کشمیری تاریخی طور پر ہندستانی موقف کے ساتھ تھے

Share Article

خورشید اختر

p-6کشمیر میں موجودہ احتجاج کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی کمان نوجوان نسل کے ہاتھوں میں ہے۔ وہاں قیادت کا ایک طبقہ ،لڑائی کو نئی نسل میں منتقل کر رہاہے،لیکن بہتوں کا یہ ماننا ہے کہ اس کی وجہ سے اور زیادہ تباہی ہوگی۔ بہر حال میں یہ صاف کرنا چاہتا ہوں کہ موجودہ لڑائی کو برہان وانی کے مارے جانے سے نہیں جوڑا جانا چاہئے۔ میں آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ جموں و کشمیر پولیس کو اپریل مہینے میں (برہان وانی معاملے سے تین مہینے پہلے ) ایک ایڈوائزری جاری کرنا پڑا تھا، جس میں لوگوں سے انکائونٹر سائٹس سے دور رہنے اور سیکورٹی دستوں کے ذریعہ قائم حفاطتی دائروں کو نہیں توڑنے کے لئے کہا گیاتھا جس سے یہ صاف ہوتاہے کہ جہاں کہیں بھی اور جب بھی کوئی انکائونٹر ہوتاہے، لوگ حفاظتی اقدامات کو نظر انداز کرتے ہیں۔
دراصل یہاں کی لڑائی سیکورٹی دستوں اور عسکریت پسندوں کے درمیان ہوتی ہے اور میں ایمانداری سے کہوں تو کشمیر کے لوگ عام طور پر عسکریت پسندوں کا سائڈ لیتے ہیں۔ گزشتہ 20-22 دنوں سے ہم ملیٹنسی سے متعلق واقعات دیکھ رے ہیں ۔لیکن شمالی کشمیر سے لے کر جنوبی کشمیر تک بڑے پیمانے پر جو پرتشدد احتجاج چل رہے ہیں،اس کے بارے میں میں مصدقہ طور پر کہہ سکتا ہوں کہ مظاہرین اور احتجاجی دونوں مقامی ہیں۔ یہاں پر تشدد احتجاج میں شرکت لازمی طور سے جذبات سے بھرپور ہوتی ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تشدد اب کشمیر کی موجودہ نسل کی زندگی کا ایک قابل قبول حصہ بن گیاہے۔
گاندھی جی کے پوتے اور معروف دانشور و مصنف راج موہن گاندھی کے لفظوں میں کہیں تو غصے اور مایوسی کے کہرے نے اس چیز کو چھپا لیاجو کبھی کشمیر کا ویژن تھا۔ یہ ویژن امن، ہمدردی ، ایک مذہب کا دوسرے مذہب کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ باہمی تعلق کی تاریخ سے مربوط تھا۔ میں اس خیال کا حامی ہوں کہ اسٹیٹ کے ذریعہ جبر اور کشمیرکے لوگوں میں علاحدگی کے احساس کے دائرے نے ایک دوسرے کو خوراک مہیا کرایا ہے۔ دوسری طرف ایمانداری کی بات یہ بھی ہے کہ اس عمل میں کشمیر کے نوجوان سب کچھ ٹھپ کر دینا چاہتے ہیں۔ جبر کے خلاف غصے کی پالیسی دراصل آج کی پالیسی بن گئی ہے۔ حالات قابل تشویش ہیں۔
بہتوں کو لگتا ہے کہ کشمیر دو ایٹمی طاقتوں کے حاملین ملکوں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔ دہائیوں سے حالات کی بد انتظامیوں نے پاکستان کو یہاں بد نظمی کو ہوا دینے کا موقع دیاہے۔ کشمیری دونوں کو موقع دے رہے ہیں کہ وہ جنگ میں قربانی کا بکرا بن جائیں۔لہٰذا اس نقطہ نظر سے اسٹیٹ کے جبر، پاکستان کی جارحیت اور کشمیر کی نئی نسل کی بندوق کی گرج سے کشمیر کی حفاظت ہونی چاہئے۔ دراصل اب کشمیر سیاحتی مقام نہیں رہا اورآپ اس پر متفق ہوں گے کہ ایسی صورت حال کو پیدا کرنے میں سرکاری سسٹم نے بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان آرمی بھی یہی چاہتی ہے۔ اب کشمیری سماج کہاں جارہا ہے؟میرے خیال میں سرکاری سسٹم نے اپنے افسروں کا غلط استعمال کیا ہے۔ اسٹیٹ نے کشمیریوں کو ان کے جمہوری اختیارات سے محروم رکھا ہے۔ اس لئے وہ اسٹیٹ کو چیلنج دیتے ہیں۔ اسٹیٹ انہیں کنٹرول میں رکھنے کے لئے جبری قانون استعمال کرتا ہے اور وہ قانون توڑنے والے بن جاتے ہیں۔
ہندوستان کا کشمیر کے اوپر جائز دعویٰ ہے ۔یہ دعویٰ الحاق کے دستاویز کی وجہ سے ہے۔ اس کے ادارے ہیں، فوج ہے، سرکار ہے اور زمین ہے، لیکن جواز کی یہ قانونی حیثیت سب سے بڑی منفی حالت بن گئی ہے اور یہ منفی حالت ہیں یہاں کے عوام ۔انہی حالات نے کشمیری عوام کو مایوس کیا ہے، اسی وجہ سے شاید آپ پاکستان کے ساتھ ڈائیلاگ بدلنا چاہتے ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان کا جواز بنتا ہے۔ اب لوگ وہاں پاکستانی ہیں یا نہیں، بغیر اس سوال میں الجھے اس حقیقت کو قبول کرتے ہیں کہ ہندوستان نے کشمیری عوام کا بھروسہ کھو دیاہے جو تاریخی طور پر ہندوستان کے موقف کے ساتھ تھے۔ ملک کے اندر جتنے بھی مسائل ہیں جس میں کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ جس میں شاید کلدیپ نیر جی بھی ہیں کاماننا ہےکہ ان کے مسائل کا حل ایک سیکولر، جمہوری، جامع اور روادار ہندوستان میں ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *