کسنانوں کی آپسی رنجش میں بدلا اترپردیش-ہریانہ کا سرحدی تنازع

Share Article

dami00پتہ نہیں تیسری عالمی جنگ پانی کو لے کر کب اور کیسے ہوگی؟ لیکن پانی یا ندیوں سے پیدا ہوا تنازع جس طرح سے ہندوستان کی کئی ریاستوں کے بیچ کشیدگی پیدا کررہاہے، وہ بے حد تشویشناک ہے۔ ہریانہ، پنجاب کے بیچ ایس وائی ایل کو لے کر آئے دن جھگڑا ہوتا ہے۔ حال ہی میں کاویری جل کی آگ میں جلتے کرناٹک- تمل ناڈو کی تصویر شاید ہی کسی کے ذہن سے اتری ہو۔ اس بیچ ندی کی وجہ سے پیدا ہوا سرحدی تنازع دو اور ریاستوں کے درمیان کشیدگی کا سبب بن رہاہے۔ اترپردیش اور ہریانہ کی سرحد پر جمنا کی دھارا بدلنے کی وجہ سے دونوں ریاستوں کے بیچ کئی دہائیوں پہلے تنازع شروع ہوا تھا لیکن انتخابی موسم میںیہ مدعا پھر سے گرمانے لگا ہے۔

جمنا کی دھارا کا رخ بدلنے کی وجہ سے یوپی کا کچھ حصہ ہریانہ میںچلا گیا تو ہریانہ کا کچھ حصہ یوپی میں آگیا۔کاشت کی زمین کی اس جغرافیائی تبدیلی نے دونوں ریاستوں کے کسانوں کے بیچ تنازع کو جنم دیا جو بعد میںدونوں ریاستوں کے بیچ ٹکراؤ کا بڑا سبب بن گیا۔ جمنا ندی کے ساتھ لگی تقریباً 10 ہزار ایکڑ زمین کو لے کر ہریانہ اور یوپی کے گاؤں میں پچھلے قریب 40 سال سے ٹکراؤ چلا آرہا ہے۔ اترپردیش کے ٹپّل کے کسانوں کی 2188ایکڑ زمین ہریانہ سرحد میں گئی ہے، جبکہ وہاں کی 1286ایکڑ زمین علی گڑھ سرحدمیں آئی ہوئی ہے۔ ہریانہ کے کسان یوپی میں اپنی زمین کی فصل تو کاٹ کر لے جاتے ہیں، لیکن ہریانہ والے پوپی کے کسانوں کو فصل نہیںکاٹنے دیتے۔ ظاہر ہے اس وجہ سے جھگڑا ہوتا ہے جو کئی بار خونی ٹکراؤ کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ اس تنازع کو نمٹانے کے لیے 30-35سال پہلے مرکزی سرکار نے دخل دیتے ہوئے دیکشت کمیشن تشکیل کیا تھا اور اس کی رپورٹ پر دونوںریاستوں کو عمل کرنے کو کہا تھا۔ اس تنازع میںجمنا ندی سے لگے ہریانہ کے گاؤںکھوجکی پور اور یوپی کے گاؤںٹانڈہ کے کسان بھی پس رہے ہیں۔ ان کی 1698ایکڑ زمین کے تنازع کا کوئی مستقل حل نہیںنکل پارہا ہے۔ پانی کی سطح کم ہونے پر ندی کے اندر کھیتی کرنے کو لے کر بھی دونوں ریاستوں کے کسانوںکے بیچ تنازع ہوتا ہے۔
1995میں پانچ ریاستوں ہماچل پردیش، دہلی، راجستھان، اترپردیش اور ہریانہ کے بیچ جمنا کے پانی کی سطح پر سمجھوتہ ہوا تھا۔ اس کے باوجود ان ریاستوںکے بیچ پانی کے بٹوارے کو لے کراکثر تنازع ہوجاتا ہے۔ سیکڑوں کسانوں کے خلاف معاملے زیر التوا پڑے ہیں۔ مشرقی اترپردیش کے بلیا اور آرہ ضلع کے 39 گاؤں کی 7062ایکڑ زمین متنازع ہے۔ یوپی کے بلیا اور بہار کے چھپرہ، آرہ، بکسر اور سیوان کے 153گاؤں کی 65ہزار ایکڑ زمین سرحدی تنازع میں الجھی ہوئی ہے۔ ریاستوںکے بیچ جو بھی مسائل ہیں، ان کو صرف کتابوںیا بحث تک محدود نہیںرکھناچاہیے۔ سرکاروں اور انتظامی سطح پر ان کے حل نکالنے کی کوشش ہونی چاہیے۔ہریانہ ،یوپی تنازع سیدھے طور پر کھیتی کسانی سے جڑا ہوا ہے جو مقامی لوگوں کی روزی روٹی کا اہم وسیلہ ہے۔ فصلوںکی بوائی یا کٹائی کے ہر سیزن میںیہ تنازع ایک نئی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ جھگڑا کئی بار لاٹھی ڈنڈوں اور بندوقوںتک پہنچ جاتا ہے۔ جمنا کا راستہ بدلنے سے ہوئے تنازع کوختم کرانے کی ساری قواعد ختم ہوچکی ہے۔ وہاں کے کسان بھی کسی کا حکم ماننے کو تیار نہیںہوتے ہیں۔ بندوق کے بل پر وہ منمانی کرکے تناؤ کی صورت حال پیدا کرتے ہیں ۔ اب ایک بار پھر یہاںتناؤ کی صورت حال بن رہی ہے۔ ہریانہ کے حسنپور علاقے میںاسے لے کر سرگرمی ہے۔
یوپی کے کسانوں کی زمین کو ہریانہ کے کسانوں کے ذریعہ قبضہ کیے جانے کا معاملہ ہریانہ ہائی کورٹ میں بھی چل رہا ہے۔ ٹانڈہ (یوپی) کے کئی کسانوں کا کہنا ہے کہ ان کی زمین پر ہریانہ کے گاؤں کھوجکی پور، رائیمال، سنجولی او رگوئلہ خردکے کسان قبضہ کرکے کھیتی کرتے ہیں۔ اس تنازع میںیوپی کے کسانوں کی تقریباً 1698 ایکڑ زمین پھنسی ہوئی ہے، جو 618 کسانوں کے نام ہے۔ ان کسانوں کی زمین انھیںنہیںملی ہے جو کہ دیکشت ایوارڈ کے تحت ہریانہ کے رقبہ میںآئی ہوئی ہے۔اس زمین کو یوپی کے کسانوں کو دیے جانے کی مانگ کافی عرصہ سے ہورہی ہے۔ ٹانڈہ کے کسانوں نے ہریانہ ہائی کورٹ میںحلف نامہ دیا ہے کہ ان کی زمین انھیںنہیںمل رہی ہے۔ اس زمین پر ہریانہ کے کسان کھیتی کرتے ہیں، جبکہ اس کے ریکارڈ کے مطابق اصل مالک یوپی( ٹانڈہ) کے کسان ہیں۔
اس معاملے کا لب لباب یہ ہے کہ ہریانہ اور یوپی کی سرحدکو لے کر گزشتہ تقریباً 40 سال سے چلا آرہا تنازع کسی طرح سے سلجھنے کا نام نہیںلے رہا ہے۔ یوپی کے کسان جمنا کے کنارے پر واقع زمین پر ہونے والی کھیتی پر اپنا حق بتاتے ہوئے اسے کاٹنے کے لیے آپہنچتے ہیں تو دونوں طرف سے تشدد آمیز تناؤ پھیل جاتا ہے۔ دونوںریاستوںکی سرکار اور انتظامیہ کے ذریعہ لاکھ کوششیںکرنے کے بعد بھی آج حالت یہ ہے کہ جمنا کے کنارے پر واقع دونوںریاستوں کے گاؤں کے لوگوںمیںٹکراؤ کی صورت حال بنی ہوئی ہے اور اب یوپی اسمبلی انتخاب سے پہلے معاملہ پھر سے گرمانے لگا ہے۔ g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *