کشمیریوں کو بھی اپنا سمجھئے

Share Article

کشمیر کے بارے میں کچھ بھی کہنا حب الوطنی یا وطن سے غداری کا موضوع بن جاتا ہے۔ کشمیر میں اگر بد امنی یا اس سے جڑی سرگرمیاں ہوتی ہیں، تو انہیں فوری طور پر اسپانسرڈ سرگرمیاں مان لیا جاتا ہے۔ ہمارا یہ صاف ماننا ہے کہ کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے۔ اگر ہم کشمیر کو ہندوستان کا اٹوٹ حصہ مانتے ہیں، تب ہمیں کشمیر کے لوگوں سے ویسا ہی سلوک کرنا چاہئے، جیسا ہم پنجاب، ہریانہ، مہاراشٹر، اتر پردیش اور بہار کے لوگوں سے کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے گزشتہ ساٹھ سال میں ملک کے دماغ میں کچھ لوگوں نے یہ بات بیٹھا دی ہے کہ کشمیر کے لوگوں کو صرف بندوق کے بل پر اپنے قبضے میں کیا جاسکتا ہے۔ سوال اٹھتا ہے کہ اگر بندوق کے بل پر ہی ملک کے باشندوں پر راج کرنا ہے، تو کیا ہم جمہوریت، نظریہ، بات چیت اور افہام و تفہیم کا صرف ڈرامہ کررہے ہیں؟
ابھی کشمیر میں برہان وانی کی واردات کے بعد پھیلی بے اطمینانی کے جواب میں یا اس بے اطمینانی کو دبانے کے لئے انتظامیہ نے سخت قدم اٹھائے ہیں۔ انتظامیہ نے اگر اس میں کوتاہی کی ہوتی، تو کشمیر میں کافی نقصان ہونے کا خدشہ تھا۔ اس میں عوام کے املاک کا زیادہ نقصان ہونا طے تھا۔ اس کے ساتھ ہی وہاں انٹر نیٹ سروسز، جن میں فیس بک اور واٹس ایپ سروس بھی شامل ہے، بند کر دیا گیا۔ انتظامیہ نے اپنی سمجھ سے مناسب کیا ہوگا، لیکن اس کی وجہ سے کشمیر میں زیادہ تیزی سے افواہیں پھیلیں۔ افواہوں کا بازار گرم ہونے سے لوگوں کا غصہ بھڑکا۔ 18سے 24 سال کے نوجوان آج کل فیس بک اور واٹس ایپ کے ذریعہ اپنے اندر کے سارے غصے کو نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پورے ملک میں سوشل میڈیا کے نام پر فیس بک اور واٹس ایپ اہم مقام رکھتے ہیں۔ان دونوں سوشل سائٹس میں جھوٹی سچی، نفرت اور پیار پھیلانے والی ہر طرح کی خبریں یا پوسٹ دکھائی دیتی ہیں۔ وہ وہیں لکھی جاتی ہیں اور وہیں اپنا دم توڑ دیتی ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ سوشل میڈیا نے دلی یا نریندر مودی کے انتخاب میں اہم کردار ادا کیا۔ اس بار کشمیر میں بدامنی کے دوران دیکھا گیا کہ وہ نوجوان جو فیس بک یا واٹس ایپ کے ذریعہ اپنی بھڑاس نکال لیتے تھے، جب ان سے یہ سہولتیں چھین لی گئیں، تب وہ سڑکوں پر اتر آئے۔ ہو سکتا ہے انتظامیہ نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا ہو، لیکن ان دونوں سروسز کے بند ہونے کا انجام یہ ہوا کہ 18 سے 24 سال کے نوجوان سڑکوں پر اترے، انہوں نے جم کر پتھر بازی کی اور پبلک پراپرٹی کو نقصان پہنچایا۔ اگر فیس بک اور واٹس ایپ سروسز بند نہیں ہوئی ہوتیں، تو سڑک پر اترے ان نوجوانوں کا ایک بڑا حصہ ان سوشل سائٹس پر گالیاں دے کر یا اکسانے والی پوسٹ لکھ کر ہی رہ جاتا، وہ خود سڑک پر نہیں اترتے۔ چونکہ وہ مخالفت-احتجاج کے لئے سڑک پر اترے تو پولیس کی گولی کا نشانہ بھی و ہی بنے۔ بہت دنوں کے بعد کشمیر میں کرفیو لگا۔
کشمیر میں لگے اس کرفیو نے وہاں کے لوگوں کی زندگی کو تکلیف دہ بنا دیا۔ عام لوگوں کو روز مرہ کی چیزیں ملنے میں کافی دقتیں ہوئیں۔ حالانکہ انتظامیہ اور مقامی ایم ایل ایز نے کرفیو کے دوران لوگوں کی پوری مدد کی۔ انہوں نے ٹیلی ویژن پر ایسے نمبر بھی جاری کئے تاکہ کسی ضروری سامان کی کمی ہونے پر وہاں اطلاع دے کر ان چیزوں کو فراہم کرایا جاسکے۔ حالانکہ بہت ساری جگہوں پر انتظامیہ نے ضروری سامان بھجوایا بھی، لیکن وہ سبھی لوگوں تک نہیں پہنچ سکے۔ تین بچوں کی ماں نے اپنے بھائی کو فون کیا کہ اس کے پاس پینے کا پانی ختم ہو گیا ہے۔ بھائی پریشان ہوکر اس امید میں چاروں طرف گھومتا رہا کہ کسی طرح اپنی بہن کے یہاں پانی بھجوا سکے۔ کشمیر میں اس کرفیو کے دوران لوگوں کو پینے کے پانی کی بہت پریشانی ہوئی۔ لوگ دکانوں سے پانی خریدنے نہیں جاسکتے تھے، گھروں میں پانی بند ہو چکا تھا۔ کھانے و پینے کے سامان کے بغیر تو کچھ وقت گزارا جاسکتا ہے، لیکن پانی کے بغیر وقت گزارنا بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔ اس طرح کے بہت سے واقعات کشمیر سے نکل کر دلی تک پہنچے ہیں۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ اگر انتظامیہ تھوڑی سوجھ بوجھ سے کام لیتا تو کشمیر میں مذکورہ بدامنی سے بچا جاسکتا تھا۔ لیکن پورے ملک میں فیس بک اور واٹس ایپ کے ذریعہ کشمیر کے سارے لوگوں کو ملک مخالف مان کر ایسے احساس پھیلا دیئے گئے کہ یہاں بغیر گولی کے کام نہیں چل سکتا۔ ہم فیس بک پر دیکھتے ہیں کہ کشمیریوں کو مارنے اور جلا دینے کے فرمان بری طرح سے چھائے ہوئے ہیں۔ جو لوگ فیس بک پر یہ لکھ رہے ہیں، انہوں نے اپنی زندگی میں کبھی ایک چیونٹی تک نہیں ماری ہوگی۔ وہ اتنے ڈرپوک ہیں کہ اپنے کمرے سے نکل کر باہر کسی سمینار میں اس بات کو کہنے کی ہمت بھی نہیں دکھا پارہے ہیں۔ لیکن ملک میں نفرت پھیلانا انہوں نے اپنا پیدائشی حق سمجھ رکھا ہے۔ اس رویے سے کشمیر کو ہم کتنے دنوں تک اپنے ساتھ رکھ پائیں گے۔ کشمیر مسئلے پر بولنے والی خاتون صحافیوں کو فیس بک پر یہ نام نہاد ہندوستانی تہذیب کے پجاری صحافت کی طوائف کہہ کر خطاب کررہے ہیں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ملک کے عوام کی انہیں حمایت حاصل نہیں ہے، لیکن بھاڑے کے ٹٹو پیسے لے کر نفرت پھیلانے میں بیرونی طاقتوں کا مہرہ بنے ہوئے لوگ ملک میں بد امنی کا ماحول پیدا کررہے ہیں۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لئے سول سوسائٹی کو آگے آنا چاہئے، لیکن ہمیشہ کی طرح سول سوسائٹی آگے آنے میں دیر کررہی ہے۔ آج اتنا ضرور کہنا ہے کہ انتظامیہ نے کشمیر میں سمجھداری کا کام کیا۔ تھوڑی اور سمجھداری کا کام لیتے تو شاید کشمیر میں اتنا لمبا کرفیو برسوں کے بعد نہیں لگتا۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *