کٹھوعہ کیس میں عدالت کا فیصلہ مثالی ہے : مفتی مکرم

Share Article

 

شاہی امام مسجد فتحپوری دہلی مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد نے آج نماز جمعہ سے قبل خطاب میںکہا کہ مذہب اسلام میں انسانیت کے جذبہ کو ہر موقع پر سراہا گیا ہے۔حضور ﷺ نے سب کے ساتھ محبت اور حسن سلوک کا معاملہ کیا حتی کہ قیدیوں کے ساتھ بھی رحم دلی کا برتاؤ کیا ۔مذہب اسلام ہمیں ہر میدان میں ہر وقت رہنمائی دے رہا ہے۔آپس میں اتحاد بہت ضروری ہے ۔

 

انہوںنے کہا کہ کٹھوعہ مقدمہ میں ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج کے فیصلہ کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ۔مشکل حالات میں استغاثہ نے مقدمہ کی پیروی کی اور عدالت نے فیصلہ سنایا ۔دونوں کی تعریف ہونی چاہئے ۔کبھی استغاثہ مقدمہ کی پیروی میں تساہل کردیتا ہے اور کبھی عدالت کی طرف سے کچھ کمی رہ جاتی ہے کٹھوعہ مقدمہ میں دونوں کی کارکردگی قابل تعریف رہی ہے ۔امید کی جاتی ہے کی عدالتیں ایسے ہی حق پر مبنی فیصلے سناتی رہیں گی ۔مفتی مکرم نے کہاکہ علی گڑھ میں ٹوئنکل معصوم لڑکی پرجو ظلم ہوا ہم اسکی شدید مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ مجرموں کو سزادی جائے اور فرقہ پرستی پھیلانے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے ۔

 

مفتی مکرم نے کہا کہ مسلمانوںکو تعلیم کے لئے اہل خیر کے تعاون کے ساتھ ساتھ سرکاری اسکیموں سے بھی فائدہ اٹھانا چاہئے اور جو لوگ بھی ان اسکیموں کی واقفیت رکھتے ہیں انہیں دوسرے لوگوں کو تربیت دینی چاہئے تاکہ عام طور پر ان اسکیموں سے فائدہ حاصل کیا جاسکے ۔انہوں نے حکومت ہند سے اپیل کی کہ فلسطینیوں کی مدد کو جاری رکھا جائے اور انسانی حقوق کی پامالی جو اسرائیل کی طرف سے کی جارہی ہے اس کے برخلاف فلسطین کی حمایت کی جائے اور ظلم کو بند کرایا جائے ۔
ہندوستھان سماچار؍محمدخان

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *