کشمیریوں کو محبت سے سمجھائو کہ ہتھیار نہیں قلم اٹھائو

Share Article

وسیم راشد
ہر ہفتے نہ جانے کتنے موضوعات ہوتے ہیں جو بے حد اہم ہوتے ہیں اور ہر ایک پر قلم اٹھانے کو جی چاہتا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مذہبی موضوعات پر کچھ اہم حقائق و شواہد مل جاتے ہیں تو لگتا ہے کہ ان پر ہی لکھا جائے اور پوری دیانت داری سے سچائی سامنے لائی جائے، لیکن پھر نہ جانے کہاں سے مذہب سے پہلےسیاست آڑے آجاتی ہے اور صحافی بیدار ہوجاتا ہے۔ بابری مسجد کا ایشو ظاہر ہے ایسا ہے کہ اس پر ابھی بھی بہت کچھ لکھنے کی خواہش ہے۔ ایسے میں سہراب الدین فرضی انکاؤنٹرمعاملہ کے گواہ اعظم خان کا بیان بدلنا، شیو سینا سربراہ بال ٹھاکرے کا ہذیان، اور بہار الیکشن سبھی اہم موضوعات پر لکھنے کی خواہش تھی، لیکن پھر سامنے آگیا کشمیر۔
کشمیر میں اب تو کچھ دن سے امن وسکون کی خبریں آرہی تھیں۔ وادی میں تھوڑا امن وامان قائم ہوا تھا۔ اسکول کھل گئے تھے، زندگی معمول پر آگئی تھی مگر پھر سرینگر کے رہائشی علاقہ میں فوج اور دہشت گردوں میں تصادم نے کچھ حد تک ماحول کشیدہ کردیا۔دہلی میں گیلانی پر جوتا پھینکا گیا۔ اسی دوران جمعیۃ علمائے ہند نے کشمیر کے مظلومین کے حق میں آواز بلند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔جمعیۃ کا یہ فیصلہ بروقت ہے۔ اس وقت جب کہ کشمیر ی امن اورصرف امن چاہتے ہیں، ایسے وقت میں ضرورت اس بات کی ہے کہ سبھی مل کر ان کی مدد کریں اور دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کا وقت سے پہلے پتا لگا کر ان کو ختم کردیں۔ کشمیر کے ایک مشہور صحافی ہارون ریشی صاحب سے حال ہی میں ہماری ملاقات ہوئی تھی۔ انہوں نے بہت ہی دردمندانہ انداز میں بتایا کہ کشمیر کی صحیح صورت حال کا علم کسی کو نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ وہاں جاکر ہی دیکھاجائے کہ اصل جڑ کیا ہے۔ ہارون ریشی صاحب کا کہنا ہے کہ مہینوں سے وہاں کے لوگ باہر نہیں نکلے ہیں۔ روزی روٹی کا ایک خاص ذریعہ سیاحت تھا جو کہ بالکل ختم ہوگیا ہے۔ ڈل جھیل میں شاذونادر ہی کوئی سیاح نظر آتا ہے گویا ڈل جھیل کا خوبصورت علاقہ سیاحتی مقام نہ ہو کر کوئی ویرانہ ہو۔انٹر نیٹ سروس نہ ہونے کے سبب کشمیری باقی دنیا سے کٹ گئے ہیں۔ ہارون صاحب کے ایک بیان نے تو مجھے بے حد پریشان کردیا۔ جب انہوں نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا کہ ہم ہندوستانی ہیں، ہمارا دل ہندوستان کے لئے دھڑکتا ہے، ہم چیخ چیخ کر بھی یہ بات کہیں تو کوئی نہیں مانتا۔ سبھی کشمیری علیحدگی پسند نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طرح پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہیں، اسی طرح سبھی کشمیری بھی ایک جیسے نہیں ہیں۔ان کے اس درد کو سمجھنا ہم سبھی کے لئے بہت ضروری ہے۔ پرہارون ریشی صاحب کو کیا یہ نہیں معلوم کہ جس طرح کشمیریوں کو اپنی وطن پرستی کا ثبوت دینا پڑتا ہے تو کیا ہندوستان کے باقی ریاستوں کے مسلمانوں کو بار بار اسی پل صراط سے نہیں گزرنا پڑتا؟ کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی ایسا لمحہ ضرور آجاتا ہے جب ہم یہ ثابت کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ نہیں، ہمارے آباؤاجداد یہیں کے تھے۔ آزادی کی جد وجہد میں ہمارے بھی بزرگوں کی قربانیاں ہیں۔ ہمارے اس پرچم کو بلند رکھنے میں نہ جانے کتنے ہی نوجوانوں کے سر قلم ہوئے ہیں، لیکن افسوس صد افسوس!ہم سے ملک کی ہندوانتہا پسند تنظیمیں وطن پرستی کا سر ٹیفکیٹ مانگتی ہیں۔جن کے بزرگوں نے مادر وطن کی بقا و احیاء اورپاسداری کے لیے اپنی جانیں قربان کر دیں ، جنھوں نے دو قو می نظریے کو سرے سے خارج کرکے پاکستان کے قیام کو آخر تک قبول نہیں کیا، جنھوں نے ہندوستان کو ہی اپنا مسکن بنانا گوارا کیا ، کتنی آسانی سے ان کے اوپرغدار وطن کا لیبل چسپاں کر دیا جاتا ہے۔خیر اس سے قبل کہ ہمارے موضوع کا رخ دوسری طرف مڑ جائے اور سینے میں جو درد چھپا ہوا ہے وہ باہر آنے کے لیے بیتاب ہوجائے ہم اپنے موضوع یعنی پھر سےکشمیر کی طرف لوٹتے ہیں۔
کشمیر کے لئے جو سہ رکنی کمیٹی مشہور صحافی دلیپ پڈگاونکر، جامعہ ملیہ میں سیاسیات کی پروفیسر رادھا کمار اور انفارمیشن کمشنر ایم ایم انصاری صاحب پر مشتمل ہے۔ اس کمیٹی نے یوں تو اپنا کام شروع کردیا ہے اور اس سلسلے میں اس کمیٹی کا بیان بھی آیا ہے کہ بات چیت کا عمل مشکل بھرا ضرور ہے، لیکن پھر بھی وہ کھلے دل ودماغ اور بڑے دل کے ساتھ تمام لوگوں سے بات کریں گے۔ ہم نے اپنے گزشتہ ہفتے کے مضمون میں بھی اس کمیٹی کی کامیابی کے لئے دعا کی تھی اور اب بھی یہ دعا کرتے ہیں کہ62سالوں کا یہ مسئلہ جو الجھتے الجھتے ایک گھنے اور خطرناک جنگل کی طرح ہوگیا ہے، اس میں مزید الجھے بغیر مفاہمت اور امن کا کوئی راستہ نکل آئے، مگر یہاں یہ کہنا بے حد ضروری ہے کہ کشمیر کے حالات زیادہ خراب عمر عبداللہ کے دور اقتدار میںہوئے ہیں۔ عمر عبداللہ جیسے ناتجربہ کار لیڈر کے ہاتھ میں حکومت کی باگ ڈور تھما دینا نہایت ناعاقبت اندیشی کا ثبوت تھا۔ عمر عبداللہ کے دادا شیخ عبداللہ دوقومی نظریہ کے سخت مخالف تھے۔ حالانکہ نہرو صاحب نے صرف شک کی بنیاد پر کہ وہ آزاد کشمیر کا خواب دیکھ رہے ہیں، انہیں 11سال تک قید میں رکھا، مگر اندرا گاندھی نے کشمیر کے لئے شیخ عبداللہ ہی کو وزارت اعلیٰ کا عہدہ سونپا،کیونکہ شیخ عبداللہ ایک ایسی شخصیت تھے جن پر کشمیر کے عوام بھی بھروسہ کرتے تھے اور جن کے لئے شیخ عبداللہ بھی مرمٹنے کوتیار رہتے تھے۔ مگر عمر عبداللہ پر کشمیری عوام بالکل بھروسہ نہیں کرتے اور اب تو حالات کافی بدلے ہوئے ہیں۔ پاکستان کی اقتصادی، سیاسی، سماجی بدحالی نے کشمیریوں کو پوری طرح اس بات کا احساس دلادیا ہے کہ اصل پناہ گاہ ہندوستان ہی ہے، جہاں روشن مستقبل کے دیے روشن ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ پاکستان تباہی کے دہانے سے صرف چند قدم کے فاصلے پر ہے۔ پاکستانی کرنسی کا زوال بھی کشمیریوں کے خیالات کو بد ل رہا ہے۔ اس وقت کشمیریوں کے درد کو محسوس کرنا ضروری ہے جسے بد قسمتی سے نہ تو محبوبہ مفتی نے سمجھا اور نہ ہی عمر عبداللہ نے ۔ محبوبہ مفتی کو صرف اور صرف اپنی خاندانی دشمنی سے سروکار ہے۔وہ نیشنل کانفرنس اور عبداللہ خاندان کی جانی دشمن ہیں اور اسی دشمنی میں کشمیریوں کا مفاد بہت پیچھے چھوٹ گیا ہے۔ وہ ریاست کے عوام کی پر واہ نہیں کرتیں۔ اسی طرح علیحدگی پسند لیڈر سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ عمرفاروق اور یٰسین ملک عوام کو گمراہ کرنے پر آمادہ ہیں۔ یہ بات اب کشمیری عوام کو بخوبی سمجھ لینی چاہئے کہ کوئی لیڈر یا کوئی سیاسی جماعت ان کی ہمدرد نہیں ہے، بلکہ سب اپنی اپنی سیاسی روٹیاں سینکنے میں مصروف ہیں۔ جہاں علیحدگی پسند لیڈران کے مفادات سے کھلواڑ کرکے اپنی سیاست چمکا رہے ہیں، وہیں عمر عبد اللہ کسی بھی قیمت پر وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینے کو تیار نہیں ہیں۔ انہیں اپنے عہدے پر برقرار رہنے کے لیے مرکز کی خوشامدبھی منظور ہے۔یہی حال اپوزیشن لیڈر محبوبہ مفتی کا بھی ہے وہ اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل کے لیے کسی بھی حدتک جا سکتی ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کشمیر میں بحالیٔ امن کے لیے آخر کون صدق دل سے کوشش کرے گا۔ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ کشمیری عوام کو امن کی باگ ڈور اب اپنے ہاتھ میں لے لینی چاہئے ،ان کے ہاتھوں میں لاٹھی اور بندوقیں نہیں بلکہ امن کا پرچم ہونا چاہئے۔بہر حال حکومت کے ذریعہ تشکیل کردہ سہ رکنی کمیٹی اپنی جگہ اور اس کام بھی اپنی جگہ۔کمیٹیاں تو بہت بنیں اور انھوں نے کام بھی کیااور اس کے مثبت نتائج بھی سامنے آئے، لیکن کشمیر کا مسئلہ اتنا حساس ہے کہ وہاں کے لیے ایک کمیٹی نہیں بلکہ کئی کمیٹیوں کی ضرورت ہے۔ کشمیر میں لوگوں کے اذہان کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ہمیں لگتا ہے کہ فی الحال سہ رکنی کمیٹی کی تشکیل کے علاوہ ایک اور کمیٹی تشکیل دی جانی چاہئے جو گلی کوچوں میں جاکر بحالیٔ امن کی کوشش کرے اور خاص کر نوجوان نسل کو اس سائنٹفک دور میں ہتھیار اٹھانے کے بجائے قلم اٹھانے پر مجبور کرے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *