کشمیری لیڈران کے قول و فعال میں تضاد ہی کشمیری عوام کا المیہ

Share Article

محمد ہارون

p-2جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ ایک بار پھر اپنے بیان میں تضاد کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں تنقید کا نشانہ بنے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے 4نومبر کو جموں میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ،’’ ان کے ذہن میں کوئی شبہ نہیں کہ جموں کشمیر بھارت کا اٹوٹ اور تقسیم نہ ہونے والا حصہ ہے۔‘‘ شاید عمر کے اس موقف پر کسی کو اعتراض نہیں ہوتا اور نہ ہی اس موقف پر انہیں ہدف تنقید بنانے کا کوئی جواز تھا، اگر یہ ان کا مستقل موقف ہوتا۔ جموں کشمیر کی تاریخ سے اچھی طرح واقف اور یہاں کے حالات پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین کا ماننا ہے کہ کشمیری سیاستدانوں کی جانب سے ہوا کا رخ دیکھ کر نائو چلانے اور کپڑوں کی طرح موقف اور بیانات بدلنے کی عادت کی وجہ سے ہی یہاں کے سیاستدانوں پر نہ کبھی سچے دل سے مرکزی سرکار نے اعتبار کیا ہے اور نہ ہی مین اسٹریم لیڈران کو جموں کشمیر کے عوام کا مکمل اعتماد حاصل ہوسکا ہے۔ جموں کشمیر میں دو بڑی علاقائی جماعتیں یعنی نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی ( پی ڈی پی )اور ان دونوں جماعتوں کے لیڈران عام طور سے اپنی متضاد بیان اور موقف کی وجہ سے آئے دن نہ صرف تنقید کا نشانہ بنتے ہیں بلکہ عوام میں بھی انہیں خفت اٹھانی پڑر ہی ہے۔ یہی صورتحال علیحدگی کا مطالبہ کرنے والے لیڈروں کی بھی ہے۔ بعض مبصرین کشمیری لیڈروں کے دوہرے معیار کا سبب اُن مخصوص سیاسی حالات کو قرار دے رہے ہیں ، جو یہاں گزشہ چھ دہائیوں سے زائد عرصے سے موجود ہیں۔
گزشتہ 66سال پر محیط تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ کشمیری سیاستدانوں کی غیر مستقل مزاجی کی وجہ سے نہ صرف ریاست کی آبادی کو مصائب و مشکلات سے دوچار ہونا پڑا ہے بلکہ اسکی وجہ سے مسئلہ کشمیر ہمیشہ سلجھنے کے بجائے الجھتا ہی گیا۔ مبصرین آج تک یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ گزشتہ صدی کے سب سے قد آور کشمیری لیڈر مرحوم شیخ محمد عبداللہ 1947میں جموں کشمیر کا ہندوستان کے ساتھ الحاق ہونے کے باوجود کیوں علیحدگی پسند رجحان کے حامل تھے ، جسکی وجہ سے انہیں 1953میںریاست کے وزیر اعظم کے عہدے پر براجمان ہوتے ہوئے بھی گرفتار ہوکر ایک طویل عرصہ جیل میں گزارنا پڑا۔اورپھراگر علیحدہ ریاست ہی شیخ عبداللہ کا خواب تھا تو پھر انہوں نے طویل اسیری سے رہائی کے بعد 1975میں اُس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے ساتھ ایکارڈ کرکے جموں کشمیر اور ہندوستان کے رشتے کو دوام کیوں بخشا۔ نہ ہی ملکی سطح کے سیاسی مبصرین اور نہ جموں کشمیر کے مورخین اور تجزیہ نگار اس بات کا وثوق سے کوئی جواب دے پاتے ہیں کہ کیا شیخ عبداللہ سچے ہندوستانی تھے یا ہند مخالف تھے، کیونکہ انکی زندگی تضادات سے پر ہے۔اسی طرح یہ سوال بھی ہمیشہ سوال ہی رہا ہے کہ اگرشیخ عبداللہ کے صاحبزادے فاروق عبداللہ ایک سچے ملک دوست ہیں تو انہوں نے 1980ء کی دہائی میں پاکستانی زیر انتظام کشمیر جاکر وہاں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کی رکنیت کیوں اختیار کرلی تھی؟ اگرلبریشن فرنٹ کے ساتھ فاروق عبداللہ کی نظریاتی ہم آہنگی تھی تو پھر بعد میں انہوں نے اقتدار کی گدی کو ترجیح کیوں دی۔ جموں کشمیر 1990ء میں ملی ٹنسی کی شروعات کے بعد جب فاروق عبداللہ نے جب1996میں وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالا تواس کے بعد انہوں نے اپنی تضاد بیانی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ وہ ایک دن مرکزی سرکارکو پاکستان پر حملہ کرنے کا مشورہ دیتے تھے اور دوسرے دن پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے کی رائے دیتے تھے۔

امسال 10مارچ کو پارلیمنٹ میں اتفاق رائے سے ایک قرارداد پاس کی گئی جس میں جموں کشمیر ، بشمول پاکستانی زیر انتظام کشمیر کو ملک کا ’’اٹوٹ انگ ‘‘ قرار دیا گیا۔ اس واقعہ کے صرف 2ہفتے بعد یعنی 25مارچ کو عمر عبداللہ نے اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا،’’جو لوگ باربار یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جموں کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے ، وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ الحاق صرف تین چیزوں کرنسی ، دفاع اور خارجی امور پر ہوا تھا۔‘‘ صاف ظاہر ہے کہ عمر عبداللہ کے پارلیمنٹ میں قرار داد پاس ہوجانے کے ردعمل میں دیئے اس بیان کا مقصد محض کشمیری عوام کو لبھانا تھا۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کس موقعے پر کونسی بات کرنی ہے۔

ایک عام تاثر یہ بھی ہے کہ نیشنل کانفرنس کے لیڈران کی جانب سے بار بار موقف بدلنے کی وجہ سے یہ جماعت اور اسکے لیڈران نئی دہلی کی نظر میں اس حد تک مشکوک بن گئے تھے کہ اس کا تدارک کرنے کیلئے دلی کو پی ڈی پی کی شکل میں ایک اور علاقائی جماعت قائم کرنا پڑی تاکہ این سی اور اسکے لیڈران کو قابو میں رکھا جاسکے۔
2008میں عمر عبداللہ کی صورت میں ایک ایسا مین سٹریم لیڈر سامنے آیا، جس نے عوام میں اُمید کی ایک کرن پیدا کردی۔ یہ تاثر قوی ہونے لگا کہ شاید عبداللہ خانوادے کا یہ چشم و چراغ اپنے بزرگوں کے برعکس ایک مستقل مزاج لیڈر ثابت ہوگا۔ عمر عبداللہ کے ساتھ اس طرح کے غیر معمولی توقعات کی وجہ ان کی شفاف شبیہ اور ان کی دو ٹوک الفاظ میں بات کرنے کی عادت تھی۔ 2008کی خونین ایجی ٹیشن کے اختتام کے چند ہی مہینوں بعد ہوئے اسمبلی انتخابات میں لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ 70فیصدی سے زیادہ ووٹ پڑے اور جنوری 2009میں عمر عبداللہ نے بھارت کے سب سے کم عمر وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے اس ریاست میں وزارت اعلیٰ کا عہدہ سنبھالا۔ اب انکے اقتدار کے پانچ سال مکمل ہونے کو ہیں اور اگلے سال کسی بھی وقت نئے انتخابات متوقع ہیں۔ ان پانچ برسوں کے دوران عمر عبداللہ نے جو سب سے اہم چیز کھو دی وہ ان کا شفاف موقف تھا۔ انہوں نے اس عرصے میں متضاد بیان بازیوں سے خود کو بے اعتبار بنا دیا۔ عمر عبداللہ نے ثابت کردیا کہ ان کا ذہن صاف نہیں ہے اور وہ مختلف خیالات کو ایک ساتھ لے کر چلتے ہیں۔
اپنی انتخابی مہم کے دوران عمر عبداللہ نے بار بار یہ اعلان کیا تھا کہ انتخابات کا تعلق عوام کے روز مرہ کے مسائل سے ہے نہ کہ مسئلہ کشمیر سے ۔ وہ بار بار یہ واضح کرتے رہے کہ وہ انتخاب عوامی مسائل حل کرنے کیلئے لڑ رہے ہیں اور مسئلہ کشمیر کے حل میں انکا کوئی رول نہیں ہے۔لیکن بعد کے حالات میں انہوںکھل کر ان سیاسی حلقوںکے خلاف مورچہ کھول دیا جو مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کیلئے اپنے طور سے جدوجہد کررہے ہیں۔
حال میںہی پھر انہوں نے متنازعہ بیان دیا ۔ اکتوبر کے مہینے میں جب جموں کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر بھارت اور پاکستان کے فوجوں کے درمیان میں جھڑپیں جاری تھی تو عمر عبداللہ نے مرکزی سرکار سے مخاطب ہوتے ہوئے اسے پاکستان کیخلاف’’دوسرا آپشن استعمال ‘‘ یعنی فوجی کارروائی کرنے کی صلاح دی۔ اس پر جب جموں کشمیر میں شدید ردعمل سامنا آیا تو عمر عبداللہ نے ایک بار پھر اپنا بیان بدل کر پاکستان کے ساتھ ’’ دوستانہ تعلقات‘‘ قائم کرنے پر زور دیا۔ عمر عبداللہ کا متضاد بیان ہفتہ دیکھنے کو ملا جب انہوں نے وادی کے بانڈی پورہ میں بیان دیتے ہوئے مسئلہ کشمیر کوسیاسی طور حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔لیکن چند دن بعد ہی انہوں نے جموں میں ایک بیان دیتے ہوئے کہا ’’جموں کشمیر بھارت کا ایک اٹوٹ اور کبھی نہ جدا ہونے والا حصہ ہے۔‘‘ عمر عبداللہ کے اس بیان پر وادی میں ردعمل سامنے آیا ۔ ناقدین نے یہاں تک کہا کہ عبداللہ خاندان کی یہ روایت رہی ہے کہ وہ اپنے سیاسی فوائد کے حصول کیلئے کبھی مرکزی سرکار کو بلیک میل کرتے آئے ہیں اور کبھی کشمیریوں کے جذبات کو ابھارتے آئے ہیں۔دلی میں مرکزی لیڈروں کو راضی رکھنے کیلئے ان کے پسند کی بات کرتے ہیںاور وادی میں مسلم آبادی کو لبھانے کیلئے ان کے پسند کی بات کرتے ہیں جبکہ ہندو میں وہاں کے عوام کو راس آنے والی بات کرتے ہیں۔
امسال 10مارچ کو پارلیمنٹ میں اتفاق رائے سے ایک قرارداد پاس کی گئی جس میں جموں کشمیر ، بشمول پاکستانی زیر انتظام کشمیر کو ملک کا ’’اٹوٹ انگ ‘‘ قرار دیا گیا۔ اس واقعہ کے صرف 2ہفتے بعد یعنی 25مارچ کو عمر عبداللہ نے اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا،’’جو لوگ باربار یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جموں کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے ، وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ الحاق صرف تین چیزوں کرنسی ، دفاع اور خارجی امور پر ہوا تھا۔‘‘ صاف ظاہر ہے کہ عمر عبداللہ نے پارلیمنٹ میں قرار داد پاس ہوجانے کے ردعمل میں دیئے اس بیان کا مقصد محض کشمیری عوام کو لبھانا تھا۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کس موقعے پر کونسی بات کرنی ہے۔
کبھی کچھ اور کبھی کچھ اور کہنے والے صرف نیشنل کانفرنس کے لیڈران ہی نہیں ہیں بلکہ دیگر جماعتوں میں بھی ایسے لوگ ہیں۔ 1990میں جب مفتی محمد سعید ملک کے وزیر داخلہ تھے تو ان کے بیانات سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ کشمیر میں سرگرم ملی ٹینٹوں کے خلاف سخت ترین کارروائیاں کرنے کے حق میں تھے ۔ لیکن جب سال 2002میں وہ وزیر اعلیٰ بنے تو انہوں نے بحیثیت وزیر اعلیٰ سب سے پہلی تقریر وادی کے گاندربل علاقے میں کی ۔ جس میں انہوں نے ملی ٹینٹوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا،’’ آپ لوگ اب جنگلوں سے باہر آجائیے، کیونکہ اب آپ کے نمائندے اسمبلی میں پہنچ چکے ہیں۔‘‘ اپنے دور اقتدار میں پی ڈی پی یہ تاثر دے رہی تھی کہ ان کے اور علیحدگی پسندوں کے موقف میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہے اور یہ کہ پی ڈی پی ریاست کی خودمختاری کا تحفظ چاہتی ہے لیکن عملاً پی ڈی پی نے ریاست کے جائداد منتقلی ایکٹ میں ترمیم کرکے ریاست کی اندرونی خود مختاری کو مزید کمزور کردیا۔یہی نہیں پی ڈی پی نے ہی خواتین سے متعلق جائداد بل کو ایوان میں پاس کرنے میں اڑچن پیدا کردی جسکے نتیجے میں آئین ہند کا دفعہ 370مزید کمزور ہوگیا۔
حقیقت یہ ہے کہ کشمیری سیاستدان ہمیشہ اقتدار کے حصول کیلئے یا اپنے اقتدار کو تحفظ دینے کیلئے بار بار اپنے موقف بدلتے رہے ہیں۔ریاست میں شاید ہی ایسا کوئی لیڈر ہو ، بشمول علیحدگی پسند لیڈاران کے جنہوں نے بار بار اپنے بیانات نہ بدلے ہوںاور یہ بات جموں کشمیر عوام کیلئے ایک بہت بڑا المیہ ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *