داں ہی 20 لاکھ کروڑ روپے کی رشوت کی صورت میں ڈکارچکے ہیں۔ اس کے بعد نوکر شاہ جو اپنے آپ کو کسی شہنشاہ سے کم تر نہیں گردانتے، دوسرے نمبر پر ہیں۔ ہندوستان کی تمام سیاسی پارٹیاں اس حمام میں ننگی ہیں، لیکن ٹوجی اسپیکٹرم اور دولت مشترکہ کھیل نے بدعنوانی کے خلاف جنگ لڑنے والوں میںاچانک جوش بھر دیا۔ ہندوستان کو دونوں ہاتھوں سے کون لوٹ رہا ہے، سیاست داں، نوکر شاہ یا کارپوریٹ سیکٹر؟ اس کے باوجود اس نے کبھی سرمایہ داروںکے خلاف جنگ نہیں چھیڑی، کسی کے خلاف کبھی بدعنوانی پر روشنی ڈالی بھی گئی، تو کسی پارٹی کے اشارے پر یا اس کے کسی حریف کے عندیہ پر۔ ہندوستان کے سیاسی نظام کے بعد سب سے زیادہ کرپٹ، بدعنوان اور رشوت خور نظام ہندوستان کی بیورو کریسی ہے، جسے ہم نوکر شاہ بھی کہتے ہیں۔ درحقیقت، یہی نظام ملک کو چلاتا ہے، جو بدعنوانی میںدوسرے مقام پرفائزہے۔ زمین و جائدا د کا محکمہ رشوت خوری میں تیسرے مقام پرمتمکن ہے۔ ٹنڈر اور کنٹریکٹ دینے والے محکمہ کو چوتھا درجہ حاصل ہے، جب کہ میڈیسن کا محکمہ، جس پر انسانوں کی موت و حیات کا دارومدار ہے، اس فہرست میں پانچویں نمبر پر ہے۔ اس سے بڑھ کر کسی ملک اور یا کسی شخص کی کیا بدنصیبی ہوسکتی ہے کہ مرنے کے بعدبھی اس کے نام پررشوت طلب کی جائے۔ موت کا سرٹیفکیٹ دینے والامحکمہ رشوت لینے میں چھٹے مقام پر ہے۔ اس کے بعد ٹرانسپورٹ، انکم ٹیکس، عدلیہ، ملک کی حفاظت کی ذمہ داری اداکرنے والے مسلح دستے، پولس اور مذہبی ادارے رشوت لینے والوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ جولائی 2008 کی ایک رپورٹ کے مطابق 543 ممبران پارلیمنٹ میں سے ایک چوتھائی ممبران پر کرمنل چارجز تھے، جن میں سے انسانوں کی تجارت، امیگریشن، ریکٹ چلانا، غبن، آبروریزی اور دیگرجرائم کے ارتکاب کے مقدمات شامل تھے۔
سوئس بینک کے ڈائریکٹرنے ہندوستانیوںکی غربت پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی غریب ہیں، لیکن ہندوستان کبھی غریب نہیں رہا۔ ان کے مطابق، ہندوستان کے تقریباً 280 لاکھ کروڑ روپے سوئس بینک میں جمع ہیں۔ یہ رقم اتنی زیادہ ہے کہ ہندوستان کا آنے والے 30 سالوں کا بجٹ بغیر ٹیکس کے بنایا جا سکتا ہے یا یوں کہیں کہ 60 کروڑ روزگار کے مواقع دیے جا سکتے ہیں یا یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہندوستان کے کسی بھی گاؤں سے دہلی تک 4 لین روڈ بنائی جا سکتی ہے۔ ایسا بھی کہہ سکتے ہیں کہ 500 سے زیادہ سماجی پروجیکٹ مکمل کیے جا سکتے ہیں۔ یہ رقم اتنی زیادہ ہے کہ اگر ہر ہندوستانی کو 2000 روپے ہر مہینے بھی دیے جائیں، تو 60 سال تک ختم نہ ہوں، یعنی ہندوستان کو کسی عالمی بینک سے قرض لینے کی کوئی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔
ذرا سوچئے، ہمارے بدعنوان سیاستدانوں اور نوکرشاہوں نے کس طرح ملک کو لوٹا ہے اور یہ لوٹ کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ یہ اعداد و شمار 2011  کے ہیں۔ انگریزوں نے ہندوستان پر تقریباً 200 برسوں تک حکومت کر کے تقریباً ایک لاکھ کروڑ روپے لوٹے۔ ہندوستان کے اہم اقتصادی گھپلوں میں بوفورس گھوٹالہ – 64 کروڑ روپے، یوریا گھوٹالہ 133 کروڑ روپے، چارہ گھوٹالہ – 950 کروڑ روپے، اسٹاک مارکیٹ گھوٹالہ – 4000 کروڑ روپے، ستیم گھوٹالہ – 7000 کروڑ روپے، اسٹیمپ پیپر گھوٹالہ – 43 ہزار کروڑ روپے، کامن ویلتھ گیمز گھوٹالہ – 70 ہزار کروڑ روپے، 2 جی اسپیکٹرم گھوٹالہ – 1 لاکھ 67 ہزار کروڑ روپے، اناج گھوٹالہ – 2 لاکھ کروڑ روپے (اندازاً)۔ کیا آشیش نندی بتائیں گے کہ اس میں کتنے او بی سی اور ایس سی یا ایس ٹی کے افراد شامل تھے؟
ہندوستانی سیاست داں اب تک 20 لاکھ کروڑ روپے ہضم کرچکے ہیں۔ کیا آشیش نندی یہ بتائیں گے کہ ان میں سے کتنے دلت اور پسماندہ طبقے سے ہیں؟ ان میں سے دلت اور پسماندہ طبقات دو فیصد بھی نہیں ہوں گے۔ بدعنوانی میں دوسرے مقام پر نوکر شاہ ہیں۔ ان میں دلتوں کی تعداد کتنی ہے؟ فیصلہ ساز اداروں اور پالیسی سازوں میں دلتوں اور پسماندہ طبقات کی کتنی نمائندگی ہے؟ سرکاری اسکیمیں، جو آزادی کے بعد سے حکومت نے غریبوں اور پسماندہ طبقوں کے لیے نافذ کی تھیں، ان پر قبضہ کتنے دلتوں نے کیا تھا؟ مدھوکوڑا، شیبو سورین یا دیگر افراد کی مالیات کے منیجر کون تھے؟ اگر دلت اور پسماندہ طبقات کے رہنما بدعنوان ہیں، تو انہیں بدعنوانی کے گرُ کس نے سکھائے؟ جتنے بھی دلت اور پسماندہ طبقات کے وزراء رہے ہیں یا ہیں، ان کے پی ایس، پی او، او ایس ڈی اور دیگر لین دین کے کام انجام دینے والے کون تھے؟ میڈیا جس طرح آشیش نندی کے دفاع میں آیا، وہ بہت افسوسنا ک تھا۔ میڈیا نے دفاع کرتے ہوئے مایاوتی، لالو پرساد یادو، مدھوکوڑا، ملائم سنگھ وغیرہ کے نام لیے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ او بی سی میں جتنے بھی لیڈر ہیں، وہ سب بدعنوان ہیں۔ بدعنوانی، انتظامیہ اور تمام شعبہ ہائے حیات پر اب تک اعلیٰ ذات کا قبضہ تھا۔ دلتوں کے آگے بڑھنے سے برہمن نظام کا تانا بانا بکھر رہا ہے۔ انہیں اپنا سامراج ٹوٹتا بکھرتا دکھائی دے رہا ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ جب دلت اور او بی سی بھی ہر شعبے میں داخل ہوں گے، تو ان میں سے کچھ بدعنوان بھی ہوں گے،  کیوں کہ بدعنوانی ہندوستانی نظام کا اٹوٹ حصہ ہے۔ دراصل، بدعنوانی ایک ملک گیر مسئلہ ہے، جس کا کسی ذات خاص یا طبقے خاص کو نشانہ بنانا غلط ہے۔ آشیش نندی نے یقینا غلط کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک کے تمام وسائل اور اہم عہدوں پر اعلیٰ ذات کے لوگوں کا قبضہ ہے اور تمام انتظام و انصرام وہی سنبھالتے ہیں، اس لیے بدعنوان بھی وہی ہیں۔ دلتوں اور پسماندہ طبقات کی طرف انگلی اٹھانا بالکل غلط ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here