ائمہ ومؤذنین کودہلی حکومت کا تحفہ ،تنخواہ میں اضافہ

Share Article
cm-kejriwal
کجریوال حکومت نے ائمہ ومؤذنین کوتحفہ دیاہے۔دراصل،دہلی کی کیجریوال حکومت نے یہاں کے ائمہ اور موذنین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا ہے۔دہلی وقف بورڈ نے ڈی ڈی یو روڈ پر واقع ماتا سندری کالج میں گذشتہ 23جنوری کوایک تقریب کا اہتمام کیا جس میں وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے بھی شرکت کی۔اس موقع پر دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امان اللہ خان نے ائمہ مساجد کی تنخواہوں میں اضافے کا اعلان کیا۔ ائمہ کرام کی تنخواہ 10 ہزار سے بڑھ کر 18 ہزار ہو جائے گی جب کہ موذن کی تنخواہ 9 ہزار سے بڑھ کر 16 ہزار ہو جائے گی۔ جانکاری کے مطابق ، تنخواہوں میں اضافہ فروری سے ہوگا۔
کیجریوال حکومت کے ذریعہ اٹھائے گئے اس قدم کا فائدہ دہلی وقف بورڈ کے تحت آنے والی 185 مساجد کے تقریباً 260 ائمہ کرام اور موذن کو ملے گا۔ایوان غالب میں موجود ہزاروں کی بھیڑ سے خطاب کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے کہا کہ دہلی حکومت ائمہ کرام اور موذن حضرات کے مسائل کو دور کرنے کے لیے پابند عہد ہے اور تنخواہ میں اضافہ اسی سمت اٹھایا گیا ایک قدم ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ آگے بھی مسجدوں اور اس کے عملہ سے متعلق درپیش مسائل کا حل نکالنے کی ہر ممکن کوششیں کی جائیں گی۔کیجریوالحکومت کے اس فیصلے کو دہلی کے مسلم طبقہ میں خوش آئند قدم قرار دیا جا رہا ہے۔وقف بورڈ کے چیئرمین کے مطابق طویل عرصے سے ائمہ تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کررہے تھے۔واضح ہوکہ دارالحکومت دہلی میں وقف بورڈ کی جانب سے تقریباً300مساجد کے ائمہ کو تنخواہیں ادا کی جاتی ہیں۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *