عاپ کے بھی دور حکومت میں سرکاری ملازمتوں میں اقلیتیں بڑھ نہ سکیں

Share Article
kejriwal and manish sisodiya

دہلی سرکاری نوکرویوںمیں اقلیتوں کی نمائندگی بہت ہی کم ہے جب کہ یہاں آئینی طوپر تسلیم کی گئی ہے کہ 6مذہبی اقلیتیں20فیصد رہتی ہے۔ اس تلخ اور چونکانے والی حقیقت کا انکشاف 17دسمبر کو دہلی اقلیتی کمیشن نے کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر ظفرالاسلام خاں کے ذریعے جاری کی گئی152 صفحات پر مشتمل اپنی سالانہ رپورٹ برائے2017-18میں کیا ہے۔

 

 

کمل ناتھ کے حلف برداری میں ’ماما‘ شیوراج نے جیتا سب کا دل

 

یہ امر بھی اہم ہے کہ تمام مذہبی اقلیتوں مسلم، عیسائی، سکھ، بدھسٹ، جینی اور پارسی میں مسلمانوں کی حالت سب سے زیادہ خراب ہے۔ مسلمان دہلیکی نوکریوں میں سب سے کم تعداد میں پائے جاتے ہیں جب کہ تنہا مسلم کمیونٹی کی آبادی دہلی میں 12.86فیصد ہے۔ برے ور چھوٹے محکموں مزہبی اقلیتوںکی مجموعی نمائندگی یقینا قابل رحم ہے۔ مثال کے طورپر2017-18میں منظور شدہ88ہزار823عہدوں کے بالمقابل 75ہزار684افراد دہلی پولس میں تھے جس میں اقلیتوں کے صرف 2ہزار 885افراد تھے جو کہ 3.81فیصد کے برابر ہوا۔

 

 

فوجیوں کو ہاتھ پاؤں دیئے جائیں گے

 

افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ دہلی میں فروری 2015سےعام آدمی پارٹی برسراقتدار ہے جب کہ اس سے قبل 15برسوں کانگریس پاور میں تھی۔
دہلی پولس کے بعد سب سے زیادہ ملازمتیں دہلی میٹرو میں ہے جہاں12ہزار118ملازمین صرف475یقنی3.92مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھتےہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *