خود بھی بچئے اور ملک کو بھی بچایئے

Share Article

سنتوش بھارتیہ

ہندوستان کی فوج صحیح وجوہات تلاش کر لیتی ہےْ لیکن حکومت تلاش نہیں کر پاتی۔ ہندوستان کی فوج کا ماننا ہے کہ نکسلیوں کا مقابلہ کرنے کی پالیسی غلط ہے۔نکسل ازم کو ختم کرنے کی پالیسی اپنانی چاہئے۔نکسل ازم کو ختم کرنے کا مطلب اس کے پیدا ہونے کی وجوہات کو ختم کرنا چاہئے۔فوج کا واضح طور پر کہنا ہے کہ ترقی کا نہیں ہونا یا غیر متوازن ترقی ہونا ہی نکسل ازم کی بنیادی وجہ ہے۔فوج ترقی کے نہیں ہونے کے پیچھے سول انتظامیہ کے افسران ،ملازمین اور سیاستدانوں کو قصوروار مانتی ہے۔فوج کا یہ بھی کہنا ہے کہ جنگی سطح پر ترقیاتی کام شروع ہونے چاہئیں اور جو بھی ترقیاتی کاموں میں بدعنوانی یا تاخیر کا قصوروار پایا جائے تو اسے سخت سزا بلا تاخیر دے دی جائے۔
دوسری جانب ریاستی حکومتیں ہیں جن کی کوئی دلچسپی ترقیاتی کاموں میں نہیں ہے۔ وہ کسی کی ذمہ داری طے نہیں کرتیں، کسی کو سزا نہیں دیتیں، اگر کوئی پکڑا بھی جاتا ہے تو اسے بچانے کے لئے بڑے بڑے سیاستداں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ گزشتہ 60برسوں میں انتظامیہ کا ڈھانچہ لوٹ کے ڈھانچہ میں تبدیل ہو گیا ہے اور جو کسر باقی تھی اسے پولس و نیم فوجی دستوں نے پوری کر دی۔ پولس صرف بے قصور لوگوں کو پھنسانے ، قصورواروں کے ساتھ کھڑا ہونے اور وردی پوش دہشت گردوں کے گروہ میں بدلتی جا رہی ہے۔ آج ملک کی سات ریاستیں نکسل ازم کی گرفت میں ہیں۔حکومت یہاں فوج بھیجنا چاہتی تھی، فوج نے حکومت سے پوچھا ہے کہ 60برسوں میں سول انتظامیہ کیسے اتنی ناکام ہو گئی کہ فوج بھیجنے کی نوبت آ گئی۔ فوج اگر جائے گی تو کس قانون کے تحت جائے گی، کیونکہ بنا اسپیشل آرمڈ فورسز ایکٹ نافذ کئے فوج نہیں بھیجی جا سکتی۔
اتنا ہی نہیں فوج جب آپریشن کرے گی تو انسانی حقوق کے سوال کھڑے ہوں گے، کیونکہ فوج سرحد کی حفاظت کے لئے ٹرینڈ ہے ،اگر اسے قانونی نظام کی بحالی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے تو کچھ خطرے مسلسل برقرار رہیں گے، جس میں اہم ہیں کہ کچھ قصورواروں کی تلاش میں زیادہ بے قصور وار شکار ہو سکتے ہیں۔ فوج کو گولی کمر سے نیچے چلانے کی ٹریننگ نہیں دی جا سکتی، بلکہ ایک گولی سے کم سے کم ایک موت، اس کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔ فوج کے ہیلی کاپٹر جب گولی چلائیں گے تو بے قصور لوگ زیادہ مریں گے۔ فوج اسے جانتی ہے، اس لئے اس نے سوال کھڑے کئے ہیں۔ فوج کے سوالوں کا کوئی جواب حکومت کے پاس نہیں ہے۔ حکومت تو یہ بھی نہیں سمجھ پا رہی ہے کہ غیر کانگریسی ریاستوں میں ترقیاتی کام کیسے شروع کرے اور وہاں کی حکومتوں پرکیسے دبائو ڈالے۔ چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، جھارکھنڈ، بہار، بنگال، اڑیسہ اور اتر پردیش میں کانگریس کی حکومتیں نہیں ہیں۔نکسل متاثرہ ایک اور ریاست باقی ہے آندھرا پردیش، جہاں کانگریس کی حکومت ہے۔ ہوشیار وزیر داخلہ نے سبھی غیر کانگریسی حکومتوں کی لڑائی اپنے کندھوں پر لے لی ہے۔وہ ان نکسل متاثرہ علاقوں کے وزرائے اعلیٰ پر ترقیاتی کاموں کو تیزی سے کرنے کا دبائو ڈال رہے ہیں۔نہ ہی  پولس کو چست اور ایماندار بنانے کا پیغام دے رہے ہیں، بلکہ ان سبھی کی کاہلی اور نا اہلی کو اپنا تحفظ دے رہے ہیں۔ ریاستی حکومتیں بھی چدمبرم کی کمزوری سمجھ گئی ہیں اور انہیں جوش دلاتی رہتی ہیں۔ اب چدمبرم کی حکمت عملی ہے کہ نکسل ازم کے خلاف خاموش کارروائی ہو، ہونی چاہئے ،لیکن گولی نہیں۔ترقی کا حملہ ہونا چاہئے۔
ہم چدمبرم صاحب، منموہن سنگھ صاحب اور اڈوانی صاحب کی توجہ سپریم کورٹ کے ایک تبصرہ کی جانب مبزول کرا رہے ہیں۔ یہ تبصرہ سپریم کورٹ کے جج عالیجناب آفتاب عالم نے اڑیسہ میں اجاڑے گئے دس گاوئوں کی ایک عرضی پر کیا ہے۔اس میں جسٹس آفتاب عالم نے سپریم کورٹ کی نہیں ملک کی تشویش ظاہر کی ہے۔
20سال قبل نکسل متاثرہ سندر گڑھ میں جنگلی اراضی پر قبضہ کوئلے کی کان کے لئے ہواتھا۔ جسٹس آفتاب عالم کی صدارت والی بنچ نے مرکزی حکومت سے قبائلیوں کو مناسب معاوضہ دلانے کی ہدایت دیتے ہوئے کورٹ کے ایک جج کو پورے معاملہ کا کمشنر مقرر کیا ہے۔ کورٹ نے کہا ہے کہ ترقی کا مطلب شہری ڈھانچہ ، روڈ ، ہائی وے، مواصلات، تکنیک، معدنیات کا پیشہ وارانہ استعمال ، توانائی کی پیداوار، اسٹیل کی پیداوار اور دیگر میٹلز کی تعمیر ہے، لیکن ترقی نام کا یہ لفظ لاکھوں لوگوں کے لئے بھیانک اور لائق نفرت بن گیا ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ترقی کے لئے ریاست کے ذریعہ اٹھائے گئے ہر قدم کی وہ شخص مخالفت کرتا ہے، جس کے لئے قدم اٹھائے جا رہے ہیں۔ اسکول، اسپتال، روڈ اور روزگار پیدا کرنے کے لئے یقین دہانی کے ساتھ زمین پر قبضہ کیا جاتا ہے، لیکن وہ ہمیشہ کاغذوں پر ہی رہتے ہیں۔
ملک کی سب سے بڑی عدالت نے آگے کہا ہے کہ ہندوستان کا جی ڈی پی اور ایچ ڈی آئی جو کہ زندگی، بالغ خواندگی اور رہن سہن کے معیار سے وابستہ ہیں، ایک دوسرے کی مخالف تصویریں کیوں پیش کرتے ہیں۔ ہندوستان کی معیشت دنیا میں بارہویں نمبر پر ہے۔ وہیں اس کی ترقی کی رفتار دوسرے نمبر پر ہے۔ لیکن ایچ ڈی آئی رپورٹ کے مطابق 182ممالک میں ہندوستان کا نمبر 134واں ہے، یعنی انسانی ترقی میں ہم پیچھے ہیں۔ یہ الفاظ سپریم کورٹ کے جج جسٹس آفتاب عالم کے ہیں، جن کی سمجھ کم سے کم صدر جمہوریہ، وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور اڈوانی صاحب جیسے لیڈران جتنی تو ہے ہی۔یہ لفظ ہندوستان کے سیاسی ڈھانچہ کو چلانے کا خواب دیکھنے والوں کے لئے واضح وارننگ ہے۔یہ وارننگ تب خطرناک ہو جاتی ہے،جب ہم فوج کے رخ کو اس کے ساتھ ملاتے ہیں۔فوج نے نکسلیوں کے خلاف اترنے سے منع کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے ملک کے ہی لوگوں پر گولی نہیں چلائے گی۔اس نے یہ بھی کہا ہے کہ نکسل ازم کی اہم جڑ ترقی کا نہ ہونا اور ترقی کے نام پر سول انتظامیہ کے ذریعہ کھلی لوٹ ہے۔سپریم کورٹ اور فوج کی رائے ایک ہو جاتی ہے اور ہمارے سیاستدانوں، بالخصوص وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔
اب یہ فکر ملک کی فکر ہے۔آنکھیں بھی کھولئے اور کان بھی ۔معاشرتی تحریک کا کارکن وارننگ نہیں دے رہا ہے۔ سپریم کورٹ وارننگ دے رہی ہے ۔ فوج آگاہ کر رہی ہے ۔ خود بھی بچئے اور ملک کو بھی بچایئے۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *