کولہاپور: پولس ٹریننگ اسکول یا جنسی استحصال کا اڈہ

Share Article

وسیم راشد
ایک فلم آئی تھی انجام جس میں مادھوری دیکشت شاہ رخ خاں کے ظلم و ستم کا شکار ہو کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچ جاتی ہے۔ شاہ رخ خاں شادی شدہ مادھوری سے بے انتہا پیار کرتا ہے اور جب اظہار محبت میں ناکامی ہوجاتی ہے تو وہ مادھوری کے شوہر کا قتل کر کے اس کا الزام مادھوری پر ہی لگا دیتا ہے۔ مادھوری جب حوالات میں ہوتی ہے تبھی اسے پتہ چلتا ہے کہ وہ حاملہ ہے، اسی دوران خاتون پولس انسپکٹر حوالات میں بند دوسری لڑکیوں کو کچھ بڑے سیاست دانوں کے سامنے ان کی ہوس پوری کرنے کے لیے بلاتی ہے اور اسی میں مادھوری بھی شامل ہوتی ہے۔ مادھوری خود کو کس طرح بچاتی ہے اور دوسری لڑکیاں کس طرح اس دلدل میں پھنس جاتی ہیں، یہ پوری فلم کی کہانی ہے، مگر اس میں ایک بات اہم ہے اور وہ یہ کہ جیل کی چار دیواری، پولس اور خاکی وردی میں ملبوس ہمارے وطن کے رکھوالے سب عورتوں کا جنسی استحصال کرتے ہیں۔ ان سب کے بیچ میں رہ کر بھی عورتوں کی عصمت محفوظ نہیں۔ کچھ دن قبل خبر آئی کہ کولہا پور کے ایک پولس ٹریننگ اسکول میں 11 کنواری ٹرینی کانسٹبل حاملہ پائی گئیں۔ افسوس اس بات کا ہوا کہ یہ ملک جہاں بالی ووڈ کی چھوٹی سے چھوٹی ادنیٰ سے ادنیٰ خبریں تو سارا دن چینل کی زینت بنی رہتی ہیں، وہاں اتنی بڑی خبر بس 2دن اخبار کی زینت بنی اور وہ بھی بہت ہی مختصر سی خبر کی طرح پہلے دن صفحۂ اول پر اور دوسرے دن کسی اندرونی صفحہ کے کسی کونے میں اور کسی کسی چینل نے اس کو اپنے یہاں سے ٹیلی کاسٹ کیا، اس خبر کا کیا اثر ہوا کتنے لوگوں کی گرفتاری ہوئی، کتنے افراد اس میں ملوث پائے گئے، اس کے بارے میں ابھی کوئی بھی مزید اطلاع نہیں مل پائی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ جس ٹریننگ اسکول میں ایک نہیں پوری 11 لڑکیوں کا جنسی استحصال کیا گیا ہو، اس کو لے کر ہنگامہ کیوں نہیں ہوا، مہیلا مکتی مورچہ، مہیلا مکتی سنگھ جیسی تنظیمیں کہاں سو رہی ہیں۔ معمولی معمولی بات پر ہنگامہ کھڑا کرنے والی دوسری تنظیمیں کہاں ہیں؟ جنسی استحصال کے الزام میں انسپکٹر یوراج کامبلے کو گرفتار کیا گیا ہے، لیکن کامبلے کا کہنا ہے کہ انہیں بلی کا بکرا بنایا گیا ہے، جب کہ ایک پولس ٹرینی نے کامبلے پر ہی الزام لگایا ہے۔ بڑی مضحکہ خیز بات ہے کہ مقامی ممبرپارلیمنٹ سدا شیو راؤ کہتے ہیں کہ 11 حاملہ ہیں جب کہ دیگر اطلاعات کے مطابق صرف 3 حاملہ ہیں۔ اب یہ تو آپ اور ہم سبھی جانتے ہیں کہ کسی بھی حاملہ عورت کو چھپایا نہیں جاسکتا اگر شروعات بھی ہے تو بھی میڈیکل کرانے سے حقیقت سامنے آجاتی ہے، ایسے میں یہ بیان چہ معنی دارد؟
خواتین کا استحصال کوئی نئی بات نہیں ہے، جب سے اس مظلوم قوم نے گھر سے باہر قدم نکالا ہے، تب سے ہوسناکی کا شکار ہوئی ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ عورت کو گھر سے باہر نکلنے کا حق ہی نہیں ہے اور کچھ تو یہ سمجھتے ہیں کہ عورت گھر سے باہر صرف اپنے شوق کے لیے نکلتی ہے۔ ستم یہ کہ کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ گھر سے باہر نکل کر کام کرنے والی ہر عورت بدکردار ہے۔ عورت کی پریشانی یہ ہے کہ وہ گھر میں بچوں کو روتا بلکتا نہیں دیکھ سکتی، شوہر کو پریشان نہیں دیکھ سکتی، باپ کے کندھوں کو اپنی شادی کے بوجھ سے جھکتا نہیں دیکھ سکتی اور ماں کے سر میں ہر دن چمکتے تاروں کا اضافہ نہیں سہ سکتی، تبھی وہ گھر سے باہر نکلتی ہے، مگر اس کو سمجھنے والا اس کے جذبے کو سراہنے والا کوئی نہیں ہوتا ہر شخص گھر سے باہر نکلنے اور نوکری کرنے والی عورت کو باپ کا مال سمجھتا ہے۔ معاف کیجیے گا الفاظ ذرا تلخ ہوگئے ہیں، مگر کیا شیرینی میں لپیٹ کر کہنے سے تلخ بات میٹھی ہوجائے گی، نہیں بلکہ اس کا اثر ختم ہوجائے گا اور تلخ بات یہی ہے کہ عورت جب گھر سے باہر نکلتی ہے اس کو طرح طرح سے پریشان کیا جاتا ہے۔ گھر میں الگ طرح سے باہر الگ طرح سے، گھر میں اس کو بار بار یہ طعنہ سننا پڑتا ہے کہ وہ کماتی ہے تو کوئی احسان نہیں کرتی یا کہ کام کرتی ہے تو کیا گھر میں بیٹھ کر کھائے گی، اگر بہو ہے تو ساس نندوں کے طعنے کہ خود تو تیار ہو کر نکل جاتی ہیں، ہم سارادن چولہا پھونکیں وغیرہ وغیرہ۔ مگر اس غریب کے ٹوٹتے جسم اور تھکے دماغ کو آسودگی کہیں بھی نصیب نہیں ہوتی۔ آفس یا کسی ادارے میں کام کرتی ہے تو ساتھ کام کرنے والوں کی ہوسناک نگاہیں ہر مرد ایک بار ضرور آزماتا ہے۔
کولہا پور میں جس طرح کنواری لڑکیوں کے حاملہ ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے، اس سے کئی باتیں صاف ہیں کہ اس اسکول میں یہ گورکھ دھندہ سالوں سے چل رہا ہوگا، اس کے علاوہ صد فی صد اس میں ایک نہیں کئی افراد ملوث ہوںگے اور وہ بھی بڑی مچھلیاں ہوںگی جن کو جال ڈال کر پکڑا جائے تو ہی قابو میں آئیں گی۔ ہوم منسٹر پاٹل جی نے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولس متھلی جھا کو اس پورے معاملہ کا انچارج بنایا ہے۔ کامبلے نے جن دوسینئر پولس آفیسر دیانیشور منڈے اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولس پر کالے کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔ ان کا بھی کیا بھروسہ کہ ان کے ساتھ اور نہ جانے کتنے نام ہوںگے۔ میرا تو یہ ماننا ہے کہ مہاراشٹر حکومت کو فوری طور پر اوپر سے لے کر نیچے تک سبھی آفیسرز کو اگر وہ اس میں ملوث پائے جائیں تو برخاست کردینا چاہیے۔
اس وقت جب کہ پورا ملک بدعنوانی کا شکار ہے۔ مہنگائی اپنے شباب پر ہے اور آگے بڑھنے کی دوڑ میں ہر شخص دوسرے کو پچھاڑ دینا چاہتا ہے، ایسے میں خواتین ہر جگہ غیرمحفوظ ہیں۔ دلی میں جنوبی دہلی کے ڈیفنس کالونی علاقہ میں ایک 15 سالہ لڑکی کی اجتماعی عصمت دری کا واقعہ سامنے آیا۔ میں آپ کو ایک بات بتا دوں کہ ایسا نہیں ہے کہ بڑے شہروں میں ہی لڑکیاں غیرمحفوظ ہیں، چونکہ ان شہروں میں میڈیا تک رسائی اور میڈیا کی عام انسان تک رسائی آسان ہے، اسی لیے یہ واقعات سامنے آجاتے ہیں، جب کہ گاؤں، قصبوں اور دیہاتوں کی حالت تو اور بھی خراب ہے، وہاں کھیتوں میں کام کرنے والی کسان عورتیں اپنے ہی گھر کے لوگوں کے ذریعے جنسی استحصال کا شکار ہوجاتی ہیں۔ ان معصوموں کی سننے والا کوئی نہیں ہوتا، نہ ہی ان کا ساتھ دینے والا کوئی ہوتا ہے۔ عصمت دری کا شکار ہوئی لڑکیاں یوں تو بدنامی کے ڈر سے سامنے ہی نہیں آتیں اور اگر آ بھی جاتی ہیں تو پھر ایک ہولناک مستقبل ان کے سامنے ہوتا ہے۔ نہ جانے کتنے ہی کیس ایسے ہیں جو ہمارے سامنے ہیں، مگر ان پر کوئی کارروائی عمل میں نہیں آئی۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ بہار کی ایک خاتون پرنسپل روپم پاٹھک کی ان کے ہی علاقے کے ایم ایل اے کے ذریعہ سالوں عصمت دری ہوتی رہی اور بار بار پرنسپل اس کی شکایت کرتی رہی، مگر وہی ہوا جو ان تمام کیسوں میں ہوتا ہے، روپم پاٹھک پر ہی سوال اٹھائے جانے لگے اور ایک دن تنگ آکر اس نے سرعام ممبراسمبلی کا خون کردیا، گویا اس طرح اس نے اپنے حساب سے انصاف کرلیا، مگر اس کا انصاف کون کرے گا۔ آج بھی وہ بے یار و مددگار جیل کی سلاخوں کے پیچھے اپنی زندگی کے برے دن کاٹ رہی ہے۔ آئی جی راٹھور کا نام کسے یاد نہیں بڑی بڑی مونچھوں والا یہ سخت چہرے والا شخص جس پر روچیکا جیسی معصوم نے جنسی استحصال کا الزام لگایا تھا، اس نے بھی ایک دن نہ جانے کیسے خود کو بے قصور ثابت کر الیا اور اب بھی وہ آزاد گھوم رہا ہے اور وہ معصوم اپنی جان سے چلی گئی۔ یہ سب تووہ کیس ہیں جو سامنے آگئے ہیں اور بھی نہ جانے کتنے ایسے کیس اگر ہم ڈھونڈنے بیٹھ جائیں تو انٹرنیٹ پر مل جائیںگے، مگر ہم یہاں اپنی قابلیت کا رعب جمانے کے لیے یہ مضمون قلمبند نہیں کر رہے ، بلکہ حقیقتاً اس درد کو آپ سے بانٹ رہے ہیں جو درد ایک عورت ہوتے ہوئے ہم محسوس کرتے ہیں۔ رات دن عورتوں سے جسمانی استحصال اور ان کے ساتھ مارپیٹ کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں، ابھی کئی دن کے اخبارات میں لگاتار شوہر کے ذریعہ بیوی کو زد کوب کرنے اور جلا کر مارڈالنے کی کئی خبریں نظر سے گزری ہیں، سمجھ میں نہیں آتا کہ جو عورت ماں، بہن، بیوی کا روپ ہے اس عورت کو باہر اکیلا پاکر کون سا حیوان بیدار ہوجاتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک بار پورے نظام کو بدلا جائے، خواتین کے تحفظ کے لیے خواتین ہی آگے آئیں اور ان پر جو بھی مظالم ہو رہے ہیں ان کے خلاف آواز اٹھائیں، دیکھیے ان کی حفاظت کرنے یا ان کا دفاع کرنے آسمان سے تو خدا کسی کو نہیں بھیجے گا خود ان ہی کو اس کا بیڑا اٹھانا ہے، تبھی کچھ حالات بدل سکتے ہیں۔ یہ سب سنی سنائی یا غیر عملی باتیں نہیں ہیں۔ ہم نے محسوس کیا ہے کہ اگر عورت مضبوط ہو تو ا س کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ خدا بھی اس کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *