p-5bان دنوں مغربی اترپردیش کا قصبہ کیرانہ سرخیوں میں ہے اور جس انداز میں کیرانہ کے مسئلے کو لگاتار اچھالا جارہا ہے، اس سے لگتا ہے کہ آئندہ ہونے والے اترپردیش کے اسمبلی انتخاباتمیںبھارتیہ جنتا پارٹی اسی مدعے کوانتخابی ہتھیاربنا کر الیکشن کے میدان میں اترے گی۔ واضح ہوکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمنٹ حکم سنگھ نے اترپردیش کے شاملی ضلع کے قصبہ کیرانہ کے 346 ہندو کنبوںکی ایک فہرست جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیاہے کہ یہ ہندو لوگ مسلمانوںکی غنڈہ گردی کے خوف سے کیرانہ چھوڑکر دوسری جگہوں پر آبادہوئے ہیں۔حکم سنگھ کیرانہ کے ہی رہنے والے ہیں اور 2014 کے لوک سبھا انتخاب میں وہ کیرانہ سے ہی ممبر آف پارلیمنٹ چنے گئے ہیں۔
کیرانہ کے 346ہندو کنبوں کی نقل مکانی کا معاملہ الٰہ آبادمیں ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی مجلس عاملہ کے کنونشن میں بھی خوب اچھلا۔ بی جے پی کے قومی صدر امت نے اعلان کیا کہ وہ متھرا اور کیرانہ کے معاملے کو اسمبلی انتخابات میں موضوع بنائیںگے۔ چنانچہ مبینہ ہندوؤں کی نقل مکانی کے سوال پر بی جے پی اور دیگر ہندو تنظیموں نے اکھلیش سرکار کو گھیرنا شروع کردیا۔ اترپردیش میں صدر راج نافذ کرنے کا مطالبہ کیا جانے لگا۔ آناً فاناً دھرنے اور پردرشن کا اعلان کردیا گیا۔ بی جے پی لیڈروں کا وفد بھی کیرانہ کے حالات کا جائزہ لینے نکل گیا ۔ عنقریب ہی وزیر اعظم نریندر مودی کی ہدایت پر مرکزی وزراء کا وفد بھی کیرانہ کے دورے پر جاکر وزیر اعظم کو رپورٹ پیش کرے گا۔ مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے فوری طور پر اکھلیش سرکار کو نوٹس جاری کرکے رپورٹ طلب کی گئی کہ کیرانہ میں نقل مکانی کن لوگوں کی ہوئی اور اس نقل مکانی کے کیا اسباب ہیں۔
کیرانہ کے اس معاملے پر ساری سیاسی پارٹیاں اپنے خیمے سے باہر نکل آئیں اور انھوں نے سیاسی روٹیاں سینکنی شروع کردیں۔ بہوجن سماج پارٹی کی سپریمو مایاوتی نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی راجیہ سبھا اور اسمبلی کونسل میں شکست کھاکر بوکھلا گئی ہے اور وہ اسمبلی انتخابات سے قبل یہاں کے بھائی چارے کو تارتار کرنا چاہتی ہے۔ان کاخیال ہے کہ مودی سرکار وقفہ وقفہ سے کوئی نہ کوئی شگوفہ چھوڑ کر عوام کو ورغلاتی رہی ہے۔پہلے لوجہاد، گئو کشی اور گھر واپسی جیسے شگوفوں کے ناکام ہونے کے بعد اب اس نے کیرانہ کے ہندوؤں کی نقل مکانی کا نیا شگوفہ چھوڑا ہے۔
کانگریس نے بھی اس مدعے پر بی جے پی کی کلاس لی۔ کانگریس کے قومی ترجمان اور راجیہ سبھا میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر آنند شرما نے کہا کہ دراصل بی جے پی اپنے وعدے کوفراموش کرچکی ہے۔ اگر اب وہ ترقی کے نام پر ووٹ مانگے گی، تو اسے کوئی ووٹ دینے والا نہیں ہے، اس لیے اب وہ پولرائزیشن کے لیے نفرت کی سیاست کررہی ہے۔ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی کہہ رہی ہے کہ سماجوادی پارٹی کے لوگ کیرانہ سے ہندو بھائیوںکو بھگا رہے ہیں، یہ کتنے شرم کی بات ہے۔ آپ کوکیرانہ کی فہرست دیکھنا چاہیے کہ یہاں سے کون کتنے سال پہلے گیاہے۔
حکم سنگھ کیرانہ کی نقل مکانی کے بارے میں بتاتے ہیں کہہ جہان پورہ میں 60 سے زیادہ ہندو خاندان آباد تھے، لیکن اب وہاں ایک بھی خاندان آبا د نہیں ہے۔ پنجیٹھ گاؤںسے بھی لوگ نقل مکانی کررہے ہیں، حالانکہ وہ انھیں خود بھی روکنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگوںکی نقل مکانی کی وجہ سے کیرانہ میںکشمیر جیسے حالت پیدا ہوگئے ہیں۔ کیرانہ میں ہفتہ وصولی، رنگداری، قتل اور خواتین سے چھیڑ چھاڑ اور لوٹ مار کی وارداتوں کی وجہ سے کاروباری لوگ خوف و دہشت میں مبتلا رہتے ہیں۔ کیرانہ کے کاروباریوں کو جیل میں بیٹھے داداؤں کو ہفتہ پہنچانا پڑتا ہے۔
نقل مکانی کے تعلق سے شاملی کے ایڈیشنل ایس پی انل کمار جھاکا کہنا ہے کہ کیرانہ سے صرف ہندو بھائی ہی نہیں، بلکہ مسلم بھائیوں نے بھی نقل مکانی کی ہے اور یہ نقل مکانی کسی خوف سے نہیں ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں ریاستی حکومت نے اپنی رپورٹ مرکزی حکومت کو بھیج دی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ کیرانہ میں کبھی بھی فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ 6 دسمبر 1992 کو اجودھیا میںبابری مسجد کی شہادت کے دن بھی کیرانہ کے ہندو اور مسلمان آپس میںمل جل کررہے ۔ کچھ سال قبل بچوںکی تعلیم اور طبی وجوہات کے تحت کیرانہ سے کچھ لوگ، جن میں ہندو او رمسلمان دونوں فرقے کے لوگ شامل ہیں، باہر گئے ، جسے نقل مکانی نہیںکہا جاسکتا۔ سہارنپور کے ڈی آئی جی نے ریاستی حکومت کو دو صفحات پر مشتمل رپورٹ بھیج کر دعویٰ کیا کہ کیرانہ میںامن و قانون کا کوئی معاملہ نہیں ہے۔ یہاںتعلیم کا بہتر انتظام نہ ہونے کے سبب لوگ اپنے بچوںکو تعلیم کے لیے پانی پت، سونی پت ، نوئیڈا اور دہلی بھیجتے ہیں، اس کے علاوہ کاروبار کی وجہ سے بھی لوگ یہاںسے گئے ہیں۔ جہاں تک مقیم گروہ کے ذریعہ لوگوں کو پریشان کرنے کا سوال ہے، تو اس گروہ کے 25 لوگ جیل میں ہیں، جبکہ چار پولیس مڈبھیڑ میںمارے جاچکے ہیں۔ بی جے پی کے ایم پی حکم سنگھ کی نقل مکانی والی 346 لوگوں کی فہرست میں سے 119 کی جانچ کرلی گئی ہے۔ ان میں 60 سے زیادہ کنبے پانچ سے 15سال قبل ہی جاچکے ہیں اور کیرانہ سے جانے والوںمیں صرف ہندو ہی نہیں،مسلم کنبے بھی شامل ہیں۔
الٰہ آباد میں منعقد بی جے پی کی قومی مجلس عاملہ کے کنونشن میں جس طرح بی جے پی کے چھوٹے بڑے لیڈروں نے کیرانہ کا معاملہ اٹھا یااورپھر جس انداز میں یہ معاملہ چھایا ہوا ہے،اس سے لگتا ہے کہ بی جے پی یوپی اسمبلی انتخابات کے لیے ووٹوںکے پولرائزیشن کے لیے کیرانہ جیسے مدعوں کو اپنا انتخابی ہتھیار بنائے گی۔ جہاں تک کیرانہ کے ہندو کنبوں کی نقل مکانی کی بات ہے، تو سچائی یہ ہے کہ کیرانہ میں روزگار کے مواقع بہت کم ہیں، ذریعہ معاش کی خاطر یہاں کے لوگ آس پاس کے دوسرے شہروں میں آبادہوئے ہیں اور ان نقل مکانی کرنے والے لوگوںمیں صرف ہندو کنبے ہی نہیں، بلکہ مسلم کنبے بھی شامل ہیں۔ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ ہندو کنبوں نے مسلمانوں کی غنڈی گردی کے خوف سے نقل مکانی کی ہے، تو یہ سراسر غلط ہے اور لوگوں میںبھرم پھیلانے والی بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حکم سنگھ کی فہرست میں کئی خامیاں ہیں، جو میڈیا میںلگاتار اجاگر ہورہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ خود بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ معاملہ فرقہ پرستی کا نہیں، بلکہ لاء اینڈ آرڈر کا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی خارجہ پالیسی کے سبب امریکہ ،برطانیہ اور یوروپ یہاں تک کہ اسلامی ممالک بھی ہندوستان کے قریب آئے ہیں ۔گویاوزیر اعظم کی شبیہ دنیا میں امن اور خوشحالی کے مسیحا کے طور پر بن رہی ہے، ایسے میں انتخاب میں جیت حاصل کرنے کے لیے ترقی کے بجائے فرقہ پرستی کاکارڈ کھیلا جائے گا، تو اس سے یقینی طور پر وزیر اعظم اور ان کی پارٹی کی شبیہ خراب ہوگی۔لہٰذا کیرانہ جیسے ایشو پر انھیں قدغن لگانا چاہیے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here