کیجریوال بننے کی اہمیت

Share Article

میگھنا د دیسائی 
سوویت یونین کے زمانے میں مشرقی یوروپ کے عام لوگ کہا کرتے تھے کہ وہ لوگ ہمیںتنخواہ دینے کا دکھاوا کرتے ہیں اور ہم ان کے لیے کام کرنے کا دکھاوا کرتے ہیں۔ ہندوستان کا عام آدمی کہہ سکتا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم بدعنوان نہیں ہیں، جب کہ ہم لوگ انھیں رشوت دیتے ہیں۔ سچائی یہ ہے کہ ہندوستانی سیاست بد عنوان ہے اور اس پر چرچا کر نے سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔ جب کسی پارٹی پر بد عنوانی کا الزام لگایا جاتا ہے تو وہ کہتی ہے کہ دوسری پارٹی بد عنوان ہے۔ اس طرح دیکھیں تو کانگریس اور بی جے پی کے بیچ اس طرح کی مساوات ہے۔ ووٹر اس بات کو جانتے ہیں کہ کوئی بھی شخص سیاست میں آتا ہے اور الیکشن جیتتا ہے، خواہ وہ پنچایت کا الیکشن ہو یا پارلیمنٹ کا، اسے تو اسی بدعنوانی کے راستے سے گزرنا پڑتا ہے۔ آپ اگر کسی بھی ایم ایل اے یا پارلیمنٹ کے ممبر کی املاک پر نظر ڈالیں گے تو خود ہی سمجھ جائیں گے کہ اس وقت سیاست بہت فائدہ کا کام ہے۔ ایم ایل اے یا ایم پی بننے کے بعد ان کی املاک جس تیزی سے بڑھتی ہے، اس تیزی سے کسی اور کاروبارمیں بڑھنا کافی مشکل ہے۔
تانا شاہی میں سب سے اوپر بیٹھے لوگ ان لوگوں کو بد عنوانی کرنے سے روک دیتے ہیں، جنھیں وہ جانتے ہیں، لیکن ہندوستان میں ڈیموکریسی کے ساتھ ہی بد عنوانی کا بھی ڈیمو کریٹا ئزیشن ہو گیا ہے۔ اگرآپ اس کا حصہ ہیں تو یہ اسی طرح ہے جیسے کہ آپ بیجنگ کے ممنوعہ شہر میں رہ رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر آپ سیاست میں ہیں تو قانونی اثرات سے اوپر ہیں۔ طاقتور لوگوں کے بیچ کے اسی اتحاد کو کجریوال نے چیلنج کرنا شروع کیا ہے۔ وہ اس بات کا انکشاف کریں گے کہ اگر کسی پارٹی کا لیڈر گھوٹالہ کر تا ہے تو دوسری پارٹی کے لیڈر اس کے خلاف کارروائی کر نے کے لیے ثبوت نہیں دیں گے، بلکہ اسے دبانے کی ہی کوشش کریں گے۔ اسی سبب سبھی سیاسی پارٹیوںنے ان پر حملہ کر نا شروع کر دیا ہے۔ کجریوال نے یہ طے کیا ہے کہ آنے والے الیکشن تک وہ لگاتار گھوٹالے اجاگر کرتے رہیں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مئی 2014 کے پہلے ان کے پاس گھوٹالوں سے متعلق انکشافات والے حقائق ختم ہو جائیں گے۔
اروند کجریوال جو کر رہے ہیں، ہندوستانی سیاست میں اس سے پہلے نہیں ہوا تھا۔ عموماً سبھی لوگ طاقتور لوگوں کی حقیقت بتانے سے ڈرتے ہیں، لیکن کجریوال اس کی پرواہ نہیں کرتے۔ انھیں ایک نئی پارٹی بنانا ہے۔ پچھلے پچاس سالوں میں ایسامعاملہ کبھی کبھی ہی سامنے آیا ہے۔ کجریوال کی پارٹی کو عام لوگوں سے ملنے والے چندے پر ہی انحصار کرنا ہو گا۔ جس طرح اوباما نے 2008 کی اپنی ا لیکشن پبلسٹی کے وقت چندہ لیا تھا، اسی طرح کجریوال کو بھی اپنے ملک کے کروڑوں لوگوں سے چندہ ملے گا۔ اگر وہ سمجھدار ہیں تو اعلیٰ منشور کے جال میں نہیں پھنسیں گے۔ یہ تو تقریباً طے ہے کہ وہ اقتدار میں نہیں آنے والے ہیں۔ اگر 2014 کے الیکشن میں انھیں دس سیٹیں مل جاتی ہیں تو یہ ان کے لیے بڑی حصولیابی ہوگی۔ پچھلے کئی سالوں کی بات کریں تو کانشی رام ہی سیاست سے باہر کے شخص رہے ہیں، جنھوں نے کامیابی کے ساتھ اپنی پارٹی بنائی، لیکن انھیں بھی اپنی پارٹی کو اقتدار میں لانے کے لیے سالوں تک انتظار کرنا پڑا۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہندوستان میں ابھی کچھ نئی سیاست کی ضرورت ہے اور یہ موزوں وقت بھی ہے۔ پرانی سیاسی پارٹیوں کے پاس نہ تو کوئی آئیڈیا ہے اور نہ طاقت۔ میڈیا کی نئی شکل یعنی سوشل میڈیا کے ذریعے آپ بد عنوانی کو اجاگر کر سکتے ہیں، جسے پرانے لیڈر نہیں سمجھ پاتے ہیں۔ آپ کو کسی گھوٹالے کو اجاگر کرنے کے لیے کسی ٹی وی چینل یا اخبار کی ضرورت نہیں ہے۔ آرٹی آئی اور بلاگ آپ کے اس کام کو آسانی سے کر سکتے ہیں اور لوگوں تک اسے آسانی سے پہنچایا جاسکتا ہے۔ انفارمیشن کاڈیموکریٹائزیشن ہو گیا ہے۔ انا ہزارے کو پرانے طریقے کا مانا جا سکتا ہے، لیکن انھوں نے بھیڑ تو اکٹھا کر ہی لی تھی۔ انشن کرنا ایک طرح سے وقت کی بربادی ہی ہے۔ یہ پرانا طریقہ ہو گیا ہے۔ نوجوان طبقہ عام سیاست سے الگ ہو گیا ہے۔ وہ لوگ اپنی طرح سے سیاست کریں گے، جو آج کے لیڈروں اور ان کے حامیوں کے ذریعے کی جا رہی سیاست سے بالکل الگ ہو گی۔ یہ عمل اہمیت کا حامل ہے نہ کہ اس کا نتیجہ۔ کجریوال کا کام سیاست کو نئی بنیاد دینا ہے نہ کہ اس کے نتیجہ کا اندازہ لگانا۔ پہلے کی طرح اس با ربھی 2014 کے الیکشن میں سبھی پرانی پارٹیوں کو کچھ نہ کچھ نقصان ہو گا اور کچھ نئے چہروں کے خیر مقدم کا موقع ملے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *