خواتین سے متعلق روزوں کے مسائل

Share Article

طلوع فجر کے فوراً بعد اگر کوئی عورت پاک ہوجاتی ہے (حیض سے) تو کیا وہ روزہ رکھے گی یا رمضان کے بعد قضا کرے گی؟
طلوع فجر کے بعد حیض بند ہونے اور پاک ہونے کی صورت میں قضا ہوگی البتہ بعض علماء جن میں امام احمد بن حنبل شامل ہیں نے کہا ہے کہ عورت کچھ کھائے پیئے نہیں بلکہ روزہ دار کی طرح بھوکی پیاسی رہے مگر اس روزے کا شمار نہیں ہوگا۔یعنی قضا رکھنی پڑے گی۔
روزے کے شروع ہونے سے پہلے پاک ہوجائے لیکن غسل بعد نماز فجر ہو تو اس کا روزہ صحیح ہے؟
جب کوئی عورت طلوع فجر سے پہلے پاک ہوجائے تو اس پر روزہ رکھنا لازم ہو جاتا ہے۔ اس کا یہ روزہ درست شمار ہوگا۔ اگرچہ غسل وغیرہ بعد میں کیا جائے۔ اسی طرح مرد کو اگر احتلام آجائے یا وہ جنبی ہو اور فجر کے بعد غسل کرتا ہے تو روزہ ہوجائے گا۔
اگر نفاس (ولادت) والی عورت 40 دن سے پہلے ہی پاک ہوجائے تو کیا وہ نماز ، روزہ پر عمل کرے گی؟
جی ہاں، چالیس دن سے پہلے پہل جس وقت بھی طہارت حاصل ہو فوراً اس پر نماز ، روزہ رکھنا لازم ہوجاتا ہے۔
کسی عورت کے ایام میں کمی وی بیشی ہوتی رہے تو وہ کیا کرے۔یعنی کبھی حیض پانچ دن آئے ،کبھی چھہ دن یا کبھی آٹھ دن تو اس کے متعلق کیا حکم ہے؟
جب کسی عورت کے ساتھ یہ مسئلہ ہو تو وہ جب تک پاک نہ ہوجائے اس وقت تک نماز نہیں پڑھ سکتی۔ جب تک خون باقی رہے گا اس وقت تک نہ نماز ہوگی نہ روزہ۔
اگر کسی عورت کو دن کے وقت حالت روزہ میں دو چار قطرہ خون آجائے تو وہ کیا کرے۔ واضح رہے کہ اس کو پورا مہینہ اس طرح قطرے آتے رہتے ہوں ،کیا اس کا روزہ صحیح ہے؟
یہ روزہ بالکل صحیح ہے اور جو قطرے خون کے آتے ہیں تو یہ حیض نہیں ہیں بلکہ یہ رگوں میں سے آنے والا خون ہے۔
کوئی عورت محسوس کرے کہ اس کو خون آرہا ہے لیکن واقعۃً مغرب سے پہلے خون نہ آئے یا پھر حیض کا درد ہونے لگے لیکن خون نہ آئے تو کیا اس عورت کا روزہ درست ہوگا؟
اس صورت میں روزہ بالکل درست ہوگا۔ کیونکہ ایک پاک عورت کو خون حیض جاری نہیں ہوا ہے بلکہ صرف درد یا احساس ہوا ہے جس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ روزہ چاہے نفلی ہو یا فرض، دونوں درست ہیں۔
جب کوئی عورت خون دیکھے لیکن اس کو یقینی طور ر معلوم نہ ہو کہ یہ خون حیض کا ہے یا کوئی اورہے۔ تو پھر کیا وہ روزہ مکمل کرے یا نہیں ؟
اس عورت کو روزہ مکمل کرنا چاہئے۔ اس کا روزہ بھی درست ہوگا کیونکہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا کہ خون حیض کا ہے یا نہیں
ایک حاملہ عورت کو رمضان کے دنوں میںخون آنے لگے تو اس کا روزہ رکھنا درست ہو گا؟
اگر کسی حاملہ عورت کو حیض کا خون آنے لگے تو پھر اس کے لئے روزہ رکھنا منع ہوگا۔ بعض طبی مشاہدوں کے مطابق بسا اوقات حاملہ عورت کو بھی کچھ نہ کچھ حیض کا خون آسکتاہے اور اگر وہ خون حیض والانہ ہوتو پھر وہ عورت روزہ رکھے گی۔
جب کسی عورت کو اپنے زمانہ حیض کے دوران ایسے د ن بھی آئے کہ اس دن کسی بھی وقت اسے حیض نہ آیا ہو۔ اور پھر گلے دن دوبارہ شروع ہو جائے تو اس دن کے متعلق کیا حکم ہے؟
زمانہ حیض کے دمیانی ایام میں اگر کسی دن خون نہ آئے تو بھی اس دن کو ایام حیض میں شمار کیا جائے گا اور اگر پندرہ دن سے زائد عرصے تک یہی صورت حال رہے تو پھر یہحیض نہیں، استحاضہ کہلائے گا جس میں نماز، روزہ معاف نہیں ہوتا۔
حیض کے آخری دنوں میں کچھ عورتیں خون کے نشانات نہیں دیکھتیں ۔کیا اس دن روزہ رکھیں گی۔ یعنی حیض کے آخری دن آنے والا سفید پانی بھی نہیں آتا تو وہ عورت کیا کرے؟
اگر کسی عورت کی یہ ہمیشہ کی عادت ہے کہ اسے آخری دنوں میں سفید پانی نہیں آتا تو وہ روزہ رکھے گی اور اگر سفید پانی آتا ہوتو اس کو بھی حیض میں شمار کیا جائے گا۔
کیا حائضہ یا نفاس والی عورت قرآن کو دیکھ کر یا زبانی پڑھ سکتی ہے۔ اگر وہ طالبہ یا معلمہ ہو تو کیا کرے؟
کسی حائضہ یا نفاس والی عورت کا قرآن پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اگر کوئی ضرورت ہو یعنی معلمہ یا طالبہ کو قرآن پڑھنا لازمی ہو تو وہ پڑھ سکتی ہے لیکن ہاتھ نہ لگائے لیکن اگر صرف ثواب کی نیت سے پڑھناہوتو وہ نہ پڑھے۔
ایک عورت نے رمضان کے کچھ روزے بوجہ ولادت نہیں رکھی۔ابھی ان روزں کی قضا نہیں کی تھی کہ دوسرا رمضان آگیا، اس وقت وہ دودھ پلارہی تھی۔اس طرح تیسرا رمضان بھی آگیا ۔ اب بتائیں وہ روزوں کی قضاء کب کرے گی؟
اگر چھوٹے ہوئے روزوں کی ادائیگی کی استطاعت محسوس کرے گی تو اسی وقت وہ اس کی ادائیگی کردے گی اور اگر استطاعت نہیں ہوتو جب عذر ختم ہو ان روزوں کی قضا کرے گی البتہ جب تک ان روزوں کی قضا نہیں رکھی جائے گی اس وقت تک تمام روزے ذمہ میں باقی رہیں گے۔
رمضان کی راتوں میں عورت اپنے گھر میں تراویح پڑھے یا مسجد و مدرسے میں جاکر ۔ان دونوںکاموں میں سے بہتر و افضل عمل کون سا ہے؟
عورتوں کے لئے افضل عمل اپنے گھروں میں نماز پڑھنا ہے۔ اگر کسی مقام پر وعظ و نصیحت کا پروگرام ہورہا ہو تو پھر مسجد و مدرسہ میں بھی جاسکتی ہیں ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *