کٹنی زمین گھوٹالہ: اب بدعنوان افسروں پر ہوگی کارروائی

ششی شیکھر
سچ کی ہمیشہ جیت ہوتی ہے۔ دو سال پرانے ایک معاملے میں گزشتہ 2ستمبر کو آئے سپریم کورٹ کے فیصلے سے یہی ثابت ہوا ۔ دراصل بد عنوانی کا یہ معاملہ حالیہ دنوں میں ٹرانسپورٹ اینڈ روڈز وزارت میں جوائنٹ سکریٹری کے عہدے پر مامور ایک آئی اے ایس افسر راگھو چند را سے متعلق ہے۔ یہ بات 2000 کی ہے۔ ان دنوں راگھو چندرا مدھیہ پردیش ہائوسنگ بورڈ کے کمشنر تھے۔ راگھو چندرا 1982 بیچ اور مدھیہ پردیش کیڈر کے آئی اے ایس افسر ہیں۔ 2002 میں مدھیہ پردیش کے کٹنی میں ہائوسنگ بورڈ نے رہائشی کالونی کے لیے زمین خریدنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے لیے کٹنی کی الفرٹ کمپنی کی خالی پڑی زمین کو خریدنے کا فیصلہ کیا گیا، لیکن یہ فیصلہ بہت ہی منصوبہ بند طریقے سے کچھ خاص لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے کیا گیا تھا۔ الفرٹ کمپنی کی 72 ایکڑ زمین کو خریدنے کے لیے اس کے ڈائریکٹر بی ڈی گوتم سے ساز باز کی گئی۔ حالانکہ بی ڈی گوتم سودے کے وقت اس زمین کے مالک تھے یا الفرٹ کمپنی کے ڈائریکٹر، اس پر بھی تنازعہ ہے۔ اس وقت کے کمشنر راگھو چندرا نے ڈی ایم شہزاد خان سے اس زمین کی قیمت 10 لاکھ روپے فی ایکڑ کے بارے میںجب صلاح مشورہ کیا تو شہزاد خان نے اس قیمت کو مناسب بتایا۔ بہرحال، بورڈ نے اس زمین کے لیے 7 کروڑ روپے خرچ کردیے۔ لیکن یہ معاملہ (زمین) جو کہ پہلے سے ہی متنازعہ تھا، ایک بار پھر عدالت میں پہنچ گیا۔ نتیجتاً مدھیہ پردیش ہائوسنگ بورڈ آج تک اس زمین کا کسی بھی شکل میں استعمال نہیں کرسکا اور اس معاملے میں سرکار کو 7 کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا وہ الگ۔
الفرٹ کمپنی کی متنازعہ زمین اونچی قیمت پر خریدنے کے اس معاملے کے خلاف ارون کمار اگروال نے لوک آیوکت پولس جبل پور میں اس کی شکایت کی۔ اس معاملے میں راگھو چندرا ، کٹنی کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ شہزاد خان اور تحویل اراضی افسر رام میشرام پر الفرٹ کمپنی کے ڈائریکٹر بی ڈی گوتم کے ساتھ ساز باز کرنے کا الزام لگایا گیا۔ یہ معاملہ کٹنی کی خصوصی عدالت میں پہنچا اور عدالت کے حکم پر لوک آیوکت پولس نے 2002  میں کمشنر راگھو چندرا، ڈی ایم شہزاد خان اور لینڈ الاٹمنٹ آفیسر رام میشرام کے خلاف ایف آئی آر درج کی۔ ان افسران پر انسداد بدعنوانی ایکٹ کی دفعہ (1-D )13۔ (2 ) 13 اور آئی پی سی کی دفعہ 120 لگائی گئی۔ لیکن جانچ کے بعد اپریل 2003 میں لوک آیوکت پولس نے اس پورے معاملے کو  ختم کرنے کے لیے خصوصی عدالت میں ایک رپورٹ پیش کی ، جسے عدالت نے نامنظور کردیا لیکن لوک آیوکت پولس نے ایسی ہی ایک رپورٹ عدالت میں دوبارہ پیش کی، جسے عدالت نے ایک بار پھر نا منظور کردیا۔ 26 اپریل 2005 کو خصوصی عدالت نے اپنے حکم میں واضح طور پر لکھا کہ مذکورہ تینوں ملزمان کے خلاف انسداد بد عنوانی قانون کی دفعہ (1-D )13 ، (2 ) 13 اورآئی پی سی کی دفعہ 120 کے تحت مقدمہ چلانے اور آگے کی کارروائی کرنے کے لیے کرائم رجسٹر میں اندراج کیا جائے۔
چنانچہ اسی حکم کے خلاف یہ معاملہ ہائی کورٹ پہنچا، جہاں سے 2009 میں ملزمان کو راحت مل گئی لیکن ارون کمار اگروال یہ معاملہ لے کر سپریم کورٹ پہنچ گئے، جہاں گزشتہ 2 ستمبر کو جسٹس جی ایس سنگھوی اور جسٹس ایچ ایل دتوکی بنچ  نے ہائی کورٹ کا فیصلہ منسوخ کرتے ہوئے مدھیہ پردیش ہائوسنگ بورڈ کے اس وقت  کے کمشنر راگھوچندرا ، اس وقت کے ضلع مجسٹریٹ شہزاد خان اورلینڈ الاٹمنٹ افسر رام میشرام کے خلاف انسداد بد عنوانی قانون کے تحت مقدمہ چلانے کا حکم دیا۔ عدالت عظمیٰ نے ریاستی سرکار سے دو مہینے کے اندر اس حکم کی تعمیل کرنے کو کہا ہے۔ غور طلب ہے کہ جب راگھو چندرا سینٹرل ڈیپوٹیشن پر جانے والے تھے تب  اسٹیٹ اِکنامک کرائم انویسٹی گیشن بیورو نے مدھیہ پردیش کے جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کو بھیجی گئی اپنی کلیئرینس رپورٹ میں صاف صاف بتا یا تھا کہ کٹنی زمین کی خریداری کے معاملے میں راگھو چندرا سمیت 9 افراد کے خلاف بادی النظر میں جرم کا معاملہ پایا گیاہے اور ہائی کورٹ میں 2 جون 2005 کو رپورٹ پیش کی جا چکی ہے۔ بیورو نے یہ خط جنرل ایڈمنسٹر یشن محکمے کو دسمبر 2007 میں لکھا تھا۔ اس کے باوجود ریاستی سرکار نے راگھو چندرا کو سینٹرل ڈیپوٹیشن پر بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ حالیہ دنوں میں راگھو چندرا حکومت ہند کی ٹرانسپورٹ اینڈ روڈز وزارت میں جوائنٹ سکریٹری کے عہدے پر تعینات ہیں۔ اس طرح ان کے سیاسی رسوخ کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ وہ مدھیہ پردیش کے کئی وزرائے اعلیٰ کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ ایسے میں کٹنی زمین گھوٹالے کی جانچ کی زد میں اگر سیاسی جماعتوں سے جڑے لوگوں کے نام بھی آتے ہیں تو کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ بہر حال، سپریم کورٹ کے حکم کے بعد کٹنی زمین گھوٹالے کی جانچ اب شروع ہو سکے گی اور سچ سامنے آجائے گا، ایسی توقع کی جا سکتی ہے۔ g

کیگ نے بھی بد عنوانی کا معاملہ بتایا
کیگ کی رپورٹ (2009 )میں بھی کہا گیا کہ مدھیہ پردیش ہائوسنگ بورڈ نے اس زمین کی خریداری میں بائع کو فائدہ پہنچایا اور حکومت کو 6.72 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ کیگ کے مطابق،الفرٹ کمپنی کی مذکورہ زمین متنازع تھی اور اس کی خریداری بورڈ کے مفاد میں نہیں تھی۔ رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ 24 جنوری 2002 کو اخبارات میں ایک نوٹیفکیشن شائع ہوا تھا، جس میں زمین کے مالک کے تعلق سے 7 دنوں کے اندر دعوے / اعتراضات طلب کیے گئے تھے لیکن سات دن سے پہلے ہی 28 فروری 2002 کو کمپنی کے ساتھ زمین کی خریداری کے بارے میں معاہدہ کر لیا گیا۔ معاہدے کے مطابق بائع کو 72 لاکھ روپے معاہدے کے وقت اور بقایا رقم (5.18کروڑ) کی ادائیگی بعد میں کرنا تھی، جو جنوری 2002 سے ستمبر 2006 تک کے درمیان کردی گئی، اس کے علاوہ ایڈیشنل ایگریمنٹ  کے رجسٹریشن  وغیرہ پر بھی بورڈ نے 82 لاکھ روپے خرچ کردیے،جبکہ اس درمیان یہ معاملہ عدالت تک پہنچ گیا تھا۔ کیگ کی رپورٹ کے مطابق اس طرح بورڈ نے 6.72 کروڑ روپے کا نقصان تو اٹھایا ہی، وہ اس زمین کا استعمال کرنے سے بھی محروم رہا۔ ظاہر ہے ان سب کے ذمہ د ار ہائوسنگ بورڈ کے اس وقت کے کمشنر راگھو چندرا ہی تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *