پونے میں کشمیری صحافی جبران نذیر کی پٹائی، حملہ آوروں نے کہا۔ ہم واپس کشمیر بھیج دیں گے

Share Article
jabran-nazeer
پونے: پلوامہ دہشت گردانہ حملے کے بعد سے ہی ملک کے مختلف حصوں میں کشمیری نوجوانوں پر ہو رہے حملے بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔یوتمل کے بعد اب پونے میں ایک انگریزی اخبار کے 24 سالہ ایک کشمیری صحافی کی پٹائی کردی گئی۔ صحافی کی شکایت پر پونے پولیس نے ایک شخص کو گرفتار کیا ہے۔

الزام ہے کہ،شروعات میں اس واقعہ کو پولیس ’روڈ ریج‘کا واقعہ بتا کر ٹالنے لگی تھی۔لیکن جب انہیں یہ پتہ چلا کہ نوجوان کشمیری ہونے کے ساتھ صحافی بھی ہے، تب پولیس حرکت میں آئی اور دو مشتبہ حملہ آوروں کے خلاف جمعہ کو ایک مقدمہ درج کیا۔ اس سلسلے میں ایک شخص کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔
جانکاری کے مطابق، دو لوگ ایک موٹر سائیکل سے صحافی جبران کا پیچھا کر رہے تھے۔ جیسے ہی جبران ایک ٹریفک سگنل پر رکے دو لوگوں نے ان سے ہوئی کہا سنی شروع کر دی۔ جبران نے ان کا کوئی جواب نہیں دیا لیکن دونوں نوجوانوں نے انہیں روک کر ان کے ساتھ پٹائی شروع کر دی اور فرار ہو گئے۔
jabran-nazeer-kashmiri
جبران نے بتایا کہ وہ پونے میں ایک انگریزی اخبار میں کام کرتے ہیں، پولیس نہیں چاہتی تھی کی وہ باتیں سامنے آئے جو ان کے ساتھ ہوا تھا۔ اسی لیے ان کی شکایت بھی نہیں لی جا رہی تھی۔جبران نذیر نے کہا کہ حملہ آوروں نے پٹائی کے دوران صرف ایک ہی بات بار بار کہہ رہے تھے، وہ انہیں واپس کشمیر بھیج دیں گے۔حالانکہ، نذیر نے کہا کہ یہ کوئی منظم حملہ نہیں تھا۔ نذیر کے مطابق تلک روڈ پر رات قریب پونے گیارہ بجے ان پر یہ حملہ کیا گیا جب وہ موٹر سائیکل سے گھر واپس آ رہے تھے۔انہوں نے بتایا کہ حملہ آوروں نے پولیس تھانہ میں بعد میں ان سے معافی بھی مانگی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *