حکومت بچانے کے لیے كمارسوامي فعال، ناراض ممبران اسمبلی کو دیا وزیر کے عہدے کی پیشکشیں

Share Article

 

جن 13 ممبران اسمبلی نے اپنا استعفیٰ سونپا ہے، انہیں کرناٹک اسمبلی کے صدر نے اب تک نہیں قبول ہے۔ وہ پیر تک چھٹی پر ہیں، ایسے میں اس معاملے پر بات چیت منگل کو ہی ہوگی۔

کرناٹک میں ایک بار پھر سیاسی بحران گہرایا ہے۔ کانگریس اور جےڈيےس کی كمارسوامي حکومت کے سامنے اقتدار کو بچانے کا چیلنج ہے۔ 13 ممبران اسمبلی کے استعفیٰ کے بعد بی جے پی اپنے لئے اقتدار کا راستہ دیکھ رہی ہے۔ اس دوران وزیر اعلی ایچ ڈی كمارسوامي کی جانب سے اپنی حکومت بچانے کی کوششیں جاری ہیں۔ ذرائع کی مانیں تو JDS نے اپنے تین ممبران اسمبلی کو وزیر کے عہدے، بورڈ چیئرمین طرح خطوط کا آفر دیا ہے۔تاکہ حکومت کا بحران ختم ہو سکے۔

استعفیٰ دینے والے 13 اراکین اسمبلی میں 10 کانگریس اور 3 جےڈي ایس کے ہیں۔ دونوں ہی پارٹیاں اپنے ممبران اسمبلی کو منانے میں مصروف ہیں، لیکن کوئی بھی کامیاب نہیں ہوا۔ جےڈی ایس نے جن تین ممبران اسمبلی کو آفر دیا ہے، ان کے بھی واپس آنے کی امید پارٹی کو نہیں ہے۔ یہ تینوں ہی ممبر اسمبلی اب ممبئی میں موجود ہیں۔

پارٹی کی طرف سے رکن اسمبلی وشوناتھ، گوپالا کو وزیر عہدے کے لیے آفر کیا گیا ہے تو وہیں نارائن گوڑا کو بورڈ چیئرمین کا عہدہ آفر کیا ہے۔ بتا دیں کہ اتوار کو جےڈی ایس کے ممبران اسمبلی کی میٹنگ ہوئی تھی، جس میں اس بحران پر بات ہوئی۔ ملاقات کے دوران کئی لیڈروں نے ٹورازم منسٹر ایس- اے- مہیش کو ممبران اسمبلی کی ناراضگی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

غور طلب ہے کہ کانگریس اور جےڈی ایس کی مخلوط حکومت کئی بار بحران میں آ چکی ہے۔ لیکن اب 13 ممبران اسمبلی کا استعفیٰ بڑا بحران ہے۔ دونوں پارٹیوں کے لیڈر مسلسل اجلاس پر ملاقات کر رہے ہیں۔ سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوگوڑا نے اتوار کو کانگریس لیڈر ڈی شیو کمار سے ملاقات کی تھی، لیکن بات نہیں بنی۔ الٹا دیوگوڑا نے شیو کمار پر تیز سوالات کی بوچھار کردیاور صاف کہا کہ کیا کانگریس اپنے ممبران اسمبلی کو منا سکتی ہے یا اپنے طور پر اس بحران کو دور کر سکتے ہیں۔

اگر بات استعفیٰ کی کریں تو جن 13 ممبران اسمبلی نے اپنا استعفیٰ سونپا ہے، انہیں کرناٹک اسمبلی کے صدر نے اب تک نہیں قبول ہے۔ وہ پیر تک چھٹی پر ہیں، ایسے میں اس معاملے پر بات چیت منگل کو ہی ہوگی۔اب دونوں جماعتوں کے سامنے چیلنج ہے کہ کیا تب تک وہ اپنے ناراض ممبران اسمبلی کو منا پائے گی یا نہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *