کویت پارلیمنٹ تحلیل : قیدی بھی الیکشن میں شریک ہوسکتے ہیں

Share Article

p-8bکویت کے امیر شیخ صباح الاحمد الصباح نے ملک کی پارلیمان کو تحلیل کر دیا ہے۔پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کا مطالبہ کافی دنوں سے چل رہا تھا ۔خاص طور پر اسلام پسندوں کی پارٹی جوکہ پارلیمنٹ کے اپوزیشن میں تھی پارلیمنٹ کو تحلیل کرکے نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ کویت میں پارلیمنٹ تحلیل ہونے کا2006 کے بعد یہ پانچوں واقعہ ہے ۔کویت کی پارلیمان کا کئی مہینوں سے کوئی اجلاس بھی نہیں ہو پایا ہے کیونکہ حزب اختلاف نے اس کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔اس بائیکاٹ کی وجہ سے کویت کی حکومت دبائو میں تھی اور اندازہ لگایا جارہا تھا کہ جلد ہی پارلیمنٹ تحلیل ہوجائے گی۔جیسا کہ تحلیل ہونے سے صرف 24 گھنٹے پہلے اسپیکر مرزوق الغنیم نے یہ اشارہ دیا تھا کہ ملک میں قبل از وقت انتخابات ہوسکتے ہیں۔
حالانکہ امیر کویت نے پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کے پیچھے کسی خاص وجہ نہیں بتائی ہے لیکن ایسا اندازہ لگایا جارہا ہے کہ گزشتہ کچھ دنوں سے ملک کو سلامتی اور اقتصادی چیلنج کا سامنا تھا۔ حکومت اور قانون دانوں کے درمیان پٹرول کی قیمتیں بڑھانے کے معاملے پر کشیدگی بڑھی ہوئی تھی جس کے باعث یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ قانون داں طبقہ حکومت کی طرف سے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے فیصلے کو ناجائز قرار دے رہا تھا جبکہ ملک کی معیشت کو دیکھتے ہوئے سیاست دانوں کے لئے قیمت میں اضافہ کرنا ناگزیر تھا۔دونوں طبقے میں اس اختلاف کی وجہ سے ملک میں تنائو کا ماحول پیدا ہورہا تھا۔اس تنائو کو ختم کرنے کے لئے امیر کویت کے سامنے بس یہی ایک راستہ رہ گیا تھا کہ وہ سابقہ پارلیمنٹ کو ختم کرکے عوام کو پھر سے اپنا نمائندہ منتخب کرنے کا اختیار دیں۔یہ نو منتخب نمائندے ملک کو درپیش مسائل کا حل تلاش کریں گے۔
کویت کے قانون کے مطابق دو ماہ کے اندر انتخاب کرانے ہوںگے ۔حالانکہ عربی اخبارات میں یہ خبر آرہی ہے کہ اگلا انتخاب نومبر کے مہینے میں ہی کرالیا جائے گا۔اس کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ الیکشن جتنی جلد ہو، اتنی جلدی ملک میں سلامتی اور اقتصادی مسائل کے تنازع کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔ اس سلسلے میں پارلیمانی اسپیکر مرزوق الغنیم کا بھی ایک بیان آیا ہے کہ ریاستی سیکورٹی و معاشی مسائل اگر برقرار رہے تو قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کرائے جا سکتے ہیں۔ غنیم نے یہ ریمارکس پارلیمنٹ میں بحث کے لیے داخل کرائی جانے والی ان تین درخواستوں پر دئیے جو ریاست میں پٹرول کی قیمت میں اضافے اور دوسری مالی و انتظامی بے ضابطگیوں کے حوالے سے جمع کرائی گئی تھیں ۔

کویت کے مقامی اخباروں میں کویت کے آئندہ الیکشن کو لے کر ایک اور بات بہت گرم ہے کہ کیا آئندہ الیکشن میں ان قیدیوں کو حصہ لینے کا حق دیا جائے گا جو مختلف وجوہات سے جیلوں میں بند ہیں۔اس سلسلے میں کویت کے آئینی و قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان پر لگایا گیا الزام عزت و وقار کے خلاف نہیں ہے تو ایسی صورت میں ایسے ملزم یا مجرم کو انتخاب میں حصہ لینے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔عام طور پر اس طرح کے مشورے ٹویٹر پر خوب آرہے ہیں کہ جن لوگوں نے قومی یا سماجی اعتبار سے کوئی ایسا کام نہیں کیا ہے جس سے وقار مجروح ہوتا ہو تو ایسے افراد کو الیکشن میں حصہ لینے سے نہیں روکا جانا چاہئے۔دراصل یہ مسئلہ قومی اسمبلی کے سابق سربراہ احمد سعدون کے اس مارچ کو لے کر پیدا ہوا ہے جس میں ان پر بائیکاٹ پر اکسانے کا الزام طے ہوا تھا۔اسی طرح سابق ڈپٹی اسپیکر مسلم براک پر بھی الزام لگاہوا ہے کہ انہوں نے حکومت کا بائیکاٹ کرنے کی حوصلہ افزائی کی تھی۔ اب چونکہ ان پر الزام لگا ہوا ہے اس لئے الیکشن میں ان کا شامل ہونا ابھی طے نہیں ہے۔حالانکہ ماہرین قانون نے ان کی راہ کے روڑے ہٹا دیئے ہیں اور قانونی اعتبار سے ان کا راستہ صاف کردیا ہے ،اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ آئندہ انتخاب میں شریک ہوتے ہیں یا نہیں۔

 
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت جلد سے جلد الیکشن کرانے کے حق میں ہے۔ واضح رہے کہ کویتی پارلیمان 18 اکتوبر کو اپنی چار سالہ مدت کے تین سال مکمل کرنے والی تھی۔ لیکن قبل از وقت پارلیمنٹ کو تحلیل کرکے امیر کویت نے ایک جرات مندانہ قدم اٹھایا ہے۔ان کے اس فیصلے پر کویتی سیاستداں حیران ہیں،ان کی نظر میں اسمبلی توڑنے کی کوئی وجہ موجود نہیں تھی اور جو مسائل تھے انہیں بغیر تحلیل کے بھی حل کیا جاسکتا تھا جبکہ امیر کے اس فیصلے پر قانوں داں طبقہ خوش ہے۔بہر کیف کویت کی پارلیمنٹ تحلیل ہونے سے ایک پیغام تو ملتا ہی ہے کہ امیر ترین ملک کہا جانے والا کویت کی اندرونی معاشی حالت میں کہیں نہ کہیں کچھ گڑبڑی ہے اور اس گڑ بڑی پر قابو پانے کے لئے امیر کویت کو اتنا بڑا قدم اٹھانا پڑا ہے۔
بہر کیف کویت کے مقامی اخباروں میں کویت کے آئندہ الیکشن کو لے کر ایک اور بات بہت گرم ہے کہ کیا آئندہ الیکشن میں ان قیدیوں کو حصہ لینے کا حق دیا جائے گا جو مختلف وجوہات سے جیلوں میں بند ہیں۔اس سلسلے میں کویت کے آئینی و قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان پر لگایا گیا الزام عزت و وقار کے خلاف نہیں ہے تو ایسی صورت میں ایسے ملزم یا مجرم کو انتخاب میں حصہ لینے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔عام طور پر اس طرح کے مشورے ٹویٹر پر خوب آرہے ہیں کہ جن لوگوں نے قومی یا سماجی اعتبار سے کوئی ایسا کام نہیں کیا ہے جس سے وقار مجروح ہوتا ہو تو ایسے افراد کو الیکشن میں حصہ لینے سے نہیں روکا جانا چاہئے۔دراصل یہ مسئلہ قومی اسمبلی کے سابق سربراہ احمد سعدون کے اس مارچ کو لے کر پیدا ہوا ہے جس میں ان پر بائیکاٹ پر اکسانے کا الزام طے ہوا تھا۔اسی طرح سابق ڈپٹی اسپیکر مسلم براک پر بھی الزام لگاہوا ہے کہ انہوں نے حکومت کا بائیکاٹ کرنے کی حوصلہ افزائی کی تھی۔ اب چونکہ ان پر الزام لگا ہوا ہے اس لئے الیکشن میں ان کا شامل ہونا ابھی طے نہیں ہے۔حالانکہ ماہرین قانون نے ان کی راہ کے روڑے ہٹا دیئے ہیں اور قانونی اعتبار سے ان کا راستہ صاف کردیا ہے ،اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ آئندہ انتخاب میں شریک ہوتے ہیں یا نہیں۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *