پاکستان میں قتل و غارت گری کی سیاست

Share Article

منظور احمد
گزشتہ ہفتہ دن دہاڑے باغی بلوچ لیڈروں کی خاتون رشتہ داروں قتل کا واقعہ بدقسمتی سے اس ہنگامہ خیز واقعہ میں دب کر رہ گیا جس میں سپریم کورٹ نے پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو اس بات کامجرم قرار دیا کہ انہوں نے صدر زرداری اور دوسرے لوگوں کے خلاف مقدمہ دوبارہ شروع کرانے کے معاملہ میں کوئی پیش رفت نہ کی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تشدد کے واقعات حتیٰ کہ سیاسی نوعیت کے قتل بھی قیام پاکستان کے بعد ہی سے روز مرہ کا معمول بن گئے ہیں اور عالمی برادری بھی اب اس طرح کے واقعات سے زیادہ دکھی نہیں ہوتی۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی صرف رسمی طور پر اب اس طرح کے واقعات کا نوٹس لیتی ہیں اور اسلام آباد کے حکمرانوں کی رسمی تردید کے بعد بات کو آگے نہیں بڑھاتیں۔

اس کے بعد جھومر کو اپنی بیٹی کے قتل کا منظر دیکھنا پڑا۔ پھر وہ لمحہ بھی آیا جب جھومر کے سر، چہرے اور ناک پر انتہائی قریب سے ایک درجن سے بھی زیادہ گولیاں داغ دی گئیں اور خون آلودہ لاش کو وہیں چھوڑ دیاگیا۔ ان ہلاکتوں کے بعد پاکستان کے جنوبی صوبہ بلوچستان کے سیاسی حلقوں میں افراتفری مچ گئی۔

اس سنسنی  خیز سیاسی قتل کی کہانی یہ ہے کہ نواب اکبر خان بگتی کی بیٹی اور نواسی کو کراچی کے کلفٹن علاقہ میںبے دردی سے ذبح کردیا گیا۔ یہ بات سبھی جانتے تھے کہ یہ خواتین معصوم تھیں اور ان کا اپنے گھر کے مرد سیاست دانوں کی سیاسی سرگرمیوں سے کوئی سروکار نہ تھا۔ لیکن عورتوں کو یرغمال بنانا یا ان کا قتل کرنا پاکستان کے سیاسی کلچر کا ایک جزو ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق اس واقعہ کے تفتیش کاروں نے قیاس آرائی کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی اور خود ہی یہ کہہ دیا کہ قتل کا مقصد برہم داع بگتی کو پیغام دینا تھا جو مقتول قوم پرست بلوچ لیڈر نواب اکبر بگتی کے پوتے ہیں۔ بلوچ ریپبلکن پارٹی کے لیڈر برہم داغ نے کہا کہ ’’وہ ہمارے لوگوں کو اس لئے مارتے ہیں کہ ہم پاکستان کا حصہ نہیں ہیں‘‘ انہوں نے اس بات کی بارہا تردید کی ہے کہ وہ کسی طرح کی مسلح بغاوت میں ملوث ہیں۔ اس سلسلے میں ان کا آخری انٹرویو برطانوی جرنلسٹ کیروٹا گیل نے 23اگست 2011کو لیا تھا۔ وہ ’’نیویارک ٹائمز‘‘ سے وابستہ ہیں۔  برہم داغ بگتی نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ مسلح جدوجہد سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہو ںنے سیاسی پناہ حاصل کرنے کیلئے سوئٹزر لینڈ سے درخواست کی ہے۔ انہو ںنے یہ وضاحت بھی کی ہے کہ وہ وہاں سے سیاسی سرگرمیوں کو فروغ دینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے اور وہ بلوچستان ریوولیوشنری پارٹی (بی آر پی)  کی مرکزی کمیٹی کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کی پیشکش بھی کرچکے ہیں۔
نواب اکبر بگتی ایک بار بلوچستان کے گورنر بھی رہ چکے تھے اس کے علاوہ وہ سابق وزیر داخلہ بھی تھے جو بعد میں باغی ہوگئے تھے اور جنرل پرویز مشرف کے دورِ اقتدار میں اگست 2006 کے فوجی آپریشن میں مارے گئے۔ 34سال کی جھومر برہم داغ کی بیٹی تھیں جن کی شادی بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کے رکن بختیار ڈومکی سے ہوئی تھی۔ جاناں ڈومکی ان کی بیٹی تھیں۔ ان دونوں کو کراچی میں گزری فلائی اوور کے قریب گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ ان کی گاڑی کا ڈرائیور بھی ہلاک ہوگیا تھا۔ اس واقعہ کا چشم دید گواہ ڈومکی خاندان کا ملازم ہے جو اس حملے میں بچ گیا۔ یہ حملہ جھومر کے ماموں کے گھر سے تھوڑی دور واقع ایک جگہ پر ہوا۔ وہ کلفٹن علاقہ ہے اور وہاں بڑی تعداد میں پولیس تعینات رہتی ہے۔ بلوچ نیشنلسٹ ویب سائٹ ’’بلوچ ورنا‘‘ نے اپنی رپورٹ میں چشم دید گواہ کے حوالے سے کہا ہے کہ پولیس کی ایک یونٹ دیکھتی رہی۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کلفٹن میں آدھی رات کے قریب جھومر کی کارکو ایک کالے رنگ کی کار نے روکا۔ سیاہ شلوار قمیض میں ملبوس ایک شخص نے کار سے نکل کر ڈرائیور برکت بلوچ کو گولی ماری۔ قاتل کا چہرہ سیاہ نقاب سے ڈھکا ہوا تھا۔ ڈرائیور جائے واردات پر ہلاک ہوگیا۔ اس کے بعد جب دوبائیک نے گاڑی کو گھیر لیا تو قاتل نے گاڑی کے پیچھے کا دروازہ کھولا۔ جھومر نے سمجھا کہ وہ کوئی ڈاکو ہے اس لئے اپنے زیورات، فون اور دوسری قیمتی چیزیں اس کے حوالے کیں۔ لیکن قاتل نے اس کے جواب میں کہا کہ اسے قیمتی سامان نہیں چاہئے۔ وہ تو انہیں اور ان کی بیٹی کو مارنے کیلئے آیا ہے۔
اس کے بعد جھومر کو اپنی بیٹی کے قتل کا منظر دیکھنا پڑا۔ پھر وہ لمحہ بھی آیا جب جھومر کے سر، چہرے اور ناک پر انتہائی قریب سے ایک درجن سے بھی زیادہ گولیاں داغ دی گئیں اور خون آلودہ لاش کو وہیں چھوڑ دیاگیا۔ ان ہلاکتوں کے بعد پاکستان کے جنوبی صوبہ بلوچستان کے سیاسی حلقوں میں افراتفری مچ گئی۔سپریم کورٹ نے از خود اس واقعہ کا نوٹس لیا اور اسے ’’انتہائی حساس‘‘ واقعہ قرار دیا۔ عدالت نے  قاتل کو گرفتار کرنے کا حکم بھی دیا۔ لیکن ابھی تک کوئی پیش رفت نہ ہوسکی اور نہ ہی کوئی سراغ ملا۔  جن تفتیش کاروں نے ملازم سے پوچھ تاچھ کی انہوں نے کہا کہ قتل کا مقصد برہم داغ کو پیغام دینا تھا۔ ڈومکی نے کہا ’’مجھے بتائیے کہ کیا کبھی بھی کسی ایسے شخص کو سزا ملی جو بلوچیوں کے اغوا اور ہلاکتوں کے واقعات میں ملوث رہا ہے۔ لوگ اس بات کو بھول نہیں سکتے کہ میرے نانا اور ان کی لاش کے ساتھ کیا سلوک ہوا تھا‘‘ انہوں نے کہا ’’وہ ہمیں اس لئے مارتے ہیں کہ ہم پاکستان کا حصہ نہیں ہیں۔ میرا خیال ہے کہ برہم داغ لگتی کے لئے بھی ایک پیغام ہے۔
اکبر بگتی کی ہلاکت نے پاکستان میں ہنگامہ برپا کر دیاتھا۔ جس غار میں وہ چھپے ہوئے تھے اسے پہلے ڈھا دیا گیا اور پھر فوجی آپریشن کے ذریعہ ان پرگولیاں برسائی گئیں تاکہ کوئی زندہ نہ بچ سکے۔ بعد میں جب جنرل مشرف کا زوال ہوا تو ان کے اور اس وقت کے وزیراعظم شوکت عزیز کے خلاف ایک جوڈیشیل مجسٹریٹ نے گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا۔
نواب زادہ جمیل بگتی، نواب اکبر بگتی کے سب سے بڑے بیٹے ہیں جو حیات ہیں۔ انہوںنے ڈیرا بگتی تھانے میں ایف آئی آر درج کرائی تھی جس میں انہوں نے مشرف ، شوکت عزیز، آفتاب احمد خان شیرپائو، بلوچستان کے سابق گورنر اویس احمد غنی سابق وزیر اعلیٰ جام محمد یوسف اور نور شیروانی کے نام لکھوائے تھے۔  حکومت کے مخالفین کو ملک چھوڑنے کے بعد بھی نہیں بخشا جاتا لندن ایک ایسی قتل گاہ ہے جہاں متحدہ قومی موومنٹ کے کئی سیاست دانوں کو ہلاک کیا گیا۔ سابق وزیر اعظم حسین شہید سہروردی کا دوسرے ملک میں پراسرار طور پر انتقال ہواتھا۔ اب تک اس کا کوئی سراغ نہ ملا۔ پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے وقت ہلاک کئے گئے تھے۔ اس کے بعد سے تو قتل اور ہلاکتوں کا سلسلہ ہی شروع ہوگیا جو پاکستان کے سیاسی افق پر اب تک چھایا ہوا ہے۔    g

Share Article

One thought on “پاکستان میں قتل و غارت گری کی سیاست

  • April 18, 2012 at 4:26 pm
    Permalink

    جناب منظور احمد صاھب ہم اپ کےبے حد مشکور اے ک اپ نےبلوچ قومی مسلے پر اپنے راے کا اظہر کیا ،،،،لیکن ام ایک بات یا واضح کرتے ئیںبلوچستان پاکستان کا صوبہ نہی ہیںبلوچستان ایک مقبوضہ ریاست ہیں جس پر پاکستان نے ٢٧ مارچ ١٩٤٨ کو جبری طورپر قبضہ کیا گیا ے ٢٧ مارچ ١٩٤٨ سےلیکر آج تک پاکستان بلوچستان مے بلوچ نسل کشی کر رہ ے پاکستان بلوچستان مے انسانی حقوق کی بعد ترین پامالی کر رہ ے پاکستان نے اب تک ١٤٠٠٠ بلوچو کو جبری طور پر اگوہ کر کے لاپتہ کر دیا ے جس مے ٢٠٠ سے زائد بلوچ قواتین شامل ے اب تک لاپتہ بلوچو کی ٤٠٠ سے زائد مسک شودہ لاشیں برآمد او ے،،،،،،پاکستانی میڈیا دنیا کو بیوہ قوب بنا نے کے لیی جوتا پرو پیگنڈہ کرتا ے ،،،،ام پورے دنیا کے میڈیا سے اپیل کرتے ے ک بلوچستان مے آکر پاکستان کی دشتگارڈیو کود براے راست دیک سکے

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *