کچھ تو اچھا کیا ہے الیکشن کمیشن نے

Share Article

وسیم راشد
الیکشن کا زمانہ پورے ہندوستان میں ایک تہوار کا سا سماں پیش کرتا ہے۔ جب سے الیکشن کی تاریخوں کا اعلان ہوتا ہے تبھی سے ایک عجب طرح کا جوش و خروش ، ہنگامہ ہر طرف نظر آتا ہے۔ہندوستان کی پانچ ریاستوں میں ہونے والے الیکشن بھی اس وقت پورے ملک میں عوام کے ذہنوں پر حاوی ہیں۔ ہمیں یاد ہے ہمارے بچپن سے شعور کی منزلوں تک کئی بار الیکشن ہوئے ،ہر بار خوب نعرے بازی، ہورڈنگز ،بینرز، پوسٹرز،جلسے جلوس ہوا کرتے تھے اور بے تحاشہ پیسہ خرچ ہوتا تھا۔شراب و کباب کے دور چلتے تھے۔ناچ رنگ کی محفلیں سجتی تھیں غرض کہ جتنی پارٹیاں الیکشن میں اترتی تھیں، اپنے امیدواروں کے لئے بے دریغ  پیسہ بہاتی تھیں ،یہاں تک کہ آزاد امیدوار بھی خوب خوب ہی پیسہ لٹاتے تھے۔جلوس اس قدر نکلتے تھے کہ کئی کئی پارٹیوں کے جلوس آپس میںٹکڑا جاتے تھے اور خوب دنگے فساد ،ہنگامے ہوا کرتے تھے، مگر اب تقریباً  2 بار سے لوک سبھا الیکشن اور اسمبلی انتخابات میں الیکشن کمیشن کافی سخت رویہ اپنا رہا ہے اور اس سخت رویے کا اثر ہے کہ بہار الیکشن 2010 بے حد پر سکون اور بنا کسی دنگے فساد کے خوش اسلوبی سے نمٹ گیا، ورنہ بہار جیسی ریاست میں جہاں غنڈہ گردی اور مائووادی سرگرمیاں زوروں پر ہیں وہاں الیکشن کا اتنی آسانی سے نمٹ جانا تعجب کی بات ہے۔اس کے لئے یقینا الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر قابل مبارکباد ہیں ۔ اب پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی چنائو میں بھی الیکشن کمیشن نے کافی سخت رخ اپنایا ہے۔ پیڈ نیوز پر الیکشن کمیشن نے سختی سے روک لگادیہے اور اس کے لئے اس نے خاص طور پر ایک ٹیم کی تشکیل کی ے جو پیڈ نیوز پر سختی سے نظر رکھے گی۔ اسی طرح الیکشن کمیشن ہر امیدوار پر تشہیر کرنے اور کنوسنگ کرنے کے لئے پیسے پیسے کے حساب پر نظر رکھے گا۔پیڈ نیوز پر روک لگانا یقینا الیکشن کمیشن کا قابل ستائش قدم ہے اور اس سے بہت حد تک بے لگام میڈیا پر روک لگائی جا سکے گی وہ چینلز جو پیسہ کھا کر کسی بھی پارٹی کے لئے بک جاتے ہیں اور اس کی تشہیر کرنے لگتے ہیں ،کم سے کم الیکشن کمیشن کے اس قدم سے کسی پارٹی اور امیدوار کی غلط شبیہ پیدا نہیں کر سکیں گے اور عوام گمراہ ہونے سے بچ جائیں گے ۔ کئی بار ایسا ہوا ہے کہ پیسہ دے کر کسی ایسے امیدوار کی تشہیر کرا دی جاتی ہے، جس کا ماضی بے حد داغدار رہا ہوتا ہے اور جو ہرگز اس لائق نہیں ہوتا کہ اس کو ٹکٹ دیا جا سکے ۔ پیڈ نیوز سے میڈیا کبھی کبھی ایسا ایکزِٹ پول دکھا دیتا ہے کہ لگتا ہے کہ بس یہ پارٹی میں سرکار بنالے جائے گی۔مجھے یاد ہے کہ ایک کانفرنس میں ایک مشہور صحافی میڈیا کے رول پر اپنا رد عمل بتا رہے تھے کہ وہ کہیں باہر تھے اور انہوں نے اس صوبے کا ایکزٹ پول دیکھا جو بعد میں سو فیصد غلط ثابت ہوا۔ الیکشن کمیشن کے اس قدم کی ستائش کرنی چاہئے ۔ اس کے علاوہ اس بار تو الیکشن کمیشن نے صحافیوں کے چائے پانی اور ان کو تحفے تحائف دینے پر سختی سے روک لگا دی ہے ۔پہلے یہ ہوتا تھا کہ الیکشن کے دوران سب سے زیادہ چاندی صحافیوں کی ہوتی تھی اور امیدوار ان کو اپنی طرف کرنے اور اپنی تشہیر کے لئے تحفے تحائف دے کر ان سے فائدہ اٹھاتے تھے ،مگر اب جب سے الیکشن کمیشن نے اس پر سختی کی ہے تب سے صحافیوں کو بھی اس بات کا خوف ستانے لگا ہے اور امیدواروں کو بھی کہ کہیں الیکشن کمیشن کو اس کی خبر نہ ہوجائے۔ الیکشن کمیشن کے اس اقدام کی بھی ستائش کرنی ہوگی کہ اس نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ انتخابات کے دوران پریس کانفرنس پر بھی نظر رکھی جائے گی کہ صحافیوں کو کھلانے پلانے پر کتنا روپیہ خرچ کیا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں ایک اور انقلابی قدم الیکشن کمیشن نے اٹھایا ہے جس کی تعریف کرنا ضروری ہے کہ اس  نے امید واروں کا خرچ طے کردیا ہے اور پارٹی امیدواروں اور ان پارٹیوں کو چلانے والے بڑے دماغوں کا تما متر خرچ اس طرح متعین کیا ہے کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ اتنی چھوٹی چھوٹی چیزوں کی طرف بھی الیکشن کمیشن کا دھیان جا سکتا ہے۔الیکشن کی تشہیر میں سب سے زیادہ رول رکشا کا ہوتا ہے۔ کمیشن نے رکشا کا کرایہ تک طے کردیا ہے۔ جلسے جلوس کرنے کے لئے پنڈال لگایا جائے یا کپڑے کے بینرز ،کمیشن کو معلوم ہے کہ اس میں کتنا روپیہ خرچ ہو سکتا ہے حتیٰ کہ لوہے کا گیٹ اور بانس بلی تک کا خرچ اس میں شامل ہے۔ الیکشن کمیشن نے یہ پوری فہرست سبھی سیاسی پارٹیوں کے امیدواروں کو پہنچادی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کمیشن کے اس فیصلے کی بھی تعریف کرنی ہوگی کہ انہوں نے ایک بندش یہ لگا دی ہے کہ امیدواروں کو ہر تیسرے دن  اپنے خرچ کا حساب و کتاب کمیشن کے دفتر میں بھیجنا ہے۔ اتنا زبردست انقلابی قدم ہے یہ الیکشن کمیشن کا کہ اس کی ستائش کرنے کو جی کرتا ہے۔ بہار کے الیکشن میں جس طرح الیکشن کمیشن نے واہ واہی لوٹی تھی ،اس بار بھی پانچوں ریاستوں کے اسمبلی الیکشن میں کمیشن نے کوئی کسر نہیں چھوڑی  ہے۔ اکثر یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ انتخابی تشہیر میں سب سے زیادہ استعمال فلمی ستاروں کا کیا جاتا ہے اور فلمی ستارے  ہمیشہ سے ہی الیکشن میں بھیڑ اکٹھا کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ سمجھے جاتے ہیں۔ہر پارٹی ان فلمی ستاروں کی معرفت ووٹروں کو رجھانے کی پوری کوشش کرتی ہے لیکن اس بار کا الیکشن اس گلیمر کو کافی حد تک کم کر دے گا کیونکہ الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کو فلمی ستاروں یا دوسرے اسٹارز کو بلانے سے پہلے ہی واضح کردیا ہے کہ ان کو ان کے بلانے ان کے اوپر خرچ کرنے کا پورا حساب و کتاب ادا کرنا ہوگا اور اس میں کئی ایسی شرطیں بھی لگادی ہیں جو ہمارے ملک کے ان سیاست دانوں کا بلڈ پریشر ہائی کر رہی ہیں۔جوخود کو نا خدا سمجھ کر جو چاہتے کرتے تھے ،جس طرح چاہتے اپنی پارٹی اور امیدوار کے لئے بھیڑ اکٹھا کرتے تھے ۔ اس میں پہلی بات یہ ہے کہ اگر کوئی سیاسی پارٹی یا دوسرے اسٹارز کو بلاتا ہے تو اسے ریلی کے تین دنوں کے اندر چیف الیکشن کمشنر کے سامنے ہیلی کاپٹر یا ہوائی جہاز کو کرائے  پر دینے والی کمپنی کی تفصیل ، کرایہ، رقم کی ادائیگی ، دورہ کئے جانے والے علاقوں کی تفصیل،اڑانوں کی تعداد اور مسافروں کی لسٹ بھی پیش کرنی ہوگی۔ امیدواروں کے ساتھ ساتھ اب میاں بیوی بچوں اور ان سے جڑے دوسرے رشتہ داروں کی جائداد کی پوری معلومات ، نقدی، بینک کھاتے،برانڈ ، بیمہ پالیسی ،ٹرسٹ ، موٹر کار، ہوائی جہاز، زیور اور دیگر جائداد کی تفصیلات بھی دینی ہوگی۔
سیاسی جماعتوں کو الیکشن کے 75 دنوں کے اندر کمیشن کو اپنے الیکشن سے متعلق خرچ کا پورا حساب و کتاب دینا پڑے گا اور فلمی ستاروں کو بلانے سے پہلے ان کے اوپر ہونے والے خرچ کا بھی پورا بیورا دینا ہوگا اور اس کے علاوہ کتنے اداکار اور اسٹار کو بلانا ہے ، اس کی تعداد بھی بتانی ہوگی۔ اس میں الیکشن کمیشن نے یہ پابندی لگا دی ہے کہ سبھی سیاسی پارٹیاں محض 40 لوگوں کو ہی اسٹارس کی تشہیری مہم میں شامل کر سکتے ہیں ،جن کی لسٹ بھی کمیشن کو پہلے سے ہی دینی ہوگی۔ بینرز،پوسٹرز ، اسٹیج، پھول مالائوں ، مائک، لائوڈ اسپیکر، اس کے علاوہ آزاد امیدواروں کو پریس اور الیکٹرانک میڈیا میںشامل تشہیر کا پورا حساب و کتاب بھی دینا ہوگا۔ سیاسی جماعتیں یہ منصوبے بنائے بیٹھی تھیں کہ ان فلمی ستاروں کی بدولت اپنی ریلیوں میں گلیمر لائیں گی اور ووٹرس کو لبھانے کی ہر ممکن کوشش کرے گی مگر الیکشن کمیشن نے اس سب کے منصوبوں کو خاک میں ملا دیا ہے۔
الیکشن کمیشن کی ان تمام اقدامات کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ اس وقت جبکہ پورا ہندوستان مہنگائی کی مار جھیل رہا ہے ایسے وقت میں الیکشن کمیشن کا یہ قدم یقینا ملک کے عوام کے لئے زخموں پر مرہم کا کام کرے گا کیونکہ انتخابی تشہیر پر پیسہ براہ راست یا بالواسطہ تو ان ہی غریبوں کا لگتا ہے ، اس لئے امید کی جا سکتی ہے کہ اس بارکے الیکشن میں بہت حد تک شفافیت ہوگی۔g

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *