بابری مسجد-اجودھیا تنازع میں ثالثی کرنے والے کون ہیں جسٹس ابراہیم خلیف اللہ؟

Share Article
justicce-khailifullah

نئی دہلی:ایودھیا زمین تنازعہ میں ثالثی کو لے کر آج سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ آیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اس معاملے کا حل ثالثی کے ذریعے نکالا جائے۔ اس کے لئے ریٹائرڈ جسٹس ابراہیم خلیف اللہ کی قیادت میں تین رکنی ثالثی کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ اس میں شری شری روی شنکراور رام پنچو شامل ہیں۔

جسٹس ابراہیم خلیف اللہ سپریم کورٹ میں جج رہ چکے ہیں اور ان کی ہی قیادت میں بابری مسجد-رام جنم بھومی تنازعہ حل کرنے کے لئے کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ جسٹس ابراہیم خلیف اللہ پہلے جموں وکشمیر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بھی رہ چکے ہیں۔ جسٹس ابراہیم خلیف اللہ کو سال 2012 میں سپریم کورٹ میں جج مقرر کیا گیا تھا۔ فی الحال وہ ریٹائر ہو چکے ہیں۔ جسٹس ابراہیمخلیف اللہ اپنے کئی فیصلوں کے لئے بھی جانے جاتے ہیں۔ ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ آف انڈیا (BCCI) کو شفاف بنانے کے عمل میں انہوں نے جسٹس لوڈھا کے ساتھ مل کر کافی کام کیا۔

جسٹس ابراہیمخلیف اللہ بنیادی طور پرتمل ناڈو کے شیوگنگا ضلع میں کرائی کڈی کے رہنے والے ہیں۔ ان کی پیدائش 23 جولائی 1951 کو ہوئی تھی۔ ان کا پورا نام فقیر محمد ابراہیم خلیف اللہ ہے۔

جسٹس ابراہیم خلیف اللہ نے اپنی وکالت کی شروعات20 اگست 1975 کو تھی۔ اپنی ابتدائی کیریئر میں جسٹس ابراہیم خلیف اللہ لیبر قانون سے متعلق معاملات میں سرگرم وکیل تھے،بعد میں تمل ناڈو ریاست بجلی بورڈ کے مستقل وکیل بھی رہے۔

آپ کو بتا دیں سپریم کورٹ رام مندر تنازعہ کو ثالثی کے ذریعے حل کرنے کے لئے تین ثالثوں کو مقرر کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ایک ہفتے میں ثالثی شروع کیا جانا چاہئے۔ فی الحال تین میڈیٹر ہیں لیکن اگر ثالثی چاہیں تو اور ارکان کو بھی شامل کر سکتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *