کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے

Share Article

عابد انور
سننے میں شاید یہ بات عجیب سی لگے خصوصاً مغربی فکر کے حامل افراد کویہ دن میںدیکھا ہوا خواب یا شیخ چلی کے حسین سپنے کی طرح معلوم ہوگالیکن یہ اسی طرح حقیقت سے پراور سچ ہے جس طرح سورج کی روشنی، چاندکی چاندنی، سمندر کی گہرائی و گیرائی اور کائنات کی حقیقت کہ امریکہ روز بروز اپنے ملک و قوم کو تباہی کے دہانے پر پہنچا رہا ہے۔ امریکہ پوری دنیا کے لئے بدی کا محور بن گیا ہے۔ اس سے نہ اس کا دوست ملک محفوظ ہے اور نہ ہی دشمن ملک۔ امریکہ نے جس سے دوستی کی اسی کی پیٹھ میں خنجر اتار دیا۔نہ اس کے قول کا بھروسہ ہے اور نہ فعل پر اعتبار۔ اس کے سامنے دنیا کا ہر قانون اور اقوا م متحدہ کا ہر منشور ہیچ ہے ۔ وہ کسی کی پروا نہیں کرتا اور نہ اپنے مفاد کے حصول کے لئے کسی کو خاطر میں لاتا ہے۔ جس ملک کوچاہتا ہے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتا ہے لیکن یہی ہٹ دھرمی ،ناانصافی، ظلم و جبرایک دن اس کے لئے تباہی کا سامان فراہم کریں گے۔ ایک وقت ایسا آنے والا ہے جب امریکی شہری کو مارنے کے لئے اس کاکسی جرم میں ملوث ہونے کی ضرورت نہیں رہے گی بلکہ اس کاامریکی ہونا ہی کافی ہوگا۔ پوری دنیا میں جس طرح امریکہ کی شبیہ بن رہی تھی اور اس سے نفرت کرنے والوں کی تعداد میں روز بروز زبردست اضافہ ہورہا تھا وہ براک اوبامہ کے عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد سے تھوڑا تھم ضرور گیا تھا لیکن مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی دوغلی پالیسی ، اسرائیل کے تئیں بے جا ہمدردی اور اسامہ بن لادن کا پاکستان میں دراندازی کرکے قتل کرنے کے جرم کی وجہ سے امریکہ سے نفرت کرنے والوں کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ یہاں معاملہ صرف قتل کا نہیں ہے بلکہ معاملہ امریکی رویے کا ہے جس نے خود ہی قاتل، خود ہی مصنف، خود پولیس اور جلادکا رول ادا کیا ہے۔
اگر امریکہ کی اس بات کوتسلیم کرلیا بھی جائے کہ اسامہ کو قتل کیا جاچکا ہے تو کیا امریکہ محفوظ ہوگیا ہے۔ایسا ہر گز نہیںہے اب اس سے کہیں زیادہ امریکیوں پر خطرات کے بادل منڈلانے لگے ہیں کیوں کہ ایک لادن کے مرنے سے ہزاروں، لاکھوں لادن پیدا ہوگئے ہیں اور ہوجائیں گے۔جہاں جہاں بھی امریکہ چڑھائی کر رہا ہے وہاں القاعدہ مضبوط ہورہی ہے۔ عراق میں جہاں صدام کے زمانے میں القاعدہ کا نام و نشان موجودنہیں تھا وہیں اب وہ امریکی فوج اور اس کی کٹھ پتلی مالکی حکومت کے لئے دردسر بنی ہوئی ہے۔ امریکی فوجیوں کو سب سے زیادہ ہلاکت کا سامناعراق میں ہی کرنا پڑا اور القاعدہ کے جنگجوئوں کوجب بھی موقع ملا ہے اس نے امریکی فوج کو ہلاک کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اب جب کہ بقول امریکہ بن لادن مارا جاچکا ہے لادن کے جانشیں اور اس کے جاںنثار انتقام نہیں لیں گے؟ القاعدہ اور طالبان نے یہ خبر پھیلتے ہی کہ بن لادن امریکی کارروائی میں مارا گیا ہے انہوں نے انتقام لینے کا اعلان کردیا ہے اور اس کے پاس جواز بھی موجود ہے کیوں کہ امریکہ جب کسی قانون کو تسلیم نہیں کرتا توالقاعدہ کے لوگ بھی کسی قانون کو کیوں کر تسلیم کریں گے۔ ریمنڈس ڈیوس کے معاملے میں امریکہ کا دوہرا کردار سامنے آچکا ہے۔ایک قاتل کو امریکہ کس طرح بچاکر لے گیا۔ اس کے علاوہ امریکہ کے  عراق اور افغانستان میں قیام کی وجہ بھی ختم ہوچکی ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ اپنے قول و قرار کا کتنا پاس رکھتا ہے۔
امریکی صدر براک اوباما نے اپنے عہدۂ صدارت سنبھالتے ہی  2009 میں افغانستان کے بارے میں امریکی پالیسی کی تشکیل نو کی تھی اور طالبان کو کچلنے کے لئے مزید 30 ہزار فوجی روانہ کرنے کا اعلان کیا تھا ۔اْس وقت انہوں نے القاعدہ اور طالبان کی شکست کو اپنا اولین ہدف قرار دیا تھا۔امریکی انتظامیہ کے افسران خبردار کرچکے تھے کہ طالبان کو افغانستان میں دوبارہ اقتدار میں آنے کا موقع دینے سے یہ ملک ایک مرتبہ پھر شدت پسندوں کا ٹھکانہ بن جائے گا اور امریکہ میں 11 ستمبر جیسے دہشت گردانہ حملے کا خطربڑھ جائے گا۔ وعدے کے مطابق جولائی میں افغانستان میں امریکی فوج میں کمی کرنی ہوگی۔ تجزیہ نگاروں کا یہ کہنا ہے کہ بن لادن کی موت سے اس علاقے سے ابھرنے والے خطرات میں کمی نہیں ہوئی ہے اور خاص طور سے افغانستان میں انتشار پھیل جانے کا خطرہ کم نہیں ہوا ہے۔گرچہ امریکی حکام نے اپنے منصوبے کا اعادہ کیا ہے لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ امریکی فوج کے انخلاء کا دارومدار افغانستان کے زمینی حالات پر ہوگا اور حالات کو بنانے اور بگاڑنے میں امریکہ کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ویسے افغانستان امریکہ کے لئے ایک دلدل سے کم نہیں ہے۔ اپنے ایک لاکھ فوجیوں کو رکھنے کے لئے اسے سالانہ سو ارب ڈالر خرچ کرنے پڑ رہے ہیں جو زوال پذیر امریکی معیشت کے لئے یہ رقم بہت معنی رکھتی ہے۔
میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی امداد اور اشارے پرسوویت یونین کے خلاف جہاد کرنے والے جہادیوں کے لئے پشاور میں فلسطینی جنگ باز عبد اللہ عزام نے ’ مکتب الخدمت‘ کے نام سے ایک تنظیم قائم کی تھی جس کا مقصد افغان اور غیر ملکی جہادیوں کے لیے قیام و طعام کا انتظام کرنا اور ان کی فکری اور جسمانی تربیت بھی فراہم کرنا تھا۔ اس تنظیم نے پشاور میں کئی گیسٹ ہاؤسز کرائے پر لے رکھے تھے، جس میں غیر ملکی جہادی قیام پذیر تھے۔ اسامہ بن لادن کی القاعدہ تنظیم کا قیام بھی پشاور کے اسی یونیورسٹی ٹاؤن کے علاقے میں عمل میں آیا تھا۔اس وقت بہت سارے غیر ملکی جنگجوئوں کو سید جمال الدین افغانی روڈ پر دیکھا جاتا تھا۔ یہاںایک  دفتر ’ بیت الاانصار‘ کے نام سے قائم تھا جس میں اسامہ بن لادن کے حامی جنگجو رہتے تھے۔ اسی مقام سے افغان جنگ کی منصوبہ بندی بھی کی جاتی تھی۔ اسامہ بھی دیگر عرب جنگجوئوں کی طرحـ افغان جنگ میں شریک ہونے کیلیے سعودی عرب سے آئے تو انہوں نے اسی مکتب الخدمت تنظیم سے اپنی جہادی سفر کا آغاز کیا۔اسامہ کے استاذ مانے جانے والے عبد اللہ عزام پشاور میں ایک بم دھماکے میںجب اپنے بیٹے سمیت ہلاک کئے گئے تو اس تنظیم کی ساری ذمہ داری اسامہ بن لادن کی سپرد کی گئی۔بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ عبد اللہ عزام ہی نے القاعدہ تنظیم کی بنیاد رکھی تھی۔ پروفیسر عزام عالمی جہاد کے زبردست حامی بتائے جاتے تھے۔ وہ ضلع نوشہرہ کے جلوزئی مہاجر کیمپ میں سپردخاک ہیں۔یہ علاقے ان دنوں تمام اہم عرب اور افغان جہادی کمانڈر وں کے مسکن تھے جن میں گلبدین حکمت یار، برہان الدین ربانی، احمد شاہ مسعود، پیر سید احمدگیلانی ، استاد سیاف ، حامد کرزئی، مولوی یونس خالص وغیرہ شامل تھے لیکن اسامہ اس وقت سرخیوں میں آئے جب انہوں نے 1998 میں افغانستان میں امریکہ اور یہودیوں کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا اور پھر بعد میں امریکہ نے ان کے ٹھکانوں پر کروز میزائل سے حملے بھی کئے۔ اس کے علاوہ تنزانیہ اور کینیا میں امریکی سفارت خانے پر حملے کئے گئے۔ امریکہ اسامہ بن لادن کے پیچھے اس وقت پڑ گیا جب ۲۰۰۱ میں ورلڈ ٹریڈ ٹاور پر حملہ کے لئے انہیں ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ حالانکہ یہ اب بھی معمہ بنا ہوا ہے کہ اس کے پیچھے کون ہے۔ اتنا بڑاحملہ ملکی تعاون کے بغیر کوئی جنگجو تنظیم انجام نہیں دے سکتی۔ امریکہ نے یکطرفہ طور پر کارروائی کرتے ہوئے افغانستان سے طالبان کی حکومت کا خاتمہ کیا اور عراق سے صدام حسین کی حکومت کا۔ اس طرح دونوں ملک اب کھنڈرات بن چکے ہیں۔
امریکہ اسامہ بن لادن کا دشمن اس وقت بن گیا جب انہوں نے سرزمین حجاز میں اپنے فوجی اڈے قائم کئے ۔اسامہ نے سعودی حکومت سے امریکی فوجیوں کو نکالنے کا مطالبہ کیا تو وہ سعودی حکومت کا دشمن بن بیٹھا اور سعودی حکومت نے ان کی شہریت ختم کردی۔ بہر حال اسامہ خواہ مرچکے ہوں یا زندہ ہوںگرچہ القاعدہ نے بھی موت کی تصدیق کردی ہے جس کی معتبریت کی جانچ کی جانی باقی ہے، لیکن یہ بات طے ہے کہ امریکہ اسلامی فوبیا کا شکا رہے اور اس نے اس سے صحیح غور و فکر کی صلاحیت چھین لی ہے اور اپنے آپ کو بچانے کی سمت میں جو قدم بھی اٹھاتا ہے وہ تباہ کن ثابت ہوتا ہے اور اس کا ہر قدم اپنے دشمنوں کی تعداد میں اضافہ کررہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *